Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اگست » اداریہ و شذرے

اداریہ و شذرے

شیخ حافظ ندیم ظہیرd
ملازم تلمیذ:محدث العصر حافظ زبیر علی زئیa
آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرناشرعاً کیساہے؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
س… دُکھی انسانیت کی خدمت کرنا بہت بڑا ثواب ہے، اسلام میں کیا یہ جائز ہے کہ کوئی آدمی فوت ہونے سے پہلے وصیت کرجائے کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں کسی نابینا آدمی کو لگادی جائیں؟
ج…ایسی وصیت جائز نہیں اور اس کو پورا کرنا بھی جائز نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو دُکھی انسانیت کی خدمت ہے، اس میں گناہ کی کیا بات ہے؟
میں اس قسم کی دلیل پیش کرنے والوں سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ واقعتاً اس کو انسانیت کی خدمت اور کارِ ثواب سمجھتے ہیں تو اس کے لئے مرنے کے بعد کا انتظارکیوں کیا جائے؟ بسم اللہ ! آگے بڑھئے اور اپنی دونوں آنکھیں دے کر انسانیت کی خدمت کیجئے اور ثواب کمائیے۔ دونوں نہیں دے سکتے تو کم از کم ایک آنکھ ہی دیجئے، انسانیت کی خدمت بھی ہوگی اور ”مساوات“ کے تقاضے بھی پورے ہوں گے۔
غالباً اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ زندہ کو تو آنکھوں کی خود ضرورت ہے، جبکہ مرنے کے بعد وہ آنکھیں بیکار ہوجائیں گی، کیوں نہ ان کو کسی دُوسرے کام کے لئے وقف کردیا جائے ؟
بس یہ ہے وہ اصل نکتہ، جس کی بنا پر آنکھوں کا عطیہ دینے کا جواز پیش کیا جاتا ہے، اور اس کو بہت بڑا ثواب سمجھا جاتا ہے۔
لیکن غور کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ نکتہ اسلامی ذہن کی پیداوار نہیں، بلکہ حیات بعد الموت (مرنے کے بعد کی زندگی) کے انکار پر مبنی ہے۔
اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی کی زندگی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ زندگی کا ایک مرحلہ طے ہونے کے بعد دُوسرا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے، مرنے کے بعد بھی آدمی زندہ ہے، مگر اس کی زندگی کے آثار اس جہان میں ظاہر نہیں ہوتے۔ زندگی کا تیسرا مرحلہ حشر کے بعد شروع ہوگا اور یہ دائمی اور ابدی زندگی ہوگی۔
جب یہ بات طے ہوئی کہ مرنے کے بعد بھی زندگی کا سلسلہ تو باقی رہتا ہے مگر اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ تو اَب اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا آدمی کو دیکھنے کی ضرورت صرف اسی زندگی میں ہے؟کیا مرنے کے بعد کی زندگی میں اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں؟ معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس کا جواب یہی دے گا کہ اگر مرنے کے بعد کسی نوعیت کی زندگی ہے تو جس طرح زندگی کے اور لوازمات کی ضرورت ہے اسی طرح بینائی کی بھی ضرورت ہوگی۔
جب یہ بات طے ہوئی کہ جو شخص آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرتا ہے اس کے بارے میں دو میں سے ایک بات کہی جاسکتی ہے:
1-یا یہ کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتا۔
2-یا یہ کہ وہ ایثار و قربانی کے طور پر اپنی بینائی کا آلہ دُوسروں کو عطا کردینا اور خود بینائی سے محروم ہونا پسند کرتا ہے۔
لیکن کسی مسلمان کے بارے میں یہ تصوّر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی کا قائل نہیں ہوگا، لہٰذا ایک مسلمان اگر آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ خدمتِ خلق کے لئے رضاکارانہ طور پر اندھا ہونا پسند کرتا ہے۔
بلاشبہ اس کی یہ بہت بڑی قربانی اور بہت بڑا ایثار ہے، مگر ہم اس سے یہ ضرور کہیں گے کہ جب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہ اختیارِ خود اندھاپن قبول فرما رہے ہیں تو اس چند روزہ زندگی میں بھی یہی ایثار کیجئے اور اس قربانی کے لئے مرنے کے بعد کا انتظار نہ کیجئے…!
ہماری اس تنقیح سے معلوم ہوا ہوگا کہ
-1…آنکھوں کا عطیہ دینے کے مسئلے میں اسلامی نقطہٴ نظر سے مرنے سے پہلے اور بعد کی حالت یکساں ہے۔
-2…آنکھوں کا عطیہ دینے کی تجویز اسلامی ذہن کی پیداوار نہیں، بلکہ حیات بعد الموت کے انکار کا نظریہ اس کی بنیاد ہے۔
-3…زندگی میں انسانوں کو اپنے وجود اور اعضاء پر تصرف حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود *اس کا اپنے کسی عضو کو تلف / ضائع کرنا نہ قانوناً صحیح ہے، نہ شرعاً، نہ اخلاقاً۔ اسی طرح مرنے کے بعد اپنے کسی عضو کے تلف کرنے کی وصیت بھی نہ شرعاً دُرست ہے، نہ اخلاقاً۔*
بقدرِ ضرورت مسئلے کی وضاحت ہوچکی، تاہم مناسب ہوگا کہ اس موقع پر آنجناب محمد رسول اللہﷺ کے چند ارشادات نقل کر دئیے جائیں۔
”عن عائشة رضی الله عنہا قالت: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: کسر عظم المیت ککسرہ حیًّا۔“(رواہ مالک ص:۲۲۰، ابوداوٴد ص:۴۵۸، ابن ماجہ ص:۱۱۷)
ترجمہ:… ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میّت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندگی میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے۔“
”عن عمرو بن حزم قال: راٰنی النبی صلی الله علیہ وسلم متکئًا علٰی قبر، فقال: لا توٴذ صاحب ھذا القبر، أو لا توٴذہ۔ رواہ أحمد۔“ (مسند احمد، مشکوٰة ص:۱۴۹ قال الحافظ في الفتح : إسناده صحيح )
ترجمہ:… ”عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں قبر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبر والے کو ایذا نہ دو ۔“
”عن ابن مسعود رضي الله عنه : أذی الموٴمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ۔“ (رواه مالك وأبو داود و ابنِ ابی شیبہ، حاشیہ مشکوٰة ص:۱۴۹)
ترجمہ:… ” سيدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ موٴمن کو مرنے کے بعد ایذا دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں ایذا دینا۔“
ان احادیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ میّت کے کسی عضو کو کاٹنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی زندگی میں کاٹا جائے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو عضو آدمی نے خود کاٹ ڈالا ہو یا اس کے کاٹنے کی وصیت کی ہو وہ مرنے کے بعد بھی اسی طرح رہتا ہے، یہ نہیں کہ اس کی جگہ اور عضو عطا کر دیا جائے گا۔
اس سے بعض حضرات کا یہ استدلال ختم ہوجاتا ہے کہ جو شخص اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کر جائے، اللہ تعالیٰ اس کو اور آنکھیں عطا کرسکتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ وہ اس کو نئی آنکھیں عطا کردے، مگر اس کے جواب میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو آپ کو بھی نئی آنکھیں عطا کرسکتے ہیں، لہٰذا آپ اس ”کرسکتے ہیں“ پر اعتماد کر کے کیوں نہ اپنی آنکھیں کسی نابینا کو عطا کر دیں!
نیز اللہ سبحانه و تعالیٰ اس نابینا کو بھی بینائی عطا کرسکتے ہیں تو پھر اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کیوں فرماتے ہیں؟
خلاصہ یہ کہ جو شخص مرنے کے بعد بھی زندگی کے تسلسل کو مانتا ہو اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرنا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص حیات بعد الموت کا منکر ہو اس سے اس مسئلے میں گفتگو کرنا بے کار ہے ۔
هذا والله تعالى ولي التوفيق والهادي إلى سواء السبيل – وصلى الله وسلم على نبينا وحبيبنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين – وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين –
سعودی عرب میں بم دھماکے قابل مذمت ولمحہ فکریہ ہیں
28رمضان المبارک 1437ھ بروز سوموار سعودی عرب میں چوبیس گھنٹے کے دوران مسجد نبوی کی پارکنگ سمیت تین مقامات پر چار خود کش دھماکے ہوئے، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی پارکنگ کےپانچ سیکورٹی اہلکاروں کے شہید ہونے کی تصدیق ہوئی، ان سیکورٹی اہلکاروں نےاپنی جان پرکھیل کر ایک خودکش حملہ آور کو روکا جومسجدنبوی کے گیٹ نمبر36سے اندرداخل ہونے کی کوشش کررہاتھا۔مسجد نبوی کو نشانہ بنانے کی کوشش کو واضح طور پر اس منصوبے کاحصہ قرار دیاجاسکتاہے جس پر اسرائیل کی صیہونی ریاست عظیم تراسرائیل کےنام سے کام کررہی ہے۔ اس منصوبے میں بالخصوص مدینہ منورہ کو اسرائیل کی اس عظیم تر ریاست میں شامل کرنااصل ہدف ہے۔
جمعیت اہل حدیث سندھ سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ خودکش بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور قرار دیتی ہے کہ اس طرح کی ناپاک جسارت کرنے والوں کا اسلام سےد ور کابھی تعلق نہیں اور ان بم دھماکوں کولمحہ فکریہ قرار دیتی ہے کہ اب اسلام کے مقدس ترین مقامات بھی اس طرح کے حملوں سے محفوظ نہیں!!!
ڈاکٹرذاکر نائیک پرپابندی ،متعصب بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بارپھر عیاں
عظیم ترین جمہوریت کے نام نہاد علمبردار بھارت میں عالمی اسلامک اسکالر اور تقابل ادیان کے ماہر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تمام تصانیف اور لٹریچرکوضبط کرلیاگیااور ان کےٹی وی چینل’’پیس ٹی وی‘‘ پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔اور عمرہ واپسی پرانہیں گرفتار کرنے کافیصلہ کرلیاگیا ہے۔ان اقدام کا سبب مہاراشٹر کی انتہاپسندہندو تنظیم شیوسینا کا یہ مطالبہ بنا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا سوفیصد فوکس ہندوؤں کومسلمان بنانا ہے لہذا وہ اجمل قصاب اور انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔ اس لئے ان کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے۔ حالانکہ ہندوؤں کا مسلمان ہونا ہندومذہب کے باطل ہونے کی دلیل ہےڈاکٹر ذاکر نائیک نے تو محض یہ بطلان واضح کیا ہے ۔جبکہ بھارتی فلمیں دیکھ کر نوجوان جوجرائم کررہے ہیںکیا ان فلموں کے ڈائریکڑز اور پروڈیوسرز کیخلاف بھی کبھی کوئی کاروائی کی گئی؟؟؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک پر پابندی بھارت کامحض متعصبانہ ومعاندانہ اقدام ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
سعودی عرب کےساتھ عید-ایک خوش آئند وخوش گوار دن
محدث دیارسندھ سیدابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaبدیع التفاسیر جلد3صفحہ597میں فرماتے ہیں کہ:ہمارے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخ کافرق رہتا ہے اور کبھی تو دوتاریخوں کا فرق ہوجاتا ہے لہذا ایسی صورت میں دونوںملکوں کیلئے ایک دوسرے کا چاند معتبر نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اگر کوئی ایسا موقعہ لے آئے کہ دونوںملکوں میں تاریخ کافرق نہیں رہتا تو پھر دونوں کا چاند ایک دوسرے کیلئے معتبر ہوگا، کاش اللہ تعالیٰ ایسا کردے۔آمین
اللہ تبارک وتعالیٰ نےشوال1437ھ میں محدث دیار سندھ aکی اس خواہش کی تکمیل فرمادی اور سعودی عرب وپاکستان دو نوںبرادر اسلامی ملکوں میں ایک ساتھ عید الفطر منائی گئی۔ الحمدللہ علی ذلک
اللہ تبارک وتعالیٰ سےد عا ہے وہ آئندہ بھی ایسے خوش کن وپرمسرت مواقع عنایت فرماتار ہے۔آمین
روزنامہ امت – سعودی دشمنی برقرار
سعودی عرب کے ساتھ روزنامہ امت کا پوشیدہ بغض گاہے گاہے عیاں ہوتارہتا ہے اور ہم ان ہی صفحات میں قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کراتے رہتے ہیں، اس کی تازہ مثال 25،و26جولائی2016ءکے روزنامہ امت کی اشاعت میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
روزنامہ امت نے اپنی25جولائی 2016ء کی اشاعت میں سب سے اوپر اپنی پیشانی پر بہت بڑی سرخی سجائی کہ:سعودی عرب نے اعلیٰ سطح کاوفد اسرائیل بھیج دیا۔
پھر اس کی ذیلی سرخی میں مزید وضاحت کی کہ:
مقبوضہ بیت المقدس میں سابق سعودی جنرل انور ایشکی کی اسرائیل حکام سےملاقاتیں ،تعلقات بڑھانے کی خواہش ،خفیہ رابطے کئی عشروں سے قائم ہیں۔ ذرائع
ساتھ میں طنزیہ جملہ کے ذریعہ نشترزنی بھی کی کہ’’عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب‘‘اور پھر اس سرخی کے تحت 95سطروں پر مشتمل طویل خبر شایع کی جس میں سعودی عرب پر متعدد الزامات کاتذکرہ تھا۔
جبکہ اگلے روز یعنی26جولائی 2016ء کو سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ وضاحت کو روزنامہ امت نے کوئی نمایاں مقام نہیں دیا۔محض سواانچ جگہ پر چھوٹی سی غیرنمایاں سرخی کے ساتھ چار سطری خبر شایع کی۔
یہ روزنامہ امت کا اسلامی مملکت سعودی عرب کے ساتھ صریح عناد وعداوت ہے۔
قارئین سعودی وزارت خارجہ کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں اور ایک با ر پھر روزنامہ امت کی مندرجہ بالامبنی برعداوت بڑی اور طویل سرخی وخبر پر نظر دوڑائیں تو وہ اس روزنامہ کی سعودیہ کےساتھ دشمنی کی بومحسوس کئے بغیر رہہ نہیں سکیں گے۔
’’سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کرنے والےسعودی وفد سے متعلق وضاحت جاری کردی۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حکام سے ملاقات کرنے والے وفد کا سعودی حکومت سے کوئی تعلق نہیں‘‘

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے