Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 1

فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 1

معاصر علماء ،طلباء ومحققین کیلئے اسلاف رحمہ اللہ کے اقوال، افعال اور قابل محبت آثار پیش خدمت ہیں

معلوم ہوکہ یہ اقوال ،افعال اور آثار شہیرعصرامام ابوحاتم aکی آفاق زمانہ کتاب ’’الجرح والتعدیل‘‘ کے مقدمے بنام:’’تقدیم الجرح والتعدیل‘‘سے نقل کیے گئے ہیں بغرض اختصار بہت سے فوائد حذف بھی کردیے گئے ہیں۔
سب سے پہلے مختصرا امام ابوحاتم کا تعارف پیش خدمت ہے۔
bامام ابوحاتم کا مکمل نام :محمد بن ادریس تھا، کنیت ابوحاتم تھی آپ الرای شہر کے رہائشی تھے سن۲۷۷ھ میں ان کی وفات ہوئی، امام ذہبیaآپ کے متعلق فرماتےہیں:الامام الحافظ، الناقد ، شیخ المحدثین .
(سیر اعلام النبلاء ۱۰؍۳۵۷دارالحدیث القاہرہ)
راقم نے علماء وطلباء کے استفادہ کے لئے دوران مطالعہ قیمتی نکات محفوظ کرکے قلم وقرطاس کے ذریعے ’’فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل ‘‘نامی مضمون میں جمع کردیے ہیں تاکہ علماء وطلباء اپنے اسلاف کے طرز عمل کو جان کر ان کی مقدس عادات کو اپنے وجود پرنافذ کریں اور اپنے حقیقی خالق ومالک کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
اسلاف امت علمی اختلاف کے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے،نہ کہ ایک دوسرے کے لئے مورچہ زن ہوجاتے ۔
nامام محمد بن یوسف الفریابی رحمہ اللہ (المتوفی ۲۱۲ھ)فرماتے ہیں:
سألت ابن عیینۃ عن مسألۃ فاجابنی فیھا فقلت: خالفک فیھا الثوری فقال: لاتری بعینک مثل سفیان ابدا.
(کتاب تقدمۃ المعرفۃ لکتاب الجرح والتعدیل ۱؍۸۸وسندہ صحیح، دار الکتب العلمیہ)
میں نے (سفیان )بن عیینہ سے کوئی مسئلہ پوچھا انہوں نے اس کے متعلق مجھے جواب دیا، میں نے کہا:اس مسئلے میں(سفیان بن سعید) الثوری تو آپ کے مخالف ہیں۔ کہا:آپ کی آنکھوں نے(سفیان بن سعید) الثوری جیسا (عظیم انسان تو)کبھی دیکھا ہی نہیں ہوگا۔
nامام وکیع بن جراح رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۷ھ)فرماتے ہیں:
ذکر شعبۃ حدیثا عن ابی اسحاق ،فقال رجل :ان سفیان خالفک فیہ فقال :دعوہ، سفیان احفظ منی.
(الجرح وتعدیل ۱؍۹۳وسندہ صحیح، دار الکتب العلمیۃ)
امام شعبہ(بن حجاج العتکی) نے ابواسحق(عمرو بن عبداللہ البیعی) کے واسطے ایک حدیث ذکر کی، کسی آدمی نے کہا:سفیان(بن سعید الثوری) نے اس میں آپ کی مخالفت کی ہے، کہا:اس بات کوچھوڑ دیں، کیونکہ سفیان مجھ سے بڑے حافظ(حدیث) ہیں۔
nیحی بن سعید القطان a(المتوفی ۱۹۸ھ)فرماتے ہیں:
اختلفت الی شعبۃ عشرین سنۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۶،وسندہ صحیح)
میں نے بیس سالوں سے شعبہ(بن حجاج) کیساتھ علمی اختلاف رکھا ہے۔پھر بھی کہتے ہیں:
لیس أحد أحب إلی من شعبۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۶،وسندہ صحیح)
مجھےشعبہ( بن حجاج )سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ہے۔
مزیدفرماتے ہیں:
کل شیٔ یحدث بہ شعبۃ ،عن رجل فلا تحتاج ان تقول عن ذاک الرجل انہ سمع فلانا، قد کفاک امرہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۷،وسندہ صحیح)
ہر وہ چیز جو شعبہ کسی سےبیان کریں، بس آپ اس کے متعلق یہ محتاجی محسوس نہ کریں کہ اس آدمی نے آگے اپنے شیخ سے سنی ہے (یانہیں) آپ (کی تسلی) کیلئے ان کا نقل کرنا ہی کافی ہے۔
nعبدالرحمٰن بن مھدی a(المتوفی ۱۹۸ھ)فرماتے ہیں:
خالفنی ابن المبارک فی حیاۃ سفیان فی حدیث حبیب عن ابراہیم فی عدۃ ام الولد.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۳،وسندہ صحیح)
(عبداللہ) بن مبارک نے سفیان کی زندگی میں حدیث حبیب (بن ابی ثابت) عن ابراھیم کے بیان میں میری مخالفت کی۔
وہی ابن مھدی رحمہ اللہ ان مخالفتوں کے باوجود فرماتے ہیں:
الائمۃ اربعۃ: سفیان الثوری، ومالک بن انس، وحماد بن زید وابن المبارک.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۷،وسندہ صحیح)
امام چار ہیں: سفیان ثوری، مالک بن ا نس، حماد بن زید اور (عبداللہ) بن مبارک۔
ابن مھدی رحمہ اللہ مزیدفرماتے ہیں:
ما رأیت مثل ابن المبارک.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۸،وسندہ صحیح)
میں نے(عبداللہ) بن مبارک جیسا (عظیم انسان) نہیں دیکھا۔
nسعید بن عمرو بن عمار الازدی البرذعی رحمہ اللہ(المتوفی ۲۹۲ھ) اپنے استاذ امام ابوزرعہ الرازی کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان سے ایک دن پوچھاگیا:
یا ابا زرعہ انت احفظ ام احمد بن حنبل؟ قال: بل أحمد بن حنبل، قال: وکیف علمت ذاک؟ قال وجدت کتب احمد بن حنبل لیس فی اوائل الاجزاء ترجمۃ اسماء المحدثین الذین سمع منھم وکان یحفظ کل جزء ممن سمع وانا فلا اقدر علی ھذا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۴۸،وسندہ صحیح)
اے ابوزرعہ آپ حدیث کے زیادہ حافظ ہیں یا احمد بن حنبل؟ فرمایا: احمد بن حنبل(سائل نے ) کہا:آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ فرمایا: میں نے احمد بن حنبل کی کتابیں دیکھی ہیں، جن سے انہوں نے سنا ہے وہ دوسروں کی کتب میں نہیں ہے اور(سونے پہ سہاگا یہ کہ) انہوں نے جو سنا ہے وہ سب یاد بھی رکھا ہے ،جب کہ اس کی طاقت میرے اندر نہیں ہے۔
احمد بن حنبل کو اتنے سنہری حروف سے یاد کرنیوالے ابو زرعہ الرازی کو ان سے بعض مسائل میں علمی اختلاف بھی ضرورتھا کہ وہ فرماتے ہیں:
کنت اکثر الاختلاف الیہ، وکنت اسائلہ واذاکرہ ویذاکرنی.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۷۱،وسندہ صحیح)
میں ان سے(علمی واجتہادی مسائل میں) بڑا اختلاف رکھتا تھا اور میں ان سے سوال مذاکرے کرتا اور وہ مجھ سے مذاکرے کرتے تھے۔
nشعبہ بن حجاج العتکی a(المتوفی ۱۶۰ھ)کو تدلیس سے سخت نفرت تھی۔(الکفایۃ ۲؍۳۶۷،دار ابن عباس ،وسندہ صحیح)
اور انہیں پتا تھا کہ ’’قتادہ‘‘ تدلیس کرتے ہیں۔
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۶،وسندہ صحیح)
لیکن پھر بھی کہتے تھے:
لم أر مثل عمرو بن دینار ولا الحاکم ولاقتادۃ یعنی فی الثبت.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۴۱،وسندہ صحیح)
کہ میں نے عمرو بن دینار،حکم اور قتادۃ جیسا عظیم (حافظے والا انسان) نہیں دیکھا۔
nحماد بن زید البصری a(المتوفی ۱۷۹ھ)آپ رحمہ اللہ کا شمار امت کے کبار علماء وائمہ میں ہوتا ہے لیکن عبدالرحمٰن بن مھدی آپ رحمہ اللہ سے بعض مسائل میں اختلاف رکھتے تھے ،فرماتے ہیں:
اختلفت الی حماد بن زید زمانا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۲،وسندہ صحیح)
حماد بن زید سے(بڑا) زمانہ میرا(علمی ) اختلاف چلا ہے، لیکن باوجود اس مخالفت کے بھی ،حماد بن زیدرحمہ اللہ کہتے تھے:
ان کان احد یوتی لہذا الشان فھو ہذا الشاب.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۲،وسندہ صحیح)
اس شعبے(یعنی علم حدیث) کا کسی کوشہسوار بنایاگیا ہے تو وہ یہ جوان (یعنی عبدالرحمٰن بن مھدی) ہیں۔
فائدہ: غورکرنیوالے سلیم الفطرت معاصرین طلباء وعلماء کیلئے نقل کردہ اقوال وافعال بڑی حیثیت رکھتے ہیں، اگر وہ غور کریں تو!!!
علماءِ سلف معاصرین علماء کا بڑا احترام کرتے تھے، بعض اوقات تو اپنے سے کم درجے کے علماء کو بھی اپنے اوپر فوقیت دیتے، اور انہیں اپنے سے بھی بڑا تصور کراتے،ملاحظہ ہو:
nشعبہ بن حجاج العتکی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۶۰ھ)اپنے زمانے کے لاثانی مدون ومحدث تھے، فرماتے ہیں:
ھشام الدستوائی اعلم بحدیث قتادۃ منی واکثر مجالسۃ لہ منی.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۲،وسندہ صحیح)
ہشام دستوائی مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اس لئے کہ وہ ہمارے بنسبت ان کی مجلس میں زیادہ بیٹھے ہیں۔
nخالد بن نزار الایلی رحمہ اللہ(المتوفی ۲۲۰ھ)فرماتے ہیں:
سألنی الاوزاعی فقال لی: انت من اھل ایلۃ، این انت عن ابی یزید، یعنی یونس بن یزید الایلی، وحضنی علیہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۸۵،وسندہ صحیح)
مجھ سے اوزاعی نے پوچھا: اور کہا:آپ ایلہ کی بستی کے ہیں پھر یونس بن یزید سے (دور) کہاں وقت گذارا ہے (اور خالد کہتے ہیں کہ) اوزاعی نے مجھے ان سے استفادہ کرنے پر خوب ابھارا۔
nسلمہ بن کلثوم الھندی a(المتوفی ۲۲۰ھ)فرماتے ہیں:
جاء سفیان الثوری، فدخل علی الاوزاعی، فجلسا من الاولی الی العصر قد اطرق کل واحد منھما توقیرلصاحبہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۸۷،وسندہ صحیح)
سفیان ثوری آئے اور اوزاعی کےپاس گئے اور دونوں عصر تک اکٹھے بیٹھے رہے چلتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لئے راستہ چھوڑرہے تھے۔
nسلمہ بن قتیبہ رحمہ اللہ(المتوفی ۲۲۰ھ)فرماتے ہیں:
قدمت الکوفۃ فاتیت سفیان الثوری، فقال لی: من این انت؟ قلت من اھل البصرہ، قال :ما فعل استاذنا شعبۃ؟
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۲،وسندہ صحیح)
میں کوفہ گیا اور سفیان ثوری کے پاس آیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل بصرہ میں سے ہوں، فرمایا: (سنائیں) ہمارے شیخ شعبہ (کی آج کل کہاںہیں؟) کیاکررہے ہیں؟
nثقہ شخص ایوب بن المتوکل رحمہ اللہ(المتوفی ۲۰۰ھ)فرماتے ہیں:
کان حماد بن زید اذا نظرالی عبدالرحمٰن بن مھدی فی مجلسہ تھلل وجہہ .
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۲۱،وسندہ صحیح)
حماد بن زید جب اپنی محفل میں عبدالرحمٰن بن مھدی کی طرف دیکھتے تو(خوشی سے) ان کاچہرہ چمک اٹھتا۔
nاحمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ(المتوفی ۵۹ھ)فرماتے ہیں:
ما رأیت یزید بن ھارون اکرم احدا اکرامہ لاحمد بن حنبل، وکان یوقر احمد بن حنبل ولا یمازحہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۴۹،وسندہ صحیح)
میں نے یزید بن ھارون کو احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے زیادہ کسی اور کا اتنا احترام کرتے نہیں دیکھا(اتنا) احترام کرتے تھے کہ وہ ان سے مزاح (یعنی مذاق) ہی نہیں کرتے تھے۔
nیحیٰ بن معین رحمہ اللہ(المتوفی ۲۳۳ھ)فرماتے ہیں:
اراد الناس ان اکون مثل احمد بن حنبل ، لا واللہ ما اکون مثل احمد ابدا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۴۹،وسندہ صحیح)
لوگ میرے متعلق یہ خیال کرتے ہیں کہ میں احمد بن حنبل جیسا ہوں لیکن نہیں، اللہ کی قسم! میں قطعاً ان جیسا نہیں ہوسکتا۔
nابوحاتم محمد بن ادریس الرازی a(المتوفی ۲۷۷ھ) فرماتے ہیں:
کان علی بن المدینی علما فی الناس فی معرفۃ الحدیث والعلل، وکان احمد بن حنبل لایسمیہ انما یکنیہ ابوالحسن تبجیلا لہ، وما سمعت احمد بن حنبل سماہ قط.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۶۴،وسندہ صحیح)
علی بن مدینی حدیث وعلل میں(ماہر ترین ہونے کیساتھ ساتھ) لوگوں میں معروف ترین تھے، احمد بن حنبل ادبا ان کانام نہیں لیتے تھے ،جب بھی یاد کرتے کنیت ابوالحسن سے یاد کرتے تھے، ابوحاتم فرماتے ہیں میں نے کبھی بھی ان (کی زبان) سے ان کانام لیتے نہیں سنا۔(جب بھی یاد کرتے کنیت سے یاد کرتے )
nاحمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ(المتوفی ۲۵۹۰ھ)فرماتے ہیں:
قلت للفضل بن عنبسہ، مات وکیع بن الجراح،فقال: مات؟ وتغیر وجھہ، وقال: رحمہ اللہ ما رأیت مثل وکیع منذ ثلاثین سنۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۹۵،وسندہ صحیح)
میں نے:فضل بن عنبسہ کو کہا کہ:وکیع بن جراح فوت ہوگئے ہیں۔ کہا: فوت ہوگئے ہیں؟غم کے مارے ان کے چہرے کارنگ بدل گیا، فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے(حقیقت یہ ہے کہ) تیس سالوں میں میں نے وکیع جیسا انسان نہیں دیکھا۔
nابوحاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ(المتوفی ۲۷۷ھ) اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کو،اپنے استاذ شیخ احمد بن حنبلaکے متعلق فرماتے ہیں:
اذا رئیتم لرجل یحب احمد بن حنبل فاعلم انہ صاحب سنۃ.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۵۶،وسندہ صحیح)
جسے دیکھواحمد بن حنبل سے محبت رکھتا ہے ،جان لو کہ وہ سنی ہے۔
nقتیبہ بن سعید البغلانی رحمہ اللہ(المتوفی ۲۴۰ھ) جواحمد بن حنبل aکے استاذ ہیں۔(سیر اعلام النبلاء ۹؍۸۷،دارالحدیث القاہرہ)
اپنے شاگرد احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے متعلق کہتے ہیں:
اذا رأیت الرجل یحب احمد بن حنبل فاعلم انہ صاحب سنۃ وجماعۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۵۶،وسندہ صحیح)
آپ جسے دیکھو کہ احمد بن حنبل سے محبت رکھتا ہے ،جان جائیں کہ وہ اہل السنہ والجماعہ سے ہے۔
nابومسھر عبدالاعلیٰ بن مسھر a(المتوفی ۲۱۲ھ) کے متعلق ابوحاتم فرماتے ہیں:
وکنت اری ابا مسھر اذا خرج الی المسجد اصطف الناس لہ یمنۃ ویسرۃ یسلمون علیہ ویقبلون یدہ. (الجرح والتعدیل ۱؍۲۴۵)
میں ابو مسہر کو دیکھتا ،جب وہ مسجد سے نکلتے لوگ ان کے دائیں بائیں صف بنادیتے ان پر سلام کرتے اور ان کے ہاتھ چومتے۔
nامام اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ نے امام ابوزرعہ کو خط لکھا کہ:
انی ازداد بک کل یوم سرورا، فالحمد للہ الذی جعلک ممن یحفظ سنتہ وہذا من اعظم ما یحتاج الیہ الیوم طالب العلم…..الخ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۷۱،وسندہ صحیح)
میں آپ سے(رضاءِ الٰہی محبت رکھنے کے نتیجے میں) ہر روز مسرور ہوتا جارہاہوں(اور اسی پر)تمام تعریفات اس ذات کی جس نے آپ کو سنت(رسولﷺ) کے محافظین میں سے بنایا ہے اور یہ بہت بڑا اعزاز ہے(اتنا بڑا اعزاز کہ ہر) طالب علم آج اس کا محتاج ہے۔
nاحمد بن ابراھیم aابوزرعہ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اس محبت کی اطلاع اسحاق بن راھویہ ابوزرعہ کو بایں الفاظ دیتے رہتے ہیں کہ:
واحمد بن ابراھیم لایزال فی ذکرک بالجمیل حتی یکان یفرط حبا لک ، وان لم یکن فیک بحمداللہ افراط.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۸۰،وسندہ صحیح)
(اے ابوزرعہ)احمد بن ابراھیم آپ کاذکر خیر ہر وقت کرتے رہتے ہیں وہ آپ سے اتنی محبت رکھتےہیں کہ ان کہ ان کا حد سے بڑھ جانے کاڈر ہے لیکن اللہ کا شکر کہ آپ میں(یہ چیز یعنی) حد سے بڑھ جانے والی بات نہیں ہے۔
nامام عبداللہ بن وھب المصری رحمہ اللہ(المتوفی ۱۹۷ھ) فرماتے ہیں:
لولا انی لقیت مالکا واللیث لضللت.
(الجرح والتعدیل ۱؍۶۵،وسندہ صحیح)
اگرمیں(امام مالک رحمہ اللہ اورلیث( بن سعد المصریa) سے نہ ملتا تو گمراہ ہوتا۔
nامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفی ۲۴۱ھ) اپنے شیخ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں:
مارأیت احدا کان اعلم بالسنن من سفیان بن عیینۃ .(الجرح والتعدیل ۱؍۷۱،وسندہ صحیح)
میں نے (سفیان) بن عیینہ رحمہ اللہ سے بڑھ کر کوئی سنتوں کا جاننے والانہیں دیکھا۔
nعبدالرحمٰن بن مھدی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۹۸ھ) فرماتے ہیں:
قال لی شعبۃ لم ارمثل عمرو بن دینار ولاالحکم ولا قتادۃ فی الثبت.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۴۱،وسندہ صحیح)
مجھے شعبہ نے کہا :میں نے عمرو بن دینار،حکم اور قتادہ جیساپختہ حافظہ والابندہ نہیں دیکھا۔
nاسحاق بن راھویہ الحنظلی المعروف اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ(المتوفی ۲۳۸ھ) فرماتے ہیں:
حفظی وحفظ ابن المبارک تکلف وحفظ وکیع اصلی.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۹۶،وسندہ صحیح)
میرے اور ابن مبارک کے حافظے میں محنت شامل ہے باقی وکیع کا حافظہ(توقدرتی اور)اصلی ہے۔
ان سلفی افکار واخبار سے استفادہ لیتےہوئے معاصرین طلباء وعلماء کو چاہئے کہ باہمی محبتوں کو رواج دیتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کریں، باہمی مجالس ومحافل میں اپنے آپ کو دوسروں سے کم اور دوسروں کو اپنوں سے اعلیٰ تصور کروائیں۔
اس کے برعکس عادات سے باز رہیں کیونکہ وہ تمام عادات اور ان کی اتباع قطعا علماءِ حق کو زیب نہیں دیتی ،اور ان عادات موبقات کے تتبع میں سوائے ہلاکت کے کچھ بھی نہیں ہے ،اللہ ہمیں اپنی امان میں رکھے۔آمین
اسلاف امت کا تبحر علم-اخلاف کے لئے زریں اعلام واصول
nزرارہ ابن اعین نے امام جعفر کو نہیں دیکھا۔
علی بن عبداللہ بن جعفرالمدینی(المتوفی ۲۳۴ھ) فرماتے ہیں:
وقیل لہ: روی زرارہ بن اعین عن ابی جعفر کتابا، فقال سفیان: مارای ھو ابا جعفر ولاکنہ یتتبع حدیثہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۷۳،وسندہ صحیح)
کہاگیا:زرارہ بن اعین ،ابوجعفر aسے کتاب نقل کرتےہیں (اس کی کیاحقیقت ہے؟) سفیان نے فرمایا: کہ زرارہ نے ابوجعفر کو نہیں دیکھا، بس محض وہ ابو جعفر کی حدیث کا تتبع کرتے ہیں۔
نتیجہ: ایک مذہب بڑا علمی ذخیرہ ’’زرارہ بن اعین عن ابی جعفر‘‘ کے سلسلے پر مبنی ہے ،دیکھیں اصول اربعہ وغیرہ۔
nسفیان بن عیینہ aفرماتے ہیں:
حدیث ابی سفیان عن جابر، انما ھی صحیفۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۸۰،وسندہ صحیح)
ابوسفیان(طلحہ بن نافع) کی جابرtسے حدیث کتاب کے باب سے ہے۔
فائدہ: جب حدیث’’ابی سفیان عن جابر‘‘ کے واسطےآئے ،تو وہ صحیح ہوگی، یہاں گویا’’عن‘‘ کو تصریح سماع پر محمول کیاجائے گا، کیونکہ ابو سفیان کے پاس جابر کی کتاب تھی جس سے وہ روایت بیان کرتے تھے۔
nیحیٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ(المتوفی ۱۹۸ھ) فرماتے ہیں:
قال شعبۃ: لم یسمع قتادۃ من ابی العالیہ الا ثلاثۃ اشیاء قلت لیحی عدھا،قال: قول علی رضی اللہ عنہ القضاء ثلاثۃ ، وحدیث :لاصلاۃ بعد العصر، وحدیث یونس بن متی.
قال ابومحمد:بلغ من علم شعبۃ بقتادۃ ان عرف ما سمع من ابی العالیہ وما لم یسمع.
.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۲،وسندہ صحیح)
شعبہ نےکہا: قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین روایا ت سنی ہیں :(۱)علیtکا قول القضاء ثلاثۃ(۲)حدیث:لاصلاۃ بعد العصر (۳)یونس بن متی والی حدیث
(ابوحاتم کے بیٹے)ابومحمد کہتے ہیں کہ قتادۃ کے متعلق شعبہ یہ تک جانتے تھے کہ انہوں نے ابوالعالیہ سے کیاسنا ہے،اور کیانہیںسنا۔
فائدہ اول: اپنے استاذ وشیخ کےسارے علم کو اپنے سینے میں سجاناچاہئے۔
فائدہ ثانی: ’’قتادۃ من ابی العالیہ‘‘کے واسطے جوروایت ملے اس وقت شعبہ کی اس بات پر ضرور غور کیاجائے۔
فائدہ ثالث: قتادہ کے متعلق شعبہ کی تحقیقات کو اہمیت دی جائے،کیونکہ قتادہ کے متعلق شعبہ اوروں کے بہ نسبت زیادہ جانتے ہیں۔
nحکم بن عتیبہ aمدلس ،’’عن مجاہد ‘‘کہہ کر حدیث بیان کریں تو اس وقت ان کا عنعنہ بھی تصریح سماع پر محمول ہوگا۔
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۴،وسندہ صحیح)
nامام شعبہ بن حجاج العتکی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۶۰ھ) فرماتے ہیں:
عامر الشعبی، عن علی وعطاء یعنی ابی رباح، عن علی انما ھی من کتاب،فاسترجعت انا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۴،وسندہ صحیح)
علیtسے عامر شعبی، اور عطاء بن ابی رباح نقل کریں تو(وہ صحیح ہے اس لئے کہ) یہ کتاب سے (نقل کرنا)ہے۔
nشعبہa مزیدفرماتے ہیں:
احادیث الحکم عن مقسم کتاب الاخمسۃ احادیث قلت لیحی : عدھا شعبۃ؟ قال نعم، حدیث الوتر وحدیث القنوت وحدیث عزمۃ الطلاق وحدیث جزاء مثل ما قتل من النعم والرجل یأتی امرأتہ وھی حائض.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۵،وسندہ صحیح)
حکم(مدلس) کی مقسم (بن بحرہ)سے روایت کتاب(کے باب) سے ہے، سوائے پانچ احادیث کے،(علی بن مدینی فرماتے ہیں) میں نے یحی (بن سعید القطان) سے پوچھا: کیا شعبہ نے وہ حدیثیں بتائیں تھیں؟ فرمایا: جی ہاں(وہ تھیں) وتر کی حدیث، قنوت کی حدیث، طلاق کے بیان کی حدیث، قتل کے بدلے کی حدیث، اور حالت حیض میں عورت کے پاس آنے کے بیان کی حدیث۔
فائدہ اول: معلوم ہوا کہ حکم مدلس مقسم سے عن کیساتھ بیان کرے تب بھی صحیح ہے، اس لئے کہ حکم کےپاس مقسم کی کتاب تھی۔
فائدہ ثانی: سلف کی محنت وتفقہ یقینا قابل داد ہے، کما واضح.
nعیسی بن یونس بن ابی اسحاق رحمہ اللہ(المتوفی ۱۸۷ھ) فرماتے ہیں:
قال لی شعبۃ: لم یسمع ابواسحاق جدک من الحارث الاعور الا اربعۃ احادیث.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۵،وسندہ صحیح)
مجھے شعبہ نےکہا:آپ کے دادا ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ البیہقی رحمہ اللہ)نے حارث الاعور سے صرف چار احادیث سنی ہیں۔
nکافی محدثین کے ہاں محض ادراک کافی نہیں، سماع شرط ہے،شعبہaفرماتے ہیں:
قد ادرک ابو العالیہ رفیع علی بن ابی طالب ولم یسمع منہ شیئا .(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۵،وسندہ صحیح)
علی بن ابی طالبtکو ابوالعالیہ رفیع(ابن مھران رحمہ اللہ)نے پایاضرور ہے،(لیکن) ان سے سنا نہیں ہے۔
فائدہ:شعبہ کے اس قول میں ایک باریک اشارہ اس طرف ہے کہ روایت کی تصحیح کے لئے ادراک کیساتھ سماع کی بھی ضرورت ہے۔
nشعبہرحمہ اللہ مزیدفرماتے ہیں:
عامۃ تلک الدقائق، یعنی مسائل الدقائق التی حدث بھا یونس، یعنی ابن عبید، عن الحسن، انما کانت عن اشعث یعنی ابن عبدالملک، قال ابومحمد: یعنی ان یونس اخذھا من اشعث عن الحسن ودلسھا عن الحسن ولم یذکر فیہ الخبر.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۸،وسندہ صحیح)
عام طور پر یہ دقیق مسائل جو یونس بن عبید حسن بصری سے نقل کرتے ہیں،حقیقت میں یہ اشعث بن عبدالملک سےمنقول ہیں یعنی کہ یونس بن عبید اور حسن کے بیچ میں اشعث کا واسطہ ہے، ابومحمد(ابن ابی حاتم) فرماتےہیں: یونس نے اشعث سے انہوں نے حسن سےلیا ہے اور (لیکن)وہ حسن سےتدلیس کرتےہیں اور (بیچ )کی بات (یعنی اشعث کے نقل کا) ذکر نہیں کرتے ۔
فائدہ: یونس بن عبید ’’عن الحسن‘‘ کہہ کر جونقل کر ے ،وہ درست تصور کیاجائے گا اس لیے کہ اس وقت وہ صرف’’اشعث بن عبدالملک‘ ہی کو حذف کرتےہیں اور وہ توثقہ ہے۔
nابوعبید نے اپنے والد ابن مسعود tسےکچھ بھی نہیں سنا ہے بھلے کوئی سمع وغیرہ کہے، کہتا رہے۔
مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ(المتوفی۲۰۰ھ)مزیدفرماتے ہیں:
قلت لشعبۃ: ان البری حدثنا عن ابی اسحاق انہ سمع ابا عبیدۃ یحدث انہ سمع ابن مسعود ،فقال: اوہ، کان ابوعبیدۃ ابن سبع سنین وجعل یضرب جبھتہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۴۶،وسندہ صحیح)
میں نے شعبہ کو کہا:بری ہمیں ابواسحاق کے واسطے بتاتے ہیں کہ انہوں نے ابوعبیدہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن مسعود (t)سے سنا، شعبہ نے کہا: چھوڑو اسے(حقیقت یہ ہے کہ) ابوعبیدہ سات سال کے تھے (اور ابن مسعود tوفات پاگئے،کہاں کاسماع ،کہاں کی صراحت)
فائدہ: بعض اوقات صیغہ صراحت بھی ناقابل اعتماد ہوتا ہے، خصوصا جب ارباب علم سماع کی نفی کردیں، یا سماع کی بات کوئی اور ’’سمع‘‘ وغیرہ کہہ کر کرے تو وہ بھی تحقیق طلب بات ہے۔
nعلماء وشیوخ کو چاہئے کہ طلباء سے کوئی بھی علمی بات نہ چھپائیں کیونکہ استاذ کا علم امانت ہے اس امانت کی ادائیگی کا حق تب ہی ادا ہوگا جب یہ امانت طالب وسائل تک پہنچ جائے گی۔
nشعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال لی سفیان: اما انا فلا اکتمک شیئا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۵،وسندہ صحیح)
مجھے سفیان (ثوری) نے کہا کہ: میں آپ سے کوئی علمی بات نہیں چھپاؤنگا۔
vبوقت اختلاف کسی علمی شخصیت کی تحقیق سے متاثر ہوکر اس کی طرف توجہ مبذول رکھنا درست ہے بشرطیکہ تقلیدی ذہانت نہ ہو۔
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کانوا اذا خالفوا بالکوفۃ لا التفت الیھم، اقول: ما قال مسعر؟ وما قال شعبۃ؟
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۶،وسندہ صحیح)
جب کوفہ میں اختلاف ہوتا میں کسی کی طرف نہیں دیکھتا، میں کہتا کہ(بتاؤ) مسعر( بن کدام ) کیا کہتے ہیں؟ شعبہ(بن حجاج) کیا کہتے ہیں؟
nقتادہ سے جب شعبہ روایت کریں، اس وقت اگرقتادہ ’’عن‘‘ سے بھی بیان کریں تب بھی ان کی روایت صحیح اور ان کا عنعنہ تصریح سماع پر محمول کیاجائے گا۔
شعبہaفرماتےہیں:
کنت اتفقد فم قتادۃ، فاذا قال :سمعت او حدثنا حفظت واذا قال :حدث فلان، ترکتہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۶،وسندہ صحیح)
میں(حدیث بیان کرتے ہوئے) قتادہ کے منہ کو تکتا رہتا، اگر وہ سمعت یا حدثنا وغیرہ کہتے تو میں(اس کی حدیث کو) یاد کرلیتا، اور اگر وہ (بجائے تصریح سماع کے) کہتے کہ:فلاں نے بیان کیا تو میں ان کی حدیث کو ترک کردیتا۔
فائدہ: قتادہ کی طرح کسی بھی مدلس سےجب شعبہ aبیان کریں تو اس وقت اس مدلس کا عنعنہ غیرمضرہوگا، اور اس کے عنعنے کو تصریح سماع پر محمول کیاجائےگا۔
nیحی بن سعید القطان رحمہ اللہ (المتوفی۱۹۸ھ)فرماتے ہیں:
کل شی یحدث بہ شعبۃ عن رجل فلا تحتاج ان تقول عن ذاک الرجل انہ سمع فلانا، قد کفاک امرہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۵۷،وسندہ صحیح)
ہر وہ چیز جو شعبہ کسی سے بیان کردیں، اس میں آپ اس چیز کی محتاجی محسوس نہ کریں کہ اس بندے نے آگے والے سے سنی ہوگی (یانہیں) آپ کے لیے شعبہ رحمہ اللہ کا نقل کرنا ہی کافی ہے۔
nاچھے علماء ومحققین کی موافقت کو بوقت اختلاف مستحسن سمجھنا بھی فہم سلف ہے.
حمادبن زید البصری رحمہ اللہ(المتوفی۱۷۹ھ)فرماتے ہیں:
ما ابالی من خالفنی اذا وافقنی شعبۃ، لان شعبۃ کان لا یرنی ان یسمع الحدیث مرۃ، یعاود صاحبہ مرارا.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۶۰،وسندہ صحیح)
جب شعبہ میری موافقت کریں مجھے کسی کے اختلاف کی کوئی پرواہ نہیں،کیونکہ شعبہ(ایسی تحقیق کرتے کہ) کسی سے ایک بار حدیث سن کر راضی ہی نہیں ہوتے تھے۔بلکہ اپنے ساتھی سے باربار پوچھتے رہتے (تاکہ معاملہ واضح ترہوجائے)
فائدہ اول: بطورتحقیق کے کوئی چیز اپنے شیخ سے باربارپوچھی جائے تو یہ معیوب نہیں ہے۔
فائدہ ثانی: طلباء کو چاہیے کہ اپنے شیوخ واساتذہ کی بات کو ایسے سمجھیں کہ کوئی شک باقی نہ رہے۔
nابن جریج مدلس کی ابن ابی ملیکہ سے معنعنہ روایت بھی سماع پر محمول ہوتی ہےایسی روایات کے متعلق یحی بن سعید القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
احادیث ابن جریج عن ابن ابی ملیکہ کلھا صحاح.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۱،وسندہ صحیح)
ابن جریج کی ابن ابی ملیکہ سے(نقل کردہ) ساری روایات صحیح ہیں۔
علماء سلف کے عظیم حافظے -اور عرق ریز محنتیں
nسفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے حدیث کی دو کتب ایک بندے کو ھبہ کردیں،سائل نے وجہ پوچھی توفرمایا:
کنت قد حفظتہ ولم ار انی انساہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۸۰،وسندہ صحیح)
میں نے وہ کتب یاد کرلیں تھیں، اور مجھے امید تھی کہ میں اب انہیں بھول نہیں سکتا۔
nحسین بن عیاش رحمہ اللہ(المتوفی۲۰۴ھ)فرماتے ہیں:
کنا ناتی سفیان اذا سمعنا من الاعمش فنعرفھا علیہ بالعشی فیقول: ہذا من حدیثہ ، ولیس ہذا من حدیثہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۹۶،وسندہ صحیح)
ہم جب اعمش سے حدیثیں سنتے تو شام کو وہ ہی روایتیں سفیان( بن عیینہ رحمہ اللہ)پر پیش کرتے ، وہ بتادیتے کہ: یہ حدیث اعمش کی ہے ،یہ اعمش کی نہیں ہے۔
nشعبہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین روایات سنی تھیں اور یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کون سی تھیں۔
کنت قد حفظتہ ولم ار انی انساہ.
nحسین بن عیاش رحمہ اللہ(المتوفی۲۰۴ھ)فرماتے ہیں:
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۲،وسندہ صحیح)
nوکیع بن جراح کے متعلق اسحاق ابن راھویہ فرماتے ہیں:
قام وکیع یوما قائما ووضع یدہ علی الحائط وحدث سبعمأۃ حدیث حفظا.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۹۶،وسندہ صحیح)
ایک دن وکیع دیوار پر ہاتھ رکھ کر یاد حدیثیں سنانے لگے اور سات سو احادیث (کھڑے کھڑے )سنادیں۔
nاسلاف اتنی محنت کرتے کہ جوانی ہی میں ماہر بن جاتے۔
ابوزرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما اعلم فی اصحابنا اسود الرأس افقہ من احمد بن حنبل .(الجرح والتعدیل ۱؍۲۴۷،وسندہ صحیح)
میں نےسیاہ بالوں والے جوانوں میں احمد بن حنبل سےزیادہ کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔
nابوحاتم محمد بن ادریس الرازیaکے بیٹے عبدالرحمٰن بن محمد ادریس رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابوحاتم نےفرمایا:
بقیت بالبصرۃ فی سنۃ اربع عشرۃ مأتین ثمانیۃ اشھر وکان فی نفسی ان اقیم سنۃ، فانقطع نفقتی، فجعلت ابیع ثیاب بدنی شیئا بعد شیٔ حتی بقیت بلانفقۃ ومضیت اطوف مع صدیق لی الی المشیخۃ واسمع منھم الی المسا فانصرف رفیقی ورجعت الی بیت خال فجعلت اشرب الماء من الجوع ثم اصبحت من الغد وغدا الی رفیقی فجعلت اطوف معہ فی سماع الحدیث علی جوع شدید فانصرف عنی وانصرفت جائعا، فلما کان من الغد غدا علی، فقال مربنا الی المشایخ قلت انا ضعیف لایمکننی قال ماضعفک قلت: لا اکتمک امری قد مضی یومان ما طعمت فیھما شیئا فقال لی: قد بقی معی دینار فانا اواسیک بنصفہ ونجعل النصف الاخر فی الکراء فخرجنا من البصرۃ وقبضت منہ النصف دینار.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۹۲،وسندہ صحیح)
میں نے ۲۱۴ھ شعبان میں بصرہ آیا اور میرا وہاں ایک سال رہنے کاخیال تھا،لیکن میراخرچہ ختم ہوگیا یہاں تک کہ میں نے اپنے کپڑے بیچ کر تحصیل علم کےسلسلے کو جاری رکھا،بالآخر میرے پاس کچھ بھی نہ بچا،پھر بھی میں اپنے ساتھی کے ساتھ شیوخ کے دروس میں حاضری دیتا، اور شام تک سماع کرتا، (مجبور ہوکر) میں اپنے ماموںکے گھر گیا(جووہاں موجود تھے)بھوک ختم کرنے کیلئے(کھانا نہیں تھا،کھانے کے بجائے بھوک مارنے کیلئے) میں نے پانی پیا، دوسرے دن بھی میں نے صبح کی اور دوست کیساتھ سخت بھوک کے باوجود سماع حدیث(کی محفل) میں حاضر ہو ،اس محفل کے اختتام پر ساتھی چلے گئے میں بھی چلاگیا، لیکن مجھے سخت بوکھ لاحق تھی، پھر جب(تیسرے دن) کی صبح ہوئی ساتھی میرے پاس آئے،اور مجھے کہا چلوشیوخ کی محفل کی طرف چلو، میں نے کہا: میں بہت کمزور ہوگیا ہوں اپنے اندر اس کی استطاعت نہیں پاتا ساتھی نے کہا: آپ کو کس قسم کی کمزوری لاحق ہے ،میں نے کہا: میں آپ سے بات چھپاتانہیں ہوں (حقیقت حال یہ ہے کہ)دو دن گزر گئے (آج تیسرا دن ہے)میں نے کھانانہیں کھایا، ساتھی نے مجھے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے آدھا آپ کو دیتاہوں اور آدھا آگے کیلئے رکھتے ہیں(حال یہ تھا کہ) ہم بصرہ سے نکلے تھے اور میرے پاس آدھا دینار تھا۔
nاسی طرح ابوحاتم کہتے ہیں کہ ایک بار میں اپنے احباب کے ساتھ علمی سفر میں نکلا مسلسل دو دن تک ہمیںنہ کھاناملا نہ پینا، ویران وبیابان علاقے میں ہم تینوں احباب چلتے رہے یہاں تک :
فلما اصبحنا الیوم الثالث جعلنا نمشی علی قدر طاقتنا فسقط الشیخ مغشیا علیہ فجئنا نحرکہ وھو لا یعقل فترکناہ ومشینا انا وصاحبی النسابوری قد فرسخ او فرسخین فضعفت وسقطت مغشیا علی ومضی صاحبی وترکنی لم یزل ھو یمشی….ونزلوا علی بئر موسی….الخ.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۹۲)
جب ہم نے تیسرے دن کی صبح کی اپنی استطاعت کے مطابق چلتے رہے بس(اتناچلے کہ) ہمارے شیخ بے ہوش ہوکرگرپڑے ہم نے انہیں حرکت دی لیکن ان کو کوئی ہوش باقی نہیں تھا، ہم نے انہیں وہیں چھوڑ دیا، اور آگے ایک دوفرسخ چل پڑے، میں بھی کمزورہوگیا معاملہ یہاں تک پہنچا کہ میں بھی بے ہوش ہو کر گرپڑا، میرے ساتھی مجھے چھوڑ کر آگے چل پڑے یہاں تک کہ وہ کسی کنویں پر پہنچے…وہاں سے پانی لاکر مجھ پر اور میرے شیخ پر ڈالااور ہمیں پلایا تو ہمیں ہوش آیا۔
نقل کردہ آثار واقوال ہم کاہل وسست طلباء کے لئے نہایت قابل غورہیں کہ ہم آج سہولیات سےآراستہ مدارس ومراکز میں پلنے کے باوجود کس قدر محنتوں سے بعید ہیں ہمیں اپنے اسلاف کے یہ واقعات پڑھ کر خوب محنت کاجذبہ پیداکرناچاہئے اسی محنت وعرق ریزی میں ہماری منزل مضمر ہے۔

About حافظ شبیر جمالی

Check Also

فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 3

معاصر علماء ،طلباء ومحققین کیلئے اسلاف کے اقوال، افعال اور قابل محبت آثار پیش خدمت …

جواب دیجئے