Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » شریعت لطیفی یا شریعت محمدی

شریعت لطیفی یا شریعت محمدی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (صلی اللہ علیہ وسلم) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ:
سرکش سندھی کی بیٹی نایاب سرکش نے دولھا نظیر کھوسو بن خیرمحمدکھوسو کا نکاح دلہن سندھیہ کے ساتھ ،شاہ عبداللطیف بھٹائی کی کتاب ’’شاہ جو رسالو‘‘ کے اشعار کے ذریعہ پڑھایا اور شریعتِ لطیفی کے مطابق ایجاب وقبول کرایا، اس سے قبل دلہن کے والد عباس علی عرف سوجھروسندھی نے نایاب سرکش کو اپنی بیٹی کانکاح پڑھانے کی دعوت دی۔
ضلع جامشورو میں انڈس ہائی وے پر واقع قصبہ خانوٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود گوٹھ زیمی میں17ستمبر2017ء بروز اتوار رونما ہونے والے اس واقعے میں شرعی طور پر کئی قباحتیں موجود ہیں۔ ذیل میں ترتیب وار وہ قباحتیں اور ان کا رد ذکر کیاجاتاہے ۔
پہلی قباحت: عورت کانکاح پڑھانااور ایجاب وقبول کرانا ہے، جس کی نظیرقرآن وحدیث اور قرونِ اولیٰ میں نہیں ملتی۔ عورت کسی دوسری عورت کی ولیہ ٔ نکاح بن سکتی ہے نہ خطبۂ نکاح پڑھ کر ایجاب وقبول کراسکتی ہے البتہ مقدور بھر اپنے عزیزوں کی شادی کے معاملات سنبھال سکتی ہے جس طرح سیدہ عائشہ صدیقہrاپنے بھتیجے بھتیجیوں اوربھانجے بھانجیوںکی شادی کے بعض معاملات سنبھالتی تھیں۔ لہذا اس موقعہ پر نایاب سرکش نامی عورت کا خطبۂ نکاح پڑھنا ازروئے شریعت ناجائز وحرام ہے۔
دوسری قباحت: شاہ عبداللطیف بھٹائی کی کتاب’’شاہ جو رسالو‘‘ کے ابیات سے خطبۂ نکاح کا انتخاب ،اسے قرآن مجید کے قائم مقام قراردینے کے مترادف ہے،کہ اس موقعہ پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطبۂ حاجہ میں قرآن مجید کی تین آیات کی قرأت کا ثبوت ملتاہے۔یعنی:
(۱)[يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ….الآیۃ] (۲)[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ….الآیۃ] (۳)[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا۝۷۰ۙ ] ’’شاہ جورسالو‘‘ کو قرآن مجید اور اس کے ابیات کو قرآنی آیات کے مساوی وقائم مقام قراردینا،غلو کی بدترین شکل ہے، وہ غلو جس سے قرآن وحدیث میں منع کیاگیا ہے، فرمایا:
[يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ….](النساء:۱۷۱)
یعنی: اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں غلو نہ کرو۔
اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
لاتطرونی کما اطرت النصاری عیسی ابن مریم فانما انا عبدہ فقولوا عبداللہ ورسولہ.(صحیح بخاری،حدیث:3445)
یعنی تم مجھے اس طرح حدسے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کابندہ اور رسول ہی کہنا۔
نایاب سرکش واصحابھا کا غلو یہود ونصاریٰ کے غلو سے بڑھاہواہے اس لئے کہ یہود ونصاریٰ نے تو اللہ کے پیغمبروں سیدنا عزیر اور سیدناعیسیٰ iکی شان میں غلو کرتے ہوئے انہیں اللہ کے بیٹے قراردیا جبکہ انہوں نے صوفی شاعرشاہ عبداللطیف بھٹائی اور ان کے کلام کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے مقام پر لاکھڑاکیا۔فیاللعجب.
قارئین کرام! لوگوں میں یہ عجیب چلن عام ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ کتب کو قرآن یا قرآن کے مساوی قرار دینےسے ذرا نہیں چوکتے،جیسے مثلاً:
سیداصغرحسین دیوبندی عالم اپنی کتاب معنوی ،ص:۱۵میں لکھتے ہیںکہ:
’’مثنوی(مولانا روم) میں ایسے بھی بعض مضامین ہیں جو بظاہر قواعد شرعیہ کے خلاف نظر آتے ہیں، لیکن علماء نے ان کے مطالب کو نہایت خوبی سے حل کرکے بتلادیا کہ مولانا کا ایک حرف بھی قانون شرع کے اور عقائد اسلامیہ کے خلاف نہیں ہے،یہ سب ہماری نظرکا قصور ہے کہ خلاف نظر آتا ہے۔ البتہ بعض حضرات نےمولانا کے مضامین کو ظاہر شرع کے خلاف ہی ثابت کرکے کہا کہ یہ دوسری بات ہے اس سے علماء ظاہر کیا جانیں۔
لیکن یہ ان کی غلطی ہے کہ جس کتاب کو’’ہست قرآن درزبان پہلوی‘‘ کا خطاب مل گیا ہو، وہ کوئی مضمون خلاف شرع اپنے اندر رکھتی ہو‘‘
خود مثنوی میں شعر موجود ہے جس میں اسے پارسی زبان کا قرآن قرار دیاگیاہے۔
؎
مثنوی ومولوی ومعنوی

ہست قرآن درزبان پہلوی

اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائی اپنے اشعار کے متعلق کہتے ہیں:

جی تو بیت بھا نئیا سی آیتون آھن

(شاہ جو رسالو،ص:۱۱۲)
یعنی جن کو تواشعار سمجھ رہا ہے ، وہ آیات ہیں۔
اور دیوانِ فریدی ،ص:۱۳۴میں ہے:

صورت رحمن ہے تصویر میرے پیر کی

علم القرآن ہے تقریر میرے پیر کی

اسی طرح اشرف الہدایہ شرح اردوہدایہ پرتقریظ لکھتے ہوئے مولانا مفتی مظفر حسین صاحب ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور رقمطراز ہیں:
ایک دوسرے بزرگ نے فرمایا: ان الھدایہ کالقرآن قدنسخت ما صنفوا قبلھا فی الشرع من کتب.
(اشرف الہدایہ ۱؍۵)
یعنی بیشک ہدایہ نے قرآن کی طرح،اپنے سے پہلے شریعت میں لکھی ہوئی تمام کتب کو منسوخ کردیا۔
فاناللہ واناالیہ راجعون.
لہذا دیگر لوگوں کے کیے ہوئے غلو کی طرح اس نکاح کے موقع پر کیاگیا غلو بھی باطل وفاسد ہے۔
تیسری قباحت: یہ کہ ایجاب وقبول شریعتِ لطیفی کے موجب کرایاگیا، یوں شریعتِ لطیفی کو شریعتِ محمدی(علی صاحبھا الصلاۃ والسلام) کے متوازی لاکھڑا کیاگیا، حالانکہ تمام مسلمانوں کے نکاح وایجاب وقبول شریعتِ محمدی سے ثابت خطبۂ نکاح اور طریقہ کار کے موجب منعقد ہوتے ہیں۔
اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شریعتِ محمدی کے مقابلے میں شریعتِ موسوی وعیسوی (علی صاحبھما السلام)بھی نہیں لائی جاسکتیں چہ جائیکہ اس کے مقابلے میں شریعتِ لطیفی کا تذکرہ کیاجائے، چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
والذی نفسی بیدہ لو ان موسیٰ کان حیا ماوسعہ الااتباعی .(حدیث حسن مخرج فی الارواء ۱۵۸۹، ولصحیحہ۳۲۰۷، والمشکاۃ ۱۷۷)
یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگربیشک موسیٰ(u)زندہ ہوں تو ان کے لئے (بھی) میری اتباع کے سوا کوئی گنجائش نہیں۔
اسی طرح سیدناعیسیٰuکے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہےکہ
[وَيُعَلِّمُہُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَالتَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ۝۴۸ۚ ](آل عمران:۴۸)
یعنی:(سیدہ مریم سلام اللہ علیھا کو سیدنا عیسیٰ uکے بارے بشارت دی جارہی ہے کہ) اللہ تعالیٰ انہیں کتاب وحکمت اور تورات وانجیل سکھلائے گا۔
محدث دیارِ سندھ علامہ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے بعد آنے والے آخری نبی محمد احمد  کی طرف نازل کردہ کتاب وحکمت یعنی قرآن وحدیث کا علم بھی عطافرمائے گا، تاکہ جب آخری زمانہ میں ان کا آسمان سے زمین کی طرف نزول ہوتوان(قرآن وحدیث) کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کریں۔(بدیع التفاسیر ۵؍۶۰،۱۵۹)
جب سیدنا موسیٰ اور سیدناعیسیٰiکے لئے بھی شریعتِ محمدی کی اتباع لازمی قرار دی جارہی ہے توپھر شریعت محمدی کے مقابلے میں شریعتِ لطیفی کی کیاحیثیت ہے؟؟؟
چونکہ آئینِ پاکستان میں قرآن وسنت کو پاکستان کا سپریم لاءقراردیاگیاہےلہذا حکومت پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلف سے وفا کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا قلع قمع کرے جو قرآن وسنت (شریعت محمدی) کے مقابلہ میں دیگر شریعتوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔
قارئین کرام! ہفت روزہ تکبیر کراچی مجریہ 5تا11اکتوبر2017ء کی اشاعت سے یہ خوش آئند خبر معلوم ہوئی کہ تھانہ خانوٹ میں عباس علی عرف سوجھرو سندھی، رضیہ عرف نایاب سرکش، نظیرکھوسو، سندھیہ کھوسو کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور عباس علی کو گرفتار کرکے دس روز کیلئے جیل بھیج دیاگیا ہے جبکہ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے، اب تمام معاملات عدالت میں زیربحث آئیں گے اور ہمیں عدالت سے قوی امید ہے کہ شریعتِ لطیفی کی صورت میں نیافتنہ ایجاد کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا سنائی جائے گی اور شریعتِ محمدی کے ساتھ کھلواڑکرنے والے یہ مجرم نشانِ عبرت بنادیئے جائیں گے۔ ان شاء اللہ
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے