Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » قسط:20 فتنۂ غامدیت

قسط:20 فتنۂ غامدیت

جوپیرہن اس کاہے وہ مذہب کاکفن ہے

حق خلع اور اس کے شرعی دلائل
لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے نکاح فارم میں بھی تفویض طلاق کی شق شامل ہے اور اکثر علماء بھی اس کے جواز کے قائل ہیں جب کہ یہ شق شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے۔ اس لیے اب یہ موضوع زیر بحث آہی گیا ہے تو ہم مناسب سمجھتےہیں کہ قدرے تفصیل سے اس پر روشنی ڈالیں اور شرعی دلائل سے اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کریں۔
یہ دلائل حسب ذیل ہیں:
اسلام میں طلاق کاحق صرف مرد کودیاگیاہے، عورت کونہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں زودرنج،زود اشتعال اور جلد بازی میں جلد فیصلہ کرنےوالی ہے، نیز عقل اور دوراندیشی میں کمزور ہے۔ عورت کو بھی حق طلاق دیے جانے کی صورت میں یہ اہم رشتہ جوخاندان کے استحکام وبقا اور اس کی حفاظت وصیانت کے لیے بڑا ضروری ہے، تارِ عنکبوت سے زیادہ پائیدار ثابت نہ ہوتا،علمائے نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل راقم کی کتاب’’خواتین کے امتیازی مسائل‘‘ مطبوعہ دارالسلام میںملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
اگرعورت کوبھی طلاق کاحق مل جاتا تو وہ اپنا یہ حق نہایت جلدبازی یا جذبات میںآکراستعمال کرلیاکرتی اوراپنے پیروں پر آپ کلہاڑا مار لیاکرتی ۔ اس سے معاشرتی زندگی میں جوبگاڑ اورفساد پیداہوتا، اس کا تصورہی نہایت روح فرساہے۔اس کا اندازہ آپ مغرب اوریورپ کی ان معاشرتی رپورٹوں سے لگاسکتے ہیں جووہاں عورتوں کوحق طلاق مل جانے کے بعد مرتب اورشائع ہوئی ہیں۔
ان رپورٹوں کے مطالعے سے اسلامی تعلیمات کی حقانیت کا اور عورت کی اس کمزوری کااثبات ہوتاہےجس کی بناپر مردکوتوحق طلاق دیا گیاہے لیکن عورت کو یہ حق نہیں دیاگیا۔ عورت کی جس زود رنجی، سریع الغضبی، ناشکرے پن اورجذباتی ہونے کا ہم ذکرکررہے ہیں ،احادیث سے بھی اس کااثبات ہوتاہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ورأیت النار فاذا اکثر اھلھا النساء یکفرن، قیل: ایکفرن باللہ؟ قال: یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان، لواحسنت الی احداھن الدھر ثم رأت منک شیئا، قالت: مارأیت منک خیراقط‘‘(صحیح البخاری: الایمان،باب کفران العشیر ۔۔۔۔،حدیث:۲۹)
’’میںنے جہنم کامشاہدہ کیاتو اس میںاکثریت عورتوں کی تھی(اس کی وجہ یہ ہے کہ)وہ ناشکری کاارتکاب کرتی ہیں۔پوچھاگیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: (نہیں)وہ خاوند کی ناشکری اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔ اگرتم عمربھر ایک عورت کےساتھ احسان کرتے رہو، پھروہ تمہاری طرف سے کوئی ایسی چیز دیکھ لے جواسے ناگوار ہوتو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے تو تیرے ہاں کبھی بھلائی اور سکھ دیکھا ہی نہیں‘‘
جب ایک عورت کی افتادِطبع اورمزاج ایسا ہی ہے کہ وہ عمربھر کے احسان کومرد کی کسی ایک بات پرفراموش کردیتی ہے تو اسے اگر حق طلاق مل جاتا تو آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کس آسانی کے ساتھ وہ اپنا گھر اجاڑ لیا کرتی؟
عورت کی اس کمزوری ،کم عقلی اورزودرنجی ہی کی وجہ سے مرد کو اس کے مقابلے میں صبروضبط،تحمل اورقوت وبرداشت سے کام لیتے ہوئے عورت کے ساتھ نباہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے ،کیونکہ عورت کی یہ کمزوریاں فطری ہیں، کسی مرد کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ قوت کے زور سے ان کمزوریوں کودور کرکے عورت کوسیدھا کردے یاسیدھا رکھ سکے۔
نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’استوصوا بالنساء ،قال المرأۃ خلقت من ضلع، وان أعوج شیء فی الضلع أعلاہ ،فان ذھبت تقیمہ کسرتہ ،وان ترکتہ لم یزل أعوج ،فاستوصوا بالنساء‘‘(صحیح البخاری: احادیث الانبیاء،باب خلق آدم وذریتہ، حدیث:۳۳۳۱)
’’عورتوں کے ساتھ اچھابرتاؤکرنے کی وصیت مانو، عورت پسلی سے پیداکی گئی ہے، اورسب سے زیادہ کجی اوپر کی پسلی میں ہوتی ہے، پس اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تواسے توڑ دوگے اوریوں ہی چھوڑ دوگے توکجی باقی رہے گی،پس عورتوں کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے کی وصیت قبول کرو‘‘
شارح بخاری حافظ ابن حجررحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’مطلب اس حدیث کایہ ہے کہ عورت کے مزاج میںکجی(ٹیڑھا پن) ہے(جوضد وغیرہ کی شکل میں بالعموم ظاہر ہوتی رہتی ہے)پس اس کمزوری میں اسے معذور سمجھوکیونکہ یہ پیدائشی ہے،اسے صبر اورحوصلے سےبرداشت کرو،اوراسکے ساتھ عفو ودگزر کامعاملہ کرو۔ اگرتم انہیں سیدھاکرنے کی کوشش کروگے تو ان سے فائدہ نہیں اٹھاسکوگے جبکہ ان کاوجود انسان کے سکون کے کیلئے ضروری ہے اور کشمکشِ حیات میں ا ن کاتعاون ناگزیرہے، اس لئے صبر کے بغیر ان سے فائدہ اٹھانا اورنباہ ناممکن ہے‘‘ (فتح الباری :۹؍۳۱۵،مطبوعہ دارالسلام)
بہرحال عورت کی یہی فطری کمزوری ہےجس کی وجہ سے اللہ نے مرد کوحقِ طلاق دیاہے، عورت کونہیں دیا۔عورت کا مفاد ایک مرد سے وابستہ اور اس کی رفیقۂ حیات بن کررہنے ہی میں ہےنہ کہ گھراجاڑنے میں۔ اور عورت کے اس مفاد کو عورت کے مقابلے میںمرد ہی صبروضبط اورحوصلہ مندی کامظاہرہ کرکے زیادہ ملحوظ رکھتا اور رکھ سکتاہے۔
بنابریں اسلام کا یہ قانون طلاق بھی عورت کے مفاد ہی میں ہے، گو عورت آج کل پروپگنڈے کاشکار ہوکراس کی حکمت کوسمجھنے سے قاصر ہے۔
مرد کےحق طلاق کے مقابلے میں عورت کیلئے حق خلع
تاہم اسلام چونکہ دین فطرت اورعدل وانصاف کا علم بردارہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نےاس دوسرے پہلو کوبھی ملحوظ رکھاہے کہ کسی وقت عورت کوبھی مرد سے علیحدہ ہونے کی ضرورت پیش آسکتی ہے،جیسے خاوند نامردہو،وہ عورت کے جنسی حقوق ادا کرنے پرقادر نہ ہو،یا وہ نان ونفقہ اداکرنے پرقادر نہ ہو، یاقادر توہو لیکن بیوی کو مہیا نہ کرتاہو،یابلاوجہ اس پرظلم وستم یامارپیٹ سے کام لیتاہو،یاعورت اپنے خاوند کوناپسند کرتی اورمحسوس کرتی ہو کہ وہ اس کے ساتھ نباہ یا اس کے حقوق زوجیت ادا نہیں کرسکتی۔
ان صورتوں یاان جیسی دیگرصورتوں میں عورت خاوند کو یہ پیشکش کرکے کہ تونے جومجھے مہر اورہدیہ وغیرہ دیاہے ،وہ میں تجھے واپس کردیتی ہوں تومجھےطلاق دے دے، اگرخاوند اس پررضامند ہوکراسے طلاق دے دے توٹھیک ہے لیکن اگرخاوند ایسا نہیں کرتا تو اسلام نے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ عدالت یاپنچایت کے ذریعے سے اس قسم کی صورتوں میں خاوند سے گلوخلاصی حاصل کرلے، اس کوخلع کہتے ہیں۔یہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے،اس کی تفصیل یہاں ممکن نہیں، راقم کی کتاب’’خواتین کے امتیازی مسائل‘‘ میں اس کے دلائل تفصیل سے موجود ہیں۔
عورت کے اس حق خلع کی موجودگی میں اس بات کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ نکاح کےموقعے پرمرد اپناحق طلاق عورت کو تفویض کرے، کیونکہ اسلام نے عورت کیلئے بھی قانون خلع کی صورت میں مرد سے علیحدگی کا طریقہ بتلادیاہے اور عہد رسالت میں بعض عورتوں نے اپنا یہ حق استعمال بھی کیا ہے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت حاکم وقت خلع کافیصلہ ناپسندیدہ خاوندسے علیحدگی کی صورت میں فرمایا ہے جس کی تفصیل صحیح احادیث میںموجود ہے۔
علمائے احناف کافقہی جمود، خلع کاانکار
لیکن بدقسمتی سے قرآن وحدیث کے مقابلے میں آراء الرجال کو زیادہ اہمیت دینے والے علماء وفقہاء ،اسلام کے اس قانونِ خلع کوتسلیم نہیںکرتے، اس لئے فقہ حنفی میں مذکورہ صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں عورت کیلئے مرد سے گلوخلاصی حاصل کرنے کاجواز نہیں ہے، اس کااعتراف مولاناتقی عثمانی صاحب(دیوبندی) نے بھی کیاہے (ملاحظہ ہومولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب’’ الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ‘‘کے نئے ایڈیشن (ادارۂ اسلامیات) کا پیش لفظ، از مولانا تقی عثمانی)۔
مولانا اشر ف علی تھانوی مرحوم نے بھی مذکورہ کتاب اسی لئے تحریر فرمائی تھی کہ عورتوں کی مشکلات کاکوئی حل،جوکہ فقہ حنفی میں نہیں ہے، تلاش کیاجائے، چنانچہ انہوں نے کچھ فقہی جمود توڑتے ہوئے دوسری فقہوں کے بعض مسائل کواختیار کرکے بعض حل پیش فرمائے اور دیگر علمائے احناف کی تصدیقات بھی حاصل کیں۔
اس کے باوجود علمائے احناف کاجمود برقرارہے کہ جب تک خاوند کی رضامندی حاصل نہ ہو،عورت کیلئے علیحدگی کی کوئی صورت نہیں (دیکھئے:درس ترمذی:۳؍۴۹۷ازمولاناتقی عثمانی)حالانکہ عورت کو حق خلع دیا ہی اس لئے گیا ہے کہ خاوند راضی ہویاراضی نہ ہو، عورت عدالت یاپنچایت کے ذریعے سے علیحدگی اختیارکرسکتی ہے اورعدالت کافیصلہ طلاق کے قائم مقام ہوجائے گا۔
فقہائے احناف کی شریعت سازی
شریعت کے دیے ہو ئےحق خلع کوتوفقہائے احناف نے تسلیم نہیںکیاجوایک ناگزیرضرورت ہے،البتہ اس ضرورت کوپورا کرنے کیلئےاپنی طرف سے یہ طریقہ تجویز کیا کہ عورت کوحق طلاق تفویض کردیا جائےجوحکم الٰہی میں تبدیلی اورشریعت سازی کے مترادف ہے، حالانکہ عورت کو حق طلاق دینے میں جو شدید خطرات ہیں ،وہ مسلمہ ہیں اور انہی کے پیش نظر اللہ نے یہ حق عورت کونہیں دیا۔قابل غو ر امر یہ ہے کہ جو حق اللہ نے نہیں دیا،اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تووہ اورکون سی اتھارٹی ہوسکتی ہے جویہ حق عورتوں کو د ے دے ؟یقینا ایسی کو ئی اتھارٹی نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے،اس لئے اس تفویض طلاق کی کوئی حیثیت نہیں  ہے۔اگرکوئی عورت انسانوں کے اپنے تفویض کردہ اس حق کو استعمال کرتے ہو ئے اپنے خاوند کوطلاق دے دیتی ہے تو اس طرح قطعاً طلاق واقع نہیں ہوگی۔نکاح ایک میثاقِ غلیظ(نہایت مضبوط عہد) ہے جوحکم الٰہی کے تحت طے پایا ہے،اسے خودساختہ طریقے سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔یہ عہد اسی وقت ختم ہوگا جب اس کے ختم کرنے کا وہ طریقہ اختیار کیاجائے گا جو خوداللہ نے بتلایاہے اور وہ طریقہ صرف اورصرف مرد کاطلاق دینا یا عورت کاخلع لیناہے۔ اس کے علاوہ رشتۂ نکاح کوختم کرنے کاکوئی طریقہ نہیں ہے۔
کون سی شرطیں قابل اعتبار یاناقابل اعتبارہیں؟
اس تفویض طلاق کے جواز میںیہ دلیل دی جاتی ہے کہ نکاح کے موقع پرجوشرطیں طے پائیں، ان کاپوراکرنا ضروری ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
’’احق الشروط ان توفوا بہ ما استحللتم بہ الفروج‘‘
’’جن شرطوں کا پوراکرنا سب سے زیادہ ضروری ہے،وہ وہ شرطیںہیں جن کے ذریعے سے تم شرم گاہیں حلال کرو‘‘(صحیح البخاری: الشروط، باب الشروط فی المھر عند عقد النکاح، حدیث: ۲۷۲۱)
یہ حدیث اپنی جگہ بالکل صحیح ہے لیکن اس سے مراد وہ شرطیں ہیں جن سے مقاصد نکاح کومزید مؤکد کرنامقصود ہو،جیسے خودامام بخاری رحمہ اللہ  نے اس کومہرکی ادائیگی کے ضمن میں بیان کیاہے۔اسی طرح کسی مرد سے یہ اندیشہ ہوکہ وہ نان نفقہ میں کوتاہی کرے گا یاشایدحسن سلوک کے تقاضے پورے نہیں کرےگا، یا رشتے داروں سے میل ملاپ میں ناجائز تنگ کرے گا،وغیرہ۔ تونکاح کے موقعے پر اس قسم کی شرطیں طے کرلی جائیں تو ان کاپورا کرنامرد کیلئے ضروری ہوگا۔
یہ حدیث اسی قسم کی شرطوں تک محدود رہے گی۔
اس کے برعکس اگرخاوند یہ شرط عائد کرے کہ وہ بیوی کے نان نفقہ کاذمے دارنہیں ہوگا،شادی کے بعد وہ ماں باپ یابہن بھائیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دےگا، یا میں اس کوپردہ نہیں کرنے دوںگا،وعلی ھذا القیاس اس قسم کی ناجائز شرطیں، تو وہ کالعدم ہوگی،یاعورت یہ شرط عائد کرے کہ وہ خاوند کوہم بستری نہیں کرنے دے گی تاکہ بچے پیدا نہ ہوں، یاخاوند کودوسری شادی کرنے کی اجازت نہیںہوگی، یامردوں کے ساتھ مخلوط ملازمت سے وہ نہیں روکے گاوغیرہ وغیرہ۔تو ان شرطوں کا بھی اعتبار نہیں ہوگاکیونکہ یہ ناجائز شرطیںہیں یامقاصدنکاح کے منافی ہیں۔اسی لئے امام بخاریaنے نبی ﷺ کے اس فرمان کو کہ ’’عورت اپنی سوتن کی طلاق کامطالبہ نہ کرےتاکہ وہ اس کابرتن الٹائے‘‘ یعنی سہولیات زندگی سے محروم کرے جوخاوندکے ہاں اس کومیسر ہیں۔(حدیث:۲۷۲۳)کتاب الشرو ط کے باب ’’ما لا یجوز من الشروط فی النکاح‘‘۔یعنی ’’ان شرطوں کابیان جو نکاح میں جائز نہیں ‘‘میں ذکر کیا ہے اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ شریعت کے عطا کردہ کسی حق کوختم کرنے کی شرط عائد کی جائے گی تو اس کااعتبار نہیںہوگا۔ بلکہ اس قسم کی شرطوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمادیاہے:
’’والمسلمون علی شروطھم الاشرطا حرم حلالا اوا حل حراما‘‘
’’مسلمانوں کیلئے اپنی طے کردہ شرطوں کی پابندی ضروری ہے، سوائے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کردے۔ (یعنی ایسی شرطیں کالعدم ہوں گی)
(جامع الترمذی ،کتاب الاحکام،  حدیث:۱۳۵۲)
نکاح کےموقع پرتفویض طلاق کی شرط بھی، شرط باطل ہے جس سے مردکاوہ حق جواللہ نے صرف مردکو دیاہے، وہ اس سے ختم ہوکرعورت کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔ مرد کے اس حق شرعی کاعورت کی طرف انتقال،حرام کوحلال اورحلال کوحرام قرار دینے ہی کے مترادف ہے جس کاکسی کوحق حاصل نہیں ہے۔ اس شرط سے عورت کوطلاق دینے کا حق قطعاًحاصل نہیں ہوسکتا، اس کو اس قسم کے حالات سے سابقہ پیش آئے تو وہ،شرط کے باوجود ،طلاق دینے کی مجازنہیں ہوگی بلکہ طلاق لینے ،یعنی خلع کرنے ہی کی پابند ہوگی۔
عہدرسالت کا ایک واقعہ اورفیصلہ کن فرمانِ رسولصلی اللہ علیہ وسلم
اس مسئلےمیں نبیصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ہماری بڑی رہنمائی کرتاہے۔ بریرہ ایک لونڈی تھی اور مکاتبہ تھی، یعنی مالکوں کے ساتھ اس کامعاہدہ ہوچکاتھا کہ اتنی رقم تواداکردے گی تو ہماری طرف سے آزادہے۔بریرہ rسیدہ عائشہrکی خدمت میں حاضرہوئی اور عرض کیا: ام المؤمنین آپ مجھے خریدکر آزاد کردیں۔ سیدہ عائشہ rنے فرمایا: ٹھیک ہے۔بریرہ نے کہا: لیکن میرے آقا کہتے ہیں کہ حق ولاء ان کاہوگا۔(ورثاء کی عدم موجودگی میں وراثت وغیرہ کےحق کوولاء کہا جاتا ہے۔)سیدہ عائشہ نے فرمایا: مجھے حق ولاء کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی یاآپ تک پہنچ گئی توآپ نے سیدہ عائشہ سے فرمایا:’’اشتریھا فاعتقیھا ودعیھم یشترطوا ماشاؤا‘‘
’’اس کوخریدکرآزاد کردے اورمالکوں کوچھوڑ، وہ جوچاہے شرط کرلیں‘‘
چنانچہ سیدہ عائشہ نے بریرہ کو قیمت اداکرکے آزاد کردیا اور اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط کرلی کہ وہ ہمارا حق ہوگا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الولاء لمن اعتق وان اشترطوا مائۃ شرط‘‘
حق ولاء آزاد کرنے والے کاہے چاہے مالک سوشرطیں لگالیں‘‘
(صحیح بخاری :المکاتب،حدیث:۲۵۶۵)
ایک اورمقام پرآپ کا یہ فرمان بایں الفاظ منقول ہے:
’’مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اللہ؟ ماکان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل وان کان مائۃ شرط، قضاء اللہ احق وشرط اللہ اوثق وانما الولاءلمن اعتق‘‘
’’لوگوں کاکیاحال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جواللہ کی کتاب میں نہیں؟ (یادرکھو)جوشرط ایسی ہوگی جواللہ کی کتاب میںنہیںہے،وہ باطل ہے اگرچہ سوشرطیں ہوں۔ اللہ کافیصلہ زیادہ حق دارہے(کہ اس کومانا جائے) اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے(کہ اس کی پاسداری کی جائے) ولاء اسی کاحق ہے جس نے اسے آزاد کیا‘‘
(صحیح البخاری: باب البیوع، باب:۷۳،حدیث:۲۱۶۸)
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمادیا کہ جوشرط بھی کتاب اللہ میں نہیں ہے، یعنی شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کے خلاف ہے، وہ باطل ہے اورباطل کامطلب کالعدم ہے،اس کا کوئی اعتبار نہیں۔علاوہ ازیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے احکام وراثت بیان فرماکر ان کی بابت کہا کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں اور اس کے بعد فرمایا: وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ يُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا۝۰۠ (النساء:۱۴)’’جواللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرےگا تواللہ اسے آگ میں داخل کرےگا‘‘اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ کے مقررہ حصہ ہائے وراثت میں تبدیلی کرنا ،اللہ کی حدوں سے تجاوز اور اللہ ورسول کی نافرمانی ہےجس کی کسی کواجازت نہیں۔اسی طرح اللہ نے طلاق اورخلع کے احکام بیان کرکے فرمایا:تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا۝۰ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۲۲۹(البقرۃ:۲۲۹)’’یہ اللہ کی حدیں ہیں ،سو تم ان سے تجاوز نہ کرو اورجواللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا، وہ لوگ ظالم ہیں۔ ‘‘اس کامطلب بھی یہی ہے کہ طلاق وخلع کے احکام، حدود اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں تبدیلی کرنا، یعنی عورت کوحق خلع کے بجائے ،جوکہ اسے اللہ نے دیاہے، طلاق کا حق تفویض کردینا، حدود اللہ میں تجاوز کرنا ہےجس کاحق کسی کوحاصل نہیں، یہ سراسرظلم ہے جو اللہ کو ناپسندہے۔
چنانچہ آیت مذکورہ :’’تلک حدود ا للہ الآیۃ‘‘کے تحت مولانا عبدالماجد دریابادی مرحوم نے لکھاہے اورکیاخوب لکھاہے:
’’یہ تاکید اس امرکی کہ احکام شرعی میں کسی خفیف جزئیہ کوبھی ناقابل التفات نہ سمجھاجائے اور شریعت جیسےبے انتہا منظم فن میں ہونا بھی یہی چاہئے تھا۔ مشین جتنی نازک اوراعلیٰ صناعی کانمونہ ہوگی، اسی قدر اس کا ایک ایک تنہا پرزہ بھی اپنی جگہ پر بے بدل ہوگا‘‘(تفسیر ماجدی:۱؍۹۲،طبع تاج کمپنی)
بنابریں عورت کوطلاق کاحق تفویض کرنا، امرباطل ہے، اس سے حکم شریعت میں تبدیلی لازم آتی ہے،مردکاجوحق ہےوہ عورت کومل جاتا ہےاورعورت جومرد کی محکوم ہے،وہ حاکم (قوام ) بن جاتی ہے اور مرد اپنی قوامیت کو(جو اللہ نے اسے عطا کی ہے)چھوڑ کرمحکومیت کے درجے میں آجاتاہے ،یابالفاظ دیگر عورت طلاق کی مالک بن کرمرد بن جاتی ہےاور مرد عورت بن جاتاہےکہ بیوی اگراسے طلاق دے دے تو وہ سوائے اپنی بے بسی اور بے چارگی پہ رونے کے کچھ نہیں کرسکتا۔
تلک اذا قسمۃ ضیزی

(جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے