Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » امام بخاری کے استاذ أبو عاصم النبیل ضحاک بن مَخلَد

امام بخاری کے استاذ أبو عاصم النبیل ضحاک بن مَخلَد

حافظ بدیع الدین بن عبداللہ ناصررحمانی
متعلم: المعہد السلفی کراچی

نام ونسب:ضحاک بن مخلد بن ضحاک بن مسلم بن رافع بن رفیع بن الأسود بن عمرو بن رالان بن ہلال بن ثعلبہ بن شیبان أبوعاصم الشیبانی .
(تاریخ دمشق لابن عساکر۲۶؍۳۰۰۴)
ولادت: ثقہ مؤرخ خلیفہ بن خیاط العُصفری نے امام ابوعاصم النبیل کی تاریخ ولادت ۱۲۱ھ بتلائی ہے۔(تاریخ خلیفہ بن خیاط:۳۵۲) جبکہ ابن عساکر نے باسند ابوعاصم النبیل کاقول ذکرکیا ہے وہ خود فرماتے ہیں :میں ربیع الاول ۱۲۲ھ کو پیداہوا۔محدث مدینہ فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن العباد صحیح بخاری کی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتےہیں:اور سند کے لطائف میں سے ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ ابوعاصم النبیل کو ان کی ماں نے محض 12برس کی عمر میں جنا، جیسا کہ ابن طاہر المقدسی نے الجمع بین الصحیحین میں ذکر کیاہے۔(عشرون حدیثا من صحیح البخاری للشیخ عبدالمحسن العباد)ان کی والدہ کی پیدائش ۱۱۰ھ ،اور ان کی اپنی پیدائش ۱۲۲ھ کی ہے۔(تاریخ دمشق ،تہذیب الکمال)
لقب’’النبیل ‘‘ کی وجہ تسمیہ:
النبیل عربی لغت میںانتہائی ذکی اورسمجھدار شخص کو کہتےہیں، اور آپ کو النبیل کیوں کہاجاتاہے اس بارہ میں مختلف اقوال ہیں جن میں مشہور یہ ہیں:
1بصرہ میں محدث ابن جریج کی مجلس منعقد تھی کہ اچانک ایک ہاتھی آگیا،چنانچہ لوگ مجلس چھوڑ کر ہاتھی دیکھنے چلے گئے لیکن ابوعاصم اپنی جگہ بیٹھے رہے، ابن جریج ان سے کہنے لگے تم دوسروں کی طرح کیوں نہ چلے گئے؟ انہوں نے جواب دیا:لاأجدمنک عوضا.
یعنی: مجھے آپ کے علاوہ کچھ نہیں چاہئے۔
یہ سن کر ابن جریج نے کہا: أنت نبیل.
یعنی: تم تو بڑے سمجھدار ہو۔
2ایک قول یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ شعبہ بن حجاج نے قسم کھائی کہ وہ ایک مہینے تک کسی کو حدیث نہیں بیان کریں گے، جب ابوعاصم کو پتا چلا توشعبہ کےپاس گئے اور کہا:’’حدث وغلامی العطار حر لوجہ اللہ کفارۃ عن یمینک.‘‘یعنی:آپ حدیث بیان کردیجئے، میں آپ کی قسم کے کفارہ کیلئے اپناغلام عطار آزاد کرتاہوں۔
یہ بات شعبہ کو بہت پسند آئی اور یہ بات آپ کے سمجھدار ہونے کی دلیل ہے۔(مزید اقوال کیلئے دیکھئے:سیرا علام النبلاء،تھذیب الکمال)
چندمشہور اساتذہ وتلامذہ:
آپ اصلاًبصرہ کے تھے، لیکن علمی پیاس بجھانے کیلئے حجاز ،دمشق، حمص، مصر اور عراق کے سفرکیے، دمشق میں امام اوزاعی، حمص میں ثور بن یزید،مصر میں حیوۃ بن شریح، عراق میں شعبہ، سفیان ثوری اور سعید بن ابی عروبہ، اور حجاز میں جعفر بن محمد، محمد بن عجلان ،ابن جریج اور امام دار الھجرۃ مالک بن انس جیسے اساطین فن سے شرف تلمذحاصل کیا۔
آپ سے بے شمار محدثین نے روایت کیا ہے، جن میں مشہور ترین ابوبکربن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور علی بن مدینی ہیں۔
آپ کی قدر ومنزلت جاننے کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ امام الدنیا فی الحدیث محمد بن اسماعیل البخاریaکے طبقۂ اولیٰ کے مشائخ میں سے ہیں،جوامام بخاری کو اپنے واسطے سے تابعی تک پہنچادیتے ہیں۔
(ہدی الساری از حافظ ابن حجر:۶۶۴)
آپ کا علمی مقام محدثین کی نظر میں
امام دارمی نے ذکر کیاہے کہ یحییٰ بن معین نے ا بوعاصم النبیل کو ثقہ کہا ہے ۔(تاریخ الدارمی)
ابن سعد نے آپ کو طبقہ ثامنہ کے فقہاء اور محدثین میں شمارکیا ہے اور آپ کو ثقہ قرار دیا ہے۔(طبقات لابن سعد۷؍۲۹۵)
ابوجعفر حمدان بن علی کہتے ہیں کہ ہم۲۱۳ھ میں امام احمد بن حنبل کے پاس گئے اور ان سے حدیث طلب کی تو آپ نے جواب دیا:
تسمعون منی وابوعاصم فی الحیاۃ أخرجوا إلیہ.
یعنی:تم مجھ سے حدیث سننا چاہتے ہوحالانکہ ابوعاصم زندہ ہیں،تم ان کے پاس جاؤ۔(تاریخ دمشق، تہذیب التھذیب)
ایک مرتبہ عمربن شبّہ نے حدیث بیان کی:
حدثنا أبوعاصم النبیل اور ساتھ ہی کہا:واللہ مارأیت مثلہ.اللہ کی قسم میں نے اس جیساشخص نہیں دیکھا۔(تہذیب الکمال)
علامہ علاء الدین مغلطائی نے خلیل بن عبداللہ الخلیلی کاقول ذکر کیا ہے وہ کہتےہیں :
متفق علیہ یروی عنہ البخاری ویفتخر.
یعنی: ابوعاصم علم وزہد میں متفق علیہ ہیں، اور امام بخاری ان سے روایت کرتے اور اس پر فخرکیاکرتے تھے۔
(إکمال تھذیب الکمال للمغلطائی ۷؍۲۵۴۹)
امام بخاری جیسے محدث کافخرکرنا آپ کے علم وعمل کی بین دلیل ہے، یہ بات مسلم ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کس قدر کڑی شرائط ملحوظ رکھی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی امام بخاری امام ابوعاصم سے روایت بھی کرتےہیں اور اس پر فخربھی کرتے ہیں۔
آپ کے علم اور اتقان کا اندازہ عبدالرحمٰن بن یوسف بن خراش کے اس قول سے بھی لگایاجاسکتا ہے ،کہتے ہیں:
لم یُرَ فی یدہ کتاب قط.
یعنی: آپ کے ہاتھ میں کبھی کتاب نہیں دیکھی گئی، بلکہ آپ کا اتکاء اپنے حفظ پر تھا۔(تھذیب الکمال ،تاریخ دمشق)
تقویٰ
آپ علم وعمل کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور زہد میں بھی اپنی مثال آپ تھے، تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آپ تدلیس کو سخت ناپسند سمجھتے تھے، چنانچہ ابن عساکر باسند آپ کا قول ذکر کرتےہیں کہ:
أقل حالات المدلس عندی أنہ یدخل فی حدیث النبی ﷺ المتشبع بما لم یعط کلابس ثوبی زور‘‘
یعنی: میرے نزدیک مدلس کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسولﷺ کی اس حدیث کامصداق ہے:(جس شخص نے اپنے آپ کو ایسی چیز سے آراستہ کرلیا جو وہ دیانہیں گیا تو ایسا شخص جھوٹ کےد وکپڑے پہننے والے کے مترادف ہے۔)(تاریخ دمشق)
(گویا مدلس نے ایسے شخص سے روایت کرکے جس سے سنا ہی نہیں، جھوٹ بولاہے، البتہ یہ ابوعاصم النبیل کا اپنا موقف ہے جمہور کانہیں)
نیز امام ابوعاصم النبیل خود فرماتے ہیں:
منذ عقلت ان الغیبۃ حرام مااغتبت احدا قط.
یعنی: مجھے جب سے پتا چلا ہے کہ غیبت حرام ہے تب سے میں نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔(تہذیب الکمال، تاریخ امام البخاری۴؍۳۳۶)
تاریخ ساز قول
ابوعاصم جوواقعتاً ’’النبیل‘‘ تھے، طلاب الحدیث کو ایسی نصیحت کرگئے جو ان کیلئے علوہمت کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے:
من طلب ہذا الحدیث فقد طلب أعلیٰ الأمور، فیجب أن یکون خیر الناس‘‘
یعنی: جوشخص اس حدیث کا طالب علم ہے،وہ جان لے کہ وہ بہترین علم کا طالب ہے، لہذاس پر لازم ہے کہ خود بھی تمام لوگوں میں بہترین بن جائے۔(تاریخ دمشق، تھذیب الکمال)
وفات:امام ابوعاصم کی وفات کے بارہ میں مختلف اقوال ہیں، تاریخ دمشق میں عمرو بن علی کاقول ہے کہ آپ ۹۰سال اور ۴مہینے کی عمرپاکر ۲۱۲ھ کو فوت ہوئے، اور یہی قول امام بخاری کی کتب تواریخ ثلاثہ میں موجود ہے۔(تھذیب التھذیب)
حافظ ابن حجر اور علامہ مزی نے ابوعاصم النبیل کی وفات کے بارہ میں اقوال کے ضمن میں امام احمد کاگزشتہ سطورمیں گزرا أثربھی ذکر کیا ہے،جس سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ کم سے کم ابوعاصم النبیل کی وفات ۲۱۳ھ کے بعد کی ہے۔
خلاصہ یہ ہےکہ آپ کی وفات کے بارہ میں مختلف اقوال ہیں، بعض ۲۱۲ھ ،بعض ۲۱۳، اور بعض ۲۱۴کو آپ کی وفات کاسال قرار دیتے ہیں۔(واللہ اعلم وعلمہ أتم)
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وجزاہ اللہ عنا وعن المسلمین خیرالجزاء.
vvvvvvvvvvvvvvv

About حافظ بدیع الدین عبداللہ

جواب دیجئے