Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » نبیﷺ کی ولادت اور وفات کے بارے علمائے کرام کے اقوال اور ان میں راجح قول

نبیﷺ کی ولادت اور وفات کے بارے علمائے کرام کے اقوال اور ان میں راجح قول

محمد راشد بن محمد سکندر،میہڑ

اول :
سیرت نگار اور مؤرخین کا تاریخ،دن، اور ماہ ولادت کی تعیین کے بارے میں اختلاف ہے۔
ڈاکٹر محمد طیب نجار کہتےہیں:
ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ آپﷺ کی ابتدائی زندگی پر اتنی توجہ نہیں دی گئی، تاہم جس وقت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی ولادت کے چالیس سال بعد دعوت دینے کا حکم دیا تو لوگ نبیuسے متعلقہ یادوں کو واپس لانے لگے، اور آپ کی زندگی کے بارے ہر چھوٹی بڑی چیز کے بارے میں پوچھنے لگے اس کیلئے خود نبیuکی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان کافی معاون ثابت ہوا، اس طرح آپ کی زندگی سے منسلک صحابہ کرام اور دیگر افراد نے بھی آپ کی زندگی سے متعلقہ واقعات بیان کیے۔ اس وقت مسلمان اپنے نبیuکی زندگی سے متعلق کوئی بات بھی سنتے تو اسے محفوظ کرلیتے تاکہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کو سیرت النبی سے آگاہ کریں۔(القول المبین فی سیرۃ سید المرسلین،ص:۷۸)
دوم:
نبیuکی ولادت سے متعلق متفقہ باتوں میں سال کیساتھ دن کی تعیین بھی شامل ہے۔
(۱)سال کے بارے میں یہ رائے متفقہ ہے کہ یہ عام الفیل کا سال تھا، چنانچہ ابن قیم کہتےہیں۔
اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپuکی پیدائش مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے سال ہوئی۔(زاد المعاد فی ھدی خیر العباد۱؍۷۶)
محمد بن یوسف صالحیکہتے ہیں:ابن اسحٰق کے مطابق ولادت کا سال عام الفیل ہے۔
ابن کثیر کہتے ہیں:جمہور کے ہاں یہی مشہور ہے۔
ابراھیم بن منذر حزامی جو کہ امام بخاری کے استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس بارے کسی اہل علم کو شک وشبہ نہیں ہے۔
جبکہ خلیفہ بن خیاط ،ابن جرار، ابن دحیہ، ابن جوزی اور ابن قیم نے تو یہاںتک کہہ دیا کہ اس بارے میں اجماع ہے۔(سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد۱؍۳۳۴،۳۳۵)
ڈاکٹر اکرم ضیاء عمری کہتے ہیں: حق بات یہ ہے کہ اس موقف سے متصادم تمام روایات ضعیف ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ آپuکی ولادت عام الفیل سے دس سال ،۲۳سال،۴۰سال بعد ہوئی۔
علمائے کرام کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ آپ کی ولادت عام الفیل میں ہوئی ہے ان کے اس موقف کی تائید جدید تحقیقات نے بھی کی ہے جو مسلم محققین کی جانب سے کی گئی ہیں انہوں نے عام الفیل کو ۵۷۰یا ۵۷۱کے موافق پایا۔
(۲)جبکہ نبیuکی پیدائش کا دن سوموار بنتا ہے، نبیuاسی دن پیدا ہوئے اسی دن رسالت سے نوازا گیا اور اسی دن آپ نے وفات پائی۔ چنانچہ ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ نے فرمایا اس دن میں پیداہوا اور اسی دن مجھے مبعوث کیاگیا یا مجھ پر وحی نازل ہوئی۔
(مسلم:۱۱۶۲)
ابن کثیر کہتے ہیں :اس شخص نے بعید از قرائن بات کی بلکہ غلط کہا جونبیuکی ولادت جمعہ کے دن ۱۷ربیع الاول کہتا ہے جمعہ کے دن کے قول کوحافظ ابن دحیہ نے کسی شیعہ عالم کی کتاب ’’اعلام الراوی باعلام الھدی‘‘ سے نقل کیا ہے اس کے بعد انہوں نے اس کو ضعیف بھی کہا ہے اور ایسےقول کی تردید کرنی بھی چاہئے کیونکہ یہ نص سے متصادم ہے۔(السیرۃ النبوۃ۱؍۱۹۹)
(۳) نبیuکی پیدائش سے متعلق اختلافی امور میں سےمہینے اور اس مہینے میں دن کی تعیین ہے اس بارہ میں بھی بہت سے اقوال ملے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔آپuکی پیدائش دو ربیع الاول کوہوئی،چنانچہ ابن کثیر کہتے ہیں:یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی یہ قول ابن عبدالبر نے’’الاستیعاب‘‘ میں نقل کیا ہے اور واقدی نے ابومعشر نجیع بن عبدالرحمٰن مدنی سے بھی روایت کیا ہے۔(السیرۃ النبوۃ۱؍۱۹۹)
۲۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو آپuکی پیدائش ہوئی، ابن کثیر فرماتے ہیں یہ بھی کہاگیا ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو آپuکی پیدائش ہوئی یہ قول حمیدی نے ابن حزم سے بیان کیا ہے اور مالک،عقیل، یونس بن یزید وغیرہ نے زہری کے واسطے سےمحمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کیا ہے، نیز ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ مؤرخین اسی کو صحیح قرار دیتے ہیں جبکہ حافظ محمد بن موسیٰ خوازرمی نے اسی کو یقینی طور پر صحیح کہا ہے ،حافظ ابوخطاب ابن دحیہ نے اسی کتاب’’التنویر فی مولد البشیر النذیر‘‘میں اسے راجح قرار دیا ہے۔(السیرۃ النبوۃ۱؍۱۹۹)
۳۔یہ بھی کہاگیا ہےکہ دس ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی، چنانچہ ابن کثیر کہتے ہیں: آپuکی پیدائش دس ربیع الاول کو ہوئی اسےابن دحیہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ابن عساکر نے ابوجعفر باقر سے بھی روایت کیا ہے نیز مجاہد نے شعبی سے یہی موقف بیان کیا ہے۔(السیرۃ النبوۃ۱؍۱۹۹)
۴۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ۱۲ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی، چنانچہ ابن کثیر کہتے ہیں:یہ بھی کہا گیا ہے کہ ۱۲ربیع الاول کو آپ کی پیدائش ہوئی اسی موقف کی صراحت ابن اسحٰق نے کی ہے اور ابن ابی شیبہ نے ا پنی کتاب’’المصنف‘‘میں عفان سے انہوں نے سعید بن میناء سے انہوں نے جابر اور ابن عباس ،دونوں سے روایت کیا ہے اور دونوں کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ عام الفیل بروز سوموار ۱۲ ربیع الاول کو پیدا ہوئے ،سوموار کے دن ہی آپ مبعوث ہوئے اور اسی دن آپ کو معراج کروائی گئی، اور اسی دن آپ نے ہجرت کی اور اسی دن آپ نے وفات پائی۔ جمہور اہل علم کے ہاں یہی مشہور ہے۔(واللہ اعلم،السیرۃ النبوۃ۱؍۱۹۹)
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہے ،یہ بھی کہا گیا کہ صفرمیں اور اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی اس بارے میں موجود ہیں۔
ہمیں جونظرآرہا ہے وہ یہ ہے کہ نبیuکی پیدائش کے حوالے سے مضبوط ترین اقوال آٹھ ربیع الاول سے لیکر۱۲ربیع الاول کے درمیان ہے اور کچھ مسلم محقق ماہرین فلکیات اور ریاضی دان افراد نے یہ ثابت کیا ہے کہ سوموار کا دن ربیع الاول کی ۹تاریخ بنتا ہے۔
چنانچہ یہ ایک نیا قول ہوسکتا ہے لیکن ہے مضبوط ترین قول اور یہ شمسی اعتبار سے ۲۰اپریل ۵۷۱کا دن ہے اسی کو معاصر سیرت نگاروں نے راجح قرار دیا ہے ان میں محمد الخضری اور صفی الرحمٰن مبارکپوری بھی شامل ہیں۔
ابوالقاسم سہیلی کہتے ہیں: ماہرفلکیات کا کہنا ہے کہ آپu کی پیدائش شمسی اعتبار سے ۲۰اپریل بنتی ہے۔
(الروض الانف ۱؍۲۸۲)
پروفیسر محمد خضری کہتے ہیں: مرحوم محمود پاشاجو کہ مصری ماہر فلکیات ہیں،آپ فلکیات جغرافیہ حساب سے بہت ماہر تھے انہوں نے کافی کتب اور تحقیقات شائع کی ہیں۔۱۸۸۵میں فوت ہوئے انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ آپuکی پیدائش صبح سویرے ۹ربیع الاول بمطابق ۲۰اپریل ۵۷۱ھ کو ہوئی جو کہ حادثہ فیل کا پہلا سال تھا آپ کی ولادت بنی ہاشم میں ابوطالب کے گھر ہوئی۔(نور الیقین فی سیرۃ سید المرسلین ،ص:۹)
(۴) جبکہ آپuکی وفات کے بارے میں دن کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ کی وفات سوموار کو ہوئی اور ابن قتیبہ سےجو نقل کیا جاتا ہے کہ آپuکی وفات بدھ کے دن ہوئی تو یہ درست نہیں ہے یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد نبیuکی تدفین ہو تو یہ درست ہےکیونکہ آپuکی تدفین بدھ کے دن ہوئی تھی۔
جبکہ وفات کے سال کے متعلق بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ سن گیارہ ہجری میں ہوئی۔
اور ماہ وفات کے بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے آپ کی وفات ربیع الاول میں ہوئی۔
جبکہ اس مہینے کی تاریخ کے متعلق علمائے کرام کا اختلاف ہے۔
۱۔جمہور علمائے کرام ۱۲ربیع الاول کے قائل ہیں۔
۲۔خوازرمی کہتے ہیں کہ آپ کی وفات ربیع الاول کی ابتداء میں ہوئی تھی۔
جبکہ مشہور وہی ہے جس کے بارے میں جمہور علمائے کرام کا موقف ہے کہ نبیuکی وفات ۱۲ربیع الاول سن گیارہ ہجری کو ہوئی تھی۔
دیکھیں:الروض الانف، از سہیلی ۴؍۴۳۹،۴۴۰،السیرۃ النبویہ از ابن کثیر۴؍۵۰۹، فتح الباری از ابن حجر۸؍۱۳۰)

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے