اداریہ و شذرے

ذوالفقارعلی طاہر

عمربھر کاکرب انگیز پچھتاوا

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
جامع ترمذی میں یہ حدیث نبوی موجود ہے، جسےعلامہ البانی aنے تحقیق احادیث مشکوٰۃ میں حسن قرار دیا ہے اور یہ حدیث محدث العصر حافظ زبیر علی زئی aکے نزدیک بھی حسن درجہ کی ہے۔ملاحظہ ہو:
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا عَلِيُّ، ثَلاَثٌ لاَ تُؤَخِّرْهَا: الصَّلاَةُ إِذَا أَتَتْ، وَالجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا.(ترمذی:۱۷۱،۱۰۷۵)
یعنی: نبیﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب tسے ارشاد فرمایا: اے علی! تین چیزوں کومؤخر نہ کرو۔ نماز کو جب اس کاوقت ہوجائے، جنازہ کو جب اس کی تجہیز ہوجائے۔ بیوہ یا مطلقہ( کے نکاح) کو جب اس کا کفومل جائے۔
جامع ترمذی کی ایک اور حدیث نبوی(علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) ملاحظہ ہو:
إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ.
(جامع ترمذی:۱۰۸۴)
یعنی: کوئی ایسا شخص کہ تم اس کے دین واخلاق سے خوش ہو، نکاح کا پیغام بھیجتا ہے تو اس کی شادی کرادو ورنہ زمین میں فتنہ اور نہ ختم ہونے والابگاڑ بپاہوجائے گا۔
یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام yاپنی اولاد خصوصاً بیٹیوں کے نکاح میں بے جاتاخیر نہیں کرتے تھے۔ چندمثالیں ملاحظہ ہوں:
-1مشکوٰۃ کتاب المناقب میں ہے کہ سیدنا امیرعمرtنے اپنی صاحبزادی حفصہrکا رشتہ سیدناعثمانt کو پیش کیا، انہوں نے اپنی ذاتی مجبوریوں کی بناء پر شادی سے معذرت کرلی۔ پھر سیدناابوبکر صدیقtکو پیش کیا۔ ابھی سیدناابوبکر صدیقtکی جانب سے جواب کاانتظار تھا کہ آپﷺ نے حفصہrسے نکاح کاپیغام بھیج دیا۔
-2اسی طرح حلیۃ الاولیاء لابی نعیم میں یہ واقعہ موجودہے کہ سیدنا عمرفاروق tنے اپنے بیٹے عاصم کانکاح اس دیندار ودیانتدار یتیم لڑکی سے کردیا جس نے یہ کہہ کر اپنی ماں کاکہا ماننے سے انکار کردیاتھا کہ میں ہرگز دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہیں کروں گی ،اگرچہ امیر المؤمنین نہیں دیکھ رہے مگر اللہ تو دیکھ رہاہے۔
یہی لڑکی آگے چل کر عمرثانی سیدناعمربن عبدالعزیزa کی نانی بنیں۔(تاریخ دمشق لابن عساکر:۷۰؍۲۲۵)
-3اسی طرح رسول اللہ ﷺ نےسیدناجلیبیبtکو بغرضِ رشتہ مدینہ کےنواح میں واقع ایک گھرروانہ فرمایا، لڑکی کے والدین اس رشتہ پر راضی نہ ہوئے تو وہ لڑکی ان سے گویاہوئی:اتریدون ان تردوا علی رسول اللہ امرہ؟ ان کان قدرضیہ لکم فانکحوہ….کیاآپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اگرآپﷺ ان پرراضی ہیں تو(میراان سے) نکاح کردو۔
تب والدین نے اپنی صاحبزادی جلیبیب tکےنکاح میں دیدی۔
(مسنداحمد۱۲۳۹۳،اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین وھو فی مصنف عبدالرزاق ۱۰۳۳۳، ومن طریقہ اخرجہ عبد بن حمید ۱۲۴۵، والبزار ۷۴۱۲، وابن حبان۴۰۵۹)
مندرجہ بالااحادیث وواقعات سے معلوم ہوا کہ اولاد جب عمرِ نکاح کو پہنچ جائے اور اس کے لئے دیندار ودیانتدار رشتہ مل جائے تو نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے، قرونِ اولیٰ کےلوگ ان شرعی اصولوں پرکاربندہوئے تو وہ ہر قسم کے فتنہ وفساد سے محفوظ ومامون رہے جبکہ ہمارے دور میں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کی گئی تو کئی گھرانے عمر بھر کے کرب انگیز پچھتاوے کاشکار ہوگئے۔ایسے ہی ایک گھرانے کااحوال عزت مآب محترم عبدالمالک مجاہدdسے سنئے،آپ محترم کا یہ کالم روزنامہ امت کراچی مورخہ18ستمبر2016ءمیں بعنوان:’’عقل والے مجھ سے عبرت پکڑیں‘‘ اشاعت پذیر ہوا۔ملاحظہ ہو:
’’یہ ایک لڑکی کا سچا واقعہ ہے ،جسے قارئین کی عبرت کے لئے پیش کیاجارہاہے۔
میرا تعلق انتہائی خوشحال گھرانے سے ہے، پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کے ناطے میرے شب وروز انتہائی محبت وشفقت بھرے ماحول میں گزررہے تھے۔ درجہ بدرجہ تعلیم کی منازل طےکرتی ہوئی میں کالج میں پہنچ گئی۔ سیکنڈایئر میں پہنچی تو زندگی کی پرسکون سطح پرپہلاارتعاش اس وقت پیدا ہوا جب میں نے تذکرہ سنا کہ کسی شخص نے میرے لئے شادی کاپیغام بھیجاہے۔میں نے انتہائی تکبر ونخوت بھرے انداز میں کہا: شادی کوئی بچوں کاکھیل نہیں ہے۔ میں نے یہ رشتہ مسترد کردیا۔ اس کے بعد رشتوں کا تانتا بندھ گیا۔ میں اس صورتحال سے بہت محظوظ ہوتی اور اتراتے ہوئے سہیلیوں سے کہتی:لگتا ہے اس شہر کے سارے نوجوان ہی مجھ سے شادی کےخواہشمند ہیں۔ اس پر میںخوش تو ہوتی رہی، لیکن کسی بھی پیغام نکاح کا میں نے مثبت جواب نہیں دیا، حتی کہ میں کالج سے فارغ ہوکریونیورسٹی میں پہنچ گئی۔ رشتوں کی پیشکشیں اب بھی برابرآرہی تھیں۔
میں خوبصورت تھی، ذہین تھی، اب اعلیٰ تعلیم کے مراحل بھی طے کررہی تھی، میں آئیڈیل ازم کی معراج پر تھی۔ ہرآنے والے رشتے کے بارے میں مختلف سوالات کرتی، مگر کوئی بھی میرے معیار پر پورا نہ تھا۔ اب رشتے آنے کی رفتار پہلے کی نسبت کافی مدہم ہوچکی تھی۔ دن گذرتے گئے، میں اپنی ہٹ پر قائم رہی، حالانکہ میری اکثر سہیلیوں کی شادیاں ہوچکی تھیںیا کم از کم رشتے ضرور طے ہوچکے تھے۔وقت کب کسی کاانتظار کرتا ہے۔ میں یونیورسٹی سے فارغ ہوگئی۔ اب میرے لئے جورشتے آرہے تھے ،ان میں سے کسی کی عمر بھی تیس سال سے کم نہیں تھی۔ یہ شکل وصورت کے بھی واجبی سے ہی تھے۔ ان کے ذرائع آمدنی بھی کوئی خاص نہیں تھے۔ یہ صورت حال دیکھ کر میری انا کو زبردست ٹھیس پہنچی، لیکن میں اب بھی نہ سنبھلی۔میںنے ان میں سے کسی کےلئے بھی رضامندی ظاہر نہ کی۔
وقت نہایت تیزی سے گزرنے لگا۔لوگ شاید ہمارے گھر کاراستہ ہی بھول گئے تھے، جو لوگ میرے لئے رشتوں کے پیغامات بھیجاکرتے تھے، ان کے اب تین تین ،چارچار بچے تھے۔ میر ی عمر اب تیس سے تجاوز کرچکی تھی۔ میری بچپن کی سہیلی فاطمہ کےپانچ بچے تھے۔ میر ی ایک اور سہیلی کی چاند سی دوبیٹیاں تھیں۔ دیگر سہیلیاں بھی اپنے خاوندوں کےساتھ خوش وخرم زندگی بسر کررہی تھیں۔ اب یہ انتظار میرے لئے سوہانِ روح بنتا جارہا تھا۔ میرے بالوں میں تیزی سے چاندنی اتررہی تھی۔ ڈیپریشن اوراضطراب کی وجہ سے یہ رفتار کچھ زیادہ ہی تیز تھی۔ میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی، لیکن کسی پر اپنی پریشانی کااظہار ہونے نہیں دیتی تھی۔ تقریبات میں جاتے وقت میں بالکل نارمل دکھائی دینے کی ایکٹنگ کرتی، مگریہ دیکھ کر دل مسوس کر رہ جاتی کہ میری ہم عمرخواتین کلکاریاں بھرتے بچوں کےجھرمٹ میں شاداں وفرحاں دکھائی دیتیں۔
اب میرے لئے ایک رشتہ آیا، اس شخص نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیدی تھی۔ پہلی بیوی سے اس کا ایک بیٹا بھی تھا۔ مجھے اس پیغام سے صدمہ تو بہت پہنچا لیکن اس میں رشتہ مانگنے والے مسکین کا کیاقصور تھا؟ وہ تو مجھے اچھی طرح جانتا بھی نہیں ہوگا۔اسے کیا معلوم کہ میرا کتنے بڑے خاندان سے تعلق ہے، اور میں کتنی حسین وجمیل ہوں۔ بلکہ حسین ہونے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوں۔اگر اسے یہ سب باتیں معلوم ہوتیں تو وہ رشتہ طلب کرنے کی کبھی جسارت نہ کرتا۔ بہرحال شاید ابھی مزید تذلیل میرے مقدر میں تھی۔ میں نے یہ موقع بھی ضایع کردیا۔ اس کے بعد کسی نے ہمارے گھر کارخ نہیں کیا۔ اب تو جیسے کسی مناسب رشتےکے انتظار میں والدین کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں۔وہ ہر وقت کسی موہوم سی امید پر میرے لئے کسی کی طرف سےپیغام کے منتظر رہتے۔ ان کے اندر کا کرب ان کے چہروں سے عیاں تھا۔
وقت گزاری کیلئے اب میں نے ملازمت بھی شروع کرلی تھی تاکہ ذہنی اذیت کےاس ماحول سے نکل کر تھوڑی دیر کیلئے کھلی فضا میں سانس لے سکوں۔ پستی ذلت اور انحطاط میں اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تو وہ اس تحریر سے پوری ہوگئی جو ایک روز میرے تکیے کےپاس پڑی تھی۔ میرےوالد نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پرمیرے نام ایک مختصر پیغام لکھاتھا۔ عبارت پرنظر پڑتے ہی میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا۔ مجھے اپنے پاؤں کےنیچے سے زمین سرکتی محسوس ہونے لگی۔ اگرمیں میز کا سہارا نہ لیتی تو تیولاکرزمین پرگرپڑتی۔ کاغذ کی تحریر کچھ اس طرح سے تھی:
’’بیٹی تمہاےلئے ایک رشتہ آیا ہے۔ اگرچہ اس کی عمر کچھ زیادہ ہے، مگر اس پر بڑھاپے کے کوئی آثار نہیں۔ اس کے مالی حالات بھی بہت اچھے ہیں، وہ شخص دوسری شادی کرنا چاہتا ہے،پہلی بیوی سے اس کے چھے بچے ہیں، میراخیال ہے ہمیں اس رشتے سے انکار نہیں کرناچاہئے‘‘
میںیہ تحریر پڑھ کر کھول رہی تھی کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ میرے والد صاحب کو ایک بیوی کا شوہر اور چھے بچوں کا باپ بھی میرے لئے مناسب معلوم ہورہا تھا، اچانک میری نظر ڈریسنگ ٹیبل پرلگے شیشے پرپڑی۔ یہ دیکھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا کہ میرا آدھا سر سفید ہوچکا تھا جسے میں ڈائی کرکے لوگوں کی نظروں سے چھپا کررکھاکرتی تھی، مگر ان دنوں اضطراب اور بے چینی کے باعث کئی روز سے میں انہیں ڈائی نہیں کرسکی تھی۔ ان سفید بالوں کے ساتھ میرا چہرہ ایک عمررسیدہ خاتون کا دکھائی دے رہاتھا۔میری فرسٹریشن مزید بڑھ گئی، میںغصے سے کھولتی ہوئی والد صاحب کےپاس پہنچی۔ وہ پہلے ہی مجھ سے نظریں چرارہے تھے۔ وہ بیٹی جسے انہوں نے انگلی پکڑ کر چلناسکھایاتھا، جسے انتہائی ناز ونعم سے پالاتھا۔ جو سب کی آنکھوں کا تاراتھی۔جس کی موجودگی میں سارا گھر کھل اٹھتاتھا۔ آج اس کامشفق والد دل ہی دل میں دعاکررہاتھا کہ کاش!میرا بیٹی سے آمناسامنا نہ ہونے پائے بہرحال وہ اس تلخ حقیقت سےکہاں تک نظریں چراسکتے تھے۔
میں نے انتہائی تلخ انداز سے اپنے والد سے کہا: آپ نے کیسے اس رشتے پرغورکرلیا اور اسے میرے لئے مناسب بھی سمجھنے لگے۔ کیا اب میرے لئے چھے بچوں کا باپ ہی بچاہے۔ والد صاحب نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں کہا: بیٹی اب یہی حقیقت ہے۔ اب تمہارے لئے اسی طرح کے رشتے ہی آرہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہیں میری طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ ان کی آنکھوں سے تسلسل کے ساتھ آنسو گررہے تھے۔ یہ سن کر میرے بھی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور میں نے بھی دھاڑیں مار کر روناشروع کردیا۔ ابا جان کہہ رہے تھے: میری عزیز از جان بیٹی! ہمارے آباؤاجداد کہا کرتے تھے :بیٹیاں گلاب کے پھولوں کی مانند ہوتی ہیں۔جس طرح گلاب کے پھول کو اگر وقت پر نہ کاٹاجائے تو وہ مرجھاجاتا ہے، اس کی پتیاں سکڑجاتی ہیں، اسی طرح بیٹیوں کی مناسب وقت پر شادی نہ کی جائے تو وہ مرجھا جاتی ہیں۔
اس وقت ہم باپ بیٹی ناقابل بیان اذیت سے دوچارتھے۔ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف اور پریشانی کا بھی احساس تھا۔ ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کرمزید اذیت نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن میں نے پھر بھی کہا: اباجان!میں تو ناسمجھ تھی عاقبت نااندیش تھی، لیکن آپ تو سمجھدار تھے، تجربہ کار تھے،زمانے کی اونچ نیچ سے واقف تھے۔جب میں کالج میں تھی اور میراپہلارشتہ آیاتھا۔ وہ لڑکا آپ کو بہت پسند تھا۔ اس کا خاندان بھی بہت اچھا تھا۔ کاش!آپ نےمجھے اتنی ڈھیل نہ دی ہوتی کہ میرے ذرا سے ناک منہ چڑھانے پر آپ نے رشتے سے منع کردیاتھا۔ آپ مجھ پر دباؤڈالتے، مجھے قائل کرتے، گھروالے مجھے سمجھاتے۔ شاید اس وقت میں اس نتیجے پرپہنچتی کہ اب میرے لئے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ پھر میری خالہ کابیٹا بھی ہمیں سب گھروالوں کو بہت پسند کرتاتھا۔ پھر آپ نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیوں نہ کیا؟ یہ کہہ کر میں نے پھرزاروقطار روناشروع کردیا۔ میرے والد جن کی بڑی آن بان تھی۔ پورے خاندان میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اب وہ کافی عرصے سے میری وجہ سے لوگوں سے چھپتے پھررہے تھے ۔ انہوں نے کہیں آناجاناچھوڑ دیاتھا۔ ان کی ساری خوداعتمادی ہواہوچکی تھی۔ مجھے چپ کرانے کے بجائے وہ خود بھی لگاتاررورہے تھے‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ ہرقسم کےپچھتاوے سے بچائے، شادی بیاہ سمیت تمام معاملات میں شرعی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہماراحامی وناصرہو۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد انتشار کاباعث بن سکتی ہے
روزنامہ ایکسپریس کراچی نے اپنی28ستمبر 2016ءبروز بدھ کی اشاعت میں خبر شایع کی۔ ملاحظہ ہو:
’’سندھ اسمبلی نے منگل کو سندھی زبان کو قومی زبان کادرجہ دینے سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی ،یہ قرار دداد فنکشنل لیگ کے رکن نندکمار نےپیش کی۔ قرار داد پیش کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ سندھی زبان قدیم زبان ہے، اس کاتاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے،تمام سرکاری ونجی اسکولز میں سندھی کو لازمی طور پرپڑھایاجائے،اسٹیٹ بینک اور گورنر ہاؤس کے اعلامیے سندھی زبان میں جاری نہیں کیے جاتے اور اسے قومی زبان قرار دیاجائے۔‘‘
شیریں وباثروت سندھی زبان برصغیر کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے ۔سندھ کےمسلمانوں کیلئے ایک قابل فخر بات یہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں قرآن پاک کاسب سے پہلاترجمہ سندھی میں ہی ہوا۔ایک حوالہ کے مطابق یہ ترجمہ دوسری صدی ہجری میں ہوا۔ مترجم کا نام ابومحشرنجیح بن عبدالرحمٰن السندھی ہے۔ جبکہ بھٹائی اورسچل کاکلام بھی سندھی زبان میں ہے۔
دیکھیئے! سندھی کی بحیثیت زبان کوئی بھی مخالفت نہیں کرسکتا اور سندھی زبان کی ترقی کیلئے اگر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو اس پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر اس قرارداد پر عمل درآمد کے سلسلے کو آگے بڑھایاگیاتو پشتو،بلوچی، پنجابی، براہوی، سرائیکی ، ہندکو،کشمیری، بلتستانی اور دیگر زبانوں کو بھی قومی زبانیں قرار دلانے کیلئے آوازیں بلند ہوں گی جس سے انتشار پھیلے گا اور قومی وحدت کو ضرر پہنچے گا ۔ ہماری قومی زبان صرف اور صرف اردو ہے اور اسی میں ہماری قومی وحدت کا راز پنہاں ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اوراس حقیقت کوبھانپ کر کہ لاتعداد قومیتیں رکھنے والی پاکستانی قوم اگر کسی کڑی کے تحت جڑی رہ سکتی ہے تو وہ صرف اردوزبان ہے، ڈھاکہ میں جب بنگالی زبان کو قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا توبانی پاکستان نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ مملکت کی سرکاری زبان صرف اردو ہوگی۔ ہندوؤں ،سوشلسٹوں اور ملک دشمنوں نے اس موقع پر واویلا بہت کیا لیکن بانی پاکستان نے الفاظ واپس لینے سے انکار کردیا ۔یاد رکھیئے!اسلام کے بعد پاکستانیوں کو باہم جوڑے رکھنے کی واحدبنیاد آج بھی اردوہے۔ لہذا اس طرح کی قرار دادیں لاکر اردو کے مقام ومرتبہ اورحرمت پرڈاکہ نہ ڈالاجائے۔
علماء روزنامہ امت کولگام دیں
چندسال قبل روزنامہ امت نے اسلامی صفحہ پرمناظرِ اسلام فاتح قادیان مولانا ابوالوفاء ثناءاللہ امرتسری aکی تفسیر ثنائی قسط وار شایع کرنا شروع کی ابھی اس کی بمشکل ۴،۵اقساط ہی شایع ہوئی ہوں گی کہ یکلخت تفسیرثنائی کی اشاعت موقوف کردی گئی اور ا س کی جگہ مولانامحمد شفیع عثمانی کی تفسیر معارف القرآن شایع ہونے لگی۔ نہ جانے اس ردوبدل میں’’کس‘‘ کےا شارۂ ابرو کاعمل دخل ہے۔
المختصر! انہیں جو درست لگااس پر عمل درآمد کرلیا- لیکن-وہ لوگ آج کہاںہیں؟ کیا آج کل روزنامہ امت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے؟ کیا انہیں آج کا بے لگام روزنامہ امت نظر نہیں آرہا ،جو قوم کوفحاشی، شرک وبدعت کی جانب دھکیلنے میں پیش پیش ہے۔ سب سے پہلے اس روز نامہ نے دبئی کے قحبہ خانوں کی ننگ دھڑنگ طوائف اور دلالوں کی کئی اقساط پرمشتمل رپورٹ شایع کی،جس میں دلالوں اور طوائف کے پتے اور رابطہ نمبر شایع کیے اور ’’اِن رومز‘‘ ہونے والے شرم وحیا سے عاری ماحول کو بھی شایع کرنے سے گریز نہ کیا۔ اور طوائف کی انتہائی درجہ عریاں تصاویر بھی شایع کیں۔ فحاشی پر مبنی اس رپورٹ کی اشاعت یقیناً ذمہ داران روزنامہ کےنزدیک بھی ناپسندیدہ تھی۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر احترام رمضان کے پیش نظر اس رپورٹ کی اشاعت روک دی گئی۔ مقام غور ہے کہ جورپورٹ احترام رمضان کے منافی ہے، اس کی اشاعت بعدازرمضان کیونکردرست ہوسکتی ہے؟؟؟؟
اور دوسری دلیل یہ ہے کہ ابھی یہ رپورٹ مکمل نہیں ہوئی تھی، اس کی اقساط باقی تھیں کہ اچانک اس کی اشاعت موقوف کردی گئی۔ اگراحساس ہوگیاتھا تو اس کااظہار کیاجاناچاہئے تھا اور معذرت شایع کرنے کے بعد اس کی اشاعت موقوف کی جاتی۔بلکہ اشاعت سےپہلے غوروفکر کرلیاجاتا توبعد ازخرابیٔ بسیار اچانک اس کی اشاعت روک دینے کی نوبت نہ آتی۔
اس کے بعد روزنامہ امت نے دربارشاہ عقیق کے متعلق رپورٹ شایع کی۔ جس کا مفصل رد ماہ گذشتہ کے مجلہ میں ان ہی صفحات پر کیاجاچکاہے۔ اس کے بعد عبداللہ شاہ غازی، ہیررانجھا،مرزاصاحباں کے مزاراورمنگھوپیر سے متعلق رپورٹ شایع کی گئی جس میں کئی شرکیہ اورحیاسوز امور بیان کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا اشارۂ ابرو اس قدر پرتاثیر ہے کہ جس سے ایک ولی اللہ صفت، موحد، متبع سنت عالم دین کی تفسیر کی اشاعت یکلخت موقوف کردی جاتی ہے، وہ اس قسم کی اشاعتوں کی روک تھام کیوں نہیں کراسکتے؟
علماء کرام آگے بڑھیے اورروزنامہ امت کو لگام ڈالیے۔
9محرم الحرام-تہران میں فٹبال میچ اور پاکستان جام
9محرم الحرام1438ھ کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران اور جنوبی کوریا کے مابین ورلڈکپ کوالیفائنگ میچ کھیلا گیا۔ آزادی اسٹیڈیم تہران میں کھیلے جانے والے میچ کے حوالہ سے ایران کے کئی مذہبی رہنماؤں نے عاشورہ سے ایک روز پہلے میچ نہ کھیلنے کامشورہ دیا تھا۔ ایرانی حکام نے جنوبی کوریا کے حق میں دستبردار ہونے کے بجائے میچ کھیلنے کافیصلہ کیا۔(روزنامہ امت 12اکتوبر2016ء)
9محرم کو شیعہ اسٹیٹ ایران میں عزادار فٹبال میچ سے لطف اندوز ہورہے تھے اور یہاںپاکستان میں ذاکرین مجالسِ محرم میں ببانگ دہل بول رہے تھے کہ عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔جبکہ 7محرم کی شام سے ہی پاکستان کے تمام بڑے شہروںکی مصروف ترین شاہراہوں کو جام کردیا گیا تھا۔ جس سے عام شہریوں کاجینا اورگزرنا مشکل ہوگیا ۔ لوگ اپنے گھروں ،اسپتالوں اور عبادت گاہوں تک جانے سے محروم ہوگئے۔ اگر ماتمی جلوس اور عزاداری، دین اسلام اور ایمان کا جزو لاینفک ہیں تو ایران کو اس سے پہلو تہی کاحق کیسے حاصل ہوگیا۔اورغمِ حسین منانے کے دعوے کہاں غائب ہوگئے؟؟
ترجمانِ مسلک اہل حدیث شیخ محمدابراھیم بھٹیdروبصحت ہیں
9اکتوبر2016ء بروزا توار بعدنماز ظہر اساتذہ المعہد السلفی کراچی نےفضیلۃ الشیخ محمدابراھیم بھٹیdسے معہد الشیخ بدیع الدین کوئٹہ ٹاؤن میں ملاقات کی،شیخ صاحبdروبصحت ہیں۔ واٹرپمپ کے فالج کلینک میں روزانہ صبح ۹تا۱۱بجے آپ کا علاج جاری ہے، آپ بحمدللہ تیز ی سے صحتیاب ہورہے ہیں۔اللھم اشفہ شفاء کاملا عاجلا.
دروانِ ملاقات گفتگو کرتے ہوئے شیخ محمدابراھیم بھٹیdنے المعہد السلفی کراچی، شیخ عبداللہ ناصررحمانیd،محدث جلالپوریaاور محدث دیارِ سندھ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaکا خصوصی تذکرہ فرمایا۔
آپdکافرمانا تھا:فرزندان المعہد السلفی کو دینی مشن پر جہاں بھی بھیجاجائے وہ صرف دوباتیں دیکھتے ہیں: (۱) دین کا کام کرنا ہے۔(۲) ہمیں بھیجنے والے ہمارے اساتذہ ہیں۔ بس، وہ کوئی اور سہولت کامطالبہ نہیں کرتے،یہ سب اساتذہ کرام کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شیخ عبداللہ ناصر رحمانیdکو بڑی برکت سے نوازا ہے، آپ دعوتی وتبلیغی امور میں مصروف ہونے کے باوجود تحریری کام بھی کررہے ہیں، یہ محدث دیارِ سندھ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی aکی صحبت کااثر ہے وہ ہمیں دوباتیں سمجھاکرگئے،منہج اور ماحول یعنی منہج کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سنجیدہ ماحول میں دین کاکام کرنا ہے۔ اسی طرح کاکام پروفیسرعبداللہ بہاولپوریa نے بہاولپور اور محدث جلالپوری مولانا سلطان محمودa نے جلالپورمیں کیا۔۔اللہ تینوں محدثین کو غریقِ رحمت کرے۔
قارئین کرام !ترجمان مسلک اہل حدیث کی مکمل صحتیابی کیلئے مزیددعاؤں کی درخواست ہے۔
امیرمحترم dکے دعوتی،تبلیغی وتدریسی دورے
عیدالاضحیٰ کے بعد فضیلۃالشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ، بہت زیادہ دعوتی ،تبلیغی اور تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہے،عیدالاضحیٰ کے فوراً بعدامیرمحترم نےبلتستان کا10روزہ دورہ کیا، جس میںآپdنے متعدد مدارس ومساجد میں دروس ارشاد فرمائے اور جماعتی احباب سے ملاقاتیں کیں اور ان کی مسلک اہل حدیث کی ترویج کیلئے کی جانے والی مساعی وجہود سے آگہی حاصل کی۔ بلتستان میں شیخ محترمdکے تلامذہ کی اچھی خاصی تعداد اموردینیہ کی انجام دہی میں مصروف ہے، اپنے تلامذہ کی ان جہودسے مطلع ہوکر شیخ محترمdکوقلبی مسرت ملی، جس کابرملا اظہار آپdنے جامعہ بلتستان میں اپنے خطاب کےد وران فرمایا۔
دورۂ بلتستان کے فوراً بعد امیر محترم نے دھگالوجمالی اور گوٹھ حاجی سلطان ٹنڈوغلام علی میں منعقد ہونے والی دوعظیم الشان سیرت کانفرنسوں میں خطاب فرمایا۔ اور پھرمحض دو دن کے وقفے کے بعدآپdایک تدریسی دورہ کیلئے دبئی روانہ ہوگئے۔
6اکتوبرتا 11اکتوبر2016ء منعقد ہونے والایہ تدریسی دورہ شیخ محترمdنے دائرۃ الشؤن الاسلامیۃ والعمل الخیری حکومۃ دبئی کے ماتحت کیا۔ مسجد محمد عبدالرحیم کتیت، محیصنہ4عقب ولیج لؤلؤ میں منعقد ہونے والے اس منفرد علمی دورہ میں شیخ محترمdنے مندرجہ ذیل عناوین پرتدریس فرمائی اور مقامی احباب وخواتین کی ایک کثیرتعداد نے آپdکی تدریس سے استفادہ کیا۔
(۱)قرآن کے بہتر فہم کیلئے عربی لغت کی معرفت
(۲) اصولِ تفسیر کی معرفت
(۳)قرآن کی سب سے عظیم سورت(الفاتحہ) کی معرفت
اللہ تبارک وتعالیٰ شیخ محترم کی ان تمام مساعی کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے۔آمین
بلاامتیازانصاف
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزd کے حکم پر شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادے ترکی بن سعود الکبیر کاقتل کے جرم میں سر قلم کردیاگیا،شہزادے کوقصاص میں سزائے موت دی گئی۔ ترکی بن سعود نے عادل الحمود نامی شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، ملزم کے اقرباء نے مقتول کے لواحقین کومنہ مانگی دیت دینے کی کوشش کی لیکن لواحقین نے لینے سے انکار کردیا۔
(روزنامہ امت کراچی ۱۹اکتوبر۲۰۱۶ء بروز بدھ)
یاد رہے کہ قصاصاً قتل ہونے والاشہزادہ ترکی بن سعود الکبیر خادم الحرمین الشریفین کاسگا بھتیجا تھا۔ مملک اسلامی سعودی عرب میں قصاص کا مذکورہ واقعہ ان لوگوں کے چہرے پر زناٹے دارطماچہ ہے جومحض سعودی دشمنی میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سعودی عرب میں شریعت کانفاذ تو غیرسعودیوں کیلئے ہے، قوانینِ قصاص ودیت سعودیوں پر لاگو نہیں ہوتے۔سبحانک ہذا بھتان عظیم.
ان سیاہ دل لوگوں سے اور تو کچھ نہ بن پڑا تو اب کہنے لگے ہیں کہ:’’شہزادہ ترکی بن سعود کو بچانے کیلئے شاہی خاندان نے دیت کی بڑی کوشش کی لیکن لواحقین کے مطالبۂ قصاص کے سامنے شاہی خاندان ڈھیرہوگیا۔‘‘ یہ محض بغض وعناد ہے۔ حالانکہ دیت سے متعلق قرآن مجید کی آیت :[فمن عفی لہ من أخیہ…الآیۃ]اورصحیح مسلم کی حدیث،جس میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مقتول کے وارث کوقصاص معاف کرنے کی زبردست ترغیب سے شاہی خاندان کے عمل کی تائید ہورہی ہے۔
معلوم ہوا ضد وعناد،حسد اوربغض وکینہ کاکوئی علاج نہیں!!!
vvvvvvvvvvvvvvvv

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے