Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ نومبر » سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ

سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ

آغوش نبوت کی پروردہ ہستیاں ،آسمانِ رسالت کے چمکتے ستارے، مدرسہ نبوی کے تربیت یافتہ اور لشکر اسلام کے عظیم شاہسوار، شجاعت،بہادری اور جرأت میں بے مثال،غزوۂ احد میں مہارت، جرأت مندی اوربہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے مجاہدین کا شیرازہ بکھیرنے والے جوانِ رعنا…..غزوۃ موتہ میں اپنی شجاعت اور حسن تدبیر سے مٹھی بھرمجاہدین کو دشمن کےنرغے سے سلامتی وحفاظت سے نکال لانے والے جوان مرد…..مدبر قائد …..روم وفارس کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردینے والےعظیم جرنیل…..میدان کارزار میں دشمنوں کی صفوں کو چیرنے والےایک بہادر ونڈر جنگجو….. اعدائے اسلام کے سروں پرلٹکنے والی شمشیرِ نیام….. جسےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ(اللہ کی تلوار) کالقب دیا۔
خالد بن ولید سیف من سیوف اللہ.
خالد بن ولید اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔
سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ بچپن ہی سے نہایت پھرتیلے ،چاق وچوبند اور جرأت مند تھے۔
قبیلہ بنومخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کےفرزند ارجمند ہونے کے سبب ہرفرد کی آنکھ کاتارا تھے۔
خالد جیسا انسان اسلام سے ناواقف نہیں رہ سکتا۔(فرمان نبوی)
8ہجری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر بیعت کی اور مسلمانوں کی صف میں شامل ہوگئے۔
الحمدللہ الذی ھداک قدکنت اری لک عقلا ورجوت ان لا یسلمک إلا خیر.
تمام تعریفات اس اللہ کیلئے جس نے تجھے ہدایت دی،میں تجھے عقل مند دیکھ رہاتھا،مجھے امید تھی کہ تیری عقل ودانش مندی تجھے خیر کی طرف راہنمائی کردیگی۔(فرمان نبوی)
خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ ہر جنگ میں آگے آگے رہے جنگ موتہ کے بارے میں خود فرماتے ہیں:
لقد اندق فی یدی یوم (موتۃ) تسعۃ اسیاف، فما تثبت فی یدی الا صفیحۃ لی یمانیۃ .
جنگ یمامہ میں میرے ہاتھوں نوتلواریں ٹوٹیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
جنگ موتہ وہ جنگ ہے جس کا منظر کچھ اس طرح ہے کہ زید بن حارثہرضی اللہ عنہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے اور ان کے بعد جعفر بن ابی طالبرضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا اور لڑناشروع کیا، جب لڑائی نے زورپکڑا تو وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور دیوانہ واردشمن کی صفوں میں گھس گئے اور شہید ہوگئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہt نے قیادت سنبھالی اور شہادت پائی۔
اب مسلمانوں کے لشکر میں کوئی سردار ایسا نہ تھا جو ان میں نظم قائم رکھتا اورمقصدبجالاتا جس کیلئے اس لشکرکوبھیجاگیاتھا۔ مسلمان اس صورت حال سے بہت پریشان ہوئے ۔دشمن کے مقابلے میں ان کی حیثیت آٹے میں نمک کی سی تھی۔ اس نازک موقع پر مسلمانوں کی نظریں سیدنا خالد بن ولید tپر پڑیں او ر انہیں قائدمنتخب کیا۔اس موقع پر خالد بن ولیدtکی حربی صلاحیتیں ظاہوئیں او رانہوںنے لشکر کو تباہی سے بچانے او اسے دشمن کے نرغے سے نکال لانے میں حیرت انگیز طور پرکامیابی حاصل کی۔
جس وقت یہ معرکہ ہورہاتھا مسلمانوں کے سردار یکے بعد دیگرے شہیدہورہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تمام ماجرابذریعہ وحی بتارہاتھا اور آپ صحابہ سے سرداروں کی شہادت کا حال بیان کررہے تھے۔ جب خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے جھنڈا ہاتھ میں لیا۔وہ مقرر کردہ قائدین میں سے نہیں تھے بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو قائد بنالیاہے،آپ نے فرمایا:اےاللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ اب تو ہی اس کی مدد فرما۔
اس دن سے آپ کالقب سیف اللہ(اللہ کی تلوار) پڑگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خالد بن ولید سیف من سیوف اللہ ،سلہ اللہ علی المشرکین .
خالد بن ولید اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ نے مشرکین پر مسلط کیا ہے۔
علامہ ذہبی فرماتے ہیں:سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نےساٹھ سال زندگی بسر کی،بڑے بڑے بہادروں کو تہہ تیغ کیا اور خودان کی موت بستر پر ہی واقع ہوئی۔
’’اللہ ذوالجلال والاکرام کی قسم! میں نے شوقِ شہادت کے جذبے سے اپنی زندگی میں بہت سی جنگیں لڑیں، میرے بدن کا کوئی جوڑ ایسا نہیں جس پر تیر یاتلوار کے زخم کانشان نہ ہو،لیکن ہائے افسوس! آج مجھے موت بستر پرآرہی ہے۔افسوس! شہادت کا خلعتِ زریں میرے نصیب میں نہ ہوسکا۔(خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ)

About محمداحسن عاقل

جواب دیجئے