Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » مدیر منتظم کا ایڈیٹر ’’اردو ڈائجسٹ‘‘لاہور کے نام مراسلہ

مدیر منتظم کا ایڈیٹر ’’اردو ڈائجسٹ‘‘لاہور کے نام مراسلہ

محترم ایڈیٹر’’اردوڈائجسٹ‘‘لاہور
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیریت طرفین مطلوب من اللہ عزوجل
جناب عالی! میں ایک مذہبی رسالے’’ماہنامہ دعوت اہل حدیث‘‘ کامدیرمنتظم ہوں اور آپ کے مؤقر مجلہ’’اردوڈائجسٹ‘‘ کامستقل قاری ہوں، بلاشبہ اردوڈائجسٹ نوجوانوںکے قلوب واذہان میں اسلام کی محبت اور پاکستان کے پیار کی آبیاری کررہاہے۔نیز وطن عزیز میں علم وادب کے فروغ اور سیاسی ومعاشرتی شعور اجاگر کرنے میں اس ماہنامے کی خدمات محتاجِ بیان نہیں۔اردوڈائجسٹ کا یہ مطالعہ مجھے اپنے والدگرامی aسے ورثہ میں ملاہے،والدمحترم اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کا مطالعہ باقاعدگی سے فرمایاکرتے، میں نے بھی ان کےنقش قدم پر چلتے ہوئے دونوں ڈائجسٹ کا مطالعہ شروع کردیا۔ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کامطالعہ تو جاری نہیں رکھ سکا، البتہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘سے بحمدللہ تعلق برقرارہے، بس کمی یہ ہے کہ آپ محترم سے رابطہ نہیں ہوپاتا، مگر اس مرتبہ آپ سے رابطہ کیلئے قلم وقرطاس اٹھانے پرمجبور ہوگیا اور اس کا سبب ’’اردوڈائجسٹ‘‘ ستمبر2017ء کے صفحہ 144پر شایع ایک کالمی پیراگراف بنا، جس میں ’’مال کاصدقہ‘‘ کے عنوان کے تحت سیدنا ثعلبہ بن حاطبtکی طرف منسوب ایک واقعہ سپردقرطاس کیا گیا ہے۔1
محترم!یہ واقعہ اسنادی اعتبار سے ثابت نہیں، باقی رہا ہمارے اسلاف واکابرین کا اس واقعہ کو اپنی تفاسیر وتصانیف اور تالیفات میں ذکر کرنا، تویقینا اس میں ان کی غلطی نہیں بلکہ انسانی سہو ہے، جبکہ دین اسلام میں تحقیق وآگاہی کاباب ہمیشہ کیلئے واہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا بھی فرمان ہے:[وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ۝۷۶ ] (یوسف:۷۲) یعنی: ہر عالم سے بڑا عالم موجود ہے۔یعنی اگر ایک عالم نے اگر کوئی دینی خدمت انجام دی اور اس میں کوئی سقم رہ گیا تو اس سقم کو رفع کرنے کاکام اس سے بڑا کوئی اور عالم انجام دے سکتا ہے۔ لہذا صحیح تحقیق سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سیدناثعلبہ بن حاطبtکی طرف منسوب یہ واقعہ اسنادی اعتبار سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا، لہذا یہ واقعہ من گھڑت ہے۔
اب آیئے اس واقعہ کی اسنادی تحقیق کاتذکرہ کرتے ہیں۔
یہ واقعہ تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ تفسیر ابن جریر طبری (131, 130,10) اور ابن ابی حاتم الرازی (1849-1847-6) مذکور ہے، اس کی سند یوںہے:
معان بن رفاعۃ عن علی بن یزید عن ابی عبدالرحمٰن القاسم بن عبدالرحمٰن عن ابی امامۃ الباھلی رضی اللہ عنہ …(تفسیر ابن کثیر 416/3)
تفسیر ابن کثیر پر تحقیق کاکام کرنے والے محقق جناب عبدالرزاق المہدی لکھتےہیں:
اسنادہ واہ بمرۃ والمتن باطل….واسنادہ ضعیف جدا.
یہ انتہائی کمزور سند ہے اور یہ متن باطل ہے۔ اور اس کی سند سخت ضعیف ہے۔(حاشیہ تفسیر ابن کثیر717/3)
اس کاراوی علی بن یزید الہانی سخت ضعیف راوی ہے، اس کے متعلق امام بخاریaفرماتے ہیں:’’منکرالحدیث‘‘
(کتاب الضعفاء:79)
یاد رہے کہ امام بخاری جس راوی سے متعلق منکرالحدیث کہیں تو اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے۔(لسان المیزان 20/1)
اسی راوی سے متعلق امام نسائیaنے فرمایا:
’’متروک الحدیث‘‘(کتاب الضعفاء والمتروکین ،ص:432)
جبکہ متروک راوی کی روایت بغیر تنبیہ (خبردار) کیے بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث (ص:38)
اس سند کا دوسرا راوی ،معان بن رفاعہ :لین الحدیث (یعنی ضعیف) ہے۔ (التقریب :6747)
معلوم ہوا یہ روایت غیرثابت وموضوع ہے لہذا سیدنا ثعلبہ بن حاطبtکے بارے میں یہ قصہ بے بنیاد وباطل ہے اورصحابی اس من گھڑت واقعہ سے قطعی طور پر بری ہیں۔
عرب عالم دین عداب محمود الحمش نے اس واقعہ کو من گھڑت ثابت کرنے کیلئے مکمل کتاب بنام’’ثعلبہ بن حاطب، الصحابی المفتری علیہ‘‘ لکھی ہے۔
شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجرaکےنزدیک بھی ثعلبہ بن حاطب الانصاری، صحابی ہیں۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،ص:156)
جبکہ اس روایت کے تمام شواہد بھی باعتبار سند ضعیف وغیرثابت ہیں۔
محترم ایڈیٹر!واقعہ کی تحقیق آپ کے پیش نظر ہے، یقینا ماہِ ستمبر2017ء کے’’اردوڈائجسٹ‘‘ میں لاعلمی میں سہواً یہ واقعہ شایع ہوگیا ہے،لہذا اس حوالہ سے بندۂ احقر کی یہ چند معروضات اپنے مؤقر ڈائجسٹ میں شایع فرمادیجئے تاکہ معزز قارئین کی اس واقعہ سے متعلق اصلاح ہوجائے۔اللہ ہماراحامی وناصرہو۔
خیراندیش:
ذوالفقار علی طاہر

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے