Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » بدیع التفاسیر قسط 181

بدیع التفاسیر قسط 181

۔ قسط 181 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

میں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئےکہا کہ لفظ جعل عرب کےہاں دو معنی میں مستعمل ہے۔ ایک بمعنی خلق یعنی اس نےتخلیق کیا اور دوسرا بمعنی صیر یعنی اس نےبنایا اور لفظ خلق محکم ہے اس کا ایک ہی معنی ہے یعنی تخلیق کیا اس کاکوئی اور معنی نہیں ہوسکتا جبکہ لفظ جعل اس طرح نہیں ہے بلکہ اس میں دونوں معنی کااحتمال رہتا ہے لہذا عرب اسے ایک معنی کیلئے خاص نہیں کرتے بلکہ قرینہ وعلامت کے اعتبارسے دونوں معنی میں جو معنی جس مقام کیلئے مناسب ہوتا ہے، وہاں وہ معنی مراد لیتے ہیں۔ قرآن حکیم میں لفظ جعل دونوں معنی کیلئے مستعمل ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کسی بھی مقام پر اسےمجمل یامبہم نہیں چھوڑا کہ کو ئی ملحد اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کوشک وشبہ میں مبتلا کرے۔ بلکہ ہر مقام پر ایسی علامت مذکور ہے کہ پڑھنے والافرق کرسکتا ہے کہ یہاں لفظ جعل تخلیق کرنے کے معنی میں ہے یا بنانے کےمعنی میں۔ اس کیلئے یہ اصول سمجھ لینا چاہئے کہ کلام دو قسموں کا ہوتاہے۔ ایک مفصل (الگ کیاہوا) جس کے سننے سے سامع اس کامطلب سمجھ جائے ،مزید جملے ملانے کی ضرورت نہ ہو اور دوسرا موصل(ملایاہوا) یعنی جس کےسننے سے سامع اس کامطلب سمجھ نہ سکے جب تک اس کے ساتھ دوسری عبارت ملائی نہ جائے۔ پہلی قسم میں جعل بمعنی خلق ہے اور دوسری قسم میں جعل بمعنی صیر ہے۔
پہلی قسم کی مثال:[وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ۝۰ۥۭ ](الانعام:۱) [وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَۃً ](النحل:۷۲) [وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَۃَ۝۰ۭ ](السجدہ:۲۳)
ان آیات میں جعل بمعنی خلق ہے۔ کیونکہ کلام مفصل ہے،مزید عبارت ملائے بغیر ہی اس کامطلب تمام ومکمل ہورہا ہے۔ لہذا ہر عربی دان سامع ان جملوں کا مطلب بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ اس نے تاریکی وروشنی کوتخلیق کیا ہے اور اس نےہمارے لئے آنکھیں، کان اور دل نیز بیٹے اور پوتے پیدا کیئے ہیں۔یہ معنی سمجھنے کیلئے کسی اور جملہ کے ملانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری قسم کی مثال:
[يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِ ](ص:۲۶)یہ موصل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ صرف جلعناک فرماتا اور اس کے بعد والا کلام ذکر نہ فرماتا تومحض پہلے جملے کامطلب،اس جملے کے مخاطب داؤد uسمجھ سکتے نہ ہی کوئی اور کیونکہ مخلوق تو پہلے ہی ہے پھر اس جملے کا کیا مطلب؟جب اس کے ساتھ دوسرا جملہ ملایاگیا تب اس کامطلب واضح ہوا یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایاہے۔ اسی طرح دسری مثال: اللہ تعالیٰ کا موسیٰuکی والدہ کومخاطب ہونا کہ:[اَنْ اَرْضِعِيْہِ۝۰ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْہِ فَاَلْقِيْہِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ۝۰ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْہُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝۷ ] (القصص:۷)
یہاں بھی کلام موصل ہے کیوںکہ اگر لفظ جاعلوہ کےساتھ من المرسلین ملاہوانہ ہوتا تو اس خطاب کامطلب موسیٰuکی والدہ سمجھ پاتیں نہ ہی کوئی اور کیوںکہ موسیٰuتوپہلے ہی پیدا کردیئے گئے تھے تب توجملہ جاعلوہ (ہم اسے پیدا کرنے والے ہیں) لغوووعبث ہی رہتا۔ [فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَكًّا ](الاعراف:۱۴۳) یہاں بھی اگر لفظ دکا متصل نہ ہوتا تو لفظ جعلہ کاکوئی معنی بن نہ پاتا۔ اسی طرح قرآن مجید میں ایسی متعدد مثالیں ہیں۔ عرب ہر مقام پر علامات دیکھ کر لفظ جعل کے دونوں معنی میں سے کوئی ایک مقرر کرسکتےہیں۔ اس طرح یہ آیت جو بشر نے پیش کی یعنی:[اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا]چونکہ یہ قول موصل ہےلہذا میرا یہ کہنا درست ہے کہ جعلنا بمعنی صیرناہ ہے یعنی ہم نے قرآن کو عربی زبان میںنازل کیا ہے۔ اور اگر کلام مفصل ہوتا توپھر بشر کا کیا ہوامعنی درست کہلاتا۔
بشر کہنےلگا اے امیرالمؤمنین اس نے قرآن کی شان میں کمی کردی ہےوہ اس طرح کہ اس نے قرآن کو کم مرتبہ کے القابات دیئے ہیں یعنی موصل ومفصل ۔ اللہ تعالیٰ نےکسی کو موصل ومفصل کی پابندی کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا ہے۔
میں جواباً کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں صفتیں ذکر کی ہیں اور اپنے کلام کیلئے پسند کی ہیں۔فرمایا:[وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝۵۱ۭ ](القصص:۵۱) [كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۳ۙ ](حم السجدہ:۳)یہ نص قرآنی ہے، تاویل ہے نہ تفسیر۔یہ دونوں صفتیں اپنے کلام کیلئے اللہ نے پسند فرمائی ہیں۔ نیز فرمایا:[وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ] (الرعد:۲۱)اور ان کی تعریف کی کہ:[اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عُقْبَى الدَّارِ۝۲۲ۙجَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَہَا](الرعد:۲۲،۲۳)اور فرمایا: [وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِہٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ۝۲۵ ] (الرعد:۲۵)
معلوم ہوا کہ اللہ کے موصل کلام کوملاکرپڑھاجائے گا اسے الگ کرنے والے پر پھٹکار وارد ہے۔
میں نے مزید مثال پیش کرتے ہوئے آیت ذکر کی کہ:[شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۝۰ۙ](آل عمران:۱۸)اور میں نے کہا کہ یہاں خواہ اس قسم کی دیگرآیات میں صرف لاالٰہ کہدے تو کافر اور حلال الدم بن جائے کیوںکہ وہ اس طرح اللہ کاانکار کررہا ہے۔ہاں اگر اس کے ساتھ لفظ الاھوملاتاہے تو مطلب واضح ہوجاتاہے۔
اسی طرح [وَاللہُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ۝۰ۭ ] (الاحزاب: ۵۳) اگر لفظ من الحق نہیں ملاتا توکافرہو جاتا ہے۔اسی طرح [وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ ](الانعام:۵۹)میں اگرلفظ الاھو نہیںملاتا توکافر ہوجاتا ہے۔
اورمفصل (جداکیے ہوئے) کلام کی مثال :[لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ۝۰ۚ](النحل:۶۰) یہاں کلام مکمل ہورہا ہے اور اس کے آگے دوسرا جملہ اس طرح ہے [وَلِلہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۶۰ۧ ]اب اگر لفظ وللہ کو پہلےجملے سےملاتا ہے اور دوسرے جملے کےباقی الفاظ نہیں کہتا تو معنی یوں بنے گا:قیامت کو نہ ماننے والوں اور اللہ تعالیٰ کیلئے بری مثال ہے۔ (نعوذباللہ ) اور یہ صریحا کفریہ عقیدہ ہے۔
اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میںکلام موصل ومفصل موجود ہے اور اس کی تفہیم انتہائی ضروری ہے۔ خلیفہ مجھ سے مخاطب ہوا کہ احسنت احسنت یاعبدالعزیز تو نے اپنے مدعیٰ کو واضح کردیا۔ اور بشر کو مخاطب ہوتے ہوئےکہا کہ ابھی بھی تجھے اس سے کوئی سوال کرنا ہو یا کوئی دلیل پیش کرنی ہوتوکرسکتا ہے۔ اب تک تجھ پر اس کی حجت ثابت ہوچکی ہے اور ہمارے نزدیک اس کاقول ثابت ہوچکا ہے۔
بشر کہنے لگا کہ یہ ہر بات میں قرآن کی آیت پیش کرتا ہے اور آیت ہی کا مطالبہ کرتا ہے اور کسی تاویل کو ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہے حالانکہ تمام دینی امور قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔
میں نے کہا وہ امور جن کی انسانوں کو ضرورت ہے وہ تمام قرآن میں مذکور ہیں:[مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ] (الانعام: ۳۸)[وَكَتَبْنَا لَہٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ] (الاعراف:۱۴۵)
تب بشر کے رفیق محمد بن الجہم نے مجھے کہا کہ یہاں جوچٹائی بچھی ہوئی ہے اس کامخلوق ہوناثابت کر؟
میں نے جواب دیا کہ ہاں۔ یہ بتاؤ کہ یہ چٹائی کھجور کے درخت اور چوپایوںکے چمڑے سے بنی ہے یا اس میں دوسری بھی کوئی چیز ہے؟ کہنےلگا نہیں ،اور کوئی چیز نہیں۔
میں نے کہا ابھی تیسری چیز بھی ہے یعنی انسان ،جس کی کوشش وکاریگری سے ان دونوں چیزوں سےاس شکل میں چٹائی تیارہوئی۔ کہنے لگا :ہاں۔ میں نے کہا یہ تینوں چیزیں مخلوق ہیں۔
[وَالْاَنْعَامَ خَلَقَہَا۝۰ۚ لَكُمْ فِيْہَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ ] (النحل:۵) او ر کھجور کادرخت فرمایا:[ءَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ۝۷۲ ](الواقعۃ:۷۲) [وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـۃٍ مِّنْ طِيْنٍ۝۱۲ۚ ](المؤمنون:۱۲)
میں نے تینوں چیزوں کامخلوق ہونا نص قرآنی سے ثابت کیا ہے نہ کسی تاویل وتفسیر سے۔تیرے پاس بھی اگر قرآن کے مخلوق ہونے کےمتعلق کوئی دلیل ہو تو پیش کر۔ خلیفہ مامون نے محمد بن جہم کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تجھے تو بات کرنا بھی نہیں آتی توخاموش ہو،تاکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے گفتگوکریں۔
پھرخلیفہ نے بشر کو کہا کہ تیر ے پاس ابھی بھی کوئی شیٔ ہےتومناظرے کو آگے چلاؤ۔بشر کہنےلگا اے امیرالمؤمنین! میرے پاس اشیاء تو بہت ہیں لیکن عبدالعزیز مجھ سے نصِ قرآنی کا مطالبہ کرتا ہے اور میں عقل وقیاس کے ذریعہ مناظرہ کرناچاہتا ہوں۔ اگر یہ اپنا مطالبہ ترک کرکے عقل وقیاس کے ذریعہ مناظرہ کرے تو میں اس سے تمام باتیں تسلیم کروالوں گا اور اسی وقت اگرعبدالعزیز اپنے عقیدے سے رجوع نہ کرلے اور قرآن کے مخلوق ہونے کا اقرار نہ کرلے تو میرا خون مباح ہے۔ خلیفے نےکہا کہ (اس کے یہ کلمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں)ایک مسلمان کیلئے قطعا جائز نہیں ہے کہ ایک شخص قرآن وحدیث استدلال کے طور پر پیش کررہاہو اور ان کے ذریعہ مناظرہ کررہا ہو اسےکہاجائے کہ قرآن وحدیث کو ترک کرو،قیاس وعقل کے ذریعہ گفتگوکرو،اس کیلئے کوئی اور مجلس منعقد کی جاسکتی ہے۔
میں نے عرض کی کہ اے امیرالمؤمنین اگراجازت ہو تو میں بشر کے ساتھ عقل وقیاس کےذریعہ بھی مناظرہ کرنے کیلئے تیارہوں آپ ہماری گفتگو سنیں، اگربشر مجھ پر اپنی حجت قائم کرلے اور مجھ سے اپنا عقیدہ تسلیم کرالے تو میراخون بھی آپ کے لئے حلال ہے۔ خلیفہ نے کہا میں تم دونوں کے مابین حکم بن کر تمہاری گفتگو سنتاہوں لیکن تم مناظرہ کو اتنا طول نہ دینا کہ نماز ظہر کا وقت نکل جائے۔ (جاری ہے)

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے