Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » شب برات کی حقیقت

شب برات کی حقیقت

شعبان کی پندرھویں شب کی متعدد روایات آئی ہیں، جن میں اس شب کی بعض فضیلتوں کاذکر ہے لیکن یہ روایات ،ایک آدھ کے علاوہ سب ضعیف ہیں،مثلاً: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں شب کو اپنی مخلوق کی طرف(نظرِرحمت سے) دیکھتاہے، پھر مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی ساری مخلوق کی بخشش کردیتا ہے۔(ابن حبان:۱۹۸۰)شیخ البانیa اور دوسرے محققین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے، پھر بھی اگر اس حدیث کی رو سے اس رات کی فضیلت ثابت ہوبھی جائے تب بھی، اس شب کوخاص عبادت کرنے کی کوئی ترغیب یافضیلت نہیں ملتی۔ اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے جوموجود نہیں۔ اسی طرح ایک روایت سیدہ عائشہ صدیقہrسے مروی ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر موجود نہ پاکر میں باہرنکلی تو اچانک دیکھا کہ آپﷺ بقیع کے قبرستان میں تھے……تو آپﷺنے فرمایا:’’بیشک اللہ شعبان کی پندرھویں رات کوآسمان دنیا پرآتا ہے، پھر اتنے لوگوں کی مغفرت کرتا ہے جتنے بنوکلب کی بکریوں کے بال‘‘ ۔ دیگر ائمہ کے علاوہ خود امام ترمذی نے بھی اس روایت کوضعیف قرار دیا ہے، لہذا جولوگ اس ضعیف روایت کی وجہ سے اس رات قبرستان جاتے ہیں وہ گمراہی پر ہیں۔

کیاشب برات فیصلوں کی رات ہے؟

شب برات منانے والوں کا نظریہ ہے کہ یہ رات فیصلوں کی رات ہے، اور دلیل میں سورۂ دخان کی یہ آیات پیش کرتےہیں:
ِ

[اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ۝۳ فِيْہَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ۝۴ۙ ](دخان:۳،۴)

ترجمہ: یقینا ہم نے اسے(قرآن کو) بابرکت رات میں اتارا ہے، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہر مضبوط کام کافیصلہ کیاجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بابرکت رات کاذکر آیا ہے جس میں قرآن مجید اتاراگیااور جس بھر میں ہونے والے واقعات کافیصلہ کیا جاتا ہے، یہ حضرات اس ’’بابرکت رات‘‘سے مراد شعبان کی پندرھویں رات لیتے ہیں، جبکہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول کے متعلق صراحت سے فرمایا ہے:
ِ

[شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ]

ترجمہ: رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیاگیا۔(البقرۃ:۱۸۵)
اور جس رات میں نازل کیاگیا اس کی صراحت بھی فرمادی:
ِ

[اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۝۱ۚۖ ](القدر:۱)

ترجمہ:بے شک ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔
جو کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک رات ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کامہینہ اور اس مہینے کی خاص رات جس میں نبیﷺ پر قرآن کانزول شروع ہوایا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزت میں اتاراگیا ،اس کی بھی صراحت فرمادی ، لیلۃ مبارکہ کی قرآنی تفسیر سے پتاچلتا ہے کہ یہ لیلۃ القدر ہی ہے جس میں قرآن اتارا گیا اور اسی میں سال بھر کے حادثات وواقعات کافیصلہ بھی کیاجاتا ہے، جمہور مفسرین کا یہی موقف ہے، نصِ قرآنی کے مقابلے میں ضعیف روایات سے لیلۃ مبارکہ کی تفسیر پندرھویںشعبان کی رات سے کرنا جائز نہیں بلکہ باطل ہے، لہذا شعبان کی پندرھویں رات کوفیصلوں کی رات قرار دینا یکسرغلط ہے۔
ِ

اس رات جوغیرشرعی امور کیے جاتےہیں ؟

شعبان کی پندرھویں رات کو اور بھی بعض کام ایسے کیے جاتے ہیں جن کاکوئی ثبوت نہیں، جیسے حلوے ،مانڈوں کاخصوصی اہتمام، لوگوں کاخیال ہے کہ اس روز مُردوں کی روحیں آتی ہیں ،حالانکہ یہ عقیدہ نصِ قرآنی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ اگر دنیا سے جانے والے اللہ کے نافرمان ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیدی ہیں ،وہ اللہ کی قید سے نکل کر آہی نہیں سکتے، اور اگر وہ نیک تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت میں بہترین نعمتیں تیار کررکھی ہیں ، وہ جنت کی اعلیٰ اورلذیذ ترین نعمتیں چھوڑ کردنیا میں کس طرح آئیں گے ؟یعنی کسی لحاظ سے بھی روحیں دنیا میں نہیں آسکتیں، اسی طرح رات کوچراغاں کااہتمام بھی کیا جاتا ہے اور خوب آتش بازی کی جاتی ہے ،مجوسیوں (آتش پرستوں) میں یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ خوشی کے موقع پر آتش بازی اور چراغاں کرتے ہیں، ان کا یہ طریقہ ہندوؤں نے اپنایا اور ان کو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی اس کواختیار کرلیا۔
وماعلیناالاالبلاغ

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

زکوٰۃ کی فرضیت، فضیلت، اہمیت اوراحکام

لفظ’’زکوٰۃ‘‘ کالغوی مفہوم پاکیزگی اوراضافہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلے …

جواب دیجئے