Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » روزنامہ امت، داعی شرک وبدعت

روزنامہ امت، داعی شرک وبدعت

ذوالفقارعلی طاہر

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
روزنامہ امت کراچی نے 4ستمبر2016ء تا16ستمبر2016ء مسلسل گیارہ اقساط پرمشتمل ایک رپورٹ شایع کی جس کے ذریعے اس نے پوری قوم کو قبرپرست بنانے کی سعی نامشکور کی۔ روزنامہ امت نے باقاعدہ اپنی ٹیم ٹھٹہ سے56کلومیٹر اورقصبہ چوہڑ جمالی سے6کلومیٹر کی مسافت پر واقع مزار شاہ عقیق ؍یقیق بھیجی جس نے چند ایام مزارپر بسر کیے۔اس ٹیم نے مزار پرحاجات کی برآوری کیلئے آنے والوں سے انٹرویوز کیے اور چند ایک مشاہدے کیے اورپھر وہ انٹرویوز ومشاہدے باتصاویر من وعن روزنامہ امت میں شایع کردیئے،جس سے پوری قوم کو یہ پیغام ملا کہ جو مریض خواہ وہ کسی بھی مرض میں مبتلاہو اور اسے تمام ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا ہو، وہ مزار شاہ یقیق پرآجائے، چند ایام ہی میں صاحب مزار اس کا علاج شروع کردیتے ہیں، اسے خواب کے ذریعے ہدایات دیتے ہیں، دوائی بتلاتے ہیں، پرہیزوغذا کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور مکمل شفا دیکر واپس جانےکی اجازت دیتے ہیں جبکہ صاحبِ مزار نے بعض مریضوں کے دماغ، پیٹ،پتے وغیرہ کے آپریش کرکے بھی علاج کیا ہے، صاحب مزار مکمل علاج کے بغیر کسی مریض کو واپس جانے کی اجازت نہیں دیتےاگرکوئی مریض شفایاب ہونے کےبعد صاحب مزار کی اجازت کے بغیرچلا جائے تو وہ نقصان اٹھاسکتاہے۔ ایک مریض جس کوصاحبِ مزار نے شفادی تھی، صاحبِ مزار کی اجازت کے بغیر گھر روانہ ہوگیا توچند ایام کےبعد اس کی موت کی خبرآئی۔(نعوذباللہ)
امت ٹیم کے مزار شاہ عقیق کے اس سروے کی چندجھلکیاں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’یہاں پر آنے والے مریضوں کو دربار پرموجود مخصوص بیری کے درخت کاپتا نمک کے ساتھ کھانے کو دیاجاتا ہے اور انہیں درودشریف پڑھتے ہوئے مزار کے سامنے موجود کھلے میدان میں،جِسے میدانِ شفا کے نام سے پکارا جاتاہے ،زمین پرلیٹ کر پلٹیاں کھاتے ہوئے آگے بڑھنا ہوتا ہے‘‘
’’اسی طرح جسمانی یاروحانی امراض میں مبتلا افراد زمین پر ابتدائی ایک دوبار پلٹیاں کھانے کے بعد روحانی علاج اور تشخیص کے ایک طریقے کے تحت خودبخود پلٹیاں کھاتے ہوئے پورا میدان عبور کرلیتے ہیںاور اکثر یہ معمول کئی کئی بار دہرایاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ مسکین شاہ بابا کے مزار پر منتیں ماننے والے افراد ایک مخصوص درخت پر ڈوریاں باندھتے ہیں‘‘
’’مزار کے دروازے سےاندر قدم رکھا تو سادہ سے سبز گنبد تلے بنی تربت کے حجرے کی پیشانی پر’’دربار عالیہ شاہ یقیق بابا‘‘ اور دروازے کے عین اوپر گلیزڈ ٹائل کے کتبے پر بڑے الفاظ میں’’روحانی سرجن‘‘ کندہ نظرآیا۔ ان میں سے شاہ یقیق یعنی شاہ عقیق اس بزرگ ہستی کانام ہے تو’’روحانی سرجن‘‘ ان کی امتیازی شناخت اور محبت وعقیدت بھرالقب جوان کی روحانی سرجری اور علاج سے شفایاب ہونے والے بظاہر لاعلاج ان گنت مریضوں کی طرف سے انہیں دیاگیاہے۔‘‘
’’راقم کو چوبی احاطے کے اندر تربت کے دائیں پہلو میں مختلف زبانوں میںتحریر کیے گئے رقعوں کا ایک چھوٹا سے ڈھیر نظر آیا، یہ صاحبِ تربت کی خدمت میں پیش کی جانے والی درخواستیں تھیں جن میں سائلین نے باقاعدہ طور پر اپنا نام وپتا اور اپنے مرض کے کوائف تحریر کررکھے تھے۔ یہ بھی مشاہدہ ہوا کہ یہاں فاتحہ پڑھنے کے بعد زائرین کے تربت یاچوبی احاطے کوچوم کر اظہارعقیدت کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں کی جاتی۔‘‘
’’شاہ عقیق کے زیر علاج کینسر کامریض بچہ زندگی کی طرف لوٹ آیا، لاہور کے 15سالہ ابرار کوٹیسٹوں کے بعد برین ٹیومر تشخیص ہوا تھا۔ آپریشن کے دوران پتہ چلا کہ سرطانی جڑیں دماغ کے حساس حصوں میں پیوست ہیں۔ سرجری کے بعد ڈاکٹروں سے امید افزاء جواب نہیں ملا۔ بچے کے والدین بچے کو لے کر دربار شاہ عقیق پہنچ گئے ۔خواب میں شاہ عقیق نے تشفی دی۔ اب بچہ حیرت انگیز طور پرصحت مند ہورہا ہے۔‘‘
’’کراچی کی رہائشی60سالہ ثریا بی بی کو ڈاکٹروں نے پیٹ میں رسولی تشخیص کرکے آپریشن کا مشورہ دیاتھا۔ شاہ عقیق کی پرانی معتقد خاتون ان کے مزار جاپہنچیں واپسی پر معائنہ کرایا تو جناح اسپتال سے پتا چلا عمل جراحی سے رسولی نکالی جاچکی ہے۔اب ان کے پتے کی پتھری کاروحانی علاج چل رہا ہے۔‘‘
’’ برین کینسر کی ایک امیرمریضہ کو پرآسائش رہائش چھوڑ کر مزار کے درخت کے نیچے ڈیراڈالنے کی بشارت ملی تھی۔ چند روز بعد روحانی آپریشن سے رسولی نکال لی گئی۔بابا(شاہ عقیق) نے اس کا آپریشن کیا اور رسولی نکال کر لٹھے کے کپڑے پر رکھی اور سر کو ٹانکے لگا کربند کردیا انہوںنے ایک پرچہ بھی لکھ کر رسولی کے پاس رکھ دیا کہ جن ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ تمہارا علاج نہیں ہوسکتا انہیں جاکردکھاؤ۔‘‘
’’محمد ارشاد کی والدہ کوڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ دربار شاہ عقیق میں دعا مانگی تو روحانی شفا نصیب ہوگئی۔ یکے بعد دیگرے چاربچوں کا سکھ نصیب ہوا۔‘‘
قارئین! یہ ہے اس سروے کی ایک ہلکی سی جھلک جس سے اظہر من الشمس ہوا کہ روزنامہ امت قوم کوقبر پرستی پر لگانا چاہتا ہے۔ کہ یہ قوم اہل قبور کو پکارتی رہے، ان سے استغاثہ کرتی رہے، مددطلب کرتی رہے، ان کی پناہ طلب کرتی رہے، دنیوی واخروی حاجات کا سوال کرتی رہے، حالانکہ شریعت کا تو مزاج یہ ہے کہ شدرحال صرف تین مساجد کی طرف کیاجاسکتا ہے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، ان کے علاوہ کسی اور مقام پر صرف زیارت کی خاطر بھی سفر کرنا ممنوع ہے۔
قبرپرستی کے حوالے سے پیارے پیغمبر ﷺ کی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
-1نصاریٰ کے متعلق فرمایا: اذا مات فیھم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجد….اولئک شرار الخلق. یعنی جب ان کاکوئی نیک شخص فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پہ مسجد بنالیتے…..اللہ کے نزدیک یہ سب سے بدترین مخلوق ہے۔(صحیح بخاری:427صحیح مسلم:528)
-2ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہrفرماتی ہیں :جب رسول اللہ ﷺ پر مرض الموت کی شدت ہوئی تو آپﷺ اپنی چادر چہرے پر ڈال لیتے اور جب دم گھٹتا توہٹالیتے، اس کیفیت میں آپ نے ارشاد فرمایا: لعنۃ اللہ علی الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبورانبیائھم مساجد.یعنی یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔(صحیح بخاری:435صحیح مسلم:431)
-3رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بدترین وہ ہیں جو قیامت قائم ہوتے وقت زندہ ہوں ،والذین یتخذون القبور مساجد.اور وہ بھی جو قبروں کو سجدہ گاہ بنالیتے ہیں۔(مسند احمد405/1،صحیح ابن خزیمہ 789،صحیح ابن حبان2847)
غورکیجئے!قبروں پر سجدہ گاہ کی تعمیر، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی غرض سے کی جاتی تھی، جس پر آپ نے شریعت کا رد عمل سن لیا، رسول اللہﷺ کے سخت ترین فرامین پڑھ لیے تو اس شخص کاکردار کس قدرغلیظ اورقبیح ہوگا جو براہِ راست اہل قبور سے شفاوصحتیابی اور اولاد مانگنا شروع کردے۔ کم از کم محولہ بالارپورٹ سے تو معلوم ہورہا ہے کہ روز نامہ امت کا یہی مشن ہےکہ قوم بہرطور اہل قبور کے ساتھ جڑجائے۔
قرآن وحدیث میں مذکور انبیاء کرام oکی ادعیہ ملاحظہ کیجئےان سے یہی درس ملتا ہے کہ ہر قسم کی حاجات رب العالمین سے مانگنی چاہئیں، خصوصی طور پر سیدنا ایوب uکی دعا:[ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ۝۸۳ۚۖ ](یعنی اے میرے پروردگار مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو ہی سب سے بڑا رحم کرنے والاہے۔
اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کی دعا:اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الاشفاءک شفاء لایغادر سقما.
یعنی:اے لوگوں کے رب میر ی تکلیف دور کردے اور مجھے شفا عطا فرما تو ہی شفادینے والاہے تیرے سوا کسی کے پاس شفا نہیں ہے،ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے۔(سنن ابی داود،ج۲ص:۹۶)
پیارے پیغمبر ﷺ فرمارہے ہیں:کہ’’(یااللہ) تو ہی شفا دینے والاہے تیرے سوا کسی کے پاس شفا نہیں ہے‘‘ اور روزنامہ امت لوگوں کو اہل قبور سے شفا طلب کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔
قارئین! آئیے ذرا اس زاویے سے بھی غور کریں کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں انبیاء کی قبورتھیں یانہیں؟ جی ہاں، سنن نسائی میں حدیث موجود ہے آپﷺ نے فرمایا: میں بیت المقدس کے نزدیک موسیٰuکی قبرکی نشاندہی کرسکتا ہوں۔جب سیدنا موسیٰuکی قبر متعین تھی تو آیا آپﷺ نےشفایابی کیلئے کبھی موسیٰuکی قبر کارخ کیایا کسی مریض صحابی کو ایسی کوئی ترغیب دی؟حاشا وکلانہیں!!!
اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کبھی کوئی صحابی کسی مرض سےحصولِ شفا کیلئے آپﷺ کی قبر پر گیا ؟ہرگز ،ہرگزنہیں!
اگرقبور سے شفاملتی ہوتی تو اللہ تبارک وتعالیٰ جلیل القدر انبیاء کرام مثلاً: ابراہیمu،نوحu،اسحٰقu، یعقوبu،یوسفu، اسمٰعیلu، وغیرہم کی قبور کوظاہر وباہر رکھتا لیکن ایسا نہیںہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ شفا وصحت یابی سمیت ہرقسم کی حاجات اہل قبور نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی پوری فرماتا ہے لہذا اسی سے رجوع کیاجائے۔ جب انبیاء کرام oکی قبور کا یہ معاملہ ہے تو پھر اور کون ہے جس کی قبر سے لوگوں کو شفاملے اور ان کی حاجات کی برآوری ہو؟؟؟
قارئین! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر روزنامہ امت کی ٹیم کے مشاہدات وتجربات کاکیاجواب ہے؟
اس کا سیدھا ساجواب یہ ہے کہ جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ شافی اللہ تعالیٰ ہی ہے،انبیاء oوصلحاء Sنے اسی سے شفا طلب کی ہے تو کیا انسان کا ازلی دشمن ابلیس،انسان کو اللہ رب العزت سےدور کرنے کیلئے امت ٹیم کے بیان کردہ مشاہدات وتجربات کے طریق سے حملہ آور نہیں ہوسکتا؟؟؟ ہماری بات کی تصدیق مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوتی ہے:
عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»(سنن ابی داود،الرقم:3883)
یعنی عبداللہ بن مسعودtکی زوجہ زینبrسے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعودtفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا دم،جھاڑ،تعویذ،گنڈے اور ٹونے شرک ہیں، میں(زینب) نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہےہیں، جبکہ ایک مرتبہ مجھے آنکھ میں تکلیف تھی میں نے ایک یہودی سے دھاگہ باندھا تو وہ تکلیف ختم ہوگئی، ابن مسعود نےفرمایا یہ شیطانی عمل ہے کہ اس نے تیری آنکھ میں کچوکہ مارا اور جب تم نے تعویذ دھاگہ باندھا تو اس نے چھوڑ دیا۔ تمہارے لیے یہ دعا کافی ہے جو رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:’’اے لوگوں کے رب! میری تکلیف دور کردے اور مجھے شفاعطا فرما تو ہی شفا دینے والاہے تیرے سوا کسی کے پاس شفا نہیں ہے، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔
اور وزنامہ امت کے کرتادھرتاؤ!جوشیطان یہودی کے تعویذ ودھاگہ کے ذریعہ ایک صحابی کی صحابیہ اہلیہ کو اللہ تعالیٰ سے دورکرنے کی سعی کر سکتا ہے وہ آج کل کے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو درگاہوں اور مزارات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دور کرنے کی کوشش نہیں کرسکتا؟؟؟
اور آپ لوگ اس قسم کی رپورٹیں شایع کرکے ابلیس کے ہم نوا ومعاون بن رہے ہیں!!!اللہ سے ڈر جائیں!
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرغیراللہ سے خلافِ شرع خرقِ عادت امور صادر ہوجائیں جس طرح کے مشاہدے امت ٹیم نے ذکر کیے ہیںتو ایک موحد مؤمن کا کردار کیاہوناچاہئے؟
جی ہاں !اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے بھی ایک مرتبہ اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب آپﷺ دخان(دھوئیں) کا تصور لیے ابن صیاد کی طرف روانہ ہوئے تھے اور اسے فرمایا تھا کہ میں تیرے لئے ایک تصور چھپا کر لایاہوں؟ تو ابن صیاد کہہ اٹھا تھا کہ: دُخ دُخ۔ مجھے کچھ دھواں سامحسوس ہورہا ہے تو اللہ کے نبی ﷺ اس سے ذرا سا بھی متاثر نہیں ہوئے تھے بلکہ آپﷺ نے فرمایا تھا:اخسأ فلن تعد وقدرک .یعنی: توذلیل ہو، تو اپنے اندازے سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔(صحیح مسلم)
معلوم ہوا ایسے مواقع پر متاثر ہوئے بغیر ،غیراللہ سے سرزد ہونے والے خلافِ شرع خرق عادت امور کارد کردینا چاہئے اور اپنے تعلق باللہ کو مضبوط وپختہ کرنے کا اعادہ کرناچاہئے۔
آیئے!اس حوالے سے محدثینSکے سلسلۃ الذھب میں سے دوموتیوں کاتذکرہ کرتے ہیں:
یونس بن عبدالاعلی کہتے ہیں کہ:قال اللیث بن سعد: لورأیت صاحب ھوی یمشی علی الماء ماقبلتہ.(حلیۃ الاولیاء)
یعنی:لیث بن سعدaفرماتے ہیں کہ اگر میں کسی خواہشات کے پجاری بدعتی کو پانی پرچلتا ہوا دیکھوں تو میں اسے قبول نہ کروں یعنی میں اس سے ذرا بھی متاثر نہ ہوں گا۔
یونس بن عبدالاعلی فرماتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعدaکا یہ قول محمد بن ادریس شافعیaتک پہنچایا تو انہوں نے فرمایا :
قصر لورأیتہ یمشی فی الھواء لما قبلتہ.(سیر اعلام النبلاء،ج۱۰،ص۲۳،’’آداب الشافعی‘‘:۱۸۴و’’مناقب‘‘ البیھقی453/1)
یعنی: لیث بن سعد نے توتھوڑا ہاتھ ہلکا رکھا ہے اگر میں کسی خواہش پرست بدعتی کو فضا میں چلتاہوا دیکھوں تو میں ہرگز اسے قبول نہ کروں یعنی اس کی اس شعبدہ بازی سے متاثر نہ ہوں گا۔
جبکہ حافظ ابن کثیرaاپنی تفسیر میںد ونوں محدثین لیث بن سعد اور محمد بن ادریس شافعیرحمھمااللہ کا قول ان الفاظ میں لائےہیں کہ:
اذا رئیتم الرجل یمشی علی الماء ویطیر فی الھواء فلا تغتروا بہ حتی تعرضوا امرہ علی الکتاب والسنۃ.
یعنی:جب تم کسی شخص کوپانی پر چلتا اورفضا میں اڑتا ہوا دیکھو تو اس کی اس شعبدہ بازی سے دھوکہ نہ کھانا بلکہ اس کے اس عمل کو کتاب وسنت پر پیش کرنا۔
ہم بھی امت ٹیم کی محولہ بالارپورٹ کو کتاب وسنت پرپیش کرتے ہیں اور کتاب وسنت مذکورہ رپورٹ کوردکرتے ہیں لہذاہم اس رپورٹ کےانکاری ہیں علی رغم انف روزنامہ امت !!!
آخر میں ہم روز نامہ امت کے ذمہ داران سےیہی کہیں گے کہ اخبار کو پاپولر بنانا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ ہم سب نے مرنابھی ہےاورقبر میں بھی جانا ہے لہذا پنی عاقبت کابھلا سوچیئے، اللہ کی مخلوق کو شرک وبدعت کی دلدل کی طرف مت دھکیلئے، لوگوں کو کتاب وسنت کی روشنی میں دعوتِ توحید ودعوتِ اتباعِ سنت نبوی(علی صاحبھا الصلاۃ والسلام) دیجئے، مذکورہ رپورٹ کی اشاعت پر اللہ تبارک وتعالیٰ کے در پرتوبہ تائب ہوجائیے۔
فانہ قریب مجیب وبالاجابۃ جدیر
اللہ تبارک وتعالیٰ ہماراحامی وناصرہو۔

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے