Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » ہلاکت کی راہیں :خودپسندی وغرور

ہلاکت کی راہیں :خودپسندی وغرور

معاشرے کی تنظیم وتشکیل ،تہذیب وتدمیر،اصلاح واہلاک ،عروج وزوال کا انحصار معاشرے میں بسنے والے باسیوں وآبادکاران پر منحصر ہوتاہے۔
جب کسی معاشرے کے افراد عناصراسلامی، اخلاقی اقدار علی الرأس وعین قبول کرلیں اور اپنے افعال واعمال کو اسلامی تربیتی سانچے میں ڈھال کرزندگی بسر کرنے کاعزم صمیم کرلیں تو معاشرہ امن کا گہوارہ ،اسلامی روایات کا امین اور دنیا وعقبی میں فوزوفلاح کا ضامن بن جاتاہے۔
اور اگر اس کے برعکس باسیان معاشرے میں بنیادی واخلاقی اقدار چھن جانےکے باعث عقائد میں غلو، عبادات میں بدعات، خود پسندی وتکبر، اخلاق میں قباحت آجائے تو معاشرہ معاصی اور جرائم کی آماجگاہ بن کر رہائش کنندگان کو جہنم کے دہانے پر لاکھڑا کرتا ہے۔
محترم قارئین! اس مختصر مضمون میں ان چند بدخصلتوں اور شنیع عادتوں کا ذکر کریں گے جو امن عامہ، نظام مساوات اور اسلامی بھائی چارے کو دیمک کی طرح چاٹ کر بناء اسلامی کو کھوکھلا کردیتی ہیں۔
خودپسندی:
1خود پسندی کیا ہے؟
لغوی تعریف:خود پسندی کو عربی میں’’العجب والعجب بالنفس‘‘ کہتے ہیں۔
اصطلاحی تعریف: معاشرتی دہارے میں زندگی بسر کرتے ہوئے سب سےکٹ کر اپنے آپ میں رہنا اورخود کو سب سے اعلیٰ واہم سمجھنا خود پسندی کھلاتاہے۔
شرعی تعریف: لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، حق بات کو ٹھکرانا، نعمتوں کی ناقدری کرنا، حقوق غصب کرنا، خودپسند اور خود پرست کھلاتا ہے، الکبر بطر الحق وغمط الناس.
مندرجہ بالاتعریفات وتوضیحات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خودغرضی، خود نفسی اور خود پسندی انتہائی معیوب کردارہیں، کسی طور بھی بنی نوع انسان کے شایان شان نہیں کہ وہ خود پسندی اختیار کرے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان خصائل قبیحہ سے محفوظ رکھے۔آمین
آج کے اس پرفتن دور کے لوگ جہالت اور دین سے دوری کی وجہ سے اپنا مقصد حیات وذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں ،بسااوقات لوگ اپنے بڑے ہونے کے زعم میںخاندانی، قومی اور لسانی تعصب کی ہوادینے لگ جاتے ہیں، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیر جانتے ہیں اپنے آپ کو خودسر، خودپسندبناکراللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستوجب اور باہم تفریق وعلیحدگی بنادیتے ہیں۔
ہم بحیثیت مسلمان اس بات کامطالعہ کریں کہ کیا ہمارے دین اسلام میں قوم،زبان،رنگ ونسل باہمی تفاخر کا سبب وذریعہ ہیں؟
خالق کائنات مالک الملوک کے ہاں ان تمام باتوں کی حیثیت ملاحظہ کیجئے،اللہ تعالیٰ کا فرمان:
[يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۝۱۳ ](الحجرات:۱۳)
ترجمہ:اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے والاہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے ۔
قومیں وقبائل فقط تعارف وپہچان کا ذریعہ ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ومکرم وہی ہے جو اللہ تعالیٰ سےخوف کھاتا ہے، اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لئے سخت تنبیہ ہےجو اپنی قوم،ذات اور اعلیٰ حسب ونسب کو کسی اعزاز یاافتخار کا سبب گردانتے ہوئے خودپسندی کے مرض میں مبتلا ہوجاتےہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الخِرَاءَ بِأَنْفِهِ، إِنَّ اللَّهَ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ»(جامع ترمذی:3955)
سیدناابوھریرہtسےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قومیں اپنے باپ دادوںپرجوفوت ہوچکے ہیںفخر کرنے سے باز آجائیں وہ جہنم کےکوئلے ہیں یا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس(گندگی کے) کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہیں جو نتھنوں سے گندگی دور کرتا ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادوں کےنام پر فخر کو ختم کردیا ہے ،یاتو وہ پرہیزگار مؤمن ہیں یا بدبخت فاجر ہیں، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے۔
عن عبداللہ عن النبی ﷺ قال: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ»(صحیح مسلم:147)
سیدنا عبداللہ بن مسعودtسےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس کے دل میںذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
مذکورہ دلائل سے معلوم ہوتاہے اسلام نسب اور باپ دادوں پر فخر کو انتہائی ناپسندیدہ امرقرار دیتا ہے اور بہت سخت الفاظ کے ساتھ ایسے کرداروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، جو قومیت اور حسب ونسب کو اختیار کرنے کے باعث خود پسند بنتا ہے وہ ان تمام وعیدوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو باپ دادوں اور حسب ونسب پراترانے اور فخر کرنے سے بچائے، جوانسان کو خودپسندی کی وادی میں دھکیل کر عصیبت کی زندگی اور جاہلیت کی موت مرنے پرمجبور کردیتا ہے۔
2خود پسندی کا دوسراسبب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور تکبرانہ چال چلے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان:
[وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۝۰ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۝۳۷ ](بنی اسرائیل:37)
ترجمہ:اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے ۔
خودپسندی وتکبر کی چال چلنے کانقصان:
سیدنا عبداللہ بن عمرwبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:من تعاظم فی نفسہ واختال فی مشیتہ لقی اللہ وھو علیہ غضبان.(أخرجہ الحاکم:1/60)
جوشخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اوراکڑ کر چلتاہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصے میں ہوگا۔
یہ ہے خودپسندی وتکبر اورغرور کا نقصان کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا بلکہ اس پر غصے میں ہوگا۔
3خودپسندی اور غرور کاتیسراسبب:
امراء وبادشاہوں کے ہاں پذیرائی کسی فردکا حاکم وقت یا امیر جماعت سے اچھے تعلقات اور روابط ہیں،جس کے باعث وہ شخص پھولا نہیں سماتا اور اپنے آپ میں رہتا ہے کہ جی میری توحکمرانوں کے ہاں بہت شنوائی اور رسائی ہے اس بات کو دومختلف طریقوں سے سمجھیں:
ایک یہ کہ بادشاہ کی بادشاہی اور امیر کی امارت یہ رب العزت کی عطاء اور امانت ہے، اس میں انسان کا کوئی کمال نہیں، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ اکیلا عزت کامالک ہے جسے جو چاہے عطا کرے اللہ تعالیٰ کافرمان:
[قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۝۰ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۝۰ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۲۶ ] ترجمہ:آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔(آل عمران:۲۶)
اور دوسرا یہ کہ جوشخص بادشاہ ،حکمران یا امیر کے ہاں بھلے چوکیدار کی حیثیت سے ہو اس خودپسندی کے عزم سے اس دوران بے شمار لوگوں سے تعلق ورشتہ منقطع کردیتا ہے اور جب اپنا دھارا بدلتا ہے تو وہ شخص اس معاشرے میں بے وقعت ،بے حیثیت اور بے قیمت بن کر رہ جاتا ہے۔
اس پر مزید یہ کہ بادشاہ وامراء کا قرب تلاش کرنے والاشخص اکثر خوشامد،چاپلوسی اور منہ پر تعریف کے گن گانے کے فن کے ذریعہ سے تو اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے مگر اس کی حرکات حکمرانوں اور امراء کے سامنے کھسیانی ہوتی ہیں مگر یہ شخص عامۃ الناس ،اقرباء وغیرہ سے کٹ کر خود پسندی کی زندگی بسرکرنے میں اس تاثر کو عام کرتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ واہم اور عبقری فرد ہے جیسا کہ منہ پر تعریف اورخوشامد کی مذمت میں کس قدر صاف تنبیہ وتوبیح پر مبنی احادیث ہیں ۔
سیدنا ابوموسیٰ tبیان کرتے ہیں:
سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: «لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ(صحیح مسلم:3001)
ترجمہ:نبیﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا جو کہ اس کی مدح سرائی میں مبالغہ کررہا تھا ،آپ نے فرمایا: تم نے اس کو ہلاک کردیا تم نے اس کی کمر توڑ دی۔
آپﷺ نے فرمایا:
إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ، لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا، إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا ”
اگر تم میں سے کوئی ضرو ر بالضرور تعریف کرناچاہے تو یوں کہے: میں خیال کرتا ہوں (اگر وہ واقعی ایساہو) کہ وہ ایسا ہے اس پر بھی اللہ کے سامنے کسی کو اچھا نہیں کہنا۔(یعنی معلوم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیسا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ یہ علم کسی کو نہیں)(صحیح مسلم:3000)
4خودپسندی کا چوتھا سبب:
جسم وجان کابھرپور اور دل ودماغ کا تواناوتندرست ہونا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحت وذہانت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور عطاء ہے ان نعمتوں کی اس رُخ سے قدر تو رب العزت کے نیک بندے ہی کرتے ہیں مگر سرکش اور باغی لوگ خود ،خودپسند ہوکر ان جسمانی قوتوں اور دماغی حافظے کی ذاتی اختراع وملکیت سمجھتے ہیں جیسے بدبخت قارون کہاکرتاتھا:یہ جو خزانہ کی چابیاں اورحکمرانی پر دسترس اور وسائل کی بہتات ہے یہ سب کچھ [ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُہٗ عَلٰي عِلْمٍ۝۰ۭ عِنْدِیْ] (القصص:۷۸)
مجھے تو یہ (مال) محض اس علم کی بناپر دیاگیا ہے جو میرے پاس ہے۔
جب اس نے یہ کہا تو رب کائنات نے اس کو قیامت تک آنے والوں کیلئے عبرت کا نشان بنادیا۔
محترم قارئین! کمال حافظہ پراترانا،تکبرکرنا، اپنے جسم کی کڑیل اور مضبوط ساخت پر غرور کرنا اور گھمنڈ کرناخود پسندی کی سب سے بڑی شکل ہے۔
5خوپسندی کا پانچواں سبب: مال کی فراوانی، مال کی کثرت وبہتات ہے، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہی مال کوحلال جگہوں سے کما کرحلال جگہوں پرخرچ کرتے ہیں۔
مگرخودپسندی کی مصیبت میں گرفتار شخص مال کابڑا حریص ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا سب مال اپنی خواہشات کے ارد گرد کھپادیتا ہے، چاہے اس کے پاس مال کے خزانے ہی کیوں نہ ہو، مال جہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے وہاں اگر اس کادرست استعمال نہ ہوتو رب العزت کے فرمان کے مطابق :[اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَۃٌ۝۰ۭ ] (التغابن:۱۵)
بلاشبہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد فتنہ (آزمائش) ہیں۔
مگر اس مال کی کثرت اور توافر اانسان کو بیگانہ وخودپسند بنا دیتا ہے اور ہمیں اپنے معاشرے میں بے شمار لوگ اس فتنہ کا شکار نظر آتے ہیں۔
خودپسندی کی چند صورتیں:تکبر کرنا، اترانا، حقوق غصب کرنا، حقوق کو ٹھکرانا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کرنا ، دیندار لوگوں کے ساتھ تمسخر واستہزاء کرنا، لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، حافظے اور قوت کاغلط استعمال کرنا، امراء وبادشاہ کا قرب تلاش کرنا۔
خود پسندی وغرور ،اللہ تعالیٰ کے عذاب کاباعث ہے۔
عن حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الخُزَاعِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ: كُلُّ عُتُلٍّ، جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ ”
(بخاری:4918)
سیدنا حارثہ بن وھبtبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں۔ہرکمزور وتواضع کرنے والا اگر وہ(اللہ کا نام لیکر) قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کوپورا کردے، کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں، ہر تندخو،اکڑکرچلنے والامتکبر۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ تَعْلُوهُمْ نَارُ الأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الخَبَالِ.(ترمذی:2492)
تکبر کرنے والوں کو قیامت کےر وز جمع کیاجائے گا چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورت میں ان پرہرطرف سے ذلت چھائی ہوئی ہوگی ان کو قید کی طرف ہانکا جائے گا جو جہنم میں ہے اس کا نام بولس ہے سخت گرین آگ ان پر غالب ہوگی ان کو دوزخیوں کا پیپ پلایاجائے گا جس کانام طینۃ الخبال ہے۔
سیدناابوھریرہtسے روایت ہےکہ آپﷺ نے فرمایا:
«بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ، تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ، مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»(بخاری:5789)
ایک شخص خوبصورت حلہ زیب تن کیے اپنے آپ پر اتراتے اپنے بالوں میں کنگھی کیے چل رہا تھا، اچانک اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیاپس وہ قیامت کے دن تک زمیں میں دھنستا چلاجائے گا۔
معزز قارئین! غرور،تکبرو خودپسندی ایک ناسور گناہ ہے، جو بہت ہی معیوب ہے، اس سے ہم سب کو بچناچاہئے کہ جو بھی ہمارے پاس چیزیں ہیں سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْہِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۝۵۳ۚ ](النحل:۵۳)
ترجمہ:تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو ۔
تب ہی انسان خود پسندی سے بچ سکتا ہے جب ذہن میں یہ رکھے کہ جو کچھ نعمتوں ،صلاحیتوں وغیرہ کی شکل میں میرے پاس ہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہےا ورخودپسندی سے بچنے کیلئے تواضع عاجزی وانکساری اختیار کرنی چاہئے۔
خالق کائنات سے دعا ہے کہ ہمیں غروروخود پسندی کے مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

vvvvvvvvvvvvv

About حافظ عبدالعلیم الحداد

جواب دیجئے