Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اکتوبر » مختلف کتب کا قرآن کریم سےا ختلاف – قسط1

مختلف کتب کا قرآن کریم سےا ختلاف – قسط1

(۱)مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۶۲ۭ ](النمل:۶۲)
ترجمہ:بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو ۔
اس کے برعکس کلیات امدادیہ میں ہے:

یارسول کبر یا فریاد،

یا محمد مصطفیٰ فریاد ہے

آپ کی امداد ہو میرا یانبی،

حال ابتر ہوا فریا ہے

(کلیات امدادیہ،ص:۹۰،۹۱)
(۲)غیب کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ](الانعام:۵۹)
ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔
اس کے برعکس بہشتی زیورمیں ہے:
ولی لوگوں کو بعض بھید کی باتیں جاگتے میں معلوم ہوجاتی ہیں اس کو کشف اور الہام کہتے ہیں۔(بہشتی زیور عقیدوں کا بیان۱؍۳۶)
ولیوں کو کشف اور الہام سے اور عام لوگوں کو متشابہوں سے بعض غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔(بہشتی زیور عقیدوں کا بیان۱؍۳۶)
(۳)فرضیت جمعہ
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۹ ] (الجمعۃ:۹)
ترجمہ:اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
لاتجوز فی القریٰ.
دیہات میں جمعہ جائز نہیں۔
(ہدایہ کتاب الصلواۃ ،باب صلاۃ الجمعۃ۱؍۱۷۷)
(۴)صفائی نصف ایمان ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَثِيَابَكَ فَطَہِرْ۝۴۠ۙ ](المدثر:۴)
ترجمہ:اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
قدر الدرھم ومادونہ من النجس المغلظۃ کالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول الحمار جازت الصلواۃ معہ.
ایک درہم یااس سے کم نجاست غلیظہ جیسے خون،پیشاب ،شراب، مرغی کی بِیٹھ اور گدھے کا پیشاب اگرکپڑے کو لگ جائے تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے۔
(ہدایہ کتاب الطھارۃ ،باب ما یعفی عنہ من النجاسات ۱؍۷۲۴)
(۵)نماز میں قرآن مجید پڑھنا واجب ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ۝۰ۭ ](المزمل:۲۰)
ترجمہ: لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو۔
اس کے برعکس بہشتی زیورمیں ہے:
نماز میں کچھ نہ پڑھے خاموش رہے تب بھی نماز درست ہے۔
(بہشتی زیور،فرض نماز ادا کرنے کے طریقے کابیان۲؍۱۶۳)
(۶)مشرک حرم میں داخل نہیں ہوسکتا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۝۰ۚ ](التوبۃ:۲۸)
ترجمہ:اے ایمان والو! بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں وه اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
لا بأس یدخل أھل الذمۃ المسجد الحرام .
ذمی کافر کے حرم میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
(ہدایہ کتاب الکراھیۃ ۴؍۴۷۷)
(۷)اطاعت رسول ﷺکی شرعی حیثیت
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ۝۳۳ ] (محمد:۳۳)
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو ۔
اس کے برعکس تقریر ترمذی میں ہے:
نحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفۃ .
ہم مقلد ہیں ہم پر اپنے امام ابوحنیفہ کی تقلید واجب ہے۔
(تقریر ترمذی،ص:۹)
(۸)شراب حرام ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۹۰ ](المائدہ:۹۰)
ترجمہ:اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ما یتخذ من الحنطۃ والشعیر والعسل والذرۃ حلال عند ابی حنیفۃ .
گندم ،جو،شہداور جوار کی شراب ابوحنیفہ کے نزدیک حلال ہے۔
(ہدایہ کتاب الاشربۃ۴؍۴۹۹)
(۹)سود حرام ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ ](البقرہ:۲۷۵)
ترجمہ:اللہ نے تجارت کوحلال اور سود کو حرام کیا ہے۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ولا بین المسلم والحربی فی دار الحرب.
اگر مسلم اور کافر دوران جنگ سودی کاروبار کریں تو وہ سود نہیں۔
(ہدایہ ،باب الربوا ۴؍۹۰)
(۱۰)قصاص فرض ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۝۰ۙ ] (المائدہ:۴۵)
ترجمہ:بیشک نفس کے بدلے نفس ہے۔(اگر کوئی کسی کو قتل کریگا توقصاصا اسے بھی قتل کیا جائیگا۔)
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ومن غرق صبیا او بالغا فی البحر فلا قصاص عند ابی حنیفۃ .
اگرکسی شخص نےکسی بچے یا بالغ کو سمند میں غرق کرکے مارا تو ابوحنیفہ کے نزدیک ایسے آدمی سے قصاص نہیں لیاجائیگا۔
(ہدایہ کتاب الجنایات۴؍۵۶۱)
(۱۱)کوئی اپنی موت سے کوئی باخبر نہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۝۳۴ۧ ۭ](لقمان:۳۴)
ترجمہ:نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والااور صحیح خبروں والاہے ۔
اس کے برعکس فضائل صدقات میں ہے:
شیخ ابویعقوب سنوسی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک مریدآیا اور کہنے لگا میںکل ظہر کے وقت مرجاؤنگا چنانچہ دوسرے دن ظہر کے وقت مسجد الحرام میںآیا طواف کیا اور تھوڑی دور جاکرمرگیا۔
(فضائل صدقات ،حصہ دوم:۶۵۸،۳۰۰)
(۱۲)اللہ کے علاوہ کوئی مشکل کشانہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ](الانعام:۱۷)
ترجمہ:اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والاسوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔
اس کے برعکس کلیات امدادیہ میںرسول اللہ کو مخاطب کرکے کہاگیا ہے:
اے میرے مشکل کشافریاد ہے۔(کلیات امدادیہ ،ص:۹۱)
(۱۳)رحم میں موجود جنس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۝۰ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ۝۰ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام۝۰ِۭ ] (لقمان:۳۴)
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔
اس کے برعکس ارواح ثلاثہ میںعبداللہ نامی ایک شخص کے بارے میں کہاگیا ہے:
ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی کے گھر میں حمل ہوتا اور وہ تعویذ لینے آتا تو آپ فرمادیاکرتے تھے کہ تیرے گھرمیں لڑکی ہوگی یالڑکا، اور جو آپ بتلادیتے تھےوہی ہوتا تھا ۔
(حکایات اولیاء عرف ارواح ثلاثہ ،حکایت نمبر:۱۴۷)
(۱۴)امت کے حالات کی نبی کو خبرنہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہےکہ قیامت کے دن سیدناعیسیٰ uجواب دیں گے:
[وَكُنْتُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْہِمْ۝۰ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ ] (المائدہ:۱۱۷)
ترجمہ:میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر مطلع رہا۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے ۔
اس کے برعکس تفسیر عثمانی میں ہے:
اور رسول اللہ ﷺ جوامتیوں کے حالات سے پوری طرح واقف ہیں ان کی صداقت وعدالت پر گواہ ہونگے۔
(تفسیر عثمانی تحت سورہ بقرہ آیت:۱۴۳)
(۱۵)ایمان کا کم ہونا اور بڑھنا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا] (الانفال:۲)
ترجمہ: اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں ۔
اس کے برعکس فقہ الاکبر میں ہے:
ایمان اھل السماء والارض لایزید ولاینقض.
زمین اور آسمان والوں کا ایمان نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے۔
(فقہ الاکبر ،ص:۵۵)
(۱۶)صاحب استطاعت پر حج فرض ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۝۹۷ ] (آ ل عمران:۹۷)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ولا اعمیٰ اذا وجد من یکفیہ مؤنۃ سفرہ ووجد زاد وراحلۃ لا یجب علیہ الحج عند ابی حنیفۃ.
اوراندھا اگر ایسا شخص پالے جو اسے تکلیف سفر سے کفایت کرتا ہو، اور سواری اور زادراہ بھی اسے میسر ہوتوابوحنیفہ کے نزدیک ایسے اندھے پر حج واجب نہیںہوتا۔
(ہدایہ،کتاب الحج ۱؍۲۵۰)
(۱۷)نبیذ سے وضوکرنا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا ] (النساء:۴۳)
ترجمہ:پس اگر تم پانی پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
فان لم یجد الا نبیذ التمر قال ابوحنیفۃ یتوضا بہ ولا یتیمم.
(اگر نمازی وضوکرنے کیلئے) نبیذ تمر کے ساتھ کوئی چیز نہ پائے تو ابوحنیفہ کے نزدیک اس سے وضوکرلیاجائیگا اور تیمم نہیں کیاجائیگا۔
(ہدایہ،کتاب الطھارۃ،باب ماء الذی یجوز بہ الوضوء۱؍۴۶)
(۱۸)ذمی عورت سے نکاح
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ۝۰ۭ ](البقرہ:۲۲۱)
ترجمہ:اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
وإن تزوج مسلم ذمیۃ بشھادۃ ذمیین جاز عند ابی حنیفۃ .
اگر کوئی مسلمان کسی کافرہ ذمیہ کے ساتھ دوذمی کافر مرد گواہ رکھ کر نکاح کرے تو ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے۔
(ہدایہ،کتاب النکاح۲؍۳۲۶)
(۱۹)قصاص کی صورتیں
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَكَتَبْنَا عَلَيْہِمْ فِيْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۝۰ۙ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ۝۰ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ۝۰ۭ ] (المائدہ:۴۵)
ترجمہ:اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ولا قصاص بین الرجل والمرأۃ فیما دون النفس .
میاں بیوی کے درمیان کوئی قصاص نہیں سوائے قتل کے ۔
(ہدایہ،کتاب الجنایات ،باب ما یوجب القصاص وما لا یوجبہ۴؍۵۶۶)
(۲۰)زانی پر حد جاری کرنا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ۝۰۠] (النور:۲)
ترجمہ:زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ومن تزوج امرأۃ لا یحل لہ نکاحھا فوطیھا لا یجب علیہ الحد عند ابی حنیفۃ.
جس آدمی نے کسی ایسی عورت سے شادی کی جس سے نکاح کرنا حرام تھا اور اس سے جماع بھی کیا تو ایسے شخص پر ابوحنیفہ کے نزدیک کوئی حد نہیں۔(ہدایہ،کتاب الحدود،باب الوطی الذی یوجب الحدالخ۳؍۵۰۷)
(۲۱)چور کا ہاتھ کاٹاجائے گا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا] (المائدہ:۳۸)
ترجمہ:چورمرد اور چور عورت کاہاتھ کاٹ دو۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ولا یقطع فی ابواب المسجد الحرام.
مسجد حرام کے دروازے چوری کرنے والے کاہاتھ نہیں کاٹاجائیگا۔
(ہدایہ،کتاب السرقۃ،باب ما یقطع فیہ ومالایقطع ۲؍۵۲۸)
(۲۲)وفات نبی ﷺ
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّيِّتُوْنَ۝۳۰ۡ ](الزمر:۳۰)
ترجمہ:آپ مرنےو الے ہیں اور ان کو بھی موت آنی ہے۔
اس کے برعکس المہند میں ہے:
اورآپ(ﷺ)کی حیات دنیا کی سی ہے، بلامکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آں حضرت اور تمام انبیاء اور شہداء کے ساتھ، برزخی نہیں جو حاصل ہے تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوںکو۔
(المہندعلی المفند،ص:۲۲)
(۲۳)قرآن فارسی میں نہیں عربی میں ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ۝۰ۭ ] (المزمل:۲۰)
ترجمہ:پس قرآن سے جو میسر ہو وہ پڑھو۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
فان افتتح بالفارسیۃ او قرأ فیھا بالفارسیۃ او ذبح سمی بالفارسیۃ وھو یحسن العربیۃ اجزاہ عند ابی حنیفۃ.
اگرنماز کی ابتدافارسی زبان میں کر ے یا اس میں قرأت فارسی زبان میں کرے یا ذبح کرے اور فارسی میں نام لے اور وہ عربی بھی اچھی بول سکتاہو تو ابوحنیفہ کے نزدیک اسے کفایت کرجائے گا۔
(ہدایہ،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلواۃ ۱؍۹۹)
(۲۴)نکاح کیلئے ذات پات کافرق
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۝۱۳ ](الحجرات:۱۳)
ترجمہ:اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے والاہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے ۔
اس کے برعکس بہشتی زیور میں ہے:
مغل اور پٹھان ایک جوڑ کے ہیں جبکہ سید اور شیخ ایک جوڑ کے نہیں ہیں اس لیے اگر سید زادی نےکسی شیخ سے نکاح کیا تووہ نکاح درست نہیںہوا۔
(بہشتی زیور ،نکاح میں برابری کابیان ۴؍۳۷۸)
(۲۵)بیٹھ کر خطبہ دینا
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْہَا وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا۝۰ۭ ] (الجمعہ:۱۱)
ترجمہ:اور جب یہ لوگ سودابکتایاتماشاہوتادیکھتے ہیں تو تجھے (خطبہ) میں کھڑا چھوڑ کر ادھربھاگ جاتے ہیں۔
اس کے برعکس ہدایہ میں ہے:
ولو خطب قائدا او علی غیر طھارۃ اجزاہ .
اگرامام جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ کر یابغیروضوکے خطبہ دے تو جائز ہے۔(ہدایہ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعۃ۱؍۸۷۸)
(۲۶)زناحرام ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:[وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً۝۰ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا۝۳۲ ] (بنی اسرائیل:۳۲)
ترجمہ:زنا کے قریب نہ جاؤیہ فحاشی اور براراستہ ہے۔
اس کے برعکس در المختار میں ہے:
ان ما اخذ الزنیۃ ان کان بعقد الا جارۃ فحلال عند ابی حنیفۃ .
یعنی اگرکوئی زانیہ زنا کے بدلے اجرت مقرر کرلے تو وہ (اجرت) ابوحنیفہ کے نزدیک حلال ہے۔(در المختار ،باب الاجارۃ الفاسدۃ ۶؍۴۶)
(جاری ہے)

About محمد سلیمان جمالی

جواب دیجئے