Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » سالانہ تقریب مدارس نیوکلری لیاری کراچی

سالانہ تقریب مدارس نیوکلری لیاری کراچی

19اگست2017ء ۲۶ذیقعد۱۴۳۸ھ بروز ہفتہ بعدازعصر تاعشاء نیوکلری لیاری کراچی کے مدارس کی سالانہ تقریب جامع مسجد سبحانی میں منعقد ہوئی۔
بعدازعصر تامغرب مدارس کے طلبہ نےتلاوت،نظمیں، تقاریر کی صورت میں اپنی اعلیٰ کارکردگی پیش کی، جس سے اسٹیج پر موجود علماء اور جلسہ گاہ میں موجود سامعین بڑے متاثر ہوئے۔
اس کے بعد سالانہ امتحانات کے نتائج پیش کیے گئے اور طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
بعدازاںنمازمغرب پروفیسر عبد القیوم جلالانی کااصلاح معاشرہ کے عنوان پر خطاب ہوا۔
بعدازاں مدارس کے تعارف پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی،رپورٹ ذوالفقار علی طاہر نے پیش کی جو کچھ اس طرح تھی:
الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، امابعد !
لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد میں قائم سبحانی مسجد اہل حدیث ، شیخ العرب والعجم سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaکے زمانے سے جمعیت اہل حدیث سندھ کے ماتحت دعوت وتبلیغ میں مصروف عمل ہے۔ دعوت وتبلیغ کےساتھ ساتھ علاقے میں دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام بھی مسجد میں قائم ہے، مسجد میں قائم مدرسے کے ساتھ ساتھ علاقے میں مدارس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس ضرورت کی تکمیل کیلئے 2004ء میں علاقے کے بچوں اور بچیوں کے لئے مدرسۃ الحرمین لتعلیم القرآن والحدیث کی بنیاد رکھی گئی۔ پھر اللہ کے فضل وکرم سے وقتاً فوقتا علاقے میں جمعیت اہل حدیث سندھ کے تحت مدارس قائم ہوتے رہے۔2005ء میں مدرسہ سلیمان بن محمد لتعلیم القرآن والحدیث، 2007ء میں مدرسہ محمد بن احمد لتعلیم القرآن والحدیث، 2009ء میں مدرسہ ہاشمیہ لتعلیم القرآن والحدیث ،2012ء میں مدرسہ موسیٰ بن عیسیٰ لتعلیم القرآن والحدیث، 2014ء میں مدرسہ عبدالشکور بن عبدالرحیم عرف جن اور 2015ء میں مدرسہ رحیمہ لتعلیم القرآن والحدیث قائم کیے گئے۔
2006ء میں ان تمام مدارس کے نگران الشیخ ذوالفقار علی طاہر صاحبdسے مشاورت کے بعد تمام مدارس کو ایک نام’’ادارۃ الحرمین لتعلیم القرآن والحدیث‘‘ کے تحت ضم کردیاگیا۔ ان مدارس میں مختلف شعبہ جات قائم ہیں:
شعبہ تحفیظ القرآن سے اب تک 8طلبہ اور 6طالبات حفظ القرآن مکمل کرچکے ہیں جبکہ اسی شعبے میں5طلبہ اور 31طالبات زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ ناظرۃ القرآن میں112طلبہ اور 115طالبات زیر تعلیم ہیں ۔
شعبہ قاعدہ: میں75طلبہ اور116طالبات زیر تعلیم ہیں ۔
ان تینوں شعبہ جات میں قرآن مجید او ر قاعدہ کی تعلیم کے ساتھ دعاؤں کی کتاب حسن المسلم اور عقیدہ کے حوالے سے سوال وجواب پر مشتمل کتاب اصلاح عقیدہ بچوں کی یاد کروائی جاتی ہے۔
شعبہ تجوید: شعبہ تجوید میں اس وقت110طالبات زیر تعلیم ہیں،اس کورس کا دورانیہ 9ماہ ہے، اس کورس کو شروع ہو ئے 3ماہ ہوچکے ہیں۔
شعبہ تفسیر: میں اس وقت35طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور اب تک متعددسورتیں پڑھائی جاچکی ہیں، جبکہ طالبات کے لئے بھی تفسیر کا شعبہ گذشتہ دوسالوں سے قائم ہےاس وقت ایک کورس بنام تفہیم الاسلام کروایاجارہاہے جس میں20طالبات زیر تعلیم ہیں، اور اب تک 18پاروں کی تفسیر مکمل ہوچکی ہے، اور اس کے علاوہ اس کلاس میں کتاب التوحید، علم الصرف، اور اقبال کیلانی کی کتابیں بھی پڑھائی جارہی ہیں، جس میں اب تک تین کتابیں مکمل ہوچکی ہیں۔ (۱)کتاب الطہارۃ(۲)کتاب الصیام (۳)اتباع سنت اور اس کے علاوہ سیرت النبی ﷺ کےموضوع پر تجلیاتِ نبوت پڑھائی گئی ہے۔
بعدازاں فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ کو دعوتِ نصائح دی گئی، آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت کیں:
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْہِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہِ۝۰ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۹ وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰ وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُہَا۝۰ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۱ۧ ] (المنافقون:۹تا۱۱)
ترجمہ:اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے ۔
لیاری کی سطح پر جمعیت اہل حدیث سندھ کے تحت جو قائم ادارے ہیں ان کے نتائج کی یہ سالانہ تقریب ہے ان کا تعارف ابھی ہم نے سنا، اور بڑی حوصلہ افزائی ہوئی، بہت کم بجٹ کے باوجود کا م بڑا ہورہا ہے، اللہ یہاں کے احباب کو جزائے خیرعطافرمائے، اللہ پاک مزید توفیق عطا فرمائے، واللہ تعالیٰ ولی التوفیق.
اس مختصر وقت میں ایک چھوٹی سی حدیث کی روشنی میں نصیحت کروںگا، یہ حدیث سب کیلئے تحفہ اور انعام ہے ،صحیح بخاری ،کتاب الرقاق میں موجود ہے۔
امام بخاری کی تبویب اس حدیث پر یہ ہے:
لاعیش الاعیش الآخرۃ.
یہ حدیث ابن عباسwسے مروی ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:” نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ ”
دونعمتیں ایسی ہیں جن کے تعلق سے بہت سے لوگ دھوکہ کھائے ہوئے ہیں، ان دونوں نعمتوں کو ضایع کررہے ہیں، ان کی قدر نہیں کرتے، وہ دو نعمتیں یہ ہیں: صحت اور فراغت۔
آپ اندازہ کریں کہ اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ان دو نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے آپ ان دونوں نعمتوں کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔
چنانچہ جو صحت کادور ہے اور صحت کے ایام ہیں، ہم صحیح معنوں میں اس کی قدر نہیں پہچانتے کہ ہم ان ایام کو کس طرح ِبتائیں، پتا تب چلتا ہے جب کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھنی پڑھ جاتی ہے، رسول اکرم ﷺ اپنے اعضاءِ جسم کی قوت میں اضافے کی دعا فرماتے تاکہ یہ وقت دین پر عمل پرخرچ ہو، آج ہم سوچیں کہ ہماری جسمانی قوت دین کیلئے کس قدر استعمال ہورہی ہے۔
دوسری نعمت فراغت کی ہے، اللہ کی یہ عظیم نعمت ہے، جو لوگ کاروبار کیلئے مختلف ممالک کے اسفار کرتے ہیں لوگ ان پر رشک کرتے ہیں حالانکہ یہ عذاب ہے کہ ان کاروباری لوگوں کو دین کیلئے فراغت نہیں ہے۔
اسی طرح جو لوگ 8گھنٹے سروس ؍نوکری کرتے ہیں سروس سے واپس آنے کے بعد دنیاوی امور ،کھیل کود میں اپنی یہ فراغت ضایع کردیتےہیں۔
حالانکہ قیامت کے دن عمر کے متعلق سوال ہوگا کہ پوری عمر کی فراغت اور مصروفیت کیسے گزاری؟
دوسرا سوال جوانی کی فراغت ومشغولیت کے متعلق ہوگا۔
سوچیں ہمارےپاس ان دوسوالوں کا کیاجواب ہے؟
حدیث ہے :المؤمن القوی احب الی اللہ من المؤمن الضعیف وفی کل خیر.
یعنی: طاقتورمؤمن اللہ کو کمزور مؤمن سے زیادہ پسند ہے البتہ خیر دونوں میں ہے۔
یعنی خیرتودونوں میںہے لیکن اگر تقابل کریں توقوی مؤمن اللہ کو زیادہ محبوب ہے، اس لئے کہ وہ اپنی قوت کے ذریعے دین پر بآسانی عمل پیرا رہتا ہے۔
امام بخاری نے یہ حدیث کتاب الرقاق میں ذکر کی اور باب قائم کیا:لاعیش الاعیش الآخرۃ.
پیغام یہ دیا کہ اللہ کے بندو اپنی آخرت سنوارو ،اپنی صحت کو استعمال کرکے اور اپنی فراغت کو استعمال کرکے۔
ہاں! جب موت کالمحہ آئے گا تب آدمی کو احساس ہوگا او ر وہ اللہ تعالیٰ کو کہےگا:
[ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ] لہذا وہ لمحہ آنے سے قبل اپنی صحت وفراغت کو آخرت سنوارنے کیلئے استعمال کرناچاہئے۔
دوسری آیت میں فرمایا:
[رَبِّ ارْجِعُوْنِ] یعنی ہمیں واپس لوٹادو۔
نہیں ایسا ہرگزنہیںہوسکتا۔
تب کوئی ڈھیل نہیں ملے گی اور آدمی کی روح کو قبض کرکے ایسے فرشتوں کے حوالے کر دیا جائے گا جو اس روح کے لائق ہوںگے۔
لہذا زندگی کے ان لمحات میںاپنے رب کو راضی کرلیاجائے اپنے آپ کو رحم کامستحق بنایاجائے۔
پیارے پیغمبر ﷺ جب بستر پر جاتے تویہ دعاپڑھتے:
باسمک ربی وضعت جنبی وبک ارفعہ ان امسکت نفسی فارحمھا وان ارسلتھا فاحفظھا.
اے میرےپروردگار!میں تیرانام لیکر لیٹ رہا ہوں، اور تیرا نام لیکر ہی اٹھوںگا،تو اگر میری روح کو روک لے تورحم کرنا اور اگر نہ روکے تو حفاظت کرنا۔
جب میت کیلئے دعائیں کرتے تو یہ دعابھی شامل ہوتی:
اللھم! عبدک ابن عبدک وامتک یحتاج الی رحمتک .
یعنی موت کے بعد آدمی کےپاس کوئی ڈھیل نہیںہوتی، ساری مہلت اسی دنیا میں ہے، ان صحت کے ایام میں ہے ان فراغت کے ایام میں ہے، یہ ایک بار ہی عطاہونی ہے وہ عطا ہوچکی یہ جب ختم ہوگئی تو دوبارہ ملنے والی نہیں۔
لہذا اس زندگی میں صحت اور فراغت کو آخرت سنوارنے پر لگادیں۔
ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے ،ہماری صحت وفراغت استعمال ہورہی ہے محض دنیاوی لذتوں کے حصول کیلئے۔
یاد رکھیئے! ہم نے لذتیں حاصل کرنی ہیں، عبادات کےذریعے، اور عبادت کے ذریعے لذتیں ملیں گی کب جب فراغت ہوگی اور صحت ہوگی۔
آج ہمارا وقت برباد ہورہا ہےاس منحوس موبائل کے ذریعے یہ اغیار کی سازش ہے کہ انہوں نے دنیا،جہاں کا گندبھرکر یہ موبائل ہمیں تھمادیااورہم اس موبائل کے ذریعے اپنابیش بہاوقت برباد کررہے ہیں ۔
سلف صالحین اپنے اوقات کی قدرکیاکرتے تھے، جیسے عشاء پڑھی، گھرآگئے ،کھاناکھایا، بات چیت کی، سوگئے اب اٹھیں گے کب؟ تہجد کے وقت ،دیکھیں ان لمحات کا اللہ کو حساب دینا کتنا آسان ہے کہ نماز پڑھی، سوگیا، تہجد پڑھی، فجر پڑھی، اور اگر اس وقت کو خوش گپیوں میں، دیگرنافرمانیوں میں برباد کریں توسوچ لیں ان اوقات کا حساب دینا کتنا بھاری پڑ سکتا ہے۔
ابوالزناد علماء تابعین میں سے تھے ان کا گھر مسجدنبوی سے کچھ فاصلے پرتھا، یہ قیام اللیل کااہتمام مسجد نبوی میںکیاکرتے ،بیان کرتے ہیں کہ راستے میں جس گھر سے گزرتا، اس گھر سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی ہوتی۔
آج یہ چیز مفقود ہے، کیوں کہ ہم رات کے اوقات کو برباد کرتے ہیں کئی فضول اور غیرشرعی کام کرکے اور یہ آخرت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے۔
لہذا اپنے آپ کو شریعت کا پابند بنادیں، دین پر عمل پیرا ہوجائیں، آخرت کی فکرکریں، اس میں ہماری فلاح ہے۔
اقول قولی ہذا واستغفراللہ لی ولکم ولسائر المسلمین وآخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین.
بعدازاں نمازعشاء کا وقف ہوا، بعدازعشاء باقی ماندہ نتائج پیش کیے گئے اوریوں یہ تقریب سعید اپنے اختتام کوپہنچی، بعدازتقریب تمام سامعین کیلئے ضیافت کا اہتمام کیاگیا۔

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے