Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ دسمبر » عقیدہ وفات رسول ﷺ کتاب وسنت کی روشنی میں

عقیدہ وفات رسول ﷺ کتاب وسنت کی روشنی میں

عبدالمتین سروری،لاڑکانہ

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ایمان اور عقیدہ کی اصلاح کرے، اور وہی عقیدہ اختیار کرے جو نبیuاور صحابہ کرام yکا تھا،اگر کوئی مسلمان غیراسلامی عقیدہ کے ساتھ پوری زندگی عبادتِ الٰہی میں مصروف رہے تو وہ جنت کامستحق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں اور محمدرسول اللہﷺ نے اپنی احادیث صحیحہ میں بڑی کثرت سے جملہ اعمال صالحہ ہی کوقرار دیا ہے۔
[لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝۰ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝۱۷۷ ](البقرۃ:۱۷۷)
ترجمہ:ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والاہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔
دورحاضر کےمسلمانوں میں جو عقائد باطلہ رواج پاچکے ہیں انہیں عقائد باطلہ میں سے انکارِ وفاتِ رسول اللہ( ﷺ )کا عقیدہ بھی ہے، اس عقیدہ سے متعلق مسلمانوں میں دو نظریے پائے جاتے ہیں۔
(۱) نبیuاپنی دنیوی زندگی گزارنے کے بعد برزخی زندگی گذار رہے ہیں، اس زندگی کی کیفیت کا ادارک ہمیں نہیں ہوسکتا۔
(۲)رسول اکرمﷺ اپنی وفات کے بعد برزخ میں بھی بالکل دنیاوی زندگی کی طرح زندہ ہے اور ان کی دنیاوی اور برزخی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔
قرآن وحدیث اور منہج صحابہyکی روشنی میں صرف پہلا نظریہ ہی صحیح ہے میں نےاپنے اس مضمون میں اسی پہلے نظریہ’’رسول اکرم ﷺ اپنی زندگی گزارنے کے بعد برزخی زندگی گزار رہے ہیں‘‘ کے واضح وٹھوس دلائل کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
پہلی دلیل: ارشا د ربانی: [اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّيِّتُوْنَ۝۳۰ۡ ] بلاشبہ آپ بھی فوت ہونے والے ہیں، اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔(الزمر:۳۰)
صاحب تفسیر احسن البیان مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اس آیت سے بھی وفات النبی ﷺ کااثبات ہوتا ہے اس لئے نبی کی وفات کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہے ،جس طرح دنیا میں حاصل تھی،قرآن کے نصوص کے خلاف ہے۔ آپ پر بھی دیگرانسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اس لئے آپ کو دفن کیاگیا، قبر میں آپ کو توبرزخی زندگی یقینا حاصل ہے جس کی کیفیت کاہمیں علم نہیں لیکن دوبارہ قبر میں آپ کو دنیوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔(تفسیراحسن البیان،ص:۱۰۸۵)
دکتور وہبہ بن مصطفیٰ الزحیلی مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کے تحت رقمطراز ہیں کہ:اس آیت کریمہ میں صحابہ کرام yکو اس حقیقت سے باخبر کیاگیا ہےکہ رسول اللہﷺ اس دنیا میں نہیں رہیں گے بلکہ عنقریب اپنی دنیاوی زندگی گذار کر وفات پاجائیں گے۔
(التفسیر المنیرللزحیلی ۲۳؍۲۷۶)
دوسری دلیل: عائشہrسےر وایت ہے کہ جب نبیuکی وفات ہوئی اس وقت ابوبکر اپنے گھر سے جو سخ میں تھا گھوڑے پر سوار ہوکر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے، پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہrکے حجرے میں آئے اور نبیuکی طرف گئے نبیuکو یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر سے ڈھانک دیاگیاتھا، پھرآپ(ابوبکر)نےنبیuکا چہرہ کھولااور جھک کر بوسہ لیا او ر رونے لگے اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔اے اللہ کے نبیﷺ اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا سوائے ایک موت کےجو آپ کے مقدر میں تھی پس آپ وفات پاچکے۔
ابواسامہ نے کہا مجھے ابن عباس نے خبر دی کہ:ابوبکر باہر تشریف لائے تو عمر لوگوں سے کہہ رہے تھے:
(واللہ مامات رسول اللہ)
اللہ کی قسم!نبیuکی وفات نہیں ہوئی ہے۔
توصدیق اکبر نے عمرکوفرمایا بیٹھ جاؤ۔لیکن عمر نہیں مانے پھر دوبارہ صدیق اکبر نےبیٹھنے کاکہا لیکن عمر نہیں مانے آخر ابوبکر صدیق نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہوگیا اور صدیق اکبر نے فاروق کوچھوڑ دیا پھر آپ نے فرمایا:
امابعد :’’اگر کوئی شخص تم میں سے محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ محمدﷺ کی وفات ہوچکی ہے اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ باقی رہنے والاہے اور کبھی مرنے والانہیں، اللہ پاک نے فرمایا:اورمحمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول ان سے پہلے بھی گذرچکے ہیں ،پس کیا اگر وہ وفات پاجائیں یا انہیں شہید کردیاجائے تو تم اسلام سے پھرجاؤگے اور جوشخص اپنی ایڑیوں کے بل پھرجائے تو اللہ کو کوئی نقصان نہیںپہنچاسکے گا،اور اللہ عنقریب شکرگزار بندوں کو بدلہ دینے والاہے ‘‘اللہ کی قسم ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکرصدیق کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں اتاری ہے اب تمام صحابہ yنے یہ آیت صدیق اکبرسے سیکھ لی پھر تو ہرشخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔
(صحیح بخاری،الرقم:۲۱۴۱،۲۱۴۲)
تیسری دلیل: ام المؤمنین عائشہrسے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ :میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناتھا آپﷺ نے فرمایا: کہ جو نبی مرض الموت میں ہوتا ہے تو اسے دنیا او رآخرت کا اختیار دیا جاتا ہے چنانچہ آپuکی مرض الموت میں جب آواز گلے میں پھنسنے لگی تو میں نے سنا کہ آپuفرمارہے تھے ان لوگوںکے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا یعنی انبیاء ،صدیقین ،شہداء اور صالحین کے ساتھ، اس لئے میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی اختیار دے دیاگیاہے۔
(صحیح بخاری،الرقم:۴۵۷۶)
چوتھی دلیل:ام المؤمنین عائشہrسے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کہ کہ مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ rکو بلایا اور ان سے آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ رونے لگیں،پھر دوبارہ آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ ہنسنے لگیں، پھر ہم نے ان سےاس کے متعلق پوچھا توانہوں نے بتلایا کہ نبیuنے مجھ سےفرمایا تھا کہ آپuکی وفات اسی مرض میں ہوجائے گی ،یہ سن کر میں رونے لگی، دوسری مرتبہ جب آپuسے مجھ سے سرگوشی کی تو یہ فرمایا کہ آپ کے گھر کے آدمیوں میں سب سے پہلے میں آپ سے ملوں گی تو میں ہنسی تھی۔
(بخاری،الرقم:۴۳۴۳،۴۳۳۴)
پانچویں دلیل: ام المؤمنین عائشہrفرماتی ہیں اللہ کی بہت سے نعمتوں میں سے ایک نعمت مجھ پر یہ بھی ہے کہ نبیuکی وفات میرے گھر میں،میری باری کے دن ہوئی، آپuمیرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئےتھے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نبیuکی وفات کے وقت میرے اور آپuکےلعاب کو ایک ساتھ جمع کردیاتھا، اس طور پر کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر گھر میںآئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی نبیuمجھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے میں نے دیکھا کہ آپuاس مسواک کو دیکھ رہے ہیں،میں سمجھ گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں نے آپ سے پوچھا یہ مسواک آپ کیلئے لوں؟ آپ نے سر کے اشارےسے اثبات میں جواب دیا ،میں نے وہ مسواک ان سے لی نبیuچبانہ سکے، میں نے پوچھا آپ کے لئے اسے نرم کردوں؟ آپ نے سر کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا، میں نے مسواک نرم کردی، آپ کے سامنے ایک بڑاپیالہ تھا،اس پیالے کے اندر پانی تھا نبیuبار بار اپنے دونوں ہاتھ اس میں داخل فرماتے اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے:’’لاالٰہ الااللہ‘‘ موت کے وقت شدت ہوتی ہے پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھاکرکہنے لگے :
فی الرفیق الاعلیٰ ،فی الرفیق الاعلیٰ‘‘ یہاں تک کہ آپ وفات پاگئے۔ (صحیح بخاری،الرقم:۴۴۴۹)
چھٹی دلیل: انس بن مالک سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ شدت مرض کے زمانے میں جب نبیuکے بے چینی بے حد بڑھ گئی توفاطمہ الزہراء rنے کہا:آہ اباجان پر کتنی تکلیف ہے اس پر رسول ﷺ نے فرمایا:آج کے بعد تمہارے اباجان پر کوئی بے چینی نہیں ہوگی۔
جب آپuوفات پاگئے تو فاطمہ الزہراءنے فرمایا ہائے اباجان! رب نے انہیں بلایا تو انہوں نے رب کی پکار کولبیک کہا۔
ہائے اباجان! جنت الفردوس ان کاٹھکانہ ہے۔
ہائے اباجان! پھرجبرئیل uکوآپ کی موت کی خبر سناتے ہیں، جب نبیuکودفنایہ گیا تو فاطمہ الزہراء rنے انس سے پوچھا: تمہارے دل نبیuکی نعش پرمٹی ڈالنے کے لئے کس طرح آمادہ ہوگئے تھے ۔(صحیح بخاری،الرقم:۴۴۶۲)
حافظ صلاح الدین یوسف حدیث مذکور کے آخری ٹکڑے:یا انس اطابت انفسکم ان تحثوا علی رسول اللہ التراب.کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فاطمہ الزہراء rکا آخری قول بھی حزن وغم کا اظہار کا تھااور ایک انداز ہی ہے،ورنہ نبیuکے دفن کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ وہ تو شریعت کا حکم ہے، جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔(ریاض الصالحین اردو۱؍۷۰)
ساتویں دلیل:منگل کے روز آپuکو کپڑے اتارے بغیر غسل دیاگیا،غسل دینے والے حضرات یہ تھے:
1عباس2علی،عباس کے دوصاحبزدے3فضل 4قثم5نبیuکاآزاد کردہ غلام شقران6اسامہ بن زید7اوس بن خولہy
عباس، فضل اورقثمyآپ کی کروٹ بدل رہے تھے، اسامہ شقران پانی بہارہےتھے علی غسل دے رہے تھے اور اوس نے آپuکو اپنے سینے سے ٹیک دے رکھی تھی، اس کے بعدنبیuکو تین سفید یمنی چادروں میں دفنایاگیا ان میں کرتا اورپگڑی نہ تھی بس آپuکو چادروں میں ہی لپیٹ دیاگیا۔
آپ کی آخری آرام گاہ کے بارے میں صحابہ کرام کی آراء مختلف تھیں لیکن ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے نبیuکو یہ فرماتے سنا ہے کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوا لیکن اس کی تدفین وہیں ہوئی جہاں فوت ہوا،اس فیصلے کے بعد ابوطلحہ نے آپ کا وہ بستراٹھایا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور اس کے نیچے قبرکھودی،قبرلحد والی(بغلی) کھودی گئی اس کے بعد باری باری دس صحابہ کرام نے حجرے میں نماز جنازہ پڑھا،سب سے پہلے آپ کے خاندان بنوہاشم نے نماز جنازہ پڑھی، پھر مہاجرین نےپھرانصار نےپھر مردوں کے بعد عورتوں نے اور ان کے بچوں نے، نمازجنازہ پڑھنے میں منگل کاپورادن گزرگیا اور بدھ کی رات آگئی، رات میں آپ کے جسدخاک کو سپردخاک کیاگیا۔ چنانچہ عائشہrکا
بیان ہے کہ ہمیں نبی کائنات کی تدفین کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے درمیانی اوقات میں کدال کی آواز سنی۔
(الرحیق المختوم،ص:۶۳۳)
آٹھویں دلیل: صدیقہ کائناتr سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب نبیuکی وفات ہوئی اس وقت نبیuکی عمر63سال تھی۔ (صحیح بخاری،الرقم:۴۴۶۶)
نویں دلیل: صدیقہ کائناتr سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبیuکی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ یہودی کے یہاں تین صاع جو کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی تھی۔
(صحیح بخاری،الرقم:۴۴۶۷)
دسویں دلیل: انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے فاروق اعظم کہاآؤہم ام ایمنrکی زیارت کو چلیں جس طرح نبیuان کی زیارت کیاکرتے تھے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن وحدیث کے مطابق عقیدہ اپنانے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین)

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے