Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » فتنۂ غامدیت قسط:۱۸

فتنۂ غامدیت قسط:۱۸

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:۱۸
مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان

جوپیرہن اس کاہے وہ مذہب کاکفن ہے

کشاف القناع اور تفسیر کبیر کے حوالوں کی حقیقت
عزیزموصوف نے مذکورہ اقتباس میں فقہ حنبلی کی کتاب کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں دعوائے اجماع کی تردید کی گئی ہے۔ قارئین مذکور کتاب کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ فرمائیں کہ اس میں صرف اختلاف کا ذکر ہے یا اجماع کی تردید؟
(ودیۃ المرأۃ) مسلمۃ کانت او کافرۃ( نصف دیۃ رجل من اھل دیتھا) حکاہ ابن المنذر رواہ ابن عبد البر اجماعا لما روی عمرو بن حزم ( ان النبی ﷺ – قال فی کتابۃ: دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل) لکن حکی عن ابن علیۃ والاصم ’’ان دیتھا کدیۃ الرجل‘‘….(کشاف القناع:۶؍۲۰دار الکتب العلمیہ)
یہ دو شخص جیسے کچھ ہیں ،ان کی وضاحت کی جاچکی ہے، ان کی شاذ رائے کے ذکر سے اجماع کی تردید نہیں ہوتی، نہ اس قسم کےلوگوں کے اختلاف سے اجماع کی حیثیت ہی متاثر ہوتی ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے عصرحاضر کا ڈی، این، اے ٹیسٹ کی رپورٹ کی شہادت یا عدم شہادت کا مسئلہ ہے۔ یہ بالکل ایک جدید مسئلہ ہے۔عرب وعجم کے تمام علماء نے اس کو ایک قرینے اورضمنی شہادت کے طور پر ماننے کافتویٰ دیا ہے لیکن اسے زنا کے چار عینی گواہوں کا متبادل ماننے سے انکار کیا ہے، کیونکہ اس سے نصوصِ قرآنی کا، جن میں چارگواہوں کی گواہی کو ضروری قرار دیاگیا ہے ،انکار لازم آتا ہے۔
یہ عصرحاضر کا ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اور علمائے اسلام نے نصوصِ شریعت کی روشنی میں اس کا متفقہ فیصلہ کردیا ہے،اس فیصلے یا فتوے کو یقیناً اجماع قرار دیاجاسکتا ہے ،لیکن عمار صاحب سمیت یہ فراہی گروہ اس اجماع کو ماننے کےلئے تیار نہیں ہے، بلکہ اس سے برملا اختلاف کا اظہار کرہا ہے،ظاہر بات ہے کہ اس منحرف گروہ کے اختلاف سے علمائے اسلام کے ایک اجماعی مؤقف پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا، کیونکہ علمائے اسلام کافیصلہ قرآن وحدیث کی نصوصِ صریحہ پر مبنی ہے اور دوسرا موقف نصوص شریعت کے انکار یا ان سے انحراف پر مبنی ہے۔ اس لیے اول تو وہ سرے سے قابل ذکر ہی نہیں ہے، اور اگر اس کاکوئی ذکر بھی کردے گا تو اس سے اجماعی موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
تفسیرکبیر(امام رازی) کے حوالے کی بھی یہی صورت حال ہے، اس میں البتہ یہ اضافہ ہے کہ اس میں جہاں فقہاء کے موقف کی دلیل پیش کی گئی ہے ،وہاں دوسرے موقف کی بھی ’’دلیل ‘‘امام رازی نے نقل کردی ہے۔ اس عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
’’آٹھواں مسئلہ: اکثرفقہاء کامذہب ہے کہ عورت کی دیت(قتل خطامیں) مرد کی دیت سے آدھی ہے، اور اصم اور ابن عطیہ نے (عطیہ ، کتابت کی غلطی ہے، سب نے عُلَیّہ لکھا ہے) کہا ہے کہ عورت کی دیت، مرد کی دیت کے مثل ہے۔ فقہاء کی دلیل ہے کہ حضرت علی ،عمر اور ابن مسعود نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ نیز اس لیے بھی کہ میراث اور شہادت میں عورت مرد سے نصف ہے، اسی طرح دیت میں ہے۔ اور اصم کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے :[وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــــًٔا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِيَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓى اَھْلِہٖٓ ]اور اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت کے حکم میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں توضروری ہے کہ اس حکم میں دونوں برابرہوں، واللہ اعلم۔‘‘
امام رازی کےان کی’’دلیل‘‘ پیش کرنے کافائدہ یہ ہوا کہ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ ان دونوں منحرفین کی دلیل بھی بعینہ وہی ہے جو غامدی گروہ سمیت تمام منکرین حدیث کی ہے اور وہ ہے رسول اللہ ﷺ کے’’تبیین قرآنی‘‘ کے’’ منصب رسالت‘‘ کا انکار۔ اس کانتیجہ ان احادیث صحیحہ وصریحہ کا انکار ہے جن سے قرآن کے عموم کی تخصیص ثابت ہوتی ہے۔ حد رجم کے انکار کی بنیاد بھی منصبِ رسالت کا اور احادیث سے قرآن کی تخصیص کا انکار ہی ہے۔
ابوبکر اصم نے بھی اس انحرافی موقف کو اختیار کرتے ہوئے قرآن کے عموم سے استدلال کیا ہے جس کی وجہ سے عورت کی دیت کے نصف ہونے والی حدیث اور اس پر اجماع صحابہ کا ا س نے انکار کیا ہے۔ ان دونوں منحرفین کی اس باہم موافقت اور ہم آہنگی پر عمار صاحب سمیت غامدی گروہ بلاشبہ یہ تو کہہ سکتے ہیں
متفق گردیدرائے بو علی بارائے من
مگر اصل بات یہ ہے :
کندہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کتوبر باز با باز
لیکن علمائے اسلام کے لیے انکارحدیث پر مبنی یہ’’دلیل‘‘ قابل قبول ہوسکتی ہے؟ یاخود امام رازی کو اس’’دلیل‘‘ سے اتفاق ہوسکتا ہے؟ اس ’’دلیل‘‘ کی رو سے توحدِ رجم کا انکار بھی صحیح ہے جیسا کہ غامدی وفراہی گروہ کررہا ہے ،لیکن کیا امام رازی نے بھی’’عموم قرآن‘‘ والی ’’دلیل‘‘ سے حد رجم کا انکار کیا ہے؟ نہیں، ہرگزنہیں۔ وہ الزانیۃ والزانی کا حکم عام ہونے کے باوجود، حدیث رسول کی وجہ سے، اس حکم کوصرف کنوارے زانی کے لیے خاص مانتے ہیں اور اس میں شادی شدہ زانی کو شامل نہیں سمجھتے ،بلکہ اس کے لیے حدرجم کااثبات کرتے ہیں، جیسا کہ علمائے اسلام کاموقف ہے۔
علاوہ ازیں حدرجم کا انکار کرنے والوں میںصرف خوارج کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان کے دلائل ذکر کرکے ان کے نہایت معقول جواب دیے ہیں۔ خارجیوں کے یہ دلائل وہی ہیں جو آج کل سارے منکرین حدیث اور فراہی گروہ پیش کررہا ہے۔ ذراامام رازی کے بیان کردہ چند خارجی دلائل اور امام صاحب کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
حدرجم کےانکار کے لیے خوراج کی دلیل
’’الزانیۃ والزانی فاجلدوا ‘‘(النور) کا اقتضا یہ ہے کہ ہر قسم کے زانیوں کے لیے کوڑوں کی سزا واجب ہو، اور خبر واحد سے بعض کے لیے حد رجم کو واجب ٹھہرانا،اس سے کتاب اللہ کے عموم کی تخصیص لازم آتی ہے اور خبرواحد سے کتاب اللہ کی تخصیص جائز نہیں ہے، اس لیے کہ کتاب اللہ اپنے متن میں قاطع ہے جب کہ خبرواحد اپنےمتن میں غیر قاطع ہے، اور مقطوع (قطعی چیز) مظنون (ظنی چیز) پر راجح ہے‘‘
علمائے اسلام کاجواب
امام رازی اس کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’جمہور مجتہدین نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کے وجوب پر اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ تواتر سےیہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےایسا کیا ہے ۔علاوہ ازیں ابوبکر، عمر،علی،جابر بن عبداللہ، ابوسعیدخدری،ابوھریرہ، بریدہ اسلمی اور زید بن خالد اور دیگر صحابہy نے رجم کی روایات بیان کی ہیںاور انہی میں سے بعض راویوں نے حضرت ماعز اور نحمیہ وغامدیہ عورت کے رجم کے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ اور حضرت عمر نے فرمایا:’’اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اضافہ کردیا، تو میں اس حکم رجم کو قرآن میں درج کردیتا۔‘‘
’’خوارج کایہ کہناکہ خبرواحد سے قرآن کی تخصیص لازم آتی ہے (جوناجائز ہے)‘‘ ہم کہتے ہیں ،کہ خبرواحد کی رٹ ہی غلط ہے بلکہ یہ تخصیص خبرمتواترسے کی گئی ہے۔ نیز ہم نے اصول فقہ میں بیان کیا ہے کہ قرآن کی تخصیص خبرواحد سے بھی جائز ہے….آگے ان کے دیگر مزعومات کابھی رد کیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
’’اس آیت کاعموم کوڑوں کی سزا کے وجوب کامتقاضی ہے اور خبر متواتر حدرجم کے وجوب کی متقاضی اور ان دونوں میں کوئی منافات نہیں، اس لیے جمع وتطبیق ضروری ہے‘‘
آگے لکھتے ہیں:
’’اکثر مجتہدین اس بات پر متفق ہیں کہ شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا اور اسے کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی ۔اور انہوں نے کئی احادیث سے استدلال کیا ہے‘‘
اس کے بعد عہد رسالت کےرجم کے واقعات اور احادیث وآثار اس امر کے اثبات میں پیش کیے ہیں کہ زانیٔ محصن کو صرف سنگسار کیا گیا ہے، ان کو کوڑے نہیں مارے گئے۔
(التفسیر الکبیر:۸؍۳۰۶)
اس تفصیل سے تین باتیں واضح ہیں:
۱۔ امام رازی عموم قرآن کی حدیث کے ذریعے سے تخصیص کے قائل ہیں، اس لیے ان کے رجم کی نصف دیت کے انکار میں ان کے عموم کی دلیل بیان کرنے سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ امام رازی کے نزدیک اس کی اس’’ دلیل‘‘ میں کوئی وزن ہے، یا ان کارجحان اس بوگس دلیل کی وجہ سے اس کی طرف ہوگیا ہے، یا وہ اس کے موقف کوغوروفکر کے قابل سمجھتے ہیں۔
۲۔ قرآن کی’’عظمت‘‘ کےنام پر احادیث کا انکار،خوارج کاشیوہ رہا ہے، علمائے اسلام اس کے کبھی قائل نہیں رہے ۔
۳۔حدرجم کا انکار بھی صرف خوارج نے کیا ہے اور ان کے’’دلائل‘‘ بھی بعینہ وہی ہیں جس کی جگالی، آج کل غامدی ،اصلاحی، فراہی اور ان کے ریزہ چین کررہے ہیں۔
فتشابھت قلوبھم
بہرحال اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ مذکورہ دومنحرفین کی بے بنیاد انحرافی رائےسے امت کے اجماعی موقف پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔
نظریاتی کونسل کی رائے کاحوالہ؟ ’’میٹھا میٹھا ہپ،کڑواکڑوا تھو‘‘
عمارصاحب کا اس سلسلے کا پانچواں اور آخری پیراملاحظہ ہو۔ ان کے ترکش کا یہ تیر بھی رائگاں ہی گیا ہے،فرماتے ہیں:
’’۵۔پاکستان میں بھی قصاص ودیت کاجوقانون نافذ کیاگیا ہے، اس میں مردوعورت کی دیت میں فرق نہیںکیاگیا، جب کہ یہ قانون تمام مکاتب فکر کے جیدعلمائے کرام کی مشاورت کے بعد نافذ کیاگیا ہےاور اسے مذہبی جماعتوں کی عمومی تائید حاصل ہے۔‘‘(الشریعۃ،ص:۱۸۳)
عمارصاحب سے ہماراسوال ہے کہ کیا وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ’’استنادی حیثیت‘‘ کے قائل ہیں، یعنی اس کی رائے ان کے نزدیک حتمی اور قطعی ہے جس سے اختلاف کی گنجائش نہیں؟
اگر اس کاجواب اثبات میں ہے، یعنی ان کے نزدیک کونسل کی رائے تنقید سے بالاہے۔ تو پھر انہوں نے کونسل کی اس رائے کو اپنے نقد ونظر کاموضوع کیوں بنایا ہےجس میں اس نے ڈی،این، اے کی رپورٹ کو زنا کے چارعینی گواہوں کے متبادل ماننے سے انکار کیا ہے؟
اگر ان کے نزدیک کونسل کی رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے تو پھر نصف دیت والی رائے میں ان کے موقف کا حوالہ کیوں کرمعتبر مانا جاسکتا ہے؟یاعمارصاحب کے لیے اس کے حوالے کاکیاجواز ہے؟ کیا یہ’’میٹھا میٹھا ہپ اورکڑواکڑوا تھو‘‘ کامصداق نہیں؟
کیسی عجیب بات ہے کہ کونسل کی وہ رائے جو ڈی، این ،اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے بارے میں اس نے دی ہے جوعصرحاضر کے تمام علمائے اسلام کی رائے کے مطابق اور اس اعتبار سے اجماع امت کی مظہر ہے، وہ توغلط اورناقابل تسلیم ہے۔ لیکن قصاص ودیت کے بارے میں اس کافیصلہ ان کے لیے قابل قبول اور معتبر ہے جس پر علمائے اسلام کا اتفاق ہی نہیں ہے اور جس وقت اس کونافذ کیا گیا تھا، متعدد علمائے اسلام نے اس وقت مرد وعورت کی دیت(قتل خطامیں) نصف قرار نہ دینے کو ہدف تنقید بنایاتھا۔ راقم نے بھی اس دور میں قصاص ودیت کے قانون کی زیربحث دفعہ کے خلاف’’الاعتصام‘‘ لاہور میں ایک مضمون لکھا تھا، اور بھی بعض علماء نے لکھا تھا۔ یوں یہ قانون قصاص ودیت اس وقت زیربحث وتنقید رہا۔
عورت کی نصف دیت کے بارے میں چند ضروری وضاحتیں
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ مسئلہ پھر’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر آگیا ہےتومسئلے کی اصل نوعیت، اس کی حکمت اور اس کے بارے میں پیدا کردہ شکوک وشبہات کی وضاحت کردی جائے تاکہ علمائے اسلام کے اجماعی موقف کی حقانیت وصداقت مزیدواضح ہوجائے۔
مسئلے کی نوعیت
مختصراً مسئلے کی نوعیت یہ ہے کہ بطورغلطی اگر کوئی مسلمان عورت قتل ہوجائے تو اس کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہوگی۔ قتل عمد کاحکم اس سے مختلف ہے اور اس میں مرد وعورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں اولاً قصاص ہے، اگرقصاص کے بجائے دیت پر مصالحت ہوجائے تو پوری دیت اداکرناضروری ہوگا۔
شرعی دلائل: یہ فرق کیوں ہے؟اس کے شرعی دلائل گزرچکے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے، آثارصحابہ اور خلفائے راشدین کے فیصلے اور صحابہ کا اجماع ہے۔ پھر امت مسلمہ کے علماء وفقہاء کا بھی اتفاق ہے۔
نصف دیت کی حکمت ومصلحت
جہاں تک انسانی شرف وتکریم کامعاملہ ہے۔ اسلام میں مردوعورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسلام ہی وہ پہلا مذہب ہے جس نے انسانی معاشرے میں عورت کی عزت اور اس کے مقام ومنصب کاتحفظ اوراس کی قدرومنزلت کااعتراف کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ واقعہ بھی ہے کہ اسلام اس مساوات مردوزن کا قائل نہیں ہے جو اس وقت مغرب میں عام ہے۔ اسی لیے تکریم انسانیت کا مفہوم دونوں جگہ یکساں نہیں ہے۔ مغرب کے نزدیک جوچیز بھی عین تکریم نسوانیت ہے، اسلام کے نزدیک وہ عین تذلیل نسوانیت ہے۔ اسی طرح اسلام میں تکریم نسوانیت کے لیے جو جوحدود وضوابط تجویز کیے گئے ہیں، ہوسکتا ہے وہ مغرب کے نزدیک استخفاف نسوانیت کاباعث ہوں۔
مثلاً: اسلام میں عورت کے لیے پردہ انتہائی ضروری ہے، مرد وزن کے بے حجاب اختلاط کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مغربی ذہن اسلام کی اس ہدایت پر ناک بھوں چڑھاتا ہے اور اسے (نعوذباللہ) عورت کی تذلیل قرار دیتا ہے لیکن اسلام کی نظر میں یہ عورت کی تذلیل نہیں، اس کی عین عزت ہے، اور بے پردگی میں، جسے مغربی ذہن عورت کی عزت قرار دیتا ہے، عورت کی تذلیل وتحقیرہے۔
اسی طرح اسلام نے مرد وعورت کی، ایک دوسرے سے مختلف ، فطری صلاحیتوں کی بناپر دونوں کادائرۂ کار بھی ایک دوسرے سے مختلف رکھا ہے، مرد کو معاشی ذمے داریوں کاکفیل بنایا ہے اور عورت کو اس معاشی کفالت سے آزاد رکھا ہے۔ یہ صرف مرد کی ذمے داری ہےکہ وہ گھر سے باہر محنت مزدوری کرے، کارخانوں اور دفتروں میں ملازمت کرے اور معاشی تگ دومیں حصہ لے عورت گھر کی چار دیواری کے اندر امورخانہ داری کے فرائض انجام دے۔ یہ الگ الگ دائرۂ کار ان فطری صلاحیتوں کے مطابق ہے جن کی وجہ سے مردوعورت کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی میں ان کی عزت وتکریم ہے۔
اسی بنیاد پر میراث میں عورت کاحصہ مرد کے مقابلے میں نصف ہے، کیونکہ معاشی کفالت کے لیے مرد کومال ودولت کی جتنی ضرورت ہے، عورت کونہیں۔ اسلام کا یہ اصول قیامت تک کے لیے ہے، اس کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب چاہے معاملہ کتنا ہی برعکس ہوجائے، اور عورتیں مردوں کے دوش بدوش معاشی دوڑ میں خواہ کتنی ہی سرگرمی سے حصہ لیں اور کارخانے اور دفاتر چاہے عورتوں کے دم قدم سے کتنے ہی پررونق ہوجائیں لیکن میراث میں عورت کاحصہ پھر بھی مرد کے حصے سے نصف ہی رہےگا، کیونکہ معاشی سرگرمیوں میں عورتوں کی شرکت ہی اصولی طور پر سرے سے غلط ہےا وراسلام کے خلاف ہے۔(بعض انفرادی صورتوں میں بطورمجبوری عورتوں کی ملازمت الگ بات ہے جس کی گنجائش محدود دائرے میں موجود ہے)
عورت کی نصف دیت میں وہی علت ہے جومیراث کے نصف حصے میں ہے، یعنی چونکہ مرد کے قتل کیے جانے کی صورت میں ایک پورا خاندان اپنے کفیل سے محروم ہوجاتا ہے، اس لیے خاندان کی کفالت کے نقطۂ نظر سے اس کی پوری دیت ضروری ہے، جب کہ عورت کے قتل کیے جانے کی صورت میں ایسی مالی مشکل پیش نہیں آتی، اس لیے اس کی نصف دیت قطعاً غیرمعقول نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں نصف دیت کے پیچھے قطعاً یہ جذبہ کارفرمانہیں ہے کہ نعوذباللہ عورت حقیر ہے، یا وہ نصف انسان ہے اس لیے اس کی دیت بھی نصف ہے۔ بلکہ اس میں وہی علت یاحکمت ومصلحت مضمر ہے جو میراث میں پائی جاتی ہے جس میں عورت کی تحقیر کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔
(جاری ہے)

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے