Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ ستمبر » عورت کا مسجد اور عیدگاہ آنا

عورت کا مسجد اور عیدگاہ آنا

اس کرۂ ارضی پر’’مسجد‘‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین مقام ہے، سیدنا ابوھریرہ tسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا»(صحیح مسلم)
یعنی تمام مقامات میں اللہ کے نزدیک محبوب ترین مقام مسجد ہے اور مبغوض ترین مقام بازار ہے۔
مسجد صرف ادائیگی نماز کامقام نہیں ہے بلکہ دین سیکھنے وباکردار بننے کیلئے بھی ایک بہترین مقام ہے۔ مسجد کی تعمیر خواہ کتنی ہی سادہ کیوں نہ ہو پھربھی مسجد سکونِ دل اور رحمتِ الٰہی حاصل کرنے کی جگہ ہے۔
ابوھریرہ tسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ ….. وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»(صحیح مسلم)
جو بھی قوم اللہ کے گھر میں سے کسی گھر میں جمع ہوتی ہے،کتاب اللہ کی تلاوت کرتی ہے،پڑھتی پڑھاتی ہے تو اس پر سکونت نازل ہوتی ہے، ان کورحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔ اور اللہ فرشتوں میں ان کاتذکرہ کرتا ہے۔ جس کا عمل سست روی کا شکارہو اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔
مسجد کسی خاص گروہ جیسے علماء،صالحین،متقین کیلئے خاص نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا گھر سب کیلئے ہے۔ ابوھریرہ tسے روایت ہے کہ :
ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا،رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، اس نے دو رکعت اداکیں، پھر کہا:اللھم ارحمنی ومحمدا ولاترحم معنا احدا .یعنی: یا اللہ!مجھ پر اور محمد(ﷺ)پر رحمت نازل فرمااور کسی پر رحمت نازل نہ فرما۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لقد تحجرت واسعا .یعنی تو نے کشادہ چیز کو تنگ کردیا ہے۔زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کیا لوگ اس کی طرف لپکے، آپﷺ نے انہیں روکا اور فرمایا:تمہیں آسانی کرنے والابناکر بھیجاگیا ہے نہ کہ تنگی کرنے والابناکر، اس پر ایک ڈول پانی بہادو۔
(سنن ابی داؤد:۳۸۰وسندہ صحیح، وسنن الترمذی:۱۴۷)
معلوم ہوا کہ دعوتِ دین اور عملی زندگی کو سدھارنے کے حوالے سے مسجد انتہائی اہم مقام ہے،نیز مسجد صرف مسلمان مردوں کی عبادت واصلاح کا مقام نہیں ہے بلکہ مسلمان عورتیں اور بچوں کی تربیت کیلئے بھی بہترین مقام ہے۔ عہدنبوی میں مسلمان مرد،عورتیں،بچے مسجد میں آتے اور اپنے عقیدہ کی اصلاح کرتے۔لیکن جب امتِ مسلمہ عملی اعتبار سے کاہلی کا شکار ہوگئی اور مسلمان مردوں نے نماز ترک کی توعورتیں اور بچے بھی مسجد کاراستہ بھول گئے۔اب بھی مسلمان مردوں کا ٹوٹاپھوٹا تعلق مسجد سے قائم ہے لیکن عورتوں کا تعلق مسجد سےبالکل ختم ہو کرر ہ گیا ہے۔ معاشرے کی جدت عورت کو مرد کے شانہ بشانہ وقدم بقدم چلنےکی ترغیب تودیتی رہی لیکن مسجد کی طرف جانے والے راستے عورت کیلئے خطرات،اندیشوں،شبہات اور وسوسوں کے کانٹوں سےسجاکر اس کے سامنے پیش کردیئے،اور عورت کو مسجد سے روکنےمیں کامیاب ہوگئی۔ اسی جدت نے عورت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے حکمران، سیاستدان،وزیر،مشیر،جج،وکیل،ڈاکٹر،نرس،استاذ،سائنسدان،ایئر ہوسٹس، کھلاڑی،فنکارہ،اداکارہ،گلوکارہ،ماڈل، اناؤنسر اور اسپیکر وغیرہ توبنادیا اور عورت کے وارثوں نےان تمام عہدوں کو آنکھیں بند کرکے قبول کرلیا اور کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی۔لیکن باپردہ ہوکر باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے مسجد اور عیدگاہ جانے کیلئے اسے ناہل قرار دے دیا۔ جہاں سراسر عورت کی عزت کی حفاظت تھی اور جن میدانوں میں عورت کی عصمت کے تارتارہونے کایقین تھا وہاں پر محض چندٹکوں کی خاطر عورت کو بھیج دیاگیا اور مسجد سے روک دیاگیا کہ عورت کی عزت خطرہ میں ہے،فیاللعجب .
عہد نبوی میں تو مسلمان عورتیں نہ صرف پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کیلئے مسجد آتیں بلکہ سورج گرہن،عیدین کی نماز کیلئے بھی حاضر ہوتیں تھیں، مستند کتبِ احادیث میں موجود احادیث اس پر شاہد عدل ہیں۔
حالانکہ اس دور میں مساجدمیں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی جتنی آج ہے اس دور میں آگے مرد کی صف ہوتی پھر بچوں کی صفت ہوتی پھر عورتوں کی، یوں عورتیں نماز باجماعت ادا کرتیں جبکہ آج ترقی یافتہ دور میں دودومنزلہ مساجد موجود ہیں اور عورت کو مکمل طور پر باپردہ ماحول میسر ہے۔ اس حوالے سے چنداحادیث ملاحظہ ہوں:
.1سیدنا عبداللہ بن عمرwنے حدیث بیان کی کہ اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو جب وہ تم سے مساجد جانے کی اجازت طلب کریں۔ تو عبداللہ کے بیٹے بلال نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم انہیں ضرور روکیں گے تب عبداللہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو اس قدر برابھلا کہا کہ اتنا برابھلاانہوں نے کبھی نہیں کہا اور فرمایا میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کررہاہوں اور تو کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہم انہیں ضرور روکیں گے۔(صحیح مسلم)
ایک اور روایت میں ہے کہ:فماکلمہ عبداللہ حتی مات.
(مسند احمد:۴۹۳۳واسنادہ صحیح)
یعنی پھر عبداللہ بن عمر نے اس کے ساتھ مرتے دم تک کلام نہیں کیا۔
.2ابوھریرہtسےر وایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
«خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا»(صحیح مسلم)
مردوں کی بہترین صفیں اگلی اور بری صفیں پچھلی ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں پچھلی اور بری صفیں اگلی ہیں۔
.3سہل بن سعد tسے روایت ہے کہ :میں نے دیکھا کہ مرد کپڑے قلیل ہونے کی وجہ سے اپنا تہبند بچوں کی طرح گردن میں باندھ کر نبیﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے ،پھر کہنے والے نے(رسول اللہ ﷺ کاحکم بتاتے ہوئے) کہا کہ:«يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ» .(صحیح مسلم)
یعنی اے عورتوں کی جماعت! جب تک مرد سجدے سے سر اٹھا نہ لیں تب تک تم سجدے سے سرمت اٹھانا۔
.4زینب زوجہ عبداللہ بن مسعودwسے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا»
جب تم میں سے کوئی (عورت ) مسجد آئے توخوشبو کوچھوئے بھی نہیں۔(صحیح مسلم)
.5ابوھریرہtسےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ»(صحیح مسلم)
یعنی:جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی ہو وہ ہمارے ساتھ عشاء میںشریک نہ ہو۔
.6انس بن مالکtسےر وایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ»
یعنی:میں نماز کوشروع کرتاہوں،نماز کو طویل کرنے کا ارادہ ہوتاہے،پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کرلیتاہوں اس وجہ سے کہ میں جانتاہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف ہوگی۔(صحیح بخاری:710)
.7ام المؤمنین ام سلمہrکہتی ہیں کہ عہد نبوی میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیر لیتیں توکھڑی ہوجاتیں اور رسول اللہ ﷺ اور وہ مرد جنہوں نے آپ کےپیچھے نماز پڑھی ہوتی بیٹھے رہتے جتنا اللہ چاہتا ۔
فاذا قام رسول اللہ ﷺ قام الرجال .(صحیح بخاری:866)
پھر جب رسول اللہ کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہوجاتے۔
.8ام المؤمنین عائشہrکہتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ اندھیرے میں نماز فجر ادا کرتے تھے۔ مؤمنین عورتیں جب(نماز پڑھ کر) واپس ہوتیں تو
لایعرفن من الغلس لایعرفن بعضھن بعضا.
وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں یا وہ ایک دوسرے کو اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری:872صحیح مسلم:1459)
.9اسماء بنت ابی بکرrسےر وایت ہے کہ :جب سورج کوگرہن لگا تو میں عائشہ کے پاس آئی،لوگ کھڑے ہوکرنماز پڑھ رہے تھے اور عائشہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا:لوگوں کو کیاہوگیاہے؟ عائشہrنے آسمان کی طرف اشارہ کیااور کہا:سبحان اللہ،میں نے کہا کوئی نشانی ہے؟ توعائشہ نے اشارہ کیا کہ ہاں!
فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي المَاءَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ.
پھر میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ مجھے چکرآنے لگے تو میں نے سرپر پانی ڈالا،پھر جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو اللہ کی حمدوثناء بیان کی۔(صحیح بخاری:1053)
.10رسول اللہ ﷺ مسجد میںد اخل ہوئے ،تو دوستونوں کے مابین ایک رسی بندھی دیکھی فرمایا: یہ کیا؟ صحابہ نے بتایا کہ یہ (ام المؤمنین) زینب (r)کی ہے وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں پھر جب تھک جاتی ہیں تو یہ رسی پکڑ لیتی ہیں۔
فقال: حلوہ لیصل احدکم نشاطہ فاذا کسل او فتر قعد.
فرمایا:اسے کھول دوتم میں سے ہر ایک اپنی چستی کی حالت میں نماز پڑھے پھر جب سستی آجائے تو بیٹھ جائے۔(صحیح مسلم:1831)
.11رسول اللہ ﷺ نے(ایک مرتبہ)نماز عشاء میں تاخیر کی، یہاں تک کہ عمر(t)نےپکاراکہ:نماز !عورتیں اوربچے سوگئے ہیں تب آپ باہر نکلے اور فرمایا:
«مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ»
اہل زمین میں سے کوئی بھی تمہارے علاوہ نمازکاانتظار نہیں کررہا۔
(صحیح بخاری:569)
.12عمرtکی ایک بیوی نمازفجر وعشاء باجماعت مسجد میں ادا کرتی تھیں اسے کہاگیا کہ توکیوں نکلتی ہے حالانکہ تجھے پتہ ہے کہ عمر اسے ناپسند سمجھتے اورغیرت کھاتے ہیں؟ توانہوں نے کہاپھروہ مجھے منع کیوں نہیں کرتے۔(لوگوں نے) کہا رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سےکہ لاتمنعوا اماء اللہ مساجداللہ.یعنی اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے مت روکو۔(صحیح بخاری:900)
.13رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى المَسَاجِدِ»
(صحیح بخاری:899)
عورتوں کو رات کے وقت مسجد آنے کی اجازت دیاکرو۔
.14 «اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ،
یعنی:رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج میں سے کوئی ایک (ام سلمہr)اعتکاف بیٹھیں۔(صحیح بخاری:2037)
وضاحت: معلوم ہوناچاہئے کہ اعتکاف کا تعلق مسجد ہی کے ساتھ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ (آیت:188)میں حکم فرمایا ہے۔
.15ام عطیہrسےروایت ہے کہ:
أُمِرْنَا أَنْ نَخْرُجَ فَنُخْرِجَ الحُيَّضَ، وَالعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الخُدُورِ – قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَوِ العَوَاتِقَ ذَوَاتِ الخُدُورِ
یعنی: ہمیں حکم دیاگیا کہ حائضہ،کنواریوں اور پردہ والیوں کو عید گاہ لے آئیں، جبکہ حائضہ عورتیں، مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعاؤں میں شریک ہوں اور نماز والی جگہ سے الگ رہیں۔
(صحیح بخاری:981،صحیح مسلم:2054)
.16عبداللہ بن عباسwکہتے ہیں کہ :میں نبیﷺ ،ابوبکروعمر اور عثمان yکےساتھ عید الفطر میں حاضرہوا وہ نمازعید خطبہ سے قبل پڑھا کرتے پھر خطبہ دیتے۔
نبیﷺ کھڑے ہوئے،یہ منظرمیری نگاہوںکے سامنے( گویا کہا اب بھی)ہے۔جب آپ لوگوں کو ہاتھ کےاشارے سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپﷺ صفیں چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے،بلال (t)آپ کے ساتھ تھے۔پھرآپ ﷺ(قرآن مجید کی یہ آیت پڑھتے ہوئے) فرمایا:(ترجمہ) اے نبی(ﷺ)جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں بیعت کیلئے آئیں…..پھر آپ نے عورتوں کو صدقہ کاحکم دیا،بلال نے اپنا کپڑا بچھایا،پھر عورتوں نے اپنے چھلے،انگوٹھیاں بلال کے کپڑے پررکھیں(صحیح بخاری:979)
.17حفصہ بنت سیرینrکہتی ہیں کہ ہم اپنی بچیوں کو عید گاہ جانے سے روکتی تھیں،پھر ایک عورت قصر بنوخلف میں آکر ٹھہری، میں اس سے ملنے حاضر ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس کی بہن کا شوہر بارہ جنگوں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا اور اس کی بہن چھے جنگوں میں اپنے شوہر کے ساتھ تھی، اس کاکہنا تھا کہ ہم جنگوں میں مریضوں کی خدمت اور مرہم پٹی کیا کرتی تھیں، فقالت یا رسول اللہ اعلی احدانا باس اذا لم یکن لھا جلباب ان لاتخرج.اس عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ(عیدگاہ کی طرف نماز کیلئے) نہ نکلے تو اس پر کوئی حرج تو نہیں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کہ اس کی سہیلی اپنی چادر کاایک حصہ اس کواوڑھادے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو۔(صحیح بخاری:980)
بیان کردہ تمام احادیثِ مبارکہ صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ہیں، دونوں کتابوں میں مسند ومرفوع احادیثِ مبارکہ کے صحیح ہونے پر مسلمانانِ امت متفق ہیں۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم کو امتِ مسلمہ کے نزدیک تلقی بالقبول حاصل ہے۔ مشہورمحدث امام نسائیa(المتوفی 303ھ) اپنے عہد تک لکھی گئی کتب احادیث کے متعلق فرماتے ہیں :
فما فی ھذہ الکتب کلھا اجود من کتاب محمد بن اسماعیل البخاری.(تاریخ بغداد۲؍۹وسندہ صحیح دار الکتب العلمیہ)
یعنی ان تمام میں سے صحیح بخاری سے عمدہ کوئی کتاب نہیں ہے۔
امام ابوبکر احمد بن حسین البیھقی a(المتوفی 458ھ) فرماتے ہیں:ان ابا عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری وابا الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری رحھمااللہ تعالیٰ قد صنف کل واحد منھما کتابا یجمع احادیث کلھا صحاح.
(معرفۃ السنن والآثار۱؍۱۰۶،دار الکتب العلمیہ)
یعنی امام بخاری وامام مسلم نے(صحیح بخاری وصحیح مسلم) ایسی کتابیں لکھی ہیں کہ جن کی تمام روایات صحیح ہیں۔
امام ابو حمد الحسین بن مسعود الفراء البغویa(المتوفی 516ھ) صحیح بخاری وصحیح مسلم میں موجود روایت کے متعلق لکھتے ہیں :
ھذا حدیث صحیح او متفق علی صحتہ.
(شرح السنۃ:۱؍۵المکتب الاسلامی)
یعنی اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔
محدث العصر حافظ زبیرعلی زئیaنے احناف کے کچھ علماء کے منتخب الفاظ ذکرکئے ہیں جوانہوں نے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی مستند صحت کے متعلق لکھےہیں۔ ان میں سے چند ایک کاذیل میں تذکرہ کیاجاتاہے۔
(1)علامہ محمود بن احمد العینی الحنفی لکھتے ہیں کہ:(ترجمہ) مشرق ومغرب کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کتاب اللہ کےبعدصحیح بخاری وصحیح مسلم سے زیادہ صحیح کوئی اور کتاب نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری۱؍۵)
(2)ملاعلی قاری حنفی لکھتے ہیں کہ:(ترجمہ) پس (تمام) علماء کا اتفاق ہے کہ صحیحین (صحیح بخاری وصحیح مسلم) کو تلقی بالقبول حاصل ہے اور یہ دونوں تمام کتب میں سے صحیح ترین کتب ہیں۔(مرقاہ المفاتیح۱؍۵۸)
(3)علامہ احمد علی سہارنپوری(متوفی 1297ھ)لکھتےہیں کہ:(ترجمہ)اور علماء کا اتفاق ہے کہ (کتاب اللہ کے بعد) تصنیف شدہ کتب میں سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں۔
(صحیح بخاری کادفاع33-32)
مندرجہ بالابیان کردہ احادیثِ مبارکہ سےجو ضروری باتیں معلوم ہوئیں ان کااختصار کے ساتھ ذیل میں تذکرہ کیاجاتاہے۔
nعورت اگر گھر میں نماز ادا کرے تو اسے اجازت ہے۔
nعورت اگر اپنے شوہر،والد،بھائی یا گھر کے بڑے سے باجماعت نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے اجازت دیدی جائے، نبوی حکم کےمقابلے میں کسی قسم کاعذر اور بہانہ تلاش نہ کیاجائے۔
nعورت کو چاہئے کہ مسجد جاتے وقت باپردہ ہو اور خوشبو قطعاً نہ لگائے۔
nحدیثِ نبوی کی مخالفت کرنے والے سے سماجی بائیکاٹ، دین کیلئے غیرت کےباب سےہے۔
nمسجد میں عورتوں کی صفیں مردوں کی صفوں کے بعد آخر میں ہوں۔
nعورتوں کو چاہئے کہ وہ سجدے سے اس وقت اٹھیں جب انہیں یقین ہوجائے کہ مرد سجدے سے سراٹھا چکے ہیں۔
nعورتیں صرف دن نہیں رات کے اوقات میں بھی نماز کیلئے مسجد جاسکتی ہیں۔
nفتنہ یاکوئی اندیشہ نہ ہو تو عورت باپردہ ہوکر مسجد میں نفلی عبادت اور تہجد وغیرہ کابھی اہتمام کرسکتی ہے۔
nعورت اگر گھر میں نماز ادا کرے تو اسے اجازت ہے۔
nعورتوں کے متعلق فضول شکوک وگمان نہیں رکھنے چاہئیں۔
nعورتیں اپنے وارثوں کےساتھ مسجد میں اعتکاف بھی بیٹھ سکتی ہیں اور مسجد میں ان کیلئے الگ اہتمام بھی کیاجاسکتا ہے۔
nکنواری،شادی شدہ اور بوڑھی،مطلب کہ ہر عمر کی عورت عید گاہ آسکتی ہے۔
nحائضہ بھی اگر مسلمانوں کی دعا میں شرکت اورحصولِ برکت کی خاطر عیدگاہ آئےتو اسے اجاز ت ہے البتہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتی۔
nعورت مسجد میں اپنے بچے بھی لے آسکتی ہے۔
nبچوں کے رونے سے مسجد میں نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔
nعید کے روز نماز عید سے قبل او ربعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
nعید کے دن سب سے پہلے نماز عید اور پھر خطبہ عید ہونا چاہئے۔
nنماز عید سے قبل حاضرین کووعظ ونصیحت کرنا بدعت اور نیا کام ہے اس سے گریز کرناچاہئے۔
nامام عیدگاہ میں موجود عورتوں کو الگ سے بھی وعظ ونصیحت کرسکتا ہے۔
nامام عورتوں کو امورِ دین میں مالی مددکرنے کا کہہ سکتا ہے۔
nعیدگاہ میں موجود خواہ دیگر عورتیں گھروالوں کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال سے خرچ کرسکتی ہیں۔
nامام کے ساتھ کوئی بھی صالح آدمی مالی تعاون وصول کرنے کیلئے جاسکتا ہے اور دعائیہ کلمات کے ساتھ خرچ کرنےوالوں کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتا ہے۔
nعورتیں جہاد فی سبیل اللہ کیلئے میدان میں جاسکتی ہیں اور زخمی مجاہدین کی خدمت کرسکتی ہیں۔
nکسی غریب عورت کےپاس باہر نکلنے کیلئے پردہ کرنے کیلئے چادر نہیں ہے تو وہ کسی اور عورت سے عاریتاً چادر لے سکتی ہے۔
nامام کو ہرحال میں اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئے۔
nسلف صالحین کے دور میں غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود عورتوں کو مساجد اور عیدگاہوں سے روکا نہیں جاتاتھا۔
nغیرت بھی دین کاحصہ ہے۔
nذاتی خواہشات ترک کرتے ہوئے حدیثِ نبوی کے سامنے سرتسلیم خم کرناچاہئے۔
nعورت پانچ نمازوں،عیدین کے علاوہ سورج گرہن؍چاند گرہن کی نمازوں میں بھی شرکت کرسکتی ہے۔
nنمازفجر اندھیرے میں پڑھنی چاہئے۔
nعورتوں کوچاہئے کہ امام کے سلام پھیرنے کے ساتھ ہی مسجد سے نکل جائیں۔
nمردوں کوچاہئے کہ اس وقت تک صفوں میں موجود رہیں جب تک امام ان کی طرف چہرہ نہ پھیرلے۔
nہاتھ یاسر سے اشارہ کرنے سے نمازمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔
عورتوں کا مسجد میں نمازپڑھنا،اس حوالے سے سلف صالحین کے چند اقوال ذکرکئے جاتے ہیں:
bحافظ ابن عبدالبرaایک حدیث ذکرکرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:(ترجمہ) اس حدیث سے یہ فہم حاصل ہورہا ہے کہ عورت کیلئے رات کے وقت مسجد جانا جائز ہے۔(التمہید:۲۴؍۲۸۱)
bعروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ:
کان یقال خیر صفوف النساء مؤخرھا وشرھا مقدمھا.
کہاجاتا تھا کہ عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور بری صف اگلی صف ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ :۷۷۰۷وسندہ صحیح)
bایاس بن دغفل aسے روایت ہے کہ امام حسن بصریa سے پوچھا گیا کہ ایک عورت نے یہ نذر مانی ہے کہ:
ان اخرج زوجھا من السجن ان تصلی فی کل مسجد تجمع فیہ الصلاۃ بالبصرۃ رکعتین؟فقال الحسن: تصلی فی مسجد قومھا.(مصنف ابن ابی شیبہ :۷۷۰۰وسندہ صحیح)
اگر اس کاشوہررہاہوجائے تو وہ بصرہ کی ہر مسجد میں دودو رکعتیں ادا کرے گی؟تب حسن بصریaنے فرمایا:اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے۔
bامام ابوبکر محمد بن ابراھیم بن المنذر aفرماتے ہیں کہ: (ترجمہ)اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورتوں پر جمعہ(نماز میں شرکت کرنا ضروری) نہیں ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر وہ نماز جمعہ میں حاضر ہوجائے تو یہ بھی اسے کافی (یعنی جائز) ہے۔
(الاوسط:۴؍۱۶،۴۹۲،۴۹۳)
bعلامہ عینی حنفی،امام شافعی سے نقل کرتےہیں کہ:
یباح لھن الخروج .(عمدۃ القاری:۶؍۱۵۶،تحت ح۸۶۴)
عورتوں کا مسجد نکلنا جائز ہے۔
بیان کردہ صحیح دلائل کے مقابلے میںامام ابوحنیفہaکی وفات سے تقریباً چارسوسال بعد لکھی گئی بے سند کتاب’’ہدایہ‘‘ کا ایک فیصلہ قارئین کی خدمت میں پیش کیاجاتاہے:
’’ویکرہ لھن حضور الجماعات‘‘
(ھدایہ اولین، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ۱؍۱۲۶)
یعنی عورتوں کاجماعت سے نماز پڑھنے کیلئے جانا مکروہ ہے۔
اب قارئین اللہ کاخوف رکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ ایک جانب صحیح بخاری وصحیح مسلم کی مستند وتسلیم کی ہوئی احادیث مبارکہ اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور دوسری جانب فقہ حنفی کاغیرشرعی مسئلہ ہے جس کی کوئی سند نہیں ہے۔ اب کس کافیصلہ قابلِ قبول ہوگا؟
ایک طرف محمدرسول اللہﷺ کا اسوۂ حسنہ اور دوسری طرف ایک امتی کی طرف منسوب بے سند قول ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کس کو تسلیم کیا جاتا ہے اور کس کو رد کیاجاتاہے۔

About پروفیسر محمد جمن کنبھر

Check Also

فضیلۃ الشیخ مولانا ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال

قیامت کب قائم ہوگی؟یہ بات غیب کے علم سے تعلق رکھتی ہے، جس کواللہ سبحانہ …

جواب دیجئے