Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » صحیفہ ھمّام بن منبہ ؒ اور اس کے رواۃ

صحیفہ ھمّام بن منبہ ؒ اور اس کے رواۃ

مشہور راویٔ حدیث اور صحابیٔ رسول سیدناابوھریرہ سے سینکڑوں لوگوں نےعلمی استفادہ کیا۔ آپ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام ھمام بن منبہؒ کا ہے، سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل وطن یمن تھا۔ آپ وہاں سے نقل مکانی کر کے مدینہ منورہ آئے اور بعدازقبول اسلام یہیں پر مکین ہوگئے۔
ہمام بن منبہؒ بھی یمن کے رہنےو الے تھے، مدینہ منورہ آئےتو ہم وطنی کی نسبت سے فطری طور پر ان کازیادہ رابطہ سیدناابوھریرہ tسے رہا اور انہوں نے ان سے خوب خوب استفادہ کیا۔
سیدناابوھریرہ نے اپنے اس ہم وطن نوجوان کے لئے ایک سوچالیس احادیث کا انتخاب کرکے ایک کتابچے کی صورت میں مرتب کرکے انہیں املاء کروادیا،یہی مجموعۂ حدیث ’’الصحیفۃ الصحیحۃ‘‘ یا صحیفہ ہمام بن منبہ ؒ کے نام سے اہل علمِ کے ہاں معروف ہے۔
ہمام بن منبہ ؒ نےاس صحیفے کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ عمر بھر اس کی تدریس اور روایت بھی کرتے رہے۔ آپ سے بہت سےلوگوں نے اس کا سماع کیا۔
آپ کے ایک شاگرد کانام معمر بن راشدیمنیaہے۔ وہ بھی اس صحیفے کی تدریس وروایت کرتے رہے۔ معمرؒ کے تلامذہ میں ایک نمایاں اور معتبر نام ممتاز صاحب علم، محدث عبدالرزاق بن ھمام بن نافع الحمیری رحمہ اللہ کا ہے۔ ان کاتعلق بھی یمن ہی سے تھا۔ ان کے بھی بے حد وبے شمار شاگردوں میں ایک انتہائی نمایاں نام مشہور امام ومحدث جناب احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ہے۔
انہوں نے بھی اس صحیفے کی تدریس وروایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی شہرۂ آفاق کتابِ حدیث’’مسند الامام احمد‘‘ میں مسند ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ کے ضمن میں یہ ساراصحیفہ شامل کرکے اسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا۔ یہ مکمل صحیفہ، مسندامام احمد کی جلددوم کے صفحہ ۳۱۲ تا۳۱۹پر ملاحظہ کیاجاسکتاہے۔

صحیفہ ھمّام بن منبہ ؒکے راوی

اس صحیفےکے اولین راوی سیدناابوھریرہ، ان کے بعدان کے شاگردسیدناھمام بن منبہرحمہ اللہ ،ان کے بعدان کے شاگردسیدنا معمر بن راشد، ان کے بعد ان کےشاگرد سیدناامام عبدالرزاق بن ھمام ،ان کے بعد امام اہل سنت امام احمد بن حنبل ہیں۔

امام احمد بن حنبل

امام ابوعبدالرحمٰن احمد بن حنبل الشیبانی، المروزی رحمہ اللہ بغداد میں164ھ کو پیدا ہوئے، اور اسی شہر میں77سال کی عمر میں241ھ کو وفات پائی۔
آپ فقہ اور حدیث کے امام، زہدوورع اور عبادت گزاری میں بلند درجے کے حامل تھے آپ نے بغداد میں نشونماپائی، وہاں کے اہل علم وفضل سے استفادہ کیا اور بعدازاں اس دور کے معروف مراکزِ علم میں جاکرعلومِ شریعت سے بہرہ ورہوئے۔
آپ دنیا کے مال اورجاہ وحشمت سے بالکل بے گانہ تھے۔ امام ابوداؤد سجستانی aکا بیان ہے کہ ان کی مجلس، آخرت کی مجلس ہوتی تھی، وہاں دنیا کی کوئی بات نہیں ہوتی تھی، میں نے انہیں کبھی دنیا کے مال ودولت کاذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حسن بن عبدالعزیزرحمہ اللہ کو ان کی وراثت کے حصے میں سے ایک لاکھ دینار ملے تو انہوں نے تین ہزار دینار پر مشتمل تین تھیلے امام صاحب کی خدمت میں بطورہدیہ پیش کیے اور کہا:ابوعبداللہ ! یہ خالصۃً حلال میراث میں سے ہیں، قبول فرمائیں۔
آپ نے فرمایا مجھے ان کی ضرورت نہیں، میں جس حال میں ہوں، ٹھیک ہوں، یہ کہہ کرآپ نے یہ خطیررقم واپس کردی۔
آپ کے فرزند جناب عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کو اکثر سناکرتاتھا کہ آپ نمازوں کے آخر میں دعاکیاکرتے تھے کہ : یااللہ! جس طرح تو نے میرے چہرے کو غیراللہ کےسامنے جھکنے سے محفوظ رکھا، اسی طرح مجھے غیر اللہ کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے محفوظ رکھ۔
آپ کےدور میں فتنہ خلق قرآن زوروں پر تھا،حکامِ وقت نےآپ سے قرآن کے مخلوق ہونے کا فتویٰ لیناچاہا،آپ نے اس سے انکار کیا، آپ کو اس کی پاداش میں کوڑوں کی سزا دی گئی، آپ نے شدید ترین عذاب اور تکلیف کوبرداشت کرلیا مگر خلقِ قرآن کااقرار نہ کیا۔
امام احمد بن محمد الکندی رحمہ اللہ کابیان ہے کہ انہوں نے خواب میں امام صاحب کو دیکھا تو پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کےساتھ کیا معاملہ کیا؟ تو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت کردی اور اللہ نے فرمایا،احمد! ادھر دیکھ-میں نے تیرے لئے اپنے چہرے کی طرف دیکھنے کومباح کردیا ہے۔(ماخوذ از الاکمال فی اسماء الرجال)

مسندالامام احمد بن حنبل

المسند،میں ہرصحابی کی مرویات کو اسماء صحابہ کی ترتیب سےا لگ الگ ذکرکیاجاتاہے، علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق مسند احمد میں904صحابہ وصحابیات سے احادیث مروی ہیں۔
مسنداحمد سب سے پہلے ہندوستان میں چھ ضخیم جلدوں میں طبع ہوئی تھی، مسنداحمد کا یہی نسخہ پوری علمی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی کے حاشیے پر ’’منتخب کنزل العمال فی سنن الاقوال والافعال‘‘ بھی مطبوع ہے۔
ساتویںصدی ہجری کے ناورمحدث حافظ ابوالحسن علی بن محمد الیونینی البعلبکی رحمہ اللہ ،المتوفی701ھ سے دریافت کیا گیا کہ آیا آپ کو کتب ستہ مکمل حفظ ہیں؟ فرمایا مکمل حفظ ہیں بھی اور نہیں بھی-پوچھاگیا وہ کیسے؟ فرمایامجھے مسنداحمد مکمل حفظ ہے اس میں چند روایات کے سوا کتب ستہ کی تمام احادیث موجود ہیں۔ گویا اس طرح مجھے مکمل کتب ستہ زبانی یاد ہیں۔

تبویب مسند احمد

چونکہ مسند احمد میں مندرج احادیث اسماء صحابہ کی ترتیب سے ہیں،اس میں فقہی ابواب کی ترتیب ملحوظ رکھی گئی، اس لئے اس میں کسی حدیث کو تلاش کرناخاص محنت طلب کام ہے۔
اس لئے متعدد اہل علم نے مسند احمد کو فقہی ابواب کی ترتیب سے مرتب کردیا ہے تاکہ کتاب سے استفادہ میں سہولت رہے۔
(۱) الکواکب الدراری فی ترتیب مسند الامام احمد علی ابواب البخاری للعلامۃ علی بن الحسین بن عروۃ الحنبلی رحمہ اللہ، المتوفی 837ھ
(۲) الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی للعلامۃ احمد بن عبدالرحمٰن البناّء الساعاتی رحمہ اللہ
(۳) المحصل لمسند الامام احمد للاستاذ، الشیخ عبداللہ بن ابراھیم بن عثمان الفرعادی حفظہ اللہ
(۴) تبویب المسند علی ترتیب الجامع الصحیح للبخاری للعلامۃ الحافظ عبدالحکیم نصیر آبادی الھندی رحمہ اللہ
شیخ الحدیث مولاناابو سعید شرف الدین الدھلویaنے اس کی شرح بھی کی تھی، اس کا ابتدائی حصہ طبع ہوا،اور باقی کتاب کا کچھ پتہ نہیں کہ کیاہوا؟

امام عبدالرزاق بن ھمام الیمنی

امام ،الحافظ ابوبکر عبدالرزاق بن ھمام بن نافع، الحمیری، الصنعانی، الیمنی کی ولادت126ھ کو ہوئی، آ پ نے طلب حدیث سے فراغت کے بعد حدیث وآثار کی ایک ضخیم کتاب مرتب فرمائی، اس کانام ’’المصنف‘‘ ہے۔ یہ بھی مطبوع اور مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
امام احمد بن حنبلaکا بیان ہے کہ ہمارے شیخ امام عبدالرزاق aکے گاؤں میں پانی کا ایک بھی کنواں نہیں تھا، ہم دو دو میل کا سفر طےکرکے وضوکرتے اور وہاں سے اپنے ساتھ پانی بھی لے کر آتے۔(مسنداحمد۳؍۲۹۷)

امام معمر بن راشد

ابوعروہ معمر بن راشدaاصلاً بصرہ کے باشندے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو حفظِ حدیث کے بے پایاں شوق سے نوازاتھا، خود فرماتے ہیں کہ میری عمرچودہ برس تھی میں جناب قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوتا، میں نے ان سے جوبھی حدیث سنی وہ میرے دل میں نقش ہوکررہ گئی۔ آپ بعد میں یمن کے شہرصنعاء میں اقامت گزیں ہوگئے تھے۔
وہاں کے لوگوںکو اندیشہ ہوا کہ آپ ہمارے شہر سے سکونت تر ک کرکے کہیں چلے نہ جائیں انہوں نے مشورہ کیا کہ انہیں کسی طرح اسی شہر میں اقامت کا پابند کرلیں،چنانچہ انہوں نے وہاں آپ کی شادی کردی۔ اس طرح آپ وہیں کے ہوکررہ گئے آپ نے ایک سو آٹھ سال کی عمر پائی، اور 153یا154ھ میں وفات پائی، آپ نے ’’الجامع‘‘ کےنام سے ایک ضخیم مجموعۂ حدیث بھی مرتب کیاتھا، کتب اصول میں اس کاتذکرہ ’’جامع معمربن راشد‘‘ کے نام سے ملتا ہے۔

ھمام بن منبہ

ابوعقبہ ھمام بن منبہ کامل بن شیخ بن ذی ناز-مشہور تابعی ہیں، آپ کا شمار یمن کے اہل علم میں ہوتاہے۔ صنعاء سے کچھ فاصلے پر الذمار نامی بستی میں مقیم تھے، اس لئے آپ کو یمانی ،صنعانی اور زماری بھی لکھاجاتاہے۔
یہ کل پانچ بھائی تھے، باقی بھائیوں کےنام وھب، معقل، عقیل اور غیلان یاعمر ہیں، ان میں سے وھب بن منبہ زیادہ معروف اور شہرت کے حامل ہیں۔
سیدناابوھریرہ
قبل از قبولِ اسلام آپ کانام شمس یا عبدعمروتھا، قبول اسلام کے بعد آپ کا نام عبداللہ یا عبدالرحمٰن رکھاگیا۔

آپ کی کنیت اور وجہ تسمیہ

البتہ آپ کےنام پر آپ کی کنیت اس حد تک غالب آچکی ہے کہ اب گویا یہی آپ کا نام ہے، اس کنیت کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک بلی تھی جسے آپ ہر وقت اٹھائے رہتے اور اپنے پاس رکھتے تھے، اس لئے آپ کو ’’ابوھریرہ‘‘کہاگیا، ایک روایت کے مطابق یہ کنیت آپ کو آپ کے اہل خانہ نے اور دوسری روایت کے مطابق رسول اللہﷺ نے آپ کو اس کنیت سے نوازاتھا۔

سیدناابوھریرہ اور روایتِ حدیث

ھمام بن منبہ کا بیان ہے کہ میں نے ابوھریرہ کو فرماتے سنا کہ صحابہ کرام میں سے عبداللہ بن عمروبن العاص کے سوا کوئی صحابی مجھ سے زیادہ حدیثیں نہیں جانتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ احادیث لکھ لیاکرتے تھے اور میں نہیں لکھتاتھا۔(صحیح البخاری،الرقم:113)

قوتِ حافظہ

ابوھریرہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول!میں آپ سے بہت سی احادیث سنتاہوں مگر مجھے وہ بھول جاتی ہیں، آپ نے فرمایا اپنی چادربچھاؤ، میں نے چادر بچھادی،پھر آپ نے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں سے چلوبھرکرچادر پرڈال کرفرمایا، اب اسے لپیٹ لو، میں نے اسے سمیٹ (لپیٹ) لیا، اس کے بعد مجھے کوئی حدیث نہیں بھولی۔(صحیح البخاری،الرقم:119)
ایک دفعہ بعض حضرات نے ابوھریرہtکے کثرت سے احادیث روایت کرنے پر کچھ کلام کیا تو فرمایاتم لوگ باتیں بناتے ہو کہ ابوھریرہ ،رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ احادیث روایت کرتا ہے، جبکہ مہاجرین اور انصار جنہوں نے رسول اللہﷺ کی معیت میں مجھ سے زیادہ وقت گذارااور وہ ابوھریرہ کی طرح بکثرت احادیث روایت نہیں کرتے،حقیقت یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی خریدوفروخت کے سلسلے میں بازاروں میں مصروف رہتے تھے اور میں محض پیٹ بھرکر کھانے پر اکتفاکرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ کے ہمراہ رہتاتھا اور میرے انصاری بھائی اپنے باغات اور کھیتی باڑی میں مصروف رہتے تھے اور میںصفہ کے مساکین میں سے ایک فردتھا، وہ لوگ احادیث بھول جاتے تھے اور مجھے احادیث یاد رہتی تھیں۔
ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اس محفل میں میری گفتگو کے اختتام تک کوئی آدمی اپنی چادر بچھائےرکھے پھر اسے سینے سے لگالے تو اسے میری ساری باتیں یاد رہیں گی تو میں نے اپنی چادر بچھادی، اللہ کے رسول جب اپنی گفتگو مکمل کرچکے تو میں نے چادر سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالی۔
چنانچہ اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں سے ایک بھی نہیں بھولی۔(صحیح البخاری،الرقم:2047)

فقاہت ابی ہریرہ

بعض حنفی فقہاء نے سیدنا ابوھریرہ سے عداوت وبغض کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیرفقیہ لکھاہے، حقیقت یہ ہے کہ ایک صحابی کو غیر فقیہ کہنے والے خود غیرفقیہ اور فقاہت سے عاری ہیں۔
امام ذہبی aنے تذکرۃ الحفاظ میں آپ کاتذکرہ کرتے ہوئے آپ کوخاص طور پر الفقیہ لکھا ہے۔
حافظ ابن القیمaفرماتے ہیں کہ ابوھریرہ tان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جورسول اللہ ﷺ کے بعد مقامِ فتویٰ پر فائز تھے اور فتوے جاری کیاکرتے تھے۔(اعلام الموقعین)
بلکہ بہت سے نامور کبارحنفی اہل علم نے اپنے بزرگوں سے اختلاف کرتے ہوئے سیدناابوھریرہ کو فقیہ تسلیم کیا ہے اور ان کوغیر فقیہ کہنے والوں کی تردیدکی ہے۔
ان میں سے ایک نام علامہ عبدالحی لکھنوی کا بھی ہے۔
نیز ابن الھمام صاحب فتح القدیر شرح الھدایہ نے بھی اپنی کتاب تحریر الاصول میں حنفی علماء کے برعکس سیدناابوھریرہ کو فقیہ تسلیم کیاہے۔
کہاجاسکتاہے کہ ابراھیم بن یزیدنخعیaجوکہ فقہاء تابعین میں سے ہیں انہوں نے بھی سیدنا ابوھریرہtکو غیر فقیہ لکھا ہے۔
تو اس کاجواب یہ ہے کہ ابراھیم نخعی کے اس قول پر اہل علم نے ان کا مؤاخذہ کیا اور شدید رد عمل کااظہار کیا ہے۔
امام ذہبی میزان الاعتدال میں رقم طرازہیں: کہ ابراھیم نخعی عربی زبان بخوبی نہیں جانتے تھے اور اکثراوقات عربی میں غلطیاں کرجاتے تھے۔
جس شخص کا اپنا مبلغِ علم اس قدرہو وہ کیونکر ایک جلیل القدر صحابی پر زبان درازی کی جسارت کرتاہے۔(میزان الاعتدال ۱؍۷۵)

کرامت ابی ھریرہ

قاضی ابوبکر بن العربی رقم طراز ہیںکہ میں بغداد کی جامع المنصور میں قاضی القضاۃ علامہ علی بن محمد دامفانی کی محفل میں حاضر تھا کہ دوران گفتگو ایک آدمی نے سیدناابوھریرہ پر طعن وتشنیع اور زبان درازی شروع کردی تو مسجد کے عین درمیان میں چھت سے ایک بہت بڑا سانپ نیچے آگرا اور طعن کرنے والے کی طرف بڑھا،لوگ ڈر کے مارے خوفزدہ ہوکر بھاگ گئے اور سانپ مسجد کے کسی ستون کے نیچے چلاگیا،اس کے بعد اس کاکچھ پتہ نہ چلا،اور اس کے بعد لوگ محتاط رہنے لگے۔(عارضۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی وتحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی ،ص:۱۱)

وفات:

سیدناابوھریرہ نے 57ھ 58ھ یا 59ھ کو مدینہ منور کی وادی العقیق میں 78سال کی عمر میں وفات پائی وہاں سے آپ کومدینہ منورہ لایاگیا، ان دنوں مروان اقتدار سےمعزول کیاجاچکا تھا تو اس کے قائم مقام ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
رضی اللہ عنہ وأرضاہ-آمین

About ابوحمزہ سعید مجتبیٰ السعیدی

Check Also

ربیعہ بن مالک الاسلمی نہیں بلکہ ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ

’’بلوغ المرام من جمع ادلۃ الاحکام‘‘ حدیث کا ایک متوسط اور بہترین مجموعہ ہے جسے …

جواب دیجئے