Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ نومبر » مراسلے ومکاتیب

مراسلے ومکاتیب

ادارہ

vابوحمزہ سعیدمجتبی السعیدی صاحب کامکتوب
محترم المقام الشیخ ذوالفقار علی طاہر صاحبd
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بعافیت ہوں گے۔ دعا ہے کہ رب کریم آپ کو ایمان وصحت والی طویل زندگی عطافرمائے۔آمین
ماہنامہ دعوت اہل حدیث باقاعدہ موصول ہوتا ہے، اس سے استفادہ بھی کیاجاتاہے۔اللہ کریم جملہ کارپردازان کی خدمات اور صلاحیتوں میں برکت فرمائے۔آمین
ماہ اگست کاتازہ شمارہ پیشِ نظر ہے۔
ادارتی صفحات پر، اس دفعہ الشیخ حافظ ندیم ظہیرdکی تحریر ’’آنکھوں کے عطیہ کی وصیت‘‘ کے بارے میں شامل ہے۔
ماشاء اللہ حافظ صاحب نے بڑی وضاحت سے اور دلائل سے ایسی وصیت کے عدم جواز اورخلافِ شریعت ہونے کو ثابت کیا ہے۔
جزاہ اللہ خیرا
اسی موضوع سے متعلقہ ایک حدیث کی طرف نشاندہی کرناچاہتا ہوں۔
سیدنا جابرtکا بیان ہے کہ سیدنا طفیل بن عمرو الدوسی tنے نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایک مضبوط قلعے اورمحفوظ مقام پر آناچاہیں تو اس کام کیلئے ہم حاضر ہیں دراصل قبل از اسلام دوس کا ایک قلعہ تھا۔ نبیﷺ نے ان کی اس پیش کش کوقبول کرنے سےانکار فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت انصار کیلئے مقرر کررکھی تھی۔ پس جب نبیﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے تو طفیل بن عمرو tاوران کی قوم کا ایک اور آدمی بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے۔
انہیں مدینہ منورہ کی آب وہوا راس نہ آئی۔ دوسرا آدمی بیماری کے ہاتھوں عاجز آگیا، آخرکار اس نے ایک تیزدھار والاآلہ لے کر اپنی انگلیوں کے پورکاٹ ڈالے۔ اس کے ہاتھوں سے اتناخون بہا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔
طفیل بن عمروtنے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بہت اچھی حالت میں تھا البتہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے تھے۔ طفیلtنے اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ تو اس نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کی طرف جو ہجرت کی تھی ۔اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت کردی ہے۔ انہوں نے پوچھا: میں یہ کیادیکھ رہاہوں کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے ہیں؟ اس کی کیاوجہ ہے؟ تو اس نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ سے کہاگیا کہ تم اپنے جواعضاء خود اپنے جسم سے الگ کرآئے ہو ہم انہیں درست نہیں کریں گے۔
طفیلtنے اپنا یہ خواب رسول اللہ ﷺ کے گوش گزار کیا توآپﷺ نے دعافرمائی کہ یااللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے یعنی اسے ہاتھ بھی دے دے۔
(صحیح مسلم، باب الدلیل علی ان قاتل نفسہ لایکفر)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوآدمی بلاوجہ اپنے جسم کا کوئی عضو اپنے جسم سے الگ کرجائے تو اسے آخرت میں جنت مل جانے کے باوجود وہ عضو نہیں دیاجائے گا۔ حررہ ابوحمزہ سعید مجتبی السعیدی
فاضل مدینہ یونیورسٹی

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے