Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » شیخ علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی حفظہ اللہ مسجد نبوی کے سینئرامام وخطیب

شیخ علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی حفظہ اللہ مسجد نبوی کے سینئرامام وخطیب

فضیلۃ الشیخ قاری علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی حفظہ اللہ کا شمار عالم اسلام کے نامور قراء کرام میں ہوتا ہے۔ ان کی تلاوت کی ریکارڈنگ پوری دنیا میں نشر کی جاتی ہے۔ شیخ حذیفی کا آہستہ اور ترتیل کے ساتھ تلاوت قرآن کا طریقہ بہت معروف ہے، جِسے بہت شوق سے سنا جاتاہے۔ شیخ حذیفی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے سب سے سینئرامام وخطیب ہیں۔ مسجد حرام کے سابق امام شیخ عادل الکلبانی کا کہنا ہے کہ شیخ حذیفی حرمین شریفین کے سب سے عمدہ قاری ہیں۔ وہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ مسجد قبا میں بھی امام رہ چکے ہیں۔ اب ان کے بیٹے شیخ احمد حذیفی اس مسجد میں امام ہیں۔ گذشتہ ہفتہ شاہی فرمان جاری ہوا، جس کے تحت شیخ احمد کو بھی مسجد نبوی میں تراویح کا امام مقرر کردیاگیا ۔ الشیخ علی عبدالرحمٰن الحذیفی اپنے علم وفضل اور نیکی وتقویٰ کے حوالے سے عالم اسلام کی معروف شخصیت ہیںاور قرآن کریم کی تلاوت میں ان کا سوزوگداز بطور خاص لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عقیدت ومحبت ابھارنے کا باعث ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں کسی نماز کی ادائیگی ایک مسلمان کیلئے بذات خود بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے، لیکن مشاہدہ ہے کہ کسی جہری نماز کی تکبیر تحریمہ میں الشیخ علی الحذیفی کی آواز سن کر نمازیوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں کہ آج ان کی زبان سے قرآن کریم سن کر نماز کا لطف دوبالاہوجائے گا۔ مدینہ منورہ کے شہری شیخ الحذیفی سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ 1433ھ(2012ء)میں جب ایک سال بعدشیخ حذیفی نماز فجر پڑھانے کیلئے آئے تو لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نماز میں شیخ نے سورۂ رحمٰن کی ایسی پرسوز تلاوت کی کہ نمازی دھاڑیں مارمار کر رونے لگے۔
شیخ عبدالرحمٰن بن علی بن احمد الحذیفی کا تعلق قبیلہ عوامر کی شاخ آل حذیفہ سے ہے اور عوامر بنی خثعم کی ایک شاخ ہے، عوامر قبیلے کے افراد مکہ مکرمہ کے جنوب میں ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر آباد ہیں۔ آل حذیفہ کو صدیوں سے عوامر قبیلے کی سربراہی کا شرف حاصل ہے اورآج بھی آل حذیفہ عوامر میں شریف اور سربراہ خاندان سمجھاجاتاہے۔
شیخ حذیفی کی سال1366ھ میں عوامر علاقے قرن مستقیم قصبے میں ایک دینی گھرانے میں پیدائش ہوئی۔ ان کے والد سعودی فوج میں امام وخطیب تھے۔ شیخ حذیفی نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی اور قرآن کریم کاناظرہ شیخ محمد بن ابراھیم الحذیفی العامری کے پاس مکمل کیا۔ نیز ان ہی کے پاس چند پارے حفظ اور علوم دینیہ کی بعض کتب پڑھیں۔
سال1381ھ میں شیخ حذیفی نے سعودی عرب صوبے بلجرشی میں واقع اسکول سلفیہ میں داخلہ لیا اور یہاں سے مڈل کی تعلیم حاصل کی، پھر بلجرشی میں ہی واقع تعلیمی ادارہ معہد علمی میں داخل ہوئے اور یہاں سے سال 1388ھ میں میٹرک کی تعلیم حاصل کی۔
اس کے بعد سعودی عرب کے شہر ریاض کے شریعہ کالج میں سال 1388ھ میں داخل ہوئے اور 1392ھ میں فارغ ہوئے، شریعہ کالج کی تعلیم سے فراغت کے بعد معہد علمی صوبے بلجرشی میں مدرس کی حیثیت سے مقرر ہوئے جہاں انہوں نے تفسیر، توحید، نحو وصرف جیسے مضامین پڑھائے، اس کے ساتھ انہوں نے صوبہ بلجرشی کی جامع مسجد میں امام وخطیب کے فرائض سرانجام دیئے۔ 1395ھ میں شیخ حذیفی نے عالم اسلام کی مشہور ومعروف اسلامی یونیورسٹی جامعہ ازہر سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اسی یونیورسٹی کے فقہ اسلامی فیکلٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، پی ایچ ڈی میں انہوں نے’’مسالک اسلامیہ کے درمیان تقابلی مطالعہ، شریعت اسلامیہ میں متعدد احکام کے طریقے‘‘ کے عنوان پر قیمتی مقالہ تیار کیا۔ سال1397ھ میں شیخ حذیفی مدینہ منورہ کی اسلامک یونیورسٹی میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے شریعہ فیکلٹی میں توحید اور فقہ کی تعلیم دی، اسی طرح انہیں حدیث فیکلٹی اور دعوت واصول دین فیکلٹی میں تدریس کا موقع ملا،نیز1418ھ میں کلیۃ القرآن کے قراءات میں علم قراءات وتجوید کی تعلیم دی۔
شیخ حذیفی نے یونیورسٹی میںتدریس کے فرائض کے ساتھ ساتھ مسجد قبامیں امامت وخطابت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ ماہ جمادی الآخر کی 6تاریخ1399ھ کو شیخ حذیفی مسجد نبوی میں امام وخطیب منتخب ہوئے اور رمضان المبارک 1401ھ میں شیخ موصوف مسجد الحرام میں امام مقرر ہوئے، پھر سال1402ھ میں شیخ حذیفی کو دوبارہ مسجدنبوی کاامام وخطیب مقرر کردیاگیا اوراس تاریخ سے شیخ مستقل مسجد نبوی میں امام وخطیب کے عہدے پرفائز ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ حذیفی مسجد نبوی میں حدیث کاد رس بھی دیتے ہیں۔
شیخ علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی کو کبار علماء اورقراء سے حدیث اور قرأت قرآن پاک کی اجازت حاصل ہے، جن میں استاذ الکل شیخ احمد عبدالعزیز الزیات سے قراءات عشرہ میں، شیخ عامر سیدعثمان سے بروایت حفص اور قراءات سبعہ میں شیخ عبدالفتاح القاضی سے بروایت حفص اور شیخ حماد الانصاری، شیخ صالح الفوزان ،شیخ فالح بن مہدی الدوسری اور شیخ صالح علی ناصر سے حدیث کی اجازت حاصل ہے۔
شیخ حذیفی متعدد تعلیمی کمیٹیوں اور اداروں کے سربراہ اور رکن ہیں، آپ مصحفِ مدنی کی نظرثانی کیلئے تشکیل کردہ علمی کمیٹی کے سربراہ ،فہد کمپلیکس برائے طباعت قرآن کریم اور ریکارڈنگ کی نگرانی کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کےرکن اور فہد کمپلیکس برائے طباعت قرآن کریم کی ہائی کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔
شیخ کی آواز میں فہد کمپلیکس برائے طباعت قرآن کریم سے دو مرتبہ کامل قرآن مجید کی ریکارڈنگ کا اہتمام کیاگیا ایک مرتبہ تلاوت بروایت حفص اور ایک مرتبہ آپ کی آواز میں طریق شاطبیہ سے بروایت قالون عن نافع تلاوت کلام پاک کی دوسری ریکارڈنگ کا اہتمام کیاگیا ،ا س ریکارڈنگ کو مختلف ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنرز سے نشرکیاجاتاہے۔
شیخ حذیفی دنیا بھر میں متعدد ہونے والی مختلف تعلیمی اور دینی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرچکے ہیں۔ شیخ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں تاہم یہ کتابیں زیرطباعت ہیں۔
شیخ حذیفی حق بات دوٹوک انداز میں کہنے کی شہرت رکھتے ہیں، وہ نمازیوں کو کوئی غلط حرکت کرتے دیکھ کر فوراً ٹوکتے ہیں، جبکہ مسجد نبوی کے اندر خصوصاً قبرمبارک کے سامنے سیلفی بنانے کے وہ سخت خلاف ہیں۔ ایک مرتبہ بعض افراد کو ڈانٹنے کیلئے انہوں نے جمعہ کا خطبہ بھی روک دیا۔ منبررسول ﷺ پر شیخ حذیفی نے ایسے تاریخی خطبے دیئے ہیں جن کی مثال سعودی عرب جیسے ملک میں ملنا ناممکن ہے۔ ذیقعد1418ھ کے پہلے جمعۃالمبارک کو مسجد نبوی کے منبر پر انہوں نے سب سے تاریخی خطبہ دیا تھا، جس میں انہوں نے امت مسلمہ کی حساس ترین مسائل کی جس طرح نشاندہی کی شیخ حذیفی کے اس خطبے کا اردوسمیت متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔
شیخ حذیفی نے مذکورہ خطبے میں اسلام اور عالم اسلام کے بارے میں امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے طرز عمل کو موضوع بحث بنایا اور کہا کہ خلیجِ عرب میں امریکہ اور اس کے حواری ممالک کی افواج کی موجودگی کے بنیادی اہداف چھے ہیں: (۱) اسرائیل کا تحفظ (۲) ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا(۳) مشرقِ وسطیٰ پرفوجی تسلط (۴) عربوں کی دولت کااستحصال (۵)اسلام کی دعوت کاراستہ روکنا (۶)اسلامی اقدار وتہذیب کاخاتمہ۔
اس خطبہ میں انہوں نے سیدنا ابوبکرصدیق،سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدہ عائشہ yکو دین کی اساس قرار دیکر کہا کہ اسلام کے ان سرخیلوں کو مومن نہ ماننے والے کے ساتھ ہمارا اتحاد نہیں ہوسکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت ایرانی صدرر فسنجانی بھی مسجد نبوی میں موجود تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ دورانِ خطبہ ہی مسجد سے اٹھ کر چلے گئے۔ اس خطبے کے بعد شیخ حذیفی کچھ عرصے تک غائب رہے اور بعد میں انہیں منصب امامت سے فارغ کردیاگیا ۔ تاہم چند ماہ گذرنے کے بعد سابق سعودی فرمانرواشاہ عبداللہ نے شیخ حذیفی کو دوبارہ ان کے عہدے پر بحال کردیا۔
اسکائی نیوز کے مطابق شیخ حذیفی نے یہ سخت ترین خطبہ اس لئے دیا تھا کہ اس دوران ایک خبیث الباطن خلیجی شخص نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دودوستوں یعنی ابوبکر صدیق اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبور پرتھوکنے کی ناپاک جسارت کی تھی۔اس ملعون کوگرفتار کرکے مدینہ منورہ کے قاضی کے سامنے پیش کیا گیا تو اسے نوماہ قید اور نوکوڑوں کی سزا سنائی گئی ،کہتے ہیں کہ اس دوران شیخ حذیفی کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ واقعہ پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا تواگلے روز شیخ حذیفی نے یہ تاریخی خطبہ دیا۔
پھراکتوبر2011ء میں شیخ حذیفی نے مسجد نبوی کے منبر سے اس قسم کا ایک سخت خطبہ دیا جس پر حکومت نے ایک بار پھر ان پر نمازیں پڑھانے کی پابندی لگادی اور پورے ایک سال تک انہیں معطل رکھا گیا، پھر دسمبر 2012ء میں انہیں اپنے عہدے پر بحال کردیاگیا۔
شیخ حذیفی کی ریکارڈنگ سن سن کر متعدد افراد قرآن کریم حفظ کرچکے ہیں۔ جن میں الجزائر کی72سالہ خاتون حاجیہ خدیجہ بھی شامل ہیں، جبکہ شیخ کی جوانی کی تلاوت کی متعدد ویڈیو کلپس یوٹیوب وغیرہ میں لاکھوں باردیکھے اور سنے جاچکے ہیں۔ رمضان المبارک میں تکمیل قرآن کے موقع پر مسجد حرام میں شیخ سدیس اور مسجد نبوی میں شیخ حذیفی دعاکراتے ہیں، جس میں دنیابھر سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ امت کراچی2جون 2017ء)

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے