Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » قسط 196 بدیع التفاسیر

قسط 196 بدیع التفاسیر

القیاس: بمعنی اندازہ، یا کسی چیز کا دوسری سے موازنہ کرنا، فقہاء کی اصطلاح میں نص کو اپنے غیرمنصوص کی طرف لے جانا، یعنی وہ دواحکام جن میں علت مشترک ہو ان میں سے منصوص کو اصل اور دوسرے (غیرمنصوص) کو اس کی فرع قراردیکر اصل حکم کونافذ کرنا، علماء معقول کے نزدیک وہ کلام جو دویازیادہ جملوں کو ملانے سے بطور نتیجہ کے نکلے۔
الکاھن:جو مستقبل کے امور کی خبر دے اور علم غیب کا دعویٰ کرے۔
الکاملیہ:ابوکامل کی جماعت جو صحابہ کرام کو علیtکی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے کافر کہتے ہیں اور خود علیtبھی ان کے نزدیک کافر ہیں کیونکہ انہوں نے اس حق کوطلب نہیں کیا۔
الکبیرہ: ہر وہ منع کردہ کام جس کے کرنے پر ملامت یاعذاب کی وعید وارد ہوئی ہو۔
الکرامۃ: کسی شخص سےخلاف عادت کام کاصادر ہوناا گر وہ شخص انبیاء میں سے ہو تو وہ کام معجزہ ہوگا، لیکن اگر وہ شخص ایماندار نہ ہو بلکہ کافر، بدکار اور فاسق وفاجرہو تو اس صادر شدہ کام کو کرامت نہیں بلکہ استدراج کہا جائے گا یعنی اس کی نالائقی کی وجہ سے اسے ڈھیل دیکر مزید گمراہ ومغرور کردیاگیا ہے۔نسأاللہ العافیۃ۔
الکشف: پردہ ہٹانا دورکرنا، اصطلاحاً غائب وپوشیدہ اشیاء کا اطلاق (ظاہر) ہونا اس کی مزیدتفصیل اس باب کی چھٹی فصل میں دیکھنی چاہئے۔
الکعبیہ: بغداد کے معتزلہ میں سے ابوالقاسم محمد بن الکلبی کی جماعت جن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کی مشیئت وارادہ کے بغیرہوتا ہے، نہ وہ خود کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی دیکھ سکے گااور جہاں بھی اس کے دیکھنے کا ذکر ہے اس سے مراد اس کاجاننا ہے۔
الکلام: دوکلموں کاملنا اور ایک دوسرے کی طرف اسناد ونسبت کاہونا۔
الکلمہ: وہ لفظ جس کا کوئی معنی ہو اور وہ اس کی طرف منسوب ہو۔
الکل: وہ اسم جو مختلف اجزاء سے مرکب ہو۔
المأول: ایسا مشترک المعنی لفظ جس کا کوئی ایک معنی بلحاظ قرائن راجح نظر آئے۔
المباح: جس کے کرنے کا نہ ثواب ہو اور نہ ہی ترک پر کوئی عذاب بلکہ اس کے دونوں طرف برابرہوں۔
المبادی: وہ چیز جو دلیل کی محتاج نہ ہو اور نہ ہی کسی علم کے مسائل اس پر موقوف ہوں۔
المبحث: کسی چیز کے ثبوت یانفی کرنے کیلئے اس کی طرف مناظرانہ توجہ۔
المبتدأ:ہر وہ لفظ جو عوامل لفظی سے خالی ہو،اس کی طرف کسی چیز کی اسناد ونسبت کی جائے۔
المبنی: جس کا اعراب کسی عامل پرموقوف نہ ہو یعنی عامل کی تبدیلی سے اس کا اعراب تبدیل نہ ہو۔
المتقابلان: وہ دوچیزیں جو ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں جو ایک ہی اعتبار سے ایک جگہ جمع نہ ہوسکیں۔
المتواتر: ایسی روایت جس کے رواۃ اتنی کثیرتعداد میں ہوں کہ ان سب کاجھوٹ پرمتفق ہونا عادتاً محال تصورکیاجائے۔
المتواطی: وہ کلی جو اپنےتمام افراد پر ایک جیسی صادق آئے مثلاً : الانسان جس کا اطلاق اپنے تمام افراد پر ایک جیسا ہوتا ہے۔
المترادف: مشترک کی ضد، یعنی جن کا معنی مشترک ہو لیکن نام مختلف ہوں، لغتاً الترادف سواری پر سوار ہونے کو کہاجاتاہے۔
المتابین:وہ چیز جس کے الفاظ ومعانی مختلف ہوں مثلاً: انسان اور فرس۔
المتشابہ: جس کا مفہوم اس قدرمخفی ہو کہ اس تک رسائی کبھی ممکن نہ ہو۔
المتعدی: وہ فعل جس کا مفہوم مفعول کے بغیر مکمل نہ ہوسکے نیز جس کی وجہ سے مفعول بہ پر کسرہ (زیر) دی جائے۔
المثنی: جس کے آخر میں’’الف‘‘ یا ’’ی‘‘ ماقبل مفتوح ہو اور نون مکسور ہو۔
المجرد: بمعنی مفرد اور اکیلا جو کسی سےملاہوانہ ہو۔
المجرور: زیردیاہوا یامضاف الیہ۔
المجموع: جو ایک ہی کلمہ زیادہ افراد پر دلالت کرے۔
المجاز: کسی لفظ کا اپنے اصلی معنی سے نکل کر کسی دوسرے معنی میں کسی مناسبت کی وجہ سے مستعمل ہونا ،وہ مناسبت صورت کے لحاظ سے ہو یا مشہور معنی کے اعتبار سے یا دونوں معانی میں قرب وجوار کی وجہ سے ہو۔
المجمل: جس کامعنی مخفی ہو کہ بیان کیے بغیر الفاظ سے سمجھ میں نہ آئے۔
المجانسہ: باعتبار جنس متحد اور ایک جیسا ہو۔
المجتہد: وہ شخص جسے قرآن مجید اور اس کے مختلف معانی کا علم ہو، علم حدیث اور اس کی اسناد ومتون کی معرفت رکھتاہو، عام استعمارات وعرف سے واقف ہو اور قیاس کرتے وقت خطاء کامرتکب نہ ہو، امام شوکانی ارشاد الفحول ،ص:۲۵۰میں فرماتے ہیں کہ:ولایخفی علیک ان کلام اھل العلم …الخ…وما ھو مقبول منھا وما ھو مردود …وماھو غیرقادح…
یعنی مجتہد شروط کےبارے میں علماءنے افراط وتفریط سے کام لیا ہےبلکہ حق تو یہ ہے کہ مجتہد کیلئے اتنا کافی ہے کہ مشہور کتب مثلاً:صحاح ستہ وغیرہ کا علم رکھتا ہو خصوصا وہ کتب جن کے مصنفین نےصحیح احادیث جمع کرنےکا اہتمام کیا ہے اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ یہ احادیث اسے زبادنی یاد ہوں بلکہ مراد یہ ہے کہ بوقت ضرورت ان سے مسائل تلاش کرسکے، اسی طرح اسماء الرجال یعنی رواۃ کےبارےمیں اسے عبور ہو یعنی کتب رجال کا مطالعہ کرکے اپنی تحقیق وتفتیش سے ثقہ وضعیف رواۃ کو پہچان سکے اور اسے جرح وتعدیل کے اسباب وقواعد کا علم بھی ہوتا کہ صحیح وضعیف احادیث میں فرق کرسکے۔
المجاہدہ: شریعت( کا پابند بنانے) کی خاطر اپنے نفس سے جہاد کرنا۔
المجھوریہ: ان کے عقائد فرقہ جازمی والے ہیں نیز ان کا کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لئے اس کے صرف ایک نام کی معرفت کافی ہے۔
المحال: جس کا خارج میں پایاجانا ناممکن ہو۔
المحرم: جس کی منع ایسی دلیل سے ثابت ہو جس کی کوئی دوسری دلیل معارض نہ ہو اس کے ترک پرثواب اور اس کے ارتکاب پر گناہ ہو اور اسے حلال سمجھنا کفر ہے۔
المحکم: وہ دلیل جس کی مراد ومفہوم اتنا واضح ومضبوط ہو جس میں کوئی تبدیلی، تاویل، تخصیص یا نسخ نہ ہوسکتا ہو۔
المحضر: وہ کتاب جس میں قاضی اپنی یاداشت کے لئے مدعی اور مدعی علیہ کے بیان لکھتاجائے۔
المحمول: وہ بات جو ذہن میں ہو۔
المخالفہ: کسی کلمہ کا ایسے قانون کےخلاف ہونا جو لغت عرب میں عام مستعمل سمجھاجاتاہو۔
المدعی: دعویٰ کرنے والااس جس کے خلاف دعویٰ کیاجائے اسے مدعی علیہ کہاجاتاہے۔
المدلول: جس چیز کا علم کسی دوسری چیز کے علم کے حصول پرموقوف ہو۔
المداھنہ: طاقت رکھنے کے باوجود کسی برائی کو نہ مٹانا یا نہ روکنا برائی کے مرتکب کی حمایت کرتے ہوئے،یا کسی دوسری لالچ یا دینی غیرت وحمیت میں کمزوری کی وجہ سے۔
المرسل: وہ روایت جسے تابعی یا تبع تابعی رسول اللہ ﷺ سے واسطہ ذکر کیے بغیر نقل کرے، محدثین کی اصطلاح میںتبع تابعی کی ایسی روایت کو معضل کہاجاتا ہے۔(شرح النخبہ،ص:۵۱)
المرجیہ: جو کہتے ہیں کہ جس طرح کفر کی موجودگی میں کوئی عبادت نفع بخش نہیں ہے اسی طرح ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ نقصان دہ نہیں ہے ،نیز مرجیہ کا یہ بھی مشہور عقیدہ ہے کہ ایمان اقرارباللسان اور تصدیق بالقلب کانام ہے اعمال ایمان میں داخل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے جزء ہیں، ایمان میں نہ زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کمی واقع ہوتی ہے، جیسا کہ ان کے عقائد امام عبداللہ احمد نے کتاب السنہ میں، امام ابوداؤد نے مسائل الامام احمد بن حنبل میں، امام ابوبکر الآجری نےکتاب الشریعہ میں، امام ابوالقاسم لالکائی نے کتاب السنہ میں، امام بیہقی نے کتاب الاعتقاد میں، امام صابونی نے اعتقاد اہل الحدیث میں، امام ابن تیمیہ نے کتاب الایمان میں اور شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں اور دوسرے کئی متقدمین اور متاخرین علماء نے اپنی کتب میں ذکرکیے ہیں۔
المرکب: دوکلمات سے جڑاہوا ،ہر ایک کلمہ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہو اورتراکیب کی چھ قسمیں ہیں:(۱) اسنادی مثلا:قام زید (زید کھڑا ہوا)(۲)اضافی جیسے: غلام زید(زیدکاغلام)(۳) توصیفی جسے :رجل عالم(عالم آدمی)(۴)تعدادی مثلا:خمسۃ عشر(پندرہ) (۵)امتزاجی جیسے:بعلبک(بعل اور بک دوناموں کو ملاکر ایک کیا گیا ہے) (۶)صوتی: مثلا:سیویہ۔
نیز جس مرکب سے سامع کوپورافائدہ ہو جیسا کہ مرکب اسنادی ہوتا ہے اسے مرکب تام کہاجاتاہے ورنہ وہ مرکب ناقص ہوگا جیسے دوسری اقسام ذکر کی گئیں نیز مختلف اعتبارات کے لحاظ سے مرکب تام کو مختلف نام دیئے جاتے ہیں مثلااگر وہ کسی حکم پر مشتمل ہو توقضیہ اگر اس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال ہو تو جملہ خبریہ کہلاتا ہے اگر اس میں کسی حکم کی خبر ہوتواخبار، اگر کسی جملے کا جزء واقع ہو تو اسے مقدمہ کہتےہیں، کبھی اس سے دلیل تلاش کی جاتی ہے ،اس وقت مطلوب اور اگر کسی دلیل سے ثابت ہو تونتیجہ، اگر کسی سوال کی صورت میں ہوتومسئلہ کہاجاتاہے۔ الغرض مختلف حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اسے مختلف نام دیئے جاتے ہیں۔
المرفوعات: وہ کلمات جن میں فاعلیت کی نشانی موجود ہو۔
المرفوع: وہ حدیث جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہو۔
المستند: معتبر وقابل اعتماد بات، جس کی سند موجود ہو۔
المسند: وہ حدیث جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ،جڑی ہوئی ہو درمیان میں کوئی واسطہ منقطع نہ ہو اور نہ ہی کوئی راوی مسقوط ہو۔
المستور: وہ راوی جس کی عدالت وفسق دونوں ظاہر نہ ہوں یعنی اس کے حق میں جرح وتعدیل ثابت نہ ہو ایسے راوی کی روایت حجت نہیں ہوتی۔
المسامحہ: کسی اعتراض یاخدشہ سے بچنے کے لئے کسی ایسی چیز کو ترک کردینا جس کا وہاں ذکر کرنا ضروری ہو۔
المستقبل: آئندہ آنے والے زمانہ، یا وہ چیز جس کا انتظار ہو۔
المستحب: فرائض سے زائد عمل جس کے متعلق شارع ﷺ سے ترغیب وارد ہو، جس کو اختیار کرنے پر ثواب ہو اور ترک کرنےپر گناہ نہ ہو۔
المستثنیٰ: وہ اسم جو حروف استثنیٰ الا،غیر،سوی ،عما اور خلا وغیرہ کے بعد آئے اور اپنے ماقبل جسے مستثنیٰ منہ کہتے ہیں کے حکم سے جدا ہو،اگر مستثنیٰ منہ کی جنس ہوخواہ لفظا ہو تقدیرا تو اسے مستثنیٰ متصل کہتے ہیں لفظی کی مثال جیسے: جاءنی الرجال الازیدا. یعنی میرے پاس لوگ آئے مگر زید نہیں آیا، تقدیری کی مثال جیسے: جاءنی القوم الازیدا. یعنی میرے پاس قوم آئی مگر زید اور اگر مستثنیٰ اس کی جنس میں سےنہ ہو تو اسے مستثنیٰ منقطع کہتے ہیں مثلا: جاءنی القوم الاحمارا. یعنی میرے پاس قوم آئی مگرگدھا۔
الکمال: جس کے ذریعے کوئی بھی نوع اپنی ذات یاصفات میں مکمل ہو۔
الکنیہ: وہ لقب جس میں نسبت باپ، بیٹے، ماں، یابیٹی کی طرف ہو مثلا: ابوبکر، ابن خزیمہ، ام رومان، ابنۃ حمزۃ۔
الکیف: بمعنی ہئیت یانمونہ
اللزوم: جس سے کسی چیز کا الگ یاجداہونا ناممکن ہو نیز واجب کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔
اللزومیہ: جس کی وجہ سے ایک قضیہ کے سچا ثابت ہونے پر دوسرے کو بھی تسلیم کرناپڑے کیونکہ ان میں تعلق ہی اس قسم کا ہوتا ہے۔
اللطیفہ: ایسا اشارہ جس کا معنی دقیق(باریک ہو) سمجھنے میں ظاہر مگر الفاظ میں پیش نہ کیاجاسکے۔
اللغہ: ہر قوم کی زبان جس سے وہ اپنے مقصد وغرض کا اظہار کرسکے۔
اللفیف: جس کلمے میں دوحرف علت ہوں، اگرعین اور لام کلمہ کے مقابلے میں ہوں تولفیف مقرون اور اگرف اور لام کلمے کے مقابلے میں ہوں تولفیف مفروق کہتے ہیں،مثلا:قوی، اور وقی
اللف والنشر: ایسا کلام جس میں پہلے دوچیزیں مذکور ہوں اور بعد میںان کی تفسیر ایک جملے سے کی جائے اور یہ یقین ہو کہ سامع دونوں کی تفسیر الگ الگ سمجھ رہا ہے۔
اللقب: کسی شخص کو اس کے اصلی نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکارا جائے جس سے اس کی کوئی خوبی یاعیب معلوم ہوتا ہو۔
الماھیہ: جس سے کسی چیز کو پہچانا یاسمجھا جاسکے کہ یہ فلاں چیز ہے یعنی کسی چیز کے بارے میں یہ سوال کہ یہ کیاچیز ہے؟ اس کے جواب کو ماہیت کہتے ہیں۔
الماضی: وہ کلمہ جو اپنے معنی بتائے اور اس (معنی) میںگذشتہ زمانہ کاذکر ہو۔
مااضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر: ہر وہ اسم جس کے بعد فعل یا شبہ الفعل ہو، وہ فعل یا شبہ الفعل اس اسم پر عمل کرنے سے اعراض کررہا ہو اس کی ضمیر یامتعلق میں عمل کرنے کی وجہ سے لیکن اس فعل یا شبہ الفعل کواگر اس اسم پر مسلط کیاجائے تو وہ اس پر عمل کرتے ہوئے اسے نصب دے جیسے: زیدا ضربتہ.

(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔

صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر قسط 198

المنفصلہ:جس میں دو قضیوں پرآپس میں منافات کاحکم لگایا جائے اگرصدق وکذب دونوں میں منافات کاحکم …

جواب دیجئے