Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » امام ابوداؤد الطیالسی کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش

امام ابوداؤد الطیالسی کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش

محمدابراھیم ربانی،بدین ،متعلم المعہد السلفی کراچی

امام ابوداؤد سلیمان بن داؤد بن جارود الطیالسیa (المتوفی۲۰۴ھ) کاشمار اپنےد ور کے کبارحفاظ حدیث میں ہوتا ہے۔ امام صاحبa کی جلالت و توثیق پر ائمہ حدیث کااتفاق ہے۔
افسوس ہے آج کے ان لوگوں (جواس علم سے بالکل کورے ہیں) پر جنہوں نے محدثین عظامSکے اتفاقی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اس جلیل القدر محدث کو ضعیف کہہ دیا۔ استغفراللہ
اور اس پر ان کو اللہ کاڈر بھی نہیں ہوا۔ دیکھئے :ضعیف الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال ،ص:۳۸مکتبہ العلمیہ کراچی از حافظ عاطف کراچوی)
امام ابوداؤدالطیالسیa محدثین کی نظر میں
(۱)امام عبدالرحمٰن بن مہدیa(المتوفی ۱۹۷ھ)فرماتے ہیں:’’ابوداؤد الطیالسی اصدق الناس‘‘
ابوداؤد طیالسی لوگوں میں سب سے زیادہ سچ بولنے والےہیں۔
(تاریخ بغداد۹؍۲۹ت۴۶۱۷دار الکتب العلمیہ وسندہ صحیح)
(۲)امام محمد بن سعدa(المتوفی ۲۳۰ھ)فرماتے ہیں: ’’وکان کثیر الحدیث ثقۃ‘‘
(الطبقات الکبری ۷؍۲۹۸دار صادر)
(۳)امام الجرح والتعدیل یحی بن معینa(المتوفی ۲۳۳ھ)سے پوچھاگیا آپ کے ہاں زیادہ محبوب ابوداؤد (طیالسی) ہیں یا طرمی بن عمارہ؟ توآپ نے فرمایا:
’’ابوداؤد صدوق ابوداؤد احب الی منہ‘‘
ابوداؤدصدوق ہیں اور میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہیں۔(تاریخ عثمان بن سعید الدارمی عن یحی بن معین ،ص:۶۴ طبع دار المأمون لللتراث)
اور اسی طرح امام صاحب سے ایک بار پوچھاگیا کہ آپ کو ابوداؤد اور عبدالرحمٰن بن مھدی میں سے زیادہ محبوب کون ہے تو امام صاحب نے فرمایا:ابوداؤد اعلم بہ.
(تاریخ عثمان بن سعید الداری ،ص:۶۴،الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ۴؍۱۰۹دار الکتب العلمیہ)
(۴)مؤرخ رجال ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلیa(المتوفی ۲۶۱ھ) فرماتے ہیں:’’ثقۃ وکان کثیر الحفظ‘‘
یعنی امام ابوداؤد طیالسیؒ ثقہ اور کثیر الحفظ ہیں۔
(تاریخ ثقات ص۲۰۱ ت۶۰۹دار الکتب العلمیہ)
(۵)ابوحاتم محمد بن ادریس الرازی a(المتوفی ۲۷۷ھ) سے امام ابوداؤد طیالسی اور ابواحمد الزبیری کے متعلق دریافت کیا گیا کہ ان دونوں میں سے احفظ کون ہے؟
توامام صاحب نے فرمایا:ابوداؤد،ابواحمد سے زیادہ احفظ ہے۔
(الجرح والتعدیل ۴؍۱۱۰دار الکتب العلمیہ)
اورمزید فرماتے ہیں:’’ابوداؤد محدث صدوق‘‘
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم۴؍۱۱۰ دار الکتب العلمیہ
( ۶)امام یعقوب بن سفیان الفسویa(المتوفی ۲۷۷ھ) سے کہاگیا ،آپ کو ابوداؤد زیادہ محبوب ہیں یا ابوعبیدہ الحداد تو انہوں نے فرمایا:ابوداؤدا،حفظھما.
(المعرفۃ والتاریخ ۲؍۱۶۳مکتبہ الدار مدینہ منورہ براویۃ عبداللہ بن جعفر)
(۶)امام ابواحمد عبداللہ بن عدی الجرجانیa(المتوفی ۳۶۵ھ)فرماتے ہیں:’’وکان فی ایامہ احفظ من البصرہ مقدم علی اقرانہ‘‘
بصرہ میں اپنے زمانے کے علماء سے زیادہ احفظ تھے اور انہیں ہم عصرعلماء پر تقدیم حاصل تھی۔
(الکامل ۴؍۲۷۸،دار الکتب العلمیۃ)
(۸)امام محمد بن حبان البستیa(المتوفی ۳۵۴ھ)نے امام طیالسی کو اپنی ’’الثقات‘‘ میں ذکرفرمایا ہے۔
(کتاب الثقات ۸؍۲۷۵دارالفکر)
(۹)ابوبکر احمد بن علی بن ثابت البغدادیa(المتوفی ۴۶۳ھ) فرماتے ہیں:’’کان حافظا مکثرا ثقۃ ثبت‘‘
یعنی ابوداؤد حافظ،کثیرالحدیث، ثقہ اور پختہ تھے۔
(تاریخ بغداد ۹؍۲۶دارالکتب العلمیہ)
(۱۰)شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبیa(المتوفی ۷۴۸ھ) فرماتے ہیں:’’الحافظ الکبیر صاحب المسند‘‘
(سیر اعلام النبلاء ۹؍۳۸۷مؤسسۃ الرسالہ)
مزید فرماتے ہیں:’’احد الاعلام الحفظ‘‘
(تذکرۃ للحفاظ ۱؍۳۵۲ت۳۴۰ دار البازمکۃ)
تلک عشرۃ کاملۃ
ان کے سوابھی متعدد محدثین کی شہادات پیش کی جاسکتی ہیں اختصار کے پیش نظر انہی پر اکتفاء کیاجاتاہے۔
فائدہ:(۱)
کسی راوی کا اصول محدثین کی رو سے ثقہ ہونا ثابت ہوجائے تو اس کی طرف غلطی ،وہم یا خطا کے انتساب سے اس راوی کی توثیق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس صورت میں اس راوی کی صرف وہی روایت ضعیف قرار پائے گی جس میں وہم ،خطا یا غلطی بطریق صحیح ثابت ہوجائے۔
یہ وہ اصول ہے جس سے ہر ذی علم واقف ہوتا ہے۔
ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ جن حضرات کو اس طرح کے اصولوں کا پتانہیں اور حالت ان کی یہ ہے کہ وہ روایات کی صحت وضعف پر بحث کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
فائدہ:(۲)
بعض نے ابراہیم بن سعید کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام ابوداؤد طیالسی نے ایک ہزاراحادیث میں غلطیاں کی ہیں۔
(ضعیف الاقوال ،ص:۳۸ حافظ عاطف)
یہ بات بے سند ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے، عاطف صاحب کسی امام کے قول کے متعلق لکھتے ہیں:….. یہ بلا سند ہے جو لائق التفات نہیں۔(ضعیف الاقوال ،ص:۳۰ حافظ عاطف)
محترم کے اپنے اصول کے پیش نظر محترم کی بات بھی بلاسند ہے جو لائق التفات نہیں۔
امام محمد بن احمدبن عثمان الذھبیa(المتوفی ۷۴۸ھ)اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’یہ بات انتہائی مبالغہ پر مبنی ہے اگر امام صاحب نے اتنی احادیث میں غلطیاں کی ہوتیں تو ان کو ضعیف کہا جاتا۔(جبکہ ایسا نہیں ہے)
(سیر اعلام النبلاء ۹؍۳۸۲مؤسسۃ الرسالہ)
نوٹ: محترم عاطف صاحب کی کتاب ’’ضعیف الاقوال‘‘ میں موجود تلبیسات کے رد کے لئے دیکھئے:(مجلد اسوہ حسنہ کراچی جلد ۸شمارہ ۸۰ اگست ۲۰۱۶)
خلاصۃ التحقیق
امام ابوداؤد سلیمان بن داؤد بن جارود aکی توثیق پر محدثین کا اتفاق ہے، ان کے متعلق کسی بھی محدث سے جرح ثابت نہیں اگر ثابت بھی ہوجاتی تو جمہور کے مقابلے میں مضر نہ تھی باقی ان کی طرف خطا یا غلطیوں کے انتساب سے یہ کشید کرنا کہ امام صاحب ضعیف ہیں۔ جہالت کے سوا کچھ نہیں ،امام صاحب کی صرف وہی مرویات ضعیف ہوسکتی ہیںجن میں ان سے غلطی یا خطا بطریق صحیح ثابت ہوجائے یا امام صاحب نے تدلیس کی ہو۔ورنہ تمام روایات مقبول ہونگی۔(ان شاءاللہ)

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

One comment

  1. So nce allah ahl e hadees ka ulma e karam ko eman wali sahat wali lambi umar ata frmaya jo in mohadaseen r.h ka difa krta han or krta rahan ga inshallah

جواب دیجئے