Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » ماہِ صفر کے بعض تصورات کی حقیقت

ماہِ صفر کے بعض تصورات کی حقیقت

حافظ محمدصہیب ثاقب،مدرس: المعہد السلفی کراچی

(۱)ماہِ صفر کے رسم ورواج:
ماہ صفر کومنحوس سمجھنا، نحوست کی وجہ سے اس ماہ میں شادیاں نہ کرنا، اس میں مٹی کے برتن توڑ ڈالنا، ماہِ صفر کے آخری بدھ یعنی چہارشنبہ کوجلوس نکالنا اور شہروں اور بستیوں کے باہر بڑی محفلیں منعقد کرکے خاص قسم کے کھانے ،حلوے تقسیم کرنا،بیماریوں سے شفاء کی نیت سے صبح صبح گھاس پر چلنا اور کہنا کہ نبی ﷺ ایک بار بیمار ہوئے تھے تو اسی دن اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو شفاء دی تھی۔ پھر آپﷺ نے لطیف اور عمدہ حلوہ کھایاتھا، مریضوں کو صحتیابی کیلئے تعویذ یا چھلا وغیرہ پہنانا اور چُوری کی رسم اداکرناوغیرہ وغیرہ۔
(۲)ماہِ صفر کے رسم ورواج کارد
صفرکامہینہ منحوس نہیں جیسا کہ عربوں میں اس کی نحوست کاتصور پایا جاتا تھا۔ اسلام میں کسی مہینے، دن اور وقت کے منحوس ہونے کاتصور نہیں ہے۔ اس لئے صفر کے منحوس ہونے کی بھی آپﷺ نے نفی فرمائی۔ آپﷺ کا ارشاد ہے’’نہیں ہے (اللہ کی مشیت کے بغیر) بیماری کا متعدی ہونا اور نہیں ہے(جائز) بدشگونی ،نہ ہی الو کی نحوست یاروح کی پکار اور نہ ماہِ صفر کی نحوست۔‘‘(صحیح بخاری،الرقم:5707)
اس کے علاوہ جو کچھ بھی اس مہینہ میں نیکی سمجھ کر کیاجاتاہے جس کو اوپر ذکرکیاگیا ہے اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:762)
(۳)تیرہ تیزی کے دن:
برصغیر پاک وہند کے بعض علاقوں میں بھی صفر کے پہلے تیرہ دن منحوس سمجھے جاتے ہیں اورا نہیں تیرہ تیزی کے دن کہاجاتاہے۔ ان ایام میں یہ وہم پرست لوگ شادی کرنے کونحوست قرار دیتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دن کاروبار کیلئے بھی ضرررساں ہیں۔
جبکہ کسی کومنحوس سمجھنا فرعونیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ:’’اور اگر ان(فرعونیوں) کوکوئی بدحالی پیش آتی ہے تو موسیٰ(u)اور ان (موسیٰuکے )ساتھیوں کی نحوست بتلاتے‘‘
(الاعراف:131)
(۴)آخری بدھ یا آخری چہارشنبہ کی حقیقت:
اسی ماہِ صفر کے آخری بدھ میں،جسے فارسی میں چہارشنبہ کہتے ہیں، رسول کریم ﷺ کے اس مرض کاآغاز ہوا تھا جس سے آپ صحتیاب نہ ہوسکے۔جیسا کہ اس تاریخی حوالے سے واضح ہے۔’’رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کا آغاز جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی،۱۱؍ھ کے اواخر ماہِ صفر،بدھ کے دن سیدہ ام المؤمین rکے گھر میں ہوا، پھر جب آپﷺ کی بیماری شدت اختیار کرگئی توآپﷺ سیدہ عائشہrکے گھر منتقل ہوگئے اور بارہ ربیع الاول بروز پیر آپﷺ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔‘‘(اسد الغابۃ144/1:)
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ برصغیر پاک وہند کے بہت سے مسلمان گھرانوں میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ وہ صفر کے آخری بدھ کو رسول اللہ کے’’یوم غسلِ صحت‘‘ کےطور پر مناتے ہیں۔ اس روز صبح سویرے باغوں کی چہل قدمی کو اجر وثواب کاباعث سمجھتے ہیں اور اس خوشی میں بہت سی جگہ تعطیل بھی ہوتی ہے اور اب چند سالوں سے’’چہارشنبہ ‘‘کا جلوس بھی نکلتا ہے۔ جب کہ یہ سب امور، غیر شرعی ہیں اور دین میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے ۔

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے