Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ مارچ » شرک تعارف،تاریخ،اسباب وقباحت

شرک تعارف،تاریخ،اسباب وقباحت

شرک کی تعریف: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت،الوہیت یا عبادت اور اسماء وصفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا شرک کہلاتاہے۔
(الف)شرک ربوبیت: اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال میںیکتا نہ ماننا یعنی اللہ کے سوا کسی اور کو بھی حاجت روا یا مشکل کشاماننا۔(مثلاً: اولاد ینا، رزق دینا، شفاء دینا وغیرہ)
(ب)شرک الوہیت: جملہ عبادات میںاللہ تعالیٰ کو اکیلا نہ ماننا، یعنی کسی اور کو بھی اللہ کی عبادت میں اس کا شریک ٹھہرانا۔(مثلاً: دعاء، ذبح، نذردینا وغیرہ)
(ج)شرک اسماء وصفات: اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کسی کو شریک کرنا۔(مثلاً: الرزاق،الرحیم، الوہاب وغیرہ)
شرک کے بعض خاص خاص اسباب:
(۱)رحمت الٰہی سے ناامیدی: شیطان کا انسان کے دل میں یہ عقیدہ بٹھادینا کہ تم گنہگار ہو۔ براہِ راست اللہ کو نہیں پکار سکتے۔ لہذا اولیاء وصالحین کو بطور وسیلہ ،دعا میں استعمال کرو جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۵۳ ](الزمر:۵۳)
ترجمہ:’’(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔ بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتاہے، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والاہے۔‘‘
(۲) شفاعت ووسیلے کے عقیدے کے تعلق سے گمراہی: انبیاء وصالحین اس دنیا میں شفاعت نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن وہ صرف موحدوں کی سفارش بھی اللہ کی اجازت سے ہی کرسکیں گے جیسا کہ قرآن شریف میں آیت الکرسی میںیوں بیان ہواہے:
[مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ ](البقرۃ:۲۵۵)
ترجمہ:’’ کون ہے جو اس (اللہ) کی اجازت کے بغیر اس(اللہ) کے سامنے شفاعت کرسکے‘‘
(۳)غلو: انبیاء وصالحین کی شان بڑھاچڑھا کر بیان کرنا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے مرتبہ کے بارے میں فرمایا:مجھے میرے مرتبہ میں بڑھا چڑھا کر غلو نہ کرنا، جیسا کہ نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم uکے ساتھ کیا میں تو بس ایک بندہ ہی ہو۔پس مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ﷺ ہی کہنا۔(صحیح بخاری:۳۴۴۵)
(۴)تعصب اور آباء واجداد پرستی: اس کے بارےمیں اللہ تعالیٰ قرآن میں اس طرح فرماتا ہے :
[وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝۰ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَہْتَدُوْنَ۝۱۷۰ ](البقرہ:۱۷۰)
ترجمہ:’’اور ان سے جب کہاجاتاہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتےہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کوپایا، گو ان کے باپ دادے بے عقل اور گمراہ ہوں۔‘‘
شرک کی قباحت کے بارے میں چندآیات قرآنی:
[اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۝۱۳](لقمان:۱۳)
ترجمہ:’’بیشک شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے۔‘‘
(۲)[وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۸۸] ترجمہ:’’اور اگر وہ لوگ(انبیاء کرام بھی بالفرض والمحال) شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔‘‘(الانعام:۸۸)
(۳)[لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۶۵ ](الزمر:۶۵)
ترجمہ:’’اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وسلم )!اگر (بالفرض) آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘
حالانکہ پیغمبروں سے شرک کاصدور ممکن نہیں۔مقصد اُمت کو شرک کی خطرناکی اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔)
شرک کی برائی کے بارے میں چنداحادیث مبارکہ:
(۱)نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نےفرمایا:’’جو شرک کی حالت میں اللہ کے سامنے آیا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم:۲۷۰)
(۲)نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’جسے اس حالت میں موت آگئی کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کوپکارتاتھا تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔
(صحیح بخاری:۱۲۳۸صحیح مسلم:۲۶۸)
شرک کی تاریخ اور اس کی حقیقت:
(۱)قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے:
[وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا۝۰ۥۙ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا۝۲۳ۚ ](نوح:۲۳)
ترجمہ:’’اور قوم نوح نے کہا کہ ہر گز بھی اپنے معبودات کو نہ چھوڑنا،نہ وَد کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو، اور نہ نسر کو۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن عباسwفرماتے ہیں یہ پانچ افراد قومِ نوح کے اولیاء وصالحین تھے جن کی وفات پر شیطان نے ان کی قوم کو گمراہ کرتے ہوئے کہا ان کی یادگار کیلئے تصاویر بنالو۔ پھر جب وہ نسل گزر گئی اور علم جاتا رہا تو شیطان نے لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ تمہارے باپ دادا ان قبروں اور تصاویر کی عبادت کیا کرتے تھے چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔(صحیح بخاری، تفسیر سورۃ نوح ،الرقم:۴۹۲۰)
کیا مسلمان شرک کرسکتاہے؟
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُہُمْ بِاللہِ اِلَّا وَہُمْ مُّشْرِكُوْنَ۝۱۰۶ ] ’’ ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے باوجود مشرک ہی رہتے ہیں۔‘‘(یوسف:۱۰۶)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’دن رات ختم نہیں ہونگے (یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی) جب تک(عرب میں) لات اور عزیٰ پھر نہ پوجے جائیں۔‘‘(صحیح مسلم:۲۹۰۸)
اس سے پتاچلا کہ مسلمان بھی مشرک ہوسکتاہے۔
شرک اکبر کی بعض اہم صورتیں:
(۱)غیراللہ سے دعاکرنا:اللہ کو کسی مخلوق کے وسیلے وواسطے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے براہِ راست پکارنا اور دعاکرنی چاہئے ،قرآن میں ہے:[وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۝۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۝۰](البقرہ:۱۸۶)
ترجمہ:’’جب میرے بندے میرے بارے میںآپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سوال کریں توآپ(صلی اللہ علیہ وسلم )کہہ دیں کہ میں بہت قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتاہوں‘‘
(۲)غیراللہ کیلئے رکوع وسجودکرنا:رکوع وسجدہ اللہ ہی کو کرنا چاہئے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[فَاسْجُدُوْا لِلہِ وَاعْبُدُوْا۝۶۲ۧ۞ ](النجم:۶۲)
ترجمہ:’’پس تم اللہ کےسامنے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو۔
(۳)غیراللہ کیلئے تعظیمی قیام:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لئے باادب کھڑے رہیں تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔(ترمذی:۲۷۵۵)
(۴)غیراللہ کے لئے نذرونیاز:آج کل غیراللہ کےنام کی نذر ونیاز بہت ہورہی ہے جیسا کہ محرم میں سیدنا حسین tکےنام کی حلیم بنائی جاتی ہے ،رجب میں سیدنا جعفرصادقaکے نام پرکونڈوں کی نیاز کی جاتی ہے وغیر وغیرہ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
[وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ](الحج:۲۹)
ترجمہ:’’اور(اللہ تعالیٰ کیلئے) اپنی نذریں پوری کریں۔
(۵)غیراللہ کیلئے اعتکاف:اعتکاف صرف مساجد میں اللہ کیلئے ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
[وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۝۱۲۵](البقرہ:۱۲۵)
ترجمہ:’’ہم نے ابراھیمuاور اسماعیلuسے وعدہ لیاکہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے پاک صاف رکھو۔‘‘
(۶)غیراللہ کیلئے قربانی:اللہ تعالیٰ کا فرمان:
[فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝۲ۭ ](الکوثر:۲)
’’پس تو اپنے رب کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:’’اللہ کی لعنت ہواس پر جو غیراللہ کیلئے ذبح کرے۔‘‘(صحیح مسلم:۱۹۷۹)
(۷)غیراللہ سے مدد طلب کرنا:آ ج کل زیادہ تر لوگ اگر کسی مشکل میں آجائیں تو ایک دم کہہ دیتے ہیں:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مدد‘‘ یا ’’یا علی مدد‘‘ جبکہ ہم سب نماز میں اللہ سے یہ وعدہ کرتےہیں:
[اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ ](الفاتحہ:۴)
’’اور ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔‘‘
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔‘‘(ترمذی:۲۱۵۶)
(۸)غیراللہ کی پناہ طلب کرنا:پناہ صرف اللہ کی مانگنی چاہئے، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
[قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۝۱ۙ ](الناس:۱)
’’(اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم )کہو میں پناہ طلب کرتاہوں لوگوں کے رب کی‘‘
(۹)غیراللہ کاخوف:شیطان اس وسوسے میں ڈالتا ہے کہ کفار بڑے طاقتور ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
[فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۱۷۵ ] ’’اور تم ان (کافروں) سے خوف نہ کھاؤبلکہ صرف میرا ہی خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘(آ ل عمران:۱۷۵)
(۱۰)غیراللہ سے امید:جن اولیاء وصالحین یا قبروالوں سے مدد کی امید رکھی جاتی ہے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّہِمُ الْوَسِـيْلَۃَ اَيُّہُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ۝۰ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۝۵۷ ](بنی اسرائیل:۵۷)
ترجمہ:’’جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میںرہتےہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہیں۔‘‘
(۱۱)غیراللہ پر توکل:جیسا کہ آج کل گاڑیوں میں کپڑے کی کالی پٹی پراندے وغیرہ حادثات سے بچنے کیلئے لگائے جاتےہیں جبکہ توکل صرف اللہ پر ہی ہوناچاہئے ،اللہ تعالیٰ کافرمان:
[وَعَلَي اللہِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۲۳ ] ’’اور اللہ ہی پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔‘‘(المائدہ:۲۳)
(۱۲)غیراللہ سے فریادکرنا:فریاد صرف اللہ سے کرنی چاہئے جیسا کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہyنے گڑگڑا کر اللہ سے فتح کیلئے فریاد کی تو اللہ نے فرمایا:
[اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ](الانفال:۹)
’’جب تم اپنے رب سے فریادیں کررہے تھے تو اس نے تمہاری سن لی۔‘‘
(۱۳)مخصوص مقامات کو متبرک سمجھنا:حدیث میں ہے کہ :
’’بعض نومسلم صحابہyنےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے بطور تبرک ایک بیری کادرخت مقرر کرنے کو کہاکیونکہ وہاں کے لوگ (جہاں سے صحابہ گزر کرحدیبیہ جارہے تھے) بھی بطورِ تبرک اپنے ہتھیار ایک بیری کے درخت پر لٹکاتے تھے توآپصلی اللہ علیہ وسلم  نے اس مطالبے کو شرک قرار دیا۔‘‘
(ترمذی:۲۱۸۰)

About حافظ صہیب ثاقب

Check Also

زکوٰۃ کی فرضیت، فضیلت، اہمیت اوراحکام

لفظ’’زکوٰۃ‘‘ کالغوی مفہوم پاکیزگی اوراضافہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلے …

جواب دیجئے