Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مئی » گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات قسط:2آخری

گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات قسط:2آخری

 قسط: 2 آخری

(3)دل پراثرات:

دل انسانی جسم کا بڑا ہی عظیم اور حساس حصہ ہے دل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’انما الاعمال بالنیات‘‘تمام کے تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اور (والنیۃ محلھا القلب) اور نیت کا مسکن اور جائے قرار انسانی دل ہے انسان کے سرکردہ گناہوں کے اثرات کی یلغار اس کے دل پر بڑےمضبوط طریقے سے ہوتی ہے اور گناہوں کے اثرات دل پر مختلف نوعیتوں سے وارد ہوتے ہیں:
1سب سے پہلا اثرانسان کے دل پر یہ ہوتا ہے کہ دل میں ہی کجی اور ٹیڑھ پن پیدا ہوجاتاہے ،قرآ ن مجید میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

[ فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝۵ ](الصف:۵)

ترجمہ: پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا ۔
(ب)ایک اور اثر گناہوں کا دل پر یہ ہوتا ہے کہ دل بڑا ہی قلق واضطراب محسوس کرتا ہے، اس کے دل میں پریشانیاں گھرکرنے لگتی ہیں، سکون اور اطمینان اس شخص کاکھوجاتاہے کیونکہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

[اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۝۲۸ۭ](الرعد:۲۸)

یاد رکھو!اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان اورتسلی حاصل ہوتی ہے۔
گناہگار کا دل چونکہ ذکرالٰہی سے دور رہتا ہے لہذا طمانیت اور تسکین کوحاصل نہیں کرپاتا جوذاکرین اللہ کویاد کرنے والوں کوحاصل ہوتی ہے۔
ابن عباس کاقول ہے :

الشیطان جاثم عل قلب ابن آدم، فاذا سھا وغفل وسوس، واذا ذکر اللہ خنس.

(مصنف ابن ابی شیبۃ:34774)
شیطان انسان کے دل کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، پس جب انسان غافل ہوجاتا ہے توشیطان اس پرحملے کرتا ہے، اور جب انسان ذکر الٰہی کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتاہے۔
2دل پر وارد ہونے والے اثرات میں سے ایک اثر یہ بھی ہے کہ مستقل گناہ سے احساسِ خطا انسان کے دل سے جاتارہتا ہے ،گناہ اس کی نظر میں حقیر اور معمولی ہوجاتا ہے، اور ابتداءً جوگناہوں سے ناپسندیدگی ہوتی ہے وہ گناہ مسلسل کرنے کی وجہ سےختم ہوجاتی ہے، جیسا کہ ضرب المثل ہے:(اذا کثر المساس زال الاحساس)
جب کوئی چیز کثرت کے ساتھ آمنے سامنے آتی رہے تو اس کی موجودگی کااحساس ختم ہوجاتا ہے۔
یہ علامت حددرجہ خطرناک اورہلاکت خیز ہے، نبی ﷺ کافرمان ہے:

ان المومن یری ذنوبہ کانہ قاعد تحت جبل یخاف ان یقع علیہ.

مومن بندہ اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھاہو اور یہ گناہوں کا پہاڑ وبال بن کر اس پرگرپڑے۔یہ سوچ کرخوف کھاتا ہے ۔

وان الفاجر یری ذنوبہ کذباب مر الی انفہ فقال بہ ھکذا.

(صحیح بخاری:6308)
اور فاسق وفاجر گناہگار شخص ہوتا ہے وہ گناہوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھی ہو اور وہ اپنے ہاتھ سے اسے آسانی سے ہٹا دے۔
وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
(اقبال)
3گناہوں کے دل پر اثرات میں سے انتہائی خطرناک درجہ یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت کے باعث گناہگار کا دل زنگ آلودہ ہوجاتا ہے اور یہ آلودگی اس کو مزید پے درپے گناہوں پر ابھارتی ہے ،اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:

[كَلَّا بَلْ۝۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۱۴ ]

ترجمہ:یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے ۔(مطففین :۱۴)
اس آیت کے بارہ میں ابوھریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ سیاہی دور کردی جاتی ہے اور اگر وہ توبہ کی بجائے مزید گناہ کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھ جاتی ہے حتی کہ اس کے پورے دل پرچھاجاتی ہے ،یہی وہ (الرَانَ)ہے جس کاذکر قرآن مجید میں ہے:

[كَلَّا بَلْ۝۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ]

(ترمذی :3334ابن ماجہ:4244)
اور جو دل سیاہ ہوچکے ہیں ان کے بارے میں نبی کا ارشاد ہے:

وقلب أسود مربادا کالکوز مجخیا.

(صحیح مسلم:231مع منۃ المنعم)
کالاسیاہ دل سیاہ خاکی رنگ کے پیالے کی مانند ہے جسے الٹا کردیاگیا ہو۔
مندرجہ بالامثال بڑی ہی ہولناک ہے ،سیاہ دل ،اوندھے منہ پڑا ہوا پیالہ کی مانندہے،اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح پیالہ میں جوچیز بھی ہو پانی، دودھ، کوئی بھی مشروب وغیرہ اگر اس پیالے کو الٹا کردیا جائے تو وہ گِر جاتی ہے اسی طرح سیاہ دل کے مالک شخص کے دل میں جس قدر بھی ایمان کی روشنی تھی وہ دل کے سیاہ ہوجانے کے بعد دل میں نہیں رہتی،بلکہ اس کادل ہرقسم کی نیکی اور اچھائی سے خالی ہوچکا ہے اور پھر یہ بھی کہ کوئی بھی شخص الٹے پیالے کے اندرکوئی بھی چیز داخل نہیں  کرسکتا۔ یعنی سیاہ دل ایک ایساپیالہ ہے جو خالی ہوچکا ہے اوراُلٹا پڑا ہوا ہے جس میں اب کوئی چیز داخل نہیں ہوگی،نہ ایمان، نہ نیکی، اور نہ ہی اچھائی ، ابن مبارک فرماتے ہیں:

رایت الذنوب تمیت القلوب
وقد یورث الذل ادمالٰھا

میں نے دیکھا ہےکہ گناہ دلوں کومردہ کردیتےہیں اور اس کی کثرت سے ذلت اور اہانت جاگزیں ہوجاتی ہے۔

وترک الذنوب حیاۃ القلوب
وخیر لنفسک عصاھا

(شعب الایمان،حدیث نمبر:6918)
گناہ کا چھوڑدینا دلوں کی زندگی کا سبب ہے ،تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تو اپنے نفس کی مخالفت میں چل۔
احساسِ جرم کے ختم ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہےکہ انسان مجاھرہ (یعنی کھلم کھلا گناہ کرنے کی عادت) میں ملوث ہوجاتا ہے ،اور بعض اوقات مجاہرۃ بذات خود گناہ سے عذاب وعقاب کے معاملے میں بڑھ جاتا ہے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

[اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝۰ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۱۹ ](النور:۱۷)

ترجمہ:جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔

وقول النبیﷺ :’’کل امتی معافی الا المجاھرین‘‘

(متفق علیہ)
یعنی امت کاہر(گناہگار) فرد معاف کیاجائے گا سوائے ان کے جو اعلانیہ طور پر گناہ کرتے ہیں۔
4گناہوں کی کثرت کے باعث گناہگار کو ایسا خوف اور ایسی وحشت حاصل ہوتی ہے جوبندے اور اس کے رب کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ،ایسی وحشت کہ دنیا کی تمام لذات بھی اس وحشت کودور نہیں کرپاتیں۔
اس وحشت کی علامت اوراثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اہل التقویٰ اور ایمان والوں سے بھی خوف کھانے لگتا ہے اور ان سے دوری اختیار کرتا ہے،حدیث پاک ملاحظہ ہو:

’’والاثم ماحاک فی صدرک وکرھت ان یطلع علیہ الناس‘‘

5روز مرہ کے کاموں میں دشواریاں پیداہونے لگتی ہیں کیونکہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

[وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۝۲ۙ ](الطلاق:۲)

ترجمہ:اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ۔
یعنی جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے اور اللہ کی نافرمانیاں نہیں چھوڑتے ا ن کے لئے کسی قسم کی آسانی نہیں ہوتی۔
6گناہوں کے نتیجے میں ذلت اور اہانت کاپیداہونا ناگزیر ہوجاتا ہے کیونکہ عزت اور توقیر اور اکرام اطاعت الٰہیہ میںمضمر ہے ، اللہ رب العزت کاارشاد ہے:

[مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِيْعًا۝۰ۭ ]

(فاطر:۱۰)
یعنی جو کوئی عزت چاہتا ہےوہ یاد رکھے! کہ سب عزتیں اللہ ہی کے لئےہیں ۔
یعنی عزت کے طلبگار کوچاہے کہ اللہ کی اطاعت کرکے عزت کاحقدار بنے۔
بعض اسلاف یہ دعامانگا کرتے تھے:

اللھم اعزنی بطاعتک ولاتضلنی بمعصیتک.

اے اللہ! مجھے اپنی اطاعت کے ذریعے عزت عطا فرما اور اپنی معصیت کے ذریعے مجھے رسوا مت کرنا۔(الجواب الکافی لابن القیم)
7معاصی کے سب سے بڑے اثرات اور نقصانات میں سے یہ بھی ہے کہ ایک گناہ اپنے پیچھے کئی گناہوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
قال ابن تیمیہ:

وان من عقوبۃ السیئۃ السیئۃ بعدھا.

یعنی گناہوں کی سزا یہ ہے کہ بندہ ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرتا ہے۔
اسی طرح کامعنی اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث میں بھی موجود ہے جوکہ صحیح بخاری میں ابن مسعود سے مروی ہے، کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ایاکم والکذب فان الکذب یھدی الی الفجور ،والفجور یھدی الی النار.

یعنی جھوٹ بولنے سے بچوکیونکہ جھوٹ ،فجور(گناہ) کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور فجور(گناہ) آگ کی طرف رہنمائی کرتاہے۔
8گناہوں کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں چھن جاتی ہیں سیدناعلی کا قول ہے:
ترجمہ: بلاء اور آزمائشیں صرف گناہ کی وجہ سےآتی ہیں اور توبہ کے ذریعے ہی اس کاازالہ ہوتا ہے۔

اذا کنت فی نعمۃ فارعھا
فان الذنوب تذیل النعم

جب تو کسی نعمت میں ہوتو اس کی حفاظت کر اس لئے کہ گناہ نعمتوں کو زائل کردیتےہیں۔
ِ

معاشرے پرمرتب ہونے والے اثرات

جب کوئی شخص گناہ کرتا ہےتو اس کے گناہ کی نحوست اس کے گرد وپیش کے افراد اورجانوروں پربھی پڑتی ہے۔

قال ابوھریرہ:ان الحبار لتموت فی وکرھا من ظلم الظالم .(شعب الایمان:7075العقوبات لابن ابی الدنیا)

یعنی ظالم کے ظلم سے پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں دم توڑ دیتے ہیں۔
امام مجاہد فرماتے ہیں:

البھائم تلعن عصاۃ بنی ادم اذا اجدب الارض وتقول ھذا بشمؤم معصیۃ ابن ادم .(تفسیر طبری،تفسیر ابن ابی حاتم)

یعنی جانوربھی نافرمان انسانوں پر لعنت بھیجتے ہیں اور جب بھی قحط پڑتا ہے اور بارش تھم جاتی ہے تو جانور(زبانِ حال)سے کہتے ہیں کہ گناہگار انسانوں کی نحوست کاصلہ ہے۔
عکرمہ فرماتے ہیں:
دواب الارض وھوامھا فی الخنافس والعقارب یقولان منعنا المطر بسبب ذنوب ابن ادم.(الجواب الکافی)
یعنی زمین کے کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ بچھویہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کےگناہوں کی وجہ سے بارش سے ہم روک دی گئی۔
لوگوں کے گناہ بارش روکنے کا سبب اور گھروں کی بربادی کا سبب بنتے ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

[وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّـنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ](الاعراف:۱۳۰)

ہم نےآل فرعون کو قحط سالی اورپھلوں کی کمی میں پکڑلیا۔
اوربالعموم یہی گناہ معاشرے کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

لن یھلک الناس حیت یعذر من انفسھم .

لو گ جب تک بکثرت گناہ نہیں کریں گے تب تک ہلاک نہیں ہونگے۔(رواہ ابوداؤد وصححہ الألبانی)
مسنداحمد کی حدیث جو کہ ام سلمہrسےمروی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

اذا ظھرت المعاصی فی امتی عمھم اللہ بعذاب من عندہ.

(مسنداحمد:26596)
جب میری امت میں گناہ کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ رب العزت ان پر اپناھمہ گیر یعنی عمومی عذاب مسلط کردیتا ہے۔
اور اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں اورتاریخ بھی ہمیں اس بات کی گواہی دیتی ہے۔
قارئین کرام!
وہ کیا چیز تھی جس نے قوم نوح پر طوفان نازل کروادیا؟
وہ کیاچیز تھی جس نے فرعون اور اس کی فوج کو سمندر میں غرق کروادیا؟
وہ کیا چیز تھی جو عادپرتیزہواؤں کے آنے کا سبب بنی؟
وہ کیاچیز تھی جس کی وجہ سے قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی اور آسمان پرلےجاکر الٹادیاگیا؟
وہ کیا چیز تھی جس نے آگ برسوائی قوم شعیب پر؟
کیا یہ سارے معاملے ان اقوام کے گناہوں کے سبب سے نہیں تھے !!!

ان فی ذلک لعبرۃ لأولی الابصار
فاعتبروا یاأولی الابصار

About حافظ مغیث الرحمٰن

Check Also

گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات

معزز قارئین کرام! اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیق کامقصد اپنی عبادت وفرمانبرداری قرار …

جواب دیجئے