آئینہ کتب

تبصرہ نگار:ذوالفقار علی طاہر

نام کتاب
مختصر صحیح نماز نبوی(ﷺ)سندھی
تالیف
محدث العصر حافظ زبیرعلی زئیa
سندھی ترجمہ
شیخ ابوعمیرحزب اللہ بلوچd
رابطہ
0307-3099930
چہرۂِ مسلک اہل حدیث سے ہر قسم کے غبار ہٹاکر،مسلک کو نکھار اوراُجلاکرکے عوام الناس کے سامنے پیش کرنے والے محدث العصر شیخ حافظ زبیر علی زئیaکسی تعارف کے محتاج نہیں، آپaوقت کے عظیم محدث اور اسماء الرجال کے امام تھے، آپ کی پوری زندگی خدمتِ دین کیلئے وقف تھی، فن حدیث سے آپaکوخاص دلچسپی تھی، آپ نے ہزاروں احادیث کی تحقیق وتخریج کی،آپaمسلک اہل حدیث کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ اہل باطل کے خلاف آپaکی گراں قدر کاوشیں قابل قدر ہیں۔ آپaنے جس عنوان کے متعلق بھی قلم وقرطاس تھامے، اس کاحق ادا کردیا۔ عربی واردو میں آپaکی متعدد کتب،آپ کی یاد دلاتی رہیں گی۔
یلوح الخط فی القرطاس دھرا
وکاتبہ رمیم فی التراب
آپaکی شایع ہونے والی تازہ کتاب’’مختصر صحیح نماز نبوی(ﷺ)سندھی‘‘ہے، جسے شیخ ابوعمیر حزب اللہ بلوچdسینئر مدرس مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث حیدرآباد نے سندھی قالب میں ڈھالا ہے۔جزاہ اللہ خیرا.
شیخ زبیرعلی زئیaنے واقعتاً اپنے تحریری وتصنیفی منہج کے مطابق عوام الناس کے سامنے صحیح نماز نبوی(ﷺ) دلائل کی روشنی میں پیش فرمادی ہے۔ جزاہ اللہ عنا وعن جمیع المسلمین خیرا.
اس کتاب میں شیخaنے نماز کا مکمل طریقہ صحیح وحسن لذاتہ احادیث سے بہترین انداز سے ثابت فرمایا ہے جبکہ متعدد مقامات پر مسائل کی وضاحت کیلئے آپaنے سلف صالحین کے آثار بھی ذکر کردیئے ہیں۔
سندھی ایڈیشن میں قارئین کی سہولت اور تسلسل قائم رکھنے کیلئے، ذیل میں درج حواشی کو کتاب کے اصل متن میں شامل کر لیاگیاہے۔
شیخaنے زیرتبصرہ کتاب میں متعدد مقامات پر مسائل کو دلائل سے ثابت کرنے کے بعد آخر میں ان مسائل پر عمدہ تنبیہات ذکر فرمائی ہیں۔چند ایک کاتذکرہ کیاجاتاہےتاکہ قارئین کے سامنے کتاب کی اہمیت باحسن انداز اجاگرہوسکے:
تنبیہ: لہذا دونوں طریقے(رفع الیدین کرتے وقت ہاتھوں کو کندھوں اور کانوں تک اٹھانا) جائز ہیں لیکن زیادہ احادیث میں کندھوں تک رفع الیدین کرناثابت ہے۔ یاد رہے کہ رفع الیدین کرتے وقت کانوں کوہاتھ لگانایاپکڑنا کسی بھی دلیل سے ثابت نہیں ہے، اسی طرح مردوں کا ہمیشہ کانوں تک ہاتھ اٹھانا اور عورتوں کاصرف کندھوں تک رفع الیدین کرنا، اس قسم کافرق یاتخصیص کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
تنبیہ: مردوں کا ناف کےنیچے اورصرف عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا ۔اس قسم کا کوئی بھی فرق یاتخصیص کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
تنبیہ: قرآن مجید کی آیت [فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۝۹۸ ](النحل:۹۸)کی بناء پر پہلی رکعت کے علاوہ دیگر رکعات میں بھی اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھنا جائز، بلکہ بہترہے۔
تنبیہ: التحیات میں لَااِلٰہ پڑھ کر انگلی کو اوپراٹھانا اور اِلَّااللہ کہہ کر نیچے کرنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ احادیث کے عموم سے یہی ثابت ہے کہ تشہد میں اول تاآخر حلقہ بناکر انگلی بلند رکھنی ہے۔
تنبیہ: نماز مکمل کرلینے(سلام پھیرنے) کے بعد اپنی (مادری) زبان میں دعا مانگی جاسکتی ہے۔باقی نماٍز کے بعد اجتماعی دعا مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تنبیہ: جیسا کہ سورۂ فاتحہ بھی قرآن ہے، لہذا نماز جنازہ میں اسے قرآن(قرأت) سمجھ کر ہی پڑھناچاہئے،جولوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۂ فاتحہ کو قرآن سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ دعا سمجھ کر پڑھنا چاہئے ،ان کی یہ بات بالکل غلط وباطل ہے۔
تنبیہ: نمازجنازہ میں دونوں جانب سلام پھیرنا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام yسے ثابت نہیں ہے۔ امام عبداللہ بن مبارکa فرماتے ہیں:جوشخص نماز جنازہ میں دونوں جانب سلام پھیرتا ہے، وہ جاہل ہے، وہ جاہل ہے۔(مسائل ابی داؤد،ص:154وسندہ صحیح)
بہتر یہی ہے کہ صرف دائیں جانب یعنی ایک ہی جانب سلام پھیرا جائے ۔
حرفِ آخر :یہ کہ مبصَّرہ بالاکتاب،سندھی داں طبقہ کیلئے انمول تحفہ ہے، کتاب مفت منگواکر اپنے علم میں اضافہ کیاجاسکتا ہے اور کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت بنایاجاسکتاہے۔

About شیخ ذوالفقارعلی طاہر

ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ

Check Also

دینی مدارس کی ضرورت واہمیت

اکتوبر2017ء کے آغاز میں کراچی یونیورسٹی سے قومی سلامتی کے اداروں کے ہاتھوں کچھ تلامذہ …

جواب دیجئے