Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » شیخ ابوتراب علی محمد کے اغواپر شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کااظہار افسوس

شیخ ابوتراب علی محمد کے اغواپر شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ کااظہار افسوس

9ستمبر2017ء بروز ہفتہ فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانیdامیر جمعیت اہل حدیث سندھ جب تدریسِ صحیح بخاری کیلئے ادارہ المعہد السلفی تشریف لائے اور آپ کو شیخ ابوتراب علی محمد حفظہ اللہ کے اغواء کے عظیم سانحہ کی اطلا ع ملی تو آپ نے بعدنمازظہر المعہد السلفی کی مسجد نور العلم میں اساتذہ وطلبہ اور جماعتی احباب سے خطاب فرمایا، ملاحظہ ہو:
الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین ولاعدوان الا علی الظلمین.
بردرانِ اسلام اور عزیز طلبہ یہ ایک ہولناک اور افسوسناک خبر ہم سن چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے نامور عالم دین او ر ایک انتہائی مخلص اور صالح بزرگ شیخ ابوتراب علی محمدحفظہ اللہ جو علم وعمل کے پہاڑ تھے انہیں جمعہ کے دن ائیرپورٹ جاتے ہوئےاغواکرلیاگیا اور اب تک ان کے متعلق کوئی اطلاع نہیں، جو ہماری دلوںمیںایک کرب بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کا باعث بنا ہے اور یہ اس لحاظ سے عجوبہ ہے کہ ایک ایسے شخص جو اچھے اخلاق کے پیکر تھے ان سے ملنے والاہرشخص ان کے اچھے اخلاق کا معترف ہے اور ایک ایسی شخصیت جو ہر مشکل گھڑی میں کوئی بھی آفت پاکستان میں آئے تو متاثرین تک پہنچنے میں پہل کرنے والے اور ان کے درد کو محسوس کرنے والے اور ان تک بقدروسعت ریلیف پہنچانے والے جنہوں نے اپنے صوبے بلوچستان میں بڑی خدمات انجام دیں جن میں ایک عظیم خدمت جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق کا قیام ہے جو بڑے مرکزی مقام پر قائم ہے اور ہزاروں طلبہ اس سے مستفید ہوچکے ہیں اور بے شمار طلبہ کا جامعہ اسلامیہ سے الحاق ہو چکا ہے اور بلوچستان میں اللہ کی توفیق سے مساجد کا جال بچھادیا گیا ہے تو ایک ایسا فعال شخص ظالموں کی دسترس سےا گر محفوظ نہیں ہے تواور کون محفوظ رہ سکتا ہے لہذا یہ ایک انتہائی افسوسناک کرب ناک المیہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دل انتہائی مضطرب ہیں اور ایک بڑے الم وغم سے دوچارہیں اس موقع پر ہم جو اصل ذمہ داری ہر شخص کی ہے وہ عرض کرنا چاہتے ہیں ۔
پہلی ذمہ داری حکومت وقت کی ہے کہ اپنی رعیت کی جان ومال اور ان کے املاک کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اس کو نبھائے اس میں جو مجرم ملوث ہے وہ واضح ہونا چاہئے اور اپنے اصل انجام تک پہنچنا چاہئے، لہذا جو اصل کردار بنتا ہے وہ حکومتِ وقت کا ہے وہ اس کردار کوپہچانے اور جو بھی اس میں ملوث ہے اس کی سرکوبی ہو اور ہماری یہ شخصیت،ہمار ے یہ بھائی جلد رہائی حاصل کرکے اپنی جماعت تک پہنچ سکیں۔
یہ بات معلو م ہے کہ اہل الحدیث ایک انتہائی امن پسند جماعت ہے اور ہم کسی قسم کی تخریب کاری میں ملوث نہیں ہوتے، تحریک اہل حدیث ایک خالص علمی تحریک ہے جو نشر علم اور نشر عمل پر یقین رکھتی ہے یہ ہمارا کردار ہے اور یہی ہماری تاریخ ہے اور ہماری مساجد ومدار س علماء اور دعاۃ کی تیاری میں بحمداللہ تعالیٰ مشتغل اور مصروف ہیں،یہی ہمارے مقاصد ہیں اور کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔
ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو اس قسم کی مشکل صورت حال سے دورچار ہونے کے بعد ایسے اقدام اٹھائیں جن سے امن عام تباہ ہو، لوگوں کی زندگی معطل ہو، راستے بند کردیے جائیں ہمارے منہج سے نہ ان چیزوں کا کوئی تعلق ہے نہ کسی قسم کا کوئی جواز ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اس صورت حال سےہم غافل ہیں۔
ہم بڑے درمندی اور اخلاص کے ساتھ حکومت کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے کردار کو پہچانے ورنہ دنیاکے دن گذر جائیں گے مگر وہ یوم الحساب آنے والاہے جب اللہ رب العزت لوگوں کے سامنے کھڑاکرکے حساب لے گا پھر اس قسم کی منفی سازش کا کیا جواب دیں گےیہ مت سمجھو کہ جب قیامت آئیگی تو دیکھاجائے گا،قیامت توصدیوں بعد آئیگی، نہیںایسی بات نہیں،حدیث میں ہےکہ:
من مات فقد قامت قیامتہ.
جو مرا بس اس کی اسی روز سے قیامت شروع ہوگئی۔
ہوسکتا ہے آج مرجائیں ،ہوسکتا ہے کل مرجائیں ،پھر کیا ہے؟ پھر حساب ہے، پھرجواب دہی ہے اور اس قسم کی جواب دہی بہت کڑی ثابت ہوگی ،آپ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ دھرنا دیں،راستے بند کردیں املاک کو نقصان پہنچائیں یہ ہماری بدنامی ہے، یہ مشکل ہے، نہیں اس سے مشکل، اللہ کی عدالت کا معاملہ ہے لہذا اس اللہ تعالیٰ کی عدالت کا خوف کریں۔
او رجوباقی ہمارے شیخ کے اہل وعیال ہیں ،اقارب ہیں اور جماعتی متاثرین اور احباب ہیں جن میںہم بھی شامل ہیں، ہمارا یہ اہم کردار ہے کہ ہم اس ہتھیار کو استعمال کریں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے قیمتی ہتھیار قرار دیا ہے :الدعاء سلاح المؤمن.
یعنی دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔
یقین کرلیں اس موقع پر تعلق باللہ، دعا اور صبر جتنا کام آئے گا اور چیز اتنا کام نہیں آسکتی، دعاکرنا، صبرکرنا۔
[اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللہِ](یوسف:۸۶)
اپنا جو ضعف ہے اور جو رنج والم ہے اس کا شکوہ اللہ کی طرف ہے۔
اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے،عزیز طلبہ خصوصی طور پر آپ ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعاکریں ،اللہ تعالیٰ ہمارے فاضل بھائی، شیخ کو باحفاظت واپس لائے، ظالموں کے چنگل سے رہائی دلائے،ان کو نہ نقصان ہو اور نہ تکلیف ۔
اللھم ردہ الینا سالما غانما واحفظہ من کل مکروہ ومن کل شیٔ.
اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو قبول کرنے والاہے اس کافرمان ہے:
[ادعونی استجب لکم] مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کرونگا۔
تو اس قوی ترین ہتھیار کو اپناؤ، اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے جو منزل مقصود ہے وہ حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ
ہم بالتکرار یہ بات عرض کررہے ہیں کہ اہل الحدیث کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہے اور وطن کا چپہ چپہ ہمیں عزیز ہے اور عزیز کیوں نہ ہو پاکستان کی تاسیس اس نظریے پر ہے جو ہم الحدیث کے عقیدے کی بنیاد ہے،پاکستان کامطلب کیا:لاالٰہ الااللہ
یہ دعوت ہماری ہے، اس دعوت کے وارث اہل الحدیث ہیں تو یہ وطن ہمیں کیوں نہ عزیز ہو،ہمیں اس کی سالمیت عزیز ہے ہمارے نزدیک یہ ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی ایک ایک ذرہ کی سلامتی ہمیں عزیز ہے، ہماری کوئی منفی سوچ نہیں ہے ہم حکومت کو اس کی اصل ذمہ داریوں سے آگاہ کررہے ہیں اور وہ یہی ہے کہ اخروی مسئولیت ناقابل برداشت ہے جب اللہ تعالیٰ سامنے کھڑا کرکے اس قسم کے قضایا کو کھولے گا ،حساب لے گا، سوال کرے گا لہذا جو اس میں شریک ہوا وہ سوچ لے کہ وہ کیا جواب دے گا، حقوق العباد میں یہ معاملہ بڑا کڑا ہے، اور اس کی بڑی جواب دہی ہے لہذا اس کا احساس کیجئے۔
اور ہم اپنے کردار پر عمل کرتے ہیں، ہمارے بچے ہمارے طلبہ، مدارس کے ہزاروں لاکھوں طلبہ ان شاء اللہ دعاگوہونگے یہ ہاتھ ہرروز اٹھتے رہیں گے اورتہجد کے وقت پر بھی اٹھتے رہیں گے کہ اے اللہ ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچا، ان پنجوں کو توڑ دے ،مروڑدے اور شیخ ابو تراب علی محمد کو سلامتی کے ساتھ واپس لوٹا تاکہ وہ واپس آکر بڑھ چڑھ کر دین کی خدمت کریں اور جوبھی ریلیف کے کام انجام دے رہے تھے وہ انجام دے سکیں۔
والتوفیق بیداللہ تعالیٰواخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے