Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات قسط:۲

غیر اللہ سے دُعا اور چندقرآنی سوالات قسط:۲

قسط:۲

سابقہ بحث کو سمجھنے کے لئے ان کے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کا یہ بیان ملاحظہ کیجئے:
’’اولیاء اللہ سے استعانت کی تحقیق: علامہ سید محمود آلوسی لکھتےہیں: استعانت میں عموم مراد ہےہرچیز میں ہم صرف تجھ سےہی استعانت کرتےہیں کیونکہ حدیث صحیح میں نبیﷺ نے حضرت ابن عباس سےفرمایا:’’اذا استعنت فاستعن باللہ ‘‘(جامع ترمذی، ص: 361)جب تم مدد طلب کرو تواللہ سے۔
اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابن عباس نے استعانت میں عموم کا قول اختیار کیا ہے، سوجس شخص نے اپنےاہم معاملات بلکہ دوسرے غیر اہم معاملات میں بھی غیراللہ سے مدد چاہی تو اس نے ایک عبث عمل کیا،اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں مدد طلب کی جاتی حالانکہ وہ غنی کبیر ہے اور دوسروں سےکیسے مدد طلب کی جائے جب کہ سب اس کےمحتاج ہیں، اور محتاج کا محتاج سےمددطلب کرنا ناپختہ رائےہے اور عقل کی کج روی،اور میں نےکتنے لوگوں کودیکھا جنہوں نے غیراللہ سےعزت اور دولت طلب کی اور وہ ذلیل اورفقیر ہوئے سواللہ کے سوا اور کوئی اس لائق نہیں کہ اس سے مدد طلب کیاجائے۔(روح المعانی ج1ص91 مطبوع دار احیاء التراث العربی،بیروت)‘‘(تبیان القرآن 1/185)
اس تفسیر میں محتاج کا محتاج سےمدد مانگنے کوناپختہ رائے اور عقل کی کج روی قرار دیا گیا ہے اورصرف بیان ہوا کہ سب ہی اللہ جل شانہ کے محتاج ہیں۔اللہ کے سوا اورکوئی اس لائق نہیں کہ اس سے مدد طلب کی جائے۔ اس سے مراد وہ مدد ہے۔ جو اسباب سے بالاتر اور انسانوں کےبس سے باہر ہو، وگرنہ اسباب کے تحت مددکاثبوت توبہت سے دلائل سے ثابت ہے۔بہرحال سعیدی صاحب نے اس تفسیر کو نقل کیا ہےاور اس سے اختلاف کااظہار نہیں کیا۔ سعیدی صاحب مزید نقل کرتے ہیں:’’علامہ مراغی لکھتےہیں:اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کےسوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کی عبادت میںشریک نہ کریں اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی ایسی تعظیم کریں جیسی معبود کی تعظیم کی جاتی ہے اور اللہ کے سوا کسی سے مدد نہ طلب کریں اور کسی کام کے پورا کرنےکے لئے جو طاقت درکارہوتی ہے وہ کسی اورسے نہ مانگیں ماسوا ان اسباب کےجن کاکسب کرنا اور جن کو حاصل کرنا ہمارے لئے عام اسباب میں مشروع او رمیسر ہے۔
اس کابیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اسباب کو مسببات کے ساتھ مربوط کیا ہے، اسی طرح ارتفاع موانع پر بھی ان کوموقوف کیا ہے اور ان اسباب کے حصول کے لئے انسان کو علم ومعرفت سےنوازا ہے اور موانع اوررکاوٹوں کے دور کرنےپر انسان کو قدرت عطا کی ہے اور اسی اعتبار سے ہم کوحکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں اور تعاون کریں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ ](المائدۃ:۲)
’’اور تم نیکی اور پرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہواور گناہ اورظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘
[قَالَ مَا مَكَّــنِّيْ فِيْہِ رَبِّيْ خَيْرٌ فَاَعِيْنُوْنِيْ بِقُــوَّۃٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ رَدْمًا۝۹۵ۙ ](الکھف:۹۵)
’‘ذوالقرنین نے کہا: میرے رب نےجس پر مجھے قدرت دی ہے وہ (تمہارے مال سے)بہتر ہے تو تم(محنت کے کام میں) طاقت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان نہایت مضبوط دیوار بنادوںگا‘‘
اسی اعتبار سے ہم بیماروں کی شفا کےلئے اطباء سےدوائیں طلب کرتے ہیں اور دشمنوں پرغلبہ حاصل کرنے کےلئے ہتھیاروں اور سپاہیوں سےمدد طلب کرتے ہیں اور اپنی فصلوں کی فراوانی کے لئے حشرات الارض اور مضرکیڑوں مکوڑوں کو دور کرتے ہیں اور ان کوہلاک کرتے ہیں، اور ان اسباب کے بغیر اگر ہم بیماروں کے لئے شفا اور دشمن پر غلبہ چاہتے ہوں تو اس کے لئے صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت کی جائے گی اور زمین وآسمان کی تمام حاجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے دستِ سوال دراز کیاجائے گا اور نبی کی حیات طیبہ میں ہمارے لئے اسوہ اورنمونہ ہے، آپ نے مختلف غزوات میں کفار کے خلاف غلبہ اور فتح کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کے آگےہاتھ پھیلائے ہیں، اسی سے فتح اور نصرت کی دعائیں کی ہیں اور اسی سے بیماری میں حصول شفا کےلئے دعا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گااور فرمایا ہےکہ میں تمہاری شہ رگ سےبھی زیادہ تم سے قریب ہوں۔ سوجوشخص اپنی حاجات پوری کرانے کے لئے، کسی بیماری کی شفا کے لئے، دشمن پرغلبہ کیلئے یا اولاد کی طلب کے لئے اولیاء اللہ کے مزارات پرجاکر ان سے مدد مانگتا ہے وہ شخص سیدھے راستہ سےگمراہ ہوگیا، اس نے اللہ کی شریعت سے اعراض کیا اور اس نے زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کا ساکام کیا۔
(تفسیر المراغی،ج1ص333مطبوعہ دار احیاء التراث العربی،بیروت، تبیان القرآن 1/186-185)
قارئین کرام یہ ساری عبارت بریلویہ کے سعید الملت نے نقل کی ہے۔ اس سے ا ن کے’’حکیم الامت‘‘ کی پیش کردہ مثالوں کی حقیقت خوب واضح ہوجاتی ہے کہ ’’حکیموں سےحاکموں سے اور مالداروں سے کچھ مانگنا‘‘دعاقطعاً نہیں بلکہ یہ تو وہ اسباب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سےمقرر کئے ہیں اور یہ نیکی وتقویٰ کےکاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ معاونت ہے جس کی دلیل قرآن مجید میں موجود ہے، غیراللہ سے دعا کے جواز کوثابت کرنے کے لئے ایسی مثالیں دینا یقینا باطل ہے۔ سعید صاحب نے’’تفسیر المراغی‘‘ سے یہ سب کچھ نقل توکیا مگر ان باتوں سےکچھ اختلاف بھی کیا، چنانچہ لکھا ہے:’’ ہمارے نزدیک علامہ مراغی کا یہ فتویٰ علی الاطلاق صحیح نہیں ہے ، زمانہ جاہلیت میں کفار بتوں کو مستحق عبادت قرار دیتے تھے اور اسی عقیدے کےساتھ ان سے استعانت کرتے تھے، لیکن جومسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مستحق عبادت قرار نہ دیتا ہو،اور نہ اولیاء اللہ کومتصرف بالذات سمجھتا ہو،نہ ان کو تصرف میں مستقل سمجھتاہو بلکہ یہ سمجھتا ہو کہ اولیاءاللہ ،اللہ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے اس کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور اسی عقیدہ کے ساتھ ان سے استعانت کرے اس مسلمان کا یہ فعل شرک ہے نہ زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کاساکام ہے۔تاہم ہمارے نزدیک شریعت کااصل تقاضایہی ہے کہ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ سے استعانت کرنی چاہیے،اولیاءاللہ بھی اللہ کے محتاج ہیں اور ہم بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں،تو سلامت روی اسی میں ہے کہ ہرحاجت اللہ سے طلب کی جائے اور ہرضرورت میں اس کے آگے دست سوال درازکیاجائے۔
(تبیان القرآن 1/186)
سعید ی صاحب کی ان باتوں سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ ’’تفسیر مراغی‘‘ کےمندرجہ بالااقتباس سے متفق ہیں،البتہ انہیں اس بات سے اختلاف ہے کہ مزارات پرجاکراولیاءاللہ سے مانگنا،ان کے حضور گڑگڑانا اور دعائیں کرنا زمانہ جاہلیت کاساشرک نہیں۔باقی ہم بھی محتاج اوراولیاء اللہ بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیںتو مددصرف اللہ تعالیٰ ہی سےمانگنا چاہیے۔
ان کے اس ’’اختلاف‘‘ کےجواب میں عرض ہےکہ یہ سعیدی بریلوی صاحب کو بھی تسلیم ہےکہ’’دعاعبادت ہے‘‘ اور عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، صرف دعا ہی نہیں، جس قدر عبادات ہیں سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں،اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرےگا تو یہ شرک ہی ہوگا۔رہا سعیدی صاحب کا یہ اشکال:
’’وہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کومستحق عبادت قرار نہ دیتا ہو، اور نہ اولیاء اللہ کومتصرف بالذات سمجھتا ہو،نہ ان کوتصرف میں مستقل سمجھتاہو‘‘
(تبیان القرآن 1/186)
توعرض ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور بریلویہ کی تفاسیر سےبھی یہ بات بالکل عیاں ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے مشرکین بھی اپنے’’آلھہ‘‘ کو ’’متصرف بالذات‘‘ اور’’تصرف میں مستقل‘‘ قطعاً نہیں مانتے تھےبلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ومملوک مانتے تھے اور آج کل کے لوگوں کی طرح یہی سمجھتے تھے، جیسا کہ آپ نےلکھا:
’’بلکہ یہ سمجھتاہوکہ اولیاء اللہ،اللہ کی دی ہوئی قدرت (واختیار) اور اس کے اذن سے اس کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور اسی عقیدہ کے ساتھ ان سے استعانت کرے۔(تبیان القرآن 1/186)
مشرکین بھی کچھ ایسا ہی عقیدہ رکھتے تھے،قرآن مجید کی گواہی ملاحظہ کیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ۝۰ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللہُ۝۰ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۝۳۱ ](یونس:۳۱)
اب ان کے ’’غزالیٔ دوراں‘‘احمد سید کاظمی صاحب سے ان آیات کاترجمہ ملاحظہ کیجئے، لکھا ہے:
’’آپ (اُن سے)فرمائیں تمہیں آسمان اور زمین سے کون رزق دیتا ہے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کااور کون پیدا کرتا ہے زندہ کومُردہ سے اورپیدا کرتا ہےمُردہ کوزندہ سےاور کون تدبیر کرتا ہے تمام امورِ(کائنات) کی تو وہ بول پڑیں (کہ) اللہ پس آپ فرمائیں کہ پھر کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں۔‘‘(البیان،ص:399)
قرآن مجید کی یہ آیات گواہ ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین بھی یہ مانتے تھے بلکہ اعتراف بھی کرتے تھے کہ’’تمام امورِکائنات کی تدبیر اللہ ہی کرتاہے‘‘ اور’’اللہ تعالیٰ ہی زمین وآسمان سے رزق دیتا ہے‘‘ نیز وہی’’سمع وبصر، موت وحیات کامالک ہے، صریح اعترافات کے باوجود بھی جوپیاروں کی عبادت کرتے تھے تو اس کی وجہ بھی قرآن مجید نے واضح کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَ اللہِ۝۰ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللہَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۱۸ ](یونس:۱۸)
’’اور اللہ کے سوا ان چیزوں کی پوجا کرتےہیں جو انہیں نہ نقصان پہنچاسکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں یہ(معبود) ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس آپ فرمادیں کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہوجو اسے معلوم ہی نہیںآسمانوں اور نہ زمینوں میں وہ پاک ہے اور برتر ہے ان سب چیزوں سے جنہیں وہ(اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں‘‘(ترجمہ ازکاظمی صاحب)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۘ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللہِ زُلْفٰى۝۰ۭ ](الزمر:۳)
’’اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا شریک بنارکھے ہیں (کہتےہیں) کہ ہم ان کی عبادت نہیںکرتے، مگر صرف اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں‘‘(ترجمہ ازکاظمی صاحب)
معلوم ہوا کہ زمانۂ جاہلیت کےلوگ جن واقعی یا اپنے زعم کے مطابق نیک وباکمال لوگوں کی عبادت کرتےتھے اس عبادت سےبھی ان کامقصد مالکِ حقیقی اور متصرف بالذات اللہ رب العالمین کاقرب حاصل کرنا تھا،ظاہر سی بات ہے کہ وہ انہیںمعبودحقیقی نہیں بلکہ معبود حقیقی کے قریب کرنے والااورسفارشی سمجھتے تھے۔اوروہ بھی اپنے اولیاء کو تصرف میں مستقل سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطائی قدرت واختیار کامالک سمجھتے تھے۔ پھر اس عقیدہ کے ساتھ ان کی عبادت کرتےتھے اور ان سےدعائیں مانگتے تھے، چنانچہ سیدنا ابن عباسwفرماتے ہیں:
’’كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:« وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ‘‘
مشرکین بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے اس طرح کہا کرتے تھے،لبیک لاشریک لک(جب وہ اتنا کہتے تورسو ل اللہﷺ فرماتے ’’تمہاری بربادی ہو بس بس‘‘ (اسی پر اکتفاکرجاؤ) لیکن وہ کہتے’’ إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ‘‘یعنی اے اللہ!تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کےجو تیرے لئے ہے تو اس شریک کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اس شریک کے اختیار میں ہے اس کابھی تو ہی مالک ہے، وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتےہوئے یہی کہتے تھے ‘‘
(صحیح مسلم :۱۱۸۵الرقم المسلسل:۲۸۱۵))
پیرکرم شاہ بھیروی صاحب نے اپنی تفسیر میں ایک جگہ مشرکین کے عقائد بیان کرتےہوئے لکھا:بتوں کےمتعلق مشرکین کاجوعقیدہ تھا وہ متعدد مقامات پر بیان کیاگیا….نیز حج کے موقع پر جو تلبیہ وہ کہا کرتےتھے اس سے بھی ان کے عقیدہ کاپتہ چلتا ہے وہ کہاکرتے تھے:’’لبیک اللھم لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک‘‘ہم حاضرہیں اے اللہ ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں تیراکوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کو تو نے اپنا شریک بنایا ہے تو اس کا مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے‘‘(ضیاء القرآن 2/462یوسف :106کی تفسیر)
حدیث صحیح مسلم میں بھی’’تملکہ وماملک‘‘ ہے جو بھیروی صاحب نے بھی نقل کی ہے۔ ان کے ترجمہ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کےمشرک بھی اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کامملوک مانتے تھے، مطلب اللہ کے بندے ،اس کے محتاج، اس کے محکوم،اس کے سامنے عاجز اوربے بس۔
’’وماملک‘‘کے الفاظ سے مشرکین کا یہ عقیدہ ظاہرہوتا ہے کہ وہ اپنے ٹھہرائے شریک کے اختیارات وتصرفات کامالک بھی اللہ ہی کو تسلیم کرتے تھے۔ اور یہی سمجھتے تھے کہ ان کی اپنی قدرت واختیارات نہیں بلکہ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عطا کردہ اختیارات ہیں، ان کے اختیارات کامالک بھی اللہ ہی ہے، لیکن کیا ان کے اس عقیدہ واظہار نے انہیں شرک کے حکم سے محفوظ کرلیا؟ قطعاً نہیں،قرآن وحدیث میں انہیںمشرک ہی کہاگیا،ان کی عبادات ودعاؤں کو کفروشرک ہی بتایا گیا ہے توآج کوئی ان کاسا’’عطائی‘‘ عقیدہ رکھ کر غیراللہ کی عبادت کرے، غیراللہ سے دعائیں مانگے تو ان کے اعمال کو شرک کیوں نہیں کہا جاسکتا؟جب کہ وہ شرک ہے۔
بہرحال سعیدی صاحب کا اعتراض بے جاہے اور احمدمصطفی المراغی کا زیربحث قول دلائل اورواقعہ کے مطابق ہے۔ جہاں تک تعلق ہے دلائل کا توسابقہ سطور میں مذکور حدیث ’’دعاعبادت ہی ہے‘‘ جیسا کہ فریق ثانی کو بھی تسلیم ہے ۔ تو یہ حدیث اس مسئلہ کی کافی وشافی دلیل ہے، چونکہ بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مختص ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کی بھی عبادت جائز نہیں، لہذا سعیدی صاحب کے اعتراضات محض اپنے ہم مسلکوں کے دفاع پر مبنی ہیں۔مزید سنیے:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝۱۳ۭ اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ۝۰ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝۰ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ۝۰ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝۱۴ۧ يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللہِ۝۰ۚ وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝۱۵ ](الفاطر:۱۳تا۱۵)
احمد سعید کاظمی ملتانی صاحب نے ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’یہ ہے(عظمت والا) تمہارا رب اسی کا ہے سارا ملک او ر وہ (باطل معبود) جنہیں اللہ کے سواتم پوجتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔(اے مشرکو!)اگر تم انہیں پکاروتو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو وہ تمہاری التجا کوقبول نہ کرسکیں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کاانکار کریں گے اور (اے سننے والے ) تجھے کوئی نہ بتائے گا خبر رکھنے والے کی طرح۔ اے لوگو!تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں والا۔(البیان،ص:698)
ان آیات میں اللہ عزوجل نےبیان فرمایا ہےکہ جن لوگوں کو اللہ کے سواپکاراجاتا ہے وہ کسی بھی چیز کےمالک ومختار نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار اور دعا نہیں سن سکتے، اگر تمہاری دعا سن بھی لیں تو جواب نہیں دےسکتے، قبول نہیں کرسکتے کہ ان کے پاس تواختیار ہی نہیں، اورقیامت کے دن وہ لوگ تمہارےشرک کاانکار کردیں گے، اس سے اپنی برأت کا اظہارکردیں گے۔ان آیات میں اللہ کے سوا دوسروں کوپکارنے والوں،ان سے دعائیں مانگنے والوں کا کونسا ’’شرک ‘‘بیان ہواجس کے بارے میں یہ بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے روز شرک سے وہ اپنی برأت ولاتعلقی کااظہار کردیں گے۔اس بیان کے آغاز میں ہی اس کی وضاحت موجود ہے:[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ]’’جن لوگوں کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو۔‘‘ جن سے فریادیں کرتے ہو ،دعا کرتے ہو، تومعلوم ہو اکہ اس مقام پر ان کا شرک دعا ہی ہے،جیسا کہ آیت کے الفاظ:[لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ] ’’یہ تمہاری دعا نہیں سن سکتے‘‘ اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے،تمہاری التجا قبول نہیں کرسکتے، آیت میں’’دعا‘‘ کالفظ موجود ہے جس کاترجمہ احمدرضاخان صاحب، کاظمی صاحب، بھیروی صاحب اور خود سعیدی صاحب نے بھی ’’پکار‘‘ ہی کیاہے۔توغیراللہ سے دعا کا ’’شرک‘‘ ہونا ان آیات سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ سعیدی صاحب کا انکار محض اپنے ہم مسلکوں کے دفاع کے لیے ہے۔
اسی دفاع کی خاطر بریلوی مترجمین نے[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ]کاترجمہ ’پوجنا‘ کیا۔دیکھئے:
۱۔احمدرضاخان نےلکھا:’’اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو‘‘(کنز الایمان)
۲۔کاظمی ملتانی صاحب نے ترجمہ لکھا:’’جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو‘‘(البیان)
۳۔بھیروی صاحب نے ترجمہ کیا:’’اور وہ بت جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا‘‘(ضیاءالقرآن252/9)
جبکہ اگلی آیت جو اسی کے تسلسل میں ہے اس میں[تَدْعُوْھُمْ] کےمعنی ان سب نے’’پکارنا‘‘ ہی کیا ہے، اسی طرح[دُعَاۗءَكُمْ]میں بھی ’’دعا‘‘کاترجمہ’’پکار‘‘ و’’التجا‘‘ہی کیا ہے۔ایک ہی بیان کے تسلسل میں یہ ایک ہی مادہ کے الفاظ کامختلف ترجمہ کیوں؟ کہ ایک جگہ’’پوجا‘‘ دوسری جگہ’’پکار‘‘؟مقصد اپنادفاع ہےکہ خودبھی اللہ کے علاوہ اوروں کو پکارتے ہیں۔ان کے ہم مسلک غیراللہ سےد عائیں مانگتے ہیں توپوجا ترجمہ کردیا تاکہ آیات کی زد میں نہ آئیں،اورعام لوگ سمجھیں کہ بتوں کی پوجا کی بات ہورہی ہے، اللہ کے نیک، صالح اور مقرب بندوں کوپکارنا ان سے دعائیں مانگنا،التجائیں اور فریادیں کرنا ان آیات کے خلاف نہیں ہے۔ کاظمی صاحب نے بریکٹ میں(باطل معبود) بھی لکھ دیا۔ حالانکہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے۔دعاکاعبادت ہونا حدیث سے،نیز ان کے اپنے بیانات سے ثابت ہے اوربھیروی صاحب نے اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بریکٹ میں بُت بھی لکھ دیاتاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ آیت توبتوں سے متعلق ہے آگے بھی بتوں کی پوجا ہی کارد ہے، پھر تفسیرمیں تین مفسرین کے اقوال بھی نقل کئےہیں۔ جن میں سے دو کے اپنے بیانات سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ ان آیات کو صرف بتوں سے متعلق خاص نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ تفسیر کرتے ہوئے بھیروی صاحب نے لکھا:
۱۔’’تدعون من دونہ ای الاصنام‘‘
(قرطبی) (ضیاء القرآن148/4)
بلاشبہ علامہ قرطبی(المتوفی:668ھ)نے یہ لکھا ہے، لیکن ان کامقصد ان آیات کوبتوں ہی کی مذمت کے لیے مختص کردینا نہیں چونکہ انہی آیات کی تفسیر میں انہوں نے یہ بھی لکھاہے:
’’ثم یجوز أن یرجع ھذا الی معبودین مما یعقل ،کالملائکۃ والجن والأنبیاء والشیاطین‘‘
پھر یہ بھی جائز ہےکہ یہ بیان ان معبودوں کی طرف بھی لوٹایاجائے جو ذی شعور ہیں جیسےملائکہ اور انبیاء oاور جن وشیاطین۔
(تفسیر قرطبی۱۴؍۲۹۳مطبوع،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
۲۔بھیروی صاحب نے دوسرا حوالہ تفسیر مظہری سےنقل کرتے ہوئے لکھا:
’’ای الذین تعبدونھا من الأصنام‘‘
(مظہری،حوالہ بالا)
حالانکہ ثناءاللہ پانی پتی(المتوفی 1255ھ)نے اس عبارت میں اصنام کے بعد بھی کچھ لکھاہے، پوری عبارت ملاحظہ کریں:
’’ای الذین تعبدونھا من الاصنام وغیرھا کائنۃ من دونہ تعالیٰ مایملکون من قطمیر‘‘
یعنی:اللہ کے علاوہ جنہیں تم پوجتے ہوبت یا ان کے علاوہ جو بھی ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں ہیں۔(تفسیر مظہری :۸؍۵۰)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرطبی ومظہری نے بھی اللہ کے علاوہ ہر ایک کو مراد لیا ہے جنہیں اللہ کے علاوہ پکاراجاتا ہے، جن سے دعائیں مانگی جاتی ہیں، آیات میں صرف بت ہی مراد نہیں بلکہ اللہ کے علاوہ جو بھی ہیں وہ سب مراد ہیں۔ خودبھیروی اور سعیدی صاحب کی تفسیروں سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے،چنانچہ بھیروی صاحب نے لکھا:
’’علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ بت تو اس لئے جواب نہیں دیں گے کہ وہ بےجان نہ سن سکتے ہیںنہ بول سکتےہیں لیکن جو کم بخت فرشتوں کو یا اللہ تعالیٰ کے مقربین کو پکارتے ہیں وہ اس لئے جواب نہیں دیں گے کہ ان گمراہوں نے انہیں خدا سمجھ رکھا تھا حالانکہ وہ خدابننے سے بالکل الگ تھے پس وہ ایسے لوگوں کی فریاد کاجواب کیوں دیں گے جو اتنی بڑی تہمت لگارہے تھے:
وکیف یجیبون زاعم ذلک فیھم وفیہ من التھمۃ مافیہ.(ضیاء القرآن ۴؍۱۴۹)
جب معاملہ یہ ہے تو آیت:[مِنْ دُوْنِہٖ]میں صرف’’الاصنام‘‘ لکھنے کا پیر صاحب کوکیافائدہ؟پھر بھیروی صاحب نے علامہ آلوسی حنفی کا کلام بس اتنا ہی نقل کیا،آگے جو ان کے خلاف تھا اسےترک کردیا،جبکہ واقعہ یہ ہے کہ علامہ آلوسی نے صرف یہی ایک احتمال بیان نہیں کیا جو بھیروی صاحب نے نقل کیا ہے بلکہ اس کے بالکل متصل یہ بھی لکھا ہے:
’’وعدم الاستجابۃ الفعلیۃ یحتمل أن یکون لھذا أیضا ویحتمل أن یکون لأن نفع من دعائھم لیس من وظائفھم‘‘
اور عدمِ استجابت فعلیہ(یعنی نفع نہ پہنچانا) احتمال ہے کہ اس بناپر بھی ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس بنا پر ہو کہ جو ان(مقربین) سے دعائیں مانگیں انہیں نفع نقصان پہنچانا ان کے ذمہ داریوں میں سے نہیں ہے‘‘(روح المعانی تحت آیت فاطر:14)
علامہ آلوسی صاف فرماتےہیں کہ مقربین کا یہ وظیفہ ہی نہیں کہ وہ ان سے دعامانگنے والوں اور التجائیں کرنے والوں کو نفع پہنچائیں ،خواہ کوئی انہیں خدا سمجھ کرپکارے یا اللہ کا مقرب بندہ ہر صورت میں وہ فائدہ پہنچانے والے نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ آلوسی نے جس طرح بتوں کے سننے کی نفی کی اسی طرح مقربین کے سننے کی بھی نفی کی ہے۔پیرصاحب نے بتوں کی نفی ذکر کردی او رمقربین کے عدم سماع کا ذکر نہیں کیا، وہ ہم سے سن لیجئے علامہ آلوسی نے لکھا:
’’ویحتمل أن یکون مع عبدتھا وعبدۃ الملائکۃ وعیسی وغیرھم من المقربین ،وعدم السماع حینئذ إما لأن المعبود لیس من شأنہ ذلک کالاصنام وإما لأنہ فی شغل شاغل وبعد بعید عن عابدہ کعیسی علیہ السلام، وروی ھذا عن البلخی أو لأن اللہ عزوجل حفظ سمعہ من أن یصل الیہ مثل ھذا الدعاء لغایۃ قبحہ وثقلہ علی سمع من ھو فی غایۃ العبودیۃ للہ عزوجل، فلا یرد أن الملائکۃ یسمعون وھم فی السماء کما ورد بعض الآثار دعاء المؤمنین ربھم سبحانہ‘‘
اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ کلام بتوں کی عبادت کرنے والوں سے بھی ہو اور ملائکہ اور عیسیٰoاور ان کے علاوہ دیگر نیک صالح لوگوں کی عبادت کرنے والوں سے بھی ہو،تو اس صورت میں ان کی دعاؤں کا نہ سننا اس بنا پر ہے کہ یہ اس معبود کی شان ہی نہیں جیسے بتوںکی، یا اس بنا پر ہے کہ معبود کسی مصروفیت میں مشغول ہو یا اپنی عبادت کرنے والے سے بہت دوری پر ہو جیسے عیسیٰuیہ تفسیر بلخی سے بھی مروی ہے۔یا عدم سماعت اس بناپر ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کی سماعت کو اس قسم کی دعا کے پہنچنے سے محفوظ کرلیا چونکہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے اعلیٰ درجہ پر ہو اس کی سماعت پر یہ دعا انتہائی قبیح وگراں گزرے گی، پس یہ بات بھی وارد نہیں ہوتی کہ ملائکہ ایسی دعاؤں کو سن لیتے ہیں آسمانوں پر رہتے ہوئے، جیسا کہ بعض آثار میں مومنین کا اپنےرب سے دعا کے بارے میں وارد ہوا ہے۔‘‘(روح المعانی ،حوالہ بالا)
الغرض کہ پیر کرم شاہ بھیروی صاحب کی اپنی ہی تفیسر سے واضح ہوجاتا ہےکہ سورۂ فاطر کی یہ آیات بت اور ان کے پجاریوں ہی کے لئے خاص نہیں بلکہ نیک صالح اور مقرب بندوں کی عبادت کرنے والے اور ان سے التجائیں اورفریادیں کرنے والوں کےبارے میں بھی ہیں۔

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت قسط 3

بعد میں آنے والے کئی لوگ صحابہ سے افضل ہیں اس عنوان کے تحت غازی …

جواب دیجئے