Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » منہج سلف ہی میں عافیت ہے

منہج سلف ہی میں عافیت ہے

سلف صالحین کے منہج کو اپنانے میں ہی عافیت ہے اسی پر اعتماد کیاجائے اور اسی کومضبوطی سےتھاماجائے، منہج سلف اصل میں’’سبیل المؤمنین‘‘ ہی کانام ہے جس کی اتباع کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جس کی مخالفت پر جہنم کی وعید سنائی ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۝۱۱۵ۧ ](النساء:۱۱۵)
ترجمہ:جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے ۔
اس آیت میں ان لوگوں کیلئے سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سلف صالحین کے منہج ومسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں:[وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ ] کی تفسیر میں اہل سنت کے امام محمد بن جریر الطبریa (المتوفی: ۳۰۱ھ)رقمطراز ہیں:
یقول:ویتبع طریقا غیر طریق اہل التصدیق ویسلک منھاجا غیر منھاجھم وذلک ھو الکفر باللہ لان الکفر باللہ وبرسولہ غیر سبیل المؤمنین وغیر منھاجھم.(جامع البیان 156/4)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور وہ اہل تصدیق کے راستے کے علاوہ کسی راستے کی پیروی کرے اور ان کے منہج کو چھوڑ کر کسی اور منہج پر چلے۔ اور یہی تو اللہ کے ساتھ کفر ہے کیونکہ مومنوں کے راستے اور ان کے منہج کو چھوڑنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر ہے۔
دنیا میں نظرآنے والے جتنے ہی گمراہ فرقے ہیں سب منہج سلف سے انحراف ہی کا نتیجہ ہیں کسی نےعقل کو معتبر سمجھا تو کسی نے تقلید شخصی میں عافیت جانی کوئی خواہش نفس کے پجاری بنے لیکن الحمدللہ اہل حدیث کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ منہج سلف کے پیروہیں اور اسی کے داعی وعلمبردار ہیں وہ اپنی عقل ودانش کی بنیاد پر یا تقلید شخصی کی پٹی باندھ کر یا خواہش نفس کےپجاری بن کر دین کو نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک سلف صالحین کا منہج ہی اسلم واحکم ہے اور اسی پر اکتفاکرتے ہیں اور اسی کی روشنی میں دین کو سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ منہج سلف صالحین کو اپنانے میں عافیت اور بھلائی ہے اور ہر گمراہی سے بچنے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔
مورخ دیارمصرعلامہ مقریزیa(المتوفی ۸۴۵ھ)لکھتے ہیں:
واصل کل بدعۃ فی الدین البعد عن کلام السلف والانحراف عن اعتقاد الصدر الاول.
(المواعظ والاعتبار 198/4)
او ردین میں ہر بدعت کی جڑ کلام سلف سےد وری اور صدر اول کے عقیدے سے انحراف ہی بنتی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(المتوفی:۷۲۸ھ)کے دور میں بعض لوگوں نے منہج سلف پر اٹیک کرتے ہوئے یہ شوشاچھوڑا کہ منہج سلف زیادہ سلامتی والاہے جبکہ منہج خلف زیادہ علم پر مبنی اور ٹھوس ہے، مطلب یہ تھا کہ سلف صالحین کا منہج اگرچہ سلامتی والاتھالیکن بعد والوں کا منہج زیادہ قوی اور مضبوط ہے اس لئے یہی منہج اپناناچاہئے اس موقع پر شیخ الاسلام کا قلم حرکت میں آیا اور انہوں نے فرمایا:
وَلَا يَجُوزُ أَيْضًا أَنْ يَكُونَ الْخَالِفُونَ أَعْلَمَ مِنْ السَّالِفِينَ كَمَا قَدْ يَقُولُهُ بَعْضُ الْأَغْبِيَاءِ مِمَّنْ لَمْ يُقَدِّرْ قَدْرَ السَّلَفِ؛ بَلْ وَلَا عَرَفَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ بِهِ حَقِيقَةَ الْمَعْرِفَةِ الْمَأْمُورِ بِهَا: مِنْ أَنَّ ” طَرِيقَةَ السَّلَفِ أَسْلَمُوَطَرِيقَةَ الْخَلَفِ أَعْلَمُ وَأَحْكَمُ ” – وَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْعِبَارَةُ إذَا صَدَرَتْ مِنْ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ قَدْ يَعْنِي بِهَا مَعْنًى صَحِيحًا. فَإِنَّ هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعِينَ الَّذِينَ يُفَضِّلُونَ طَرِيقَةَ الْخَلَفِ مِنْ الْمُتَفَلْسِفَةِ وَمَنْ حَذَا حَذْوَهُمْ عَلَى طَرِيقَةِ السَّلَفِ: إنَّمَا أَتَوْا مِنْ حَيْثُ ظَنُّوا: أَنَّ طَرِيقَةَ السَّلَفِ هِيَ مُجَرَّدُ الْإِيمَانِ بِأَلْفَاظِ الْقُرْآنِ وَالْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِ فِقْهٍ لِذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّيِّينَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ فِيهِمْ: {وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إلَّا أَمَانِيَّ} وَأَنَّ طَرِيقَةَ الْخَلَفِ هِيَ اسْتِخْرَاجُ مَعَانِي النُّصُوصِ الْمَصْرُوفَةِ عَنْ حَقَائِقِهَا بِأَنْوَاعِ الْمَجَازَاتِ وَغَرَائِبِ اللُّغَاتِ. فَهَذَا الظَّنُّ الْفَاسِدُ أَوْجَبَ ” تِلْكَ الْمَقَالَةَ ” الَّتِي مَضْمُونُهَا نَبْذُ الْإِسْلَامِ وَرَاءَ الظَّهْرِ وَقَدْ كَذَبُوا عَلَى طَرِيقَةِ السَّلَفِ وَضَلُّوا فِي تَصْوِيبِ طَرِيقَةِ الْخَلَفِ.
(مجموع الفتاویٰ 8/5الفتاویٰ الحمویۃ الکبری189,185/5)
اور اسی طرح یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ سلف کےمقابلے میںخلف زیادہ علم وا لے ہیں جیسا کہ بعض بے وقوف قسم کے لوگ جنہیں سلف کی قدر نہیں بلکہ انہیں تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی بھی حقیقی معرفت نہیں۔کہتے ہیں کہ منہج سلف زیادہ سلامتی والاہے اور منہج خلف زیادہ علم والااور زیادہ مضبوط ہے یہ بدعتی لوگ منہج خلف کومنہج سلف پر فوقیت اور فضیلت دیتے ہیں انہوںنے محض اپنے گمان سے یہ بات کہی ہے کہ منہج سلف قرآن وحدیث کے صرف الفاظ پر بغیر ان کی سمجھ بوجھ حاصل کیے ان پڑھ لوگوں کی طرح ایمان لانے کانام ہےجن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اور ان میں سے بعض ان پڑھ ہیں جو کتاب کو نہیں جانتے سوائے جھوٹی آروزؤں کے‘‘اور منہج خلف جو ہے وہ مجاز کی مختلف اقسام اور پیچیدہ قسم کی لغات کےذریعے ان نصوص کے معانی کا استخراج ہے جن میں حقیقی معنی مراد نہیں ہوتا یہ غلط سوچ ہی اس بات کا موجب بنی ہے جو اسلام کو پس پشت ڈالنے پر مبنی ہے بلاشبہ ان لوگوں نے منہج سلف کے متعلق جھوٹ بولاہے اور منہج خلف کو درست قرار دینے میں گمراہی کا شکارہوئے ہیں۔ یہ لوگ بیک وقت دوجہالتوں کا شکار ہوئے ہیں ایک تو جہالت کے سبب انہوں نے سلف کے منہج پرجھوٹ باندھا اور دوسراخلف کے منہج کو درست قرار دے کر جہالت وگمراہی میں مبتلاہوئے۔
علامہ ابن ابی العزa(المتوفی ۷۹۲ھ)فرماتے ہیں:
وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيَ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ، فَبُعِثَ بِالْعُلُومِ الْكُلِّيَّةِ وَالْعُلُومِ الأولية والأخروية عَلَى أَتَمِّ الْوُجُوهِ، وَلَكِنْ كُلَّمَا ابْتَدَعَ شَخْصٌ بِدْعَةً اتَّسَعُوا فِي جَوَابِهَا، فَلِذَلِكَ صَارَ كَلَامُ الْمُتَأَخِّرِينَ كَثِيرًا، قَلِيلَ الْبَرَكَةِ، بِخِلَافِ كَلَامِ الْمُتَقَدِّمِينَ، فَإِنَّهُ قَلِيلٌ، كَثِيرُ الْبَرَكَةِ، [لَا] كَمَا يَقُولُهُ ضُلَّالُ الْمُتَكَلِّمِينَ وَجَهَلَتُهُمْ: إِنَّ طَرِيقَةَ الْقَوْمِ أَسْلَمُ، وَإِنَّ طَرِيقَتَنَا أَحْكَمُ وَأَعْلَمُ! وَلا كَمَا يَقُولُهُ مَنْ لَمْ يُقَدِّرْهُمْ مِنَ الْمُنْتَسِبِينَ إِلَى الْفِقْهِ: إِنَّهُمْ لَمْ يَتَفَرَّغُوا لاستنباط الفقه وَضَبْطِ قَوَاعِدِهِ وَأَحْكَامِهِ اشْتِغَالًا مِنْهُمْ بِغَيْرِهِ! وَالْمُتَأَخِّرُونَ تَفَرَّغُوا لِذَلِكَ، فَهُمْ أَفْقَهُ!
فَكُلُّ هَؤُلَاءِ مَحْجُوبُونَ عَنْ مَعْرِفَةِ مَقَادِيرِ السَّلَفِ، وَعُمْقِ عُلُومِهِمْ، وَقِلَّةِ تَكَلُّفِهِمْ، وَكَمَالِ بَصَائِرِهِمْ, وَتَاللَّهِ مَا امْتَازَ عَنْهُمُ الْمُتَأَخِّرُونَ إِلَّا بِالتَّكَلُّفِ وَالِاشْتِغَالِ بِالْأَطْرَافِ الَّتِي كَانَتْ هِمَّةُ الْقَوْمِ مُرَاعَاةَ أُصُولِهَا، وَضَبْطَ قَوَاعِدِهَا، وَشَدَّ مَعَاقِدِهَا، وَهِمَمُهُمْ مشمَّرة إِلَى الْمَطَالِبِ الْعَالِيَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ, فَالْمُتَأَخِّرُونَ1 فِي شَأْنٍ، وَالْقَوْمُ فِي شَأْنٍ آخَرَ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا.(شرح العقیدۃ الطحاویۃ ،ص:۷۶)
ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع،کامل اور واضح کلمات عطا فرمائے گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کو کلی اور کامل ترین شکل میں دنیاوی واخروی علوم دےکر مبعوث فرمایاگیا۔ متاخرین نےجب کسی شخص کو کسی بدعت کا مرتکب دیکھا تو اس بارے میں لمبے تڑنگے رُدُود شروع کردیے، اس طرح متاخرین کی کلام مقدار میں بہت تھوڑی اور برکت میں بہت زیادہ تھی۔ گمراہ اور جاہل متکلمین کی یہ بات یکسر غلط ہے کہ سلف صالحین کا منہج زیادہ سلامتی والاہے ،جبکہ ان کا اپنا منہج زیادہ علم پر مبنی ٹھوس ہے۔ اسی طرح نام نہاد فقیہوں ،جن کو سلف صالحین کی قدرمعلوم نہیںہوسکی، ان کی یہ بات بھی صحیح نہیں کہ سلف صالحین کو فقہی استنباطات کرنے اور فقہی قواعد واحکام کی تشکیل کرنے کی اتنی فرصت نہیں ملی جتنا وہ اور کاموں میں مشغول رہے جبکہ متاخرین نے ان کاموں کے لیے وقت نکالا، چنانچہ وہی زیادہ فقہ والے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والے تمام لوگ سلف صالحین کی صحیح قدر وقیمت ،ان کے علوم کی گہرائی ان کےعدم تکلف اور ان کی کمال بصیرت سے لاعلم ہیں۔ اللہ کی قسم! متاخرین کو متقدمین سے اگر کسی چیز میں امتیاز حاصل ہے تو وہ تکلف کرنے اور ان چیزوں کی فروعات میں مشغول ہونے میں حاصل ہے کہ سلف کا اہتمام جن کے اصول میں مصروف ہونے ان کے قواعد کو مرتب کرنے اور ان کے ضوابط کو مقرر کرنے کا تھا، سلف صالحین ہر چیز کے بارے میں بلند مقاصد حاصل کرنے کے ارادے رکھتے تھے یوں متقدمین اور متاخرین کی مصروفیات جداجداہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
مشہور مفسرعلامہ محمد امین شنقیطیa(المتوفی :۱۳۹۳ھ) فرماتے ہیں:
ان مذھب السلف أسلم ،وأحکم ،وأعلم، وقولھم: مذھب السلف أسلم إقرار منھم بذلک، لأن لفظ [أسلم] صیغۃ تفضیل من السلامۃ مما کان یفضل غیرہ ویفوقہ فی السلامۃ، فھو أحکم وأعلم، وبہ یظھر أن قولھم: ومذھب الخلف أحکم وأعلم، لیس بصحیح ، بل الأحکم الأعلم ھو الأسلم، کما لایخفی.(آداب البحث والمناظرہ:136/2)
بے شک سلف صالحین کا مذہب ہی زیادہ سلامتی والاہے اور وہی زیادہ ٹھوس اور علم پر مبنی ہے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ سلف کامذہب زیادہ سلامتی والاہے‘‘یہ ان کی طرف سے ہماری ذکر کردہ بات کا اقرار ہے، کیونکہ (اسلم)اسم تفضیل کا صیغہ ہے(زیادہ سلامتی والا) جوچیز کسی دوسری چیز کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والی اور زیادہ سلامتی والی ہووہی زیادہ ٹھوس اور زیادہ علم پر مبنی ہوگی اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ خلف کا مذہب زیادہ ٹھوس اور زیادہ علم پر مبنی ہے بلکہ ظاہر ہے کہ جو چیز زیادہ ٹھوس اور زیادہ علم پر مبنی ہو وہ ہی زیادہ سلامتی والی ہوتی ہے۔
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ(المتوفی ۱۴۲۱ھ)فرماتےہیں:
فتبين بهذا أن هؤلاء المحرفين على ضلال، وأن من قال: إن طريقتهم أعلم وأحكم، فقد ضل. ومن المشهور عندهم قولهم: طريقةالسلف أسلم وطريقة الخلف أعلم وأحكم، وهذا القول على ما فيه من التناقض قد يوصل إلى الكفر، فهو:
أولا: فيه تناقض، لأنهم قالوا: طريقة السلف أسلم، ولا يعقل أن تكون الطريقة أسلم وغيرها أعلم وأحكم، لأن الأسلم يستلزم أن يكون أعلم وأحكم، فلا سلامة إلا بعلم بأسباب السلامة وحكمة في سلوك هذه الأسباب.
ثانيا: أين العلم والحكمة من التحريف والتعطيل؟
ثالثا: يلزم منه أن يكون هؤلاء الخالفون أعلم بالله من رسوله صلى الله عليه وسلم وأصحابه; لأن طريقة السلف هي طريقة النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه.
رابعا: أنها قد تصل إلى الكفر; لأنها تستلزم تجهيل النبي صلى الله عليه وسلم وتسفيهه; فتجهيله ضد العلم، وتسفيهه ضد الحكمة، وهذا خطر عظيم. فهذه العبارة باطلة حتى وإن أرادوا بها معنى صحيحا; لأن هؤلاء بحثوا وتعمقوا وخاضوا في أشياء كان السلف لم يتكلموا فيها; فإن خوضهم في هذه الأشياء هو الذي ضرهم وأوصلهم إلى الحيرة والشك، وصدق النبي صلى الله عليه وسلم حين قال: ” هلك المتنطعون "، فلو أنهم بقوا على ما كان عليه السلف الصالح ولم يتنطعوا، لما وصلوا إلى هذا الشك والحيرة والتحريف….
(القول المفید علی کتاب التوحید،ص:672,671)
اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ صفات باری تعالیٰ میںتحریف کرنے والے یہ لوگ گمراہی پر ہیں جو شخص کہتا ہے کہ ان محرفین کا طریقہ زیادہ علم پر مبنی اورٹھوس ہے وہ بھی گمراہی ہے ان کا یہ قول مشہور ہے کہ سلف صالحین کا منہج زیادہ سلامتی والاجبکہ متاخرین کا منہج زیادہ علم پر مبنی اور ٹھوس ہے یہ قول متناقض ہونے کے ساتھ ساتھ کفر تک پہنچادیتا ہے اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ متناقض ہے خود وہ کہتے ہیں کہ سلف کا منہج زیادہ سلامتی والاہے یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ زیادہ سلامتی والامنہج تو سلف والوں کا ہولیکن زیادہ علم پر مبنی اورٹھوس وہ منہج ہو جو ان کے خلاف ہو زیادہ سلامتی والاہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ہی زیادہ علم پر مبنی اور زیادہ ٹھوس بھی ہو۔ سلامتی تو اس وقت ہوگی جب سلامتی کے اسباب کا علم ہوگا اور ان اسباب کو اپنانے میں حکمت بھی ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں تحریف اور تعطیل کرنے میں کونسا علم اور کونسی حکمت پنہاں ہے؟ تیسری بات یہ ہے کہ اس نظریے سے متاخرین کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے زیادہ معرفت الٰہی کا حامل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ سلف کا طریقہ تو وہی تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا تھا۔ چوتھی بات یہ ہے کہ یہ نظریہ کفر میں دھکیل دیتا ہے کیونکہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جہالت وعدم حکمت کافتویٰ لازم آتا ہے کیونکہ علم نہ ہونا جہالت اور حکمت نہ ہونا عدم حکمت ہے۔[اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم وحکمت تھی تو سلف صالحین اسی منہج پر چل کر اس سے خالی کیوں تھے] لہذا یہ بات خطرناک اورباطل عبادت ہے، اگرچہ وہ ا س سے کوئی صحیح معنی مراد لیتے ہوں، کیونکہ ان متاخرین نے ان چیزوں میں بحث وتفتیش اور غوروفکر شرو ع کیا ہے۔ جن کے بارے میں سلف صالحین نے کلام نہیں فرمائی۔ ان چیزوں میں غوروفکر کرنے اور انہیں نقصان سے دوچارکرتے ہوئے حیرانی وشک میں مبتلا کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے کہ غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے۔(صحیح مسلم:۲۶۷۰) اگر یہ لوگ سلف صالحین کے منہج پر ہی قائم رہتے اور غلو سے کام نہ لیتے تو وہ اس پریشانی وشک کی دلدل میں نہ گرتے۔
علمائے کرام کی ان محولہ عبارتوں سے پتہ چلا کہ منہج سلف ہی زیادہ سلامتی والازیادہ ٹھوس اور زیادہ علم پر مبنی ہے اسی کو اختیار کیاجائے اسی کو اپنایاجائے اس کے علاوہ کوئی اور منہج نہ تو سلامتی والاہوسکتا ہے اور نہ ہی زیادہ ٹھوس اور علم پرمبنی ہوسکتا ہے۔
امام اہل الشام ابوعمرو الاوزاعیa(المتوفی:۱۵۷ھ)ناصحانہ انداز میں فرماتے ہیں:اصبرنفسک علی السنۃ وقف حیث وقف القوم وقل بماقالوا وکف عما کفوا عنہ واسلک سبیلک سلفک الصالح فانہ یسعک ماوسعک.(حلیۃ الأولیاء61,60/5وسندہ صحیح)
سنت پر ڈٹ جاوہیں ٹھہرجہاں[سلف] لوگ ٹھہریں ہیں وہی کہہ جو انہوں نے کہا جس چیز سے وہ رُکےہیں تو بھی اس سے رُک اور اپنے سلف صالحین کی راہ پر چل اس لیے کہ جو چیز[قرآن وحدیث] ان کو کافی ہوئی تھی تجھے بھی کافی ہوجائے گی۔
ثقہ عابد امام عبداللہ بن داؤد رحمہ اللہ(المتوفی:۲۱۳ھ)فرماتے ہیں:
واللہ لوبلغنا ان القوم لم یزیدوا فی الوضوء علی غسل اظفارھم لما زدنا علیہ.
(الفقیہ والمتفقہ:403وسندہ صحیح)
اللہ کی قسم اگرہمیں یہ بات پہنچے کہ سلف صالحین نے وضومیں صرف اپنے ناخن دھوئے ہیں تو ہم اس سے زیادہ نہیں کریں گے۔
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس فرمان سے امام موصوف کی مراد یہ ہے کہ دین[سلف صالحین کی] پیروی کا نام ہے۔
جرح وتعدیل کے مشہور امام محمد بن ادریس ابوحاتم الرازی a(المتوفی:۲۷۷ھ)فرماتے ہیں:
الْعِلْمُ عِنْدَنَا مَا كَانَ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ كِتَابٍ نَاطِقٍ , نَاسِخٍ غَيْرِ مَنْسُوخٍ , وَمَا صَحَّتِ الْأَخْبَارُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَا مُعَارِضَ لَهُ , وَمَا جَاءَ عَنِ الْأَلِبَّاءِ مِنَ الصَّحَابَةِ مَا اتَّفَقُوا عَلَيْهِ , فَإِذَا اخْتَلَفُوا لَمْ يَخْرُجْ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ فَإِذَا خَفِي ذَلِكَ وَلَمْ يُفْهَمْ فَعَنِ التَّابِعِينَ , فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ عَنِ التَّابِعِينَ , فَعَنْ أَئِمَّةِ الْهُدَى مِنْ أَتْبَاعِهِمْ مِثْلِ: أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ , وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , وَسُفْيَانَ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , وَالْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ , ثُمَّ مِنْ بَعْدُ , مَا لَمْ يُوجَدْ عَنْ أَمْثَالِهِمْ , فَعَنْ مِثْلِ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ , وَيَحْيَى بْنِ آدَمَ , وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , وَوَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ , وَمَنْ بَعْدَهُمْ: مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ , وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ , وَالْحُمَيْدِيِّ , وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ , وَأَبِي عُبَيْدٍ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَّامٍ ”
(الفقیہ والمتفقہ:454وسندہ صحیح)
ہمارے نزدیک اصل علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ناطق(قرآن مجید) کی صورت میں غیرمنسوخ ہو اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وہ صحیح احادیث جوغیرمعارض ہوں اور وہ اتفاقی مسائل جو صحابہ سے منقول ہیں لیکن جب ان کااختلاف ہوتوبھی کوئی مسلمان ان کے اختلاف سے باہر نہیں نکل سکتا(یعنی ان کے اختلافی اقوال میں سے کسی ایک کو لے گا نہ کہ اپنے پاس سے کوئی قول گھڑے گا) جب صحابہ سے ایسا کچھ نہ ملے تو پھرتابعین سے جب تابعین سے کچھ نہ ملے تو تبع تابعین کے آئمہ ہدی سے جیسا کہ ایوب سختیانی،حماد بن زید، حماد بن سلمہ، سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی اور حسن بن صالح Sہیں۔ پھر جب ان جیسے آئمہ سے بھی کچھ نہ ملے تو عبدالرحمٰن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک، عبداللہ بن ادریس، یحی بن آدم، سفیان بن عیینہ، وکیع بن جراح اور ان کے بعد والے مثلاً:محمد بن ادریس شافعی، یزید بن ھارون، حمیدی، احمد بن حنبل،اسحاق بن راہویہ حنظلی اور ابوعبیدقاسم بن سلامSکی طرف رجوع کیاجائے گا۔
خطیب بغدادی اس عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میں کہتاہوں ابوحاتم نے یہ نام اس لئے ذکر کیے ہیں کہ یہ اپنے زمانے کے مشہور آئمہ محدثین تھے اور ہردور میں ان جیسے اور بھی اہل نظر واجتہاد موجود رہے ہیں، چنانچہ جس بات پر یہ سب اجماع کرلیں تووہ حجت ہے اور ان کے اجماع کے بعد اجتہاد ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح جب ان سے کسی مسئلے میں اختلاف کرتے ہوئے دوقول منقول ہوں تو بعد والوں کے لیے کوئی تیسرا قول نکالنا جائز نہیں اس بات کی وضاحت ہم ان شاءاللہ بعد میں کریں گے۔

About شیخ محمدارشدکمال

جواب دیجئے