Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » عشاء کے بعدچاررکعت کااجرعظیم

عشاء کے بعدچاررکعت کااجرعظیم

امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کے بے شماراحسانات ہیں کہ انہیں تھوڑے اور معمولی عمل پر بھی بے انتہاء اجروثواب سے نوازاجاتاہے ان اعمال میں سے ایک عمل عشاء کے بعد چاررکعات ادا کرنے کا بھی ہے اور ان چاررکعات پر انہیں لیلۃ القدر میں قیام کرنے کے برابر اجرو ثواب سے نوازاجاتاہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عشاء کے بعدچارکعات اداکرنے کاثبوت موجود ہے، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلم وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ.(صحیح البخاری،کتاب العلم، باب (۴۱) السمر فی العلم ح:۱۱۷،۶۹۷)
ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارثrکے ہاں گزاری جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو انہی کے ہاں قیام پذیرتھے۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادافرمائی پھرآپ گھر تشریف لائے اور آپ نے چاررکعات ادافرمائی اور پھر آپ سوگئے۔
صحیح احادیث میں عشاء کے بعد چاررکعات اداکرنے کا اجرلیلۃ القدر میں قیام کے برابر قراردیاگیاہے۔ یہ روایات صحابہ کرام اور تابعین عظام کی ایک جماعت روایت کرتی ہے۔ اور جنہیں ہم یہاں سلسلہ وارذکر کرتےہیں۔
(۱)الاثر الأول:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعود رضی اللہ عنہ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، عَدَلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»
رواہ ابن ابی شیبۃ فی ’’المصنف(127/2)قال: حدثنا وکیع، عن عبدالجبار بن عباس، عن قیس بن وھب، عن مرۃ عن عبداللہ بہ (الرقم:7373) وہذا اسناد جید متصل
سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتےہیں:
جوشخص عشاء کے بعد چاررکعات اداکرے اور ان کے درمیان سلام کے ساتھ فصل (علیحدگی) نہ کرے (ایک ہی سلام کے ساتھ انہیں ادا کرے) تو یہ لیلۃ القدر میں قیام کرنے کے مثل (برابر) ہیں۔‘‘ (قلت :ابوجابر) اس حدیث کے تما م راوی ثقہ (قابل اعتماد) ہیں اور یہ روایت بالکل صحیح ہے۔
(۲) الاثر الثانی:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ كُنَّ كَقَدْرِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»
رواہ ابن ابی شیبۃ فی ’’المصنف‘‘(127/2)قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوبہ الرقم: (7351)
سیدنا عبداللہ بن عمروtسے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں:
جوشخص عشاء کے بعد چاررکعات اداکرے تو گویا کہ یہ لیلۃ القدر میں قیام کے برابر ہیں۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ حدیث صحیح ہے۔
(۳) الاثر الثالث:
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:«أَرْبَعٌ بَعْدَ الْعِشَاءِ يَعْدِلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»
رواہ ابن ابی شیبۃ فی’’ المصنف‘‘ (127/2)قال:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بہ الرقم:(7352)
سیدہ عائشہ صدیقہrفرماتی ہیں کہ عشاء کے بعدچاررکعات پڑھنا لیلۃ القدر میں قیام کرنے کے مثل ہیں۔
(۴) الاثر الرابع
عَنْ مَيْسَرَةَ، وَزَاذَانَ، قَالَا: «كَانَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَأَرْبَعًا بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ»
ہذا وجدتہ من غیر ذکر اسم الصحابی،والغالب انہ علی بن ابی طالب ،فھو الذی یروی عنہ میسرۃ،رواہ ابن ابی شیبۃ فی ’’المصنف‘‘(19/2)قال:حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بہ.
میسرہ اور زاذان رحھمااللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ سنن میں سے چار رکعات ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد اور دو کعت مغرب کے بعد اور چاررکعات عشاء کے بعد اور دورکعت فجر سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
اس اثر میں صحابی کا نام ذکر نہیں کیاگیا ہے،لیکن ظاہر ہے کہ یہ صحابی سیدنا علی tہیں کیونکہ میسرہ اور زاذان ؒ ان دونوں ان کے شاگرد ہیں اور وہ انہی سے روایت کرتے ہیں، اور جیسا کہ شیخ صالح المنجدdنے بھی یہ بات ذکر فرمائی ہے۔ اور ایک نسخہ میں علی tکے نام کی صراحت بھی ہے دیکھیے (الرقم:6021)مکتبہ رحمانیہ لاہور، غالبا کاتب سے سہوا یہ نام لکھنے سے رہ گیا ہے، واللہ اعلم بالصواب(ابوجابر) البتہ اس روایت میں لیلۃ القدر کے اجر کی وضاحت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں صحابہ کرام کے علاوہ تابعین عظام کے آثار بھی موجود ہیں۔
(۵) الاثر الخامس
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، عَدَلْنَ بِمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.
رواہ ابن ابی شیبۃ فی ’’المصنف‘‘(127/2)قال:حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَن عبدالرحمن بہ.
عبدالرحمن بن الاسودرحمہ اللہ کےا ثر کا مفہوم وہی ہے جو دوسرے آثار کا ہے۔ عبدالرحمٰن aبھی تابعین میں سے ہیں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پیداہوئے اور اسی زمانہ میں ان کے والد محترم وفات پاگئے تھے۔ اس لئے انہیں صحابہ کرام میں ذکرکیاگیا ہے۔ آپ ثقہ ہیں اور صحیح بخاری کے راوی ہیں۔(تقریب (۴۲۳۷)آپ ہی نے اپنے والدمحترم کے واسطے سے سیدہ عائشہrکا اس مضمون کا اثر روایت کیا ہے۔
یہ تمام آثار موقوف ہیں جیسا کہ ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ حکما مرفوع کےدرجےمیں ہیں ،علاشہ الشیخ البانیaیہی بات ارشاد فرماتے ہیں چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
ان تمام صحابہ کرام yسے یہ حدیث سنداصحیح ہے،ابن ابی شیبہ نے عائشہ،ابن مسعودرضی اللہ ، مجاہدرحمہ اللہ بن الاسودرحمہ اللہ وغیرھم سے موقوفا یہ روایات مروی ہیں اور ان سب کے اسانید صحیح ہیں اور اگرچہ یہ روایات موقوف ہیں لیکن یہ حکما مرفوع کے درجہ میں ہیں کیونکہ صحابہ کرام نے اپنی رائے سے اس بات کو ذکر نہیں فرمایا جیسا کہ ظاہر ہے۔(سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ ،الرقم:5060)
خلاصہ کلا م یہ ہے کہ اتنے قلیل عمل پر اس قدر کثیر اجرعطافرماتاہے،لہذا اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ساری سنن رواتب کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالاچاررکعات کا بھی اہتمام کرناچاہئے تاکہ روزِ قیامت کیلئے ڈھیرساری نیکیاں ذخیرہ کرلی جائیں، جہاں ایک ایک نیکی کی بڑی اہمیت ہوگی۔اور جہاں بندہ واپس دنیا کی طرف جانے کی تمناکرے گا،محض مزید نیکیاں کمانے کیلئے:
[فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰ ]

About ڈاکٹرابوجابرعبداللہ دامانوی

جواب دیجئے