Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » اربعینِ نووی ۔ حدیث نمبر:19 قسط:46

اربعینِ نووی ۔ حدیث نمبر:19 قسط:46

درسِ حدیث
فضیلۃالشیخ عبدﷲناصررحمانی

عَنْ أَبِي عَبَّاسٍ عَبْدِ اللهِ بنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النبي صلى الله عليه وسلم يَومَاً فَقَالَ: (يَا غُلاَمُ إِنّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللهَ يَحفَظك، احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ، إِذَاَ سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَاَ اسْتَعَنتَ فَاسْتَعِن بِاللهِ، وَاعْلَم أَنَّ الأُمّة لو اجْتَمَعَت عَلَى أن يَنفَعُوكَ بِشيءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلا بِشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ لَك، وإِن اِجْتَمَعوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشيءٍ لَمْ يَضروك إلا بشيءٍ قَد كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفعَت الأَقْلامُ، وَجَفّتِ الصُّحُفُ) رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح – وفي رواية – غير الترمذي: (اِحفظِ اللهَ تَجٍدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إلى اللهِ في الرَّخاءِ يَعرِفْكَ في الشّدةِ، وَاعْلَم أن مَا أَخطأكَ لَمْ يَكُن لِيُصيبكَ، وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُن لِيُخطِئكَ، وَاعْلَمْ أنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الفَرَجَ مَعَ الكَربِ، وَأَنَّ مَعَ العُسرِ يُسراً)
ترجمہ:ابوالعباس عبداللہ بن عباس wسے مروی ہے، فرماتے ہیں:میںایک روز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھا،آپ نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چندباتوں کی تعلیم دیتاہوں:
تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا،جب بھی کچھ مانگنا ہو،اللہ تعالیٰ سے مانگ، اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو،اللہ تعالیٰ سے طلب کر،اچھی طرح جان لے اگر ساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سواکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اور اگر ساری امت اکٹھی ہوکر تیراکوئی نقصان کرناچاہے تو اللہ تعالیٰ کے نوشتۂ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی، قلم اٹھالئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔(اس حدیث کو امام ترمذی aنے روایت فرمایا ہےاور اسے (حسن صحیح) قراردیاہے،ترمذی کے علاوہ بعض دیگر کتب میں یہ بھی مروی ہےکہ تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرہمیشہ اسے اپنے سامنے پائے گا،آسانیوں اور آسائشوں میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی پہچان کروا،وہ تجھے سختیوں میں پہچان لیاکرے گا،خوب جان لے کہ جو چیز تجھے نہیں مل سکی ،اس کا مل جانا ممکن نہیں اور جو چیز تجھے مل چکی اس کا نہ ملنا ممکن نہیں،اورخوب جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہےاور مصیبتوں کا ٹل جانا پریشانیوں کے ساتھ ہے،اور بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔(حدیث کے اس حصے کو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں روایت فرمایا ہے:۳؍۶۲۴،امام ذہبی نے تلخیص میں اسے غیرمعتمد قراردیاہے)
راویٔ حدیث
یہ حدیث،رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم wکی روایت سے ہے،ہجرتِ مدینہ سے تین سال قبل جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل بیت شعبِ ابی طالب میں محصور تھے،ان کی ولادت ہوئی، رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے لعابِ مبارک سےان کی تحنیک فرمائی، ان کے مناقب بے شمار ہیں، سب سے ممتاز فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دومرتبہ اپنے سینے سے لگاکر علم وحکمت اور تفسیرِقرآن میں مہارت پیداہونے کی دعا سےنوازا،آپ مکمل طور پہ اس دعاکا مصداق ثابت ہوئے،یہی وجہ ہے کہ آپ کو (بحر)کے لقب سے نوازاگیا ، جس کامعنی :علم کاسمندر،اس کے علاوہ آپ کو( حبرالأمۃ)یعنی: امت کا عظیم عالم کالقب بھی حاصل ہے،تمام فنونِ علم سے واقفیت بلکہ مہارت موجود تھی ،جس کا سب سے بین ثبوت آپ کے بے شمار تفسیری اقوال اور فتاویٰ جات ہیں نیز لاتعداد شاگردبھی۔
خوارج سے مناظرہ کرکے انہیں لاجواب کردینا آپ کا عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے ہزاروں خوارج نے رجوع اختیارکرلیاتھا۔ آخری عمر میں نابیناہوگئے تھے(جس کی بڑی فضیلت واردہے)۔
سن ۶۸ہجری میں طائف میں بعمر۷۱سال فوت ہوئے،فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.
اہمیتِ حدیث
یہ حدیث کئی جملوں پر مشتمل ہے،ہر جملہ رسول اللہ ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہےاور بہت سے اعتقادی وتربوی امور کامجموعہ ہے۔
حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں سے کس قدر شفقت وملاطفت سے بھرپور سلوک فرماتے، ایک بچے کے ساتھ آپﷺ کاچلنااور اسے پندونصائح سے نوازنا اس کا بین ثبوت ہے۔
یہ حدیث نصیحت کے ایک خیرخواہانہ اور ناصحانہ اسلوب کا بھی شاہکار ہے،چنانچہ آپﷺ نے فوراً نصیحت شروع کرنے کی بجائے پہلے (یاغلام انی أعلمک کلمات)کہہ کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول فرمائی،پھرنصیحت شروع کی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کو امورِ عقیدہ کی تعلیم دینی چاہئے، بلکہ عقیدہ کی جو اہمیت کتاب وسنت سے اجاگرہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمِ دین میں اسی سے آغاز کیاجائے، یہ بات بھی معلوم ہے کہ بچپن کی بتائی گئی باتیں، نقش کی طرح بیٹھ جاتی ہیں اور ہمیشہ یاد رہتی ہیں،لہذا صغرسنی ہی سے عقیدہ کی تعلیم انتہائی نافع ثابت ہوگی۔
شرحِ حدیث
عبداللہ بن عباسwرسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے،یا تو سواری پر سوار تھے یا ویسے ہی آپﷺ کے پیچھے پیدل چل رہے تھے،آپ ﷺ نے انہیں (یاغلام ) یعنی: اے لڑکے!کہہ کر مخاطَب فرمایا، جو ان کے نوعمر بچہ ہونے کی دلیل ہے،رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت بھی قریب البلوغ تھے۔
آپﷺ نے عبداللہ بن عباس کی پوری توجہ حاصل کرنے کیلئے یہ جملہ ارشادفرمایا:(یاغلام انی أعلمک کلمات)یعنی:اے لڑکے! میں تجھے چندباتوں کی تعلیم دیتاہوں۔جس میں ملاطفت کا عنصربھی ہے اور نصیحت میں کمالِ حکمت کا اسلوب بھی۔(یعنی ان کی پوری توجہ حاصل کرکےنصیحت کا آغاز فرمایا)
آپﷺ کی یہ قیمتی نصیحتیں درج ذیل ہیں:
(۱)اِحْفَظِ اللهَ يَحفَظك.
تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا۔
یہ انتہائی عظیم الشان اور جلیل القدر نصیحت ہے، اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے مراد اس کی حدود اور اس کی شریعت کی حفاظت ہے، جو اس کے اوامر کوانجام دینے اور نواہی سے اجتناب برتنے سے مکمل ہوتی ہے،جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دین کااس قدر علم حاصل کیاجائے کہ تمام عبادات اور معاملات شریعت کے مطابق انجام پاجائیں،جملہ امور پر رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کا رنگ ہونہ کہ اھواءِ نفس اور بدعات وخرافات کا۔
اگر ہم اس میں کامیاب ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ صلہ اور جزاء کے طور پر ہماری حفاظت فرمائےگا، جس میں دین ودنیا،مال وجان نیز اہل وعیال سب شامل ہیں۔
اس حدیث میں عمل اور اس کی جزاء کی ایک ہی جنس ثابت ہورہی ہے،یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے جملہ امور کی حفاظت فرماتاہے،بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطاء تو مزید بڑھ چڑھ کر حاصل ہوگی۔
[وَالَّذِيْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًى وَّاٰتٰىہُمْ تَقْوٰىہُمْ۝۱۷ ] ترجمہ:اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے ۔(محمد:۱۷)
واضح ہو کہ اس جملے کا مفہومِ مخالف یہ بنتا ہے کہ جوشخص اللہ تعالیٰ کی شریعت وحدود کی حفاظت نہیں کرتا،اللہ تعالیٰ بھی اس کی حفاظت نہیں  فرمائے گا،چنانچہ حفاظت وسلامتی کے جملہ اسباب سلب فرمالے گااور اسےآخرت کے دردناک عذاب کی ہولناک وعیدوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی تباہی وبربادی کے دھانے پر لاکھڑاکرےگا۔
(۲)احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ.
تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا۔
اللہ تعالیٰ کو سامنے پانے کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت دین ودنیا کے تعلق سے ہرخیر کی رہنمائی فرمائے گا،جبکہ ہر شرکا ازالہ فرمادے گا۔
اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے قرب اورمعیت کا ہمیشہ احساس رہے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۶۴ۧ ](الانفال:۶۴)
ترجمہ:اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو(بھی) جو تیری پیروی کر رہے ہیں ۔
غورکیجئے! جس انسان کو اللہ تعالیٰ کافی ہوجائے اسے کسی قسم کا شر لاحق ہوسکتاہے؟وہ کسی خیر سے محروم ہوسکتا ہے؟اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دینِ حق سے برگشتہ ہونے دے گا؟
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے کافی ہو؟جواب اسی حدیث میں موجودہے۔
احْفَظِ اللهَ تَجِدهُ تُجَاهَكَ.
تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائےگا۔
(۳)وَ إِذَاَ سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ.
جب بھی کچھ مانگنا ہو،اللہ تعالیٰ سے مانگ۔
یہ جملہ توحید کا اصلِ عظیم ہے۔
یعنی جب بھی کوئی حاجت یاضرورت درپیش ہو، اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کرو، مخلوق سے قطعاًنہیں،اور اگر مخلوق سے کوئی ایسی شیٔ مانگنی پڑ جائے، جسے دینے کی وہ قدرت وصلاحیت رکھتی ہوتو اس سے طلب کرنا جائز ہے،مگر اس شرط کے ساتھ کہ آپ اسے اللہ تعالیٰ ہی کا عطاکردہ سبب قراردیں،مسببِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے،اگر وہ چاہے تو اس مخلوق کو وہ شیٔ تمہیں دینے سے روک دے،لہذا اصل اعتماد اورحقیقی توکل،اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر قائم کیاجائے۔
(۴) وَ إِذَا اسْتَعَنتَ فَاسْتَعِن بِاللهِ.
اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو،اللہ تعالیٰ سے طلب کر۔
یہ جملہ بھی توحید کی انتہائی قوی اساس ہےاور سورۃ الفاتحہ کی اس آیتِ کریمہ کا حقیقی مصداق ہے:
[اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ ] ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں۔
اور ہم خاص تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں،کسی اور سے نہیں۔
چنانچہ تمہیں جب بھی مدد مطلوب ہواللہ تعالیٰ ہی سے مانگو، کسی اور سے نہ مانگو؛کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کےہاتھ میںآسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے،وہ جب چاہے آپ کی مدد فرمادےاور جب چاہے روک لے۔
اگر کسی مخلوق سےایسی مدد کی ضرورت پڑجائے جو اس کے احاطۂ قدرت میں ہے،تو اس میں کوئی مضائقہ یاحرج نہیں ہے،البتہ لازمی طور پہ یہ عقیدہ رکھاجائے کہ اسے میری مدد کیلئے اللہ تعالیٰ ہی نے سبب بنایاہے،اگر وہ چاہتا تو اسے مدد کرنے سے روک دیتا۔
لہذا ہر قلیل وکثیرمیں اللہ تعالیٰ ہی اصل مددگارہے،اگر وہ آپ کی مدد کا فیصلہ فرمالے توضرور کرے گا ،خواہ اس کی مدد کے اسباب آپ کو معلوم ہوںیا نہ ہوں۔
کوئی شخص اگر آپ کو کسی قسم کی مدد فراہم کردے تومسبب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو قطعاً نہ بھلایاجائے ،بلکہ یہ عقیدہ رکھاجائے کہ اس شخص کا میری مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر ہی سے ممکن ہے۔
بہرحال اس حدیث کی واضح رہنمائی یہی ہے کہ ہر قسم کے سوال اور ہر قسم کی استعانت کیلئے اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پہ دستک دی جائے،جو نہ تو کبھی بندہوتا ہے اور نہ ہی کبھی اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی واقع ہوتی ہے:
یاعبادی لو أن أولکم وأخرکم وإنسکم وجنکم قاموا فی صعید واحد فسألونی، فأعطیت کل إنسان مسألتہ، مانقص ذلک مما عندی إلا کما ینقص المخیط إذا أدخل البحر.
اے میرے بندو!اگر تمہارے تمام اگلے و پچھلے اور تمام انسان وجن، ایک میدان میں جمع ہوکربیک وقت مجھ سے (جوچاہیں )مانگنے لگیں،اور میں اسی وقت سب کا سوال پوراکردوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں ہوگی،جو سوئی کے سمندر میں ڈبوکر نکالنے سے ،اس سمندر میں واقع ہوتی ہے۔
حدیث میں وارد یہ جملہ،اللہ تعالیٰ کی کمالِ قدرت اور کمالِ ملک کی زبردست دلیل ہے،نیز یہ کہ اللہ رب العزت کے خزانے کثرتِ عطاء کے باوجود ختم نہیںہوتے،خواہ اللہ تعالیٰ،جن وانس کے تمام اولین وآخرین کو آنِ واحد اور مقامِ واحد میں ان کی سوال کردہ تمام حاجات عنایت فرمادے، خواہ ان حاجات کا تعلق دین سے ہو جو کہ بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے، یا دنیا سے ہو۔
چونکہ سوال اور استعانت دونوں مسئلے عقیدۂ توحید کے ساتھ مربوط ہیں،لہذا جوشخص توحیدکے تقاضوں پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتارہے اور اسی سے استعانت کرتا رہے،نیز نفیاً واثباتاً اس عقیدہ کو اپنالے،یعنی:اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سوال کیے جانے اور استعانت کیے جانے کی مستحق ہے،ا س کے علاوہ کوئی نہیں۔
ایسا بندہ عنداللہ موحد قرارپائے گا،اللہ تعالیٰ کے مقربین میں داخل ہوجائے گا اور دنیاوآخرت میں اس کی عنایات کا مستحق بن جائے گا۔
بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے والااور ہردم اسی سے امیدیں وابستہ کرنے والا،اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تمام گناہوں سے پاک صاف ہوسکتا ہے۔
(عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلاَ أُبَالِي…..الحدیث)(جامع ترمذی:۳۵۴۰)
انس بن مالکtسے مروی ہے، میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:اللہ تعالیٰ فرماتاہے:اے آدم کے بیٹے جب تک تو مجھے پکارتارہے اور صرف میرے ساتھ امیدیں وابستہ کیے رکھے، تب تک میں بھی تجھے بخشتارہوںگا،تیرے گناہ جیسے بھی ہوںاور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
(جاری ہے)

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے