Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جون » فتنۂ غامدیت قسط:۲۳

فتنۂ غامدیت قسط:۲۳

 قسط:۲۳
موجودہ علمائے احناف ومفتیان کرام سے استفسار کرلیا جائے؟
جب مسئلے کی نوعیت یہ ہے کہ حنفی مذہب کی رو سے خاوند کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا، یعنی خاوند سے علیحدگی ممکن ہی نہیں ہے، عورت کتنی بھی مشکلا ت کاشکارہولیکن اگرخاوند اس کے مطالبۂ طلاق کو نہیں مانتا اور اس کواپنے سے علیحدہ نہیں کرتاتو عورت کے لئے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کاکوئی راستہ نہیں۔ عدالت بھی وہ نہیں جاسکتی کیونکہ فقہ حنفی عورت کو عدالت جاکراس کے ذریعے سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔ اگرکسی عورت نے بذریعۂ عدالت طلاق کی ڈگری لے کر کسی جگہ نکاح کرلیا تو وہ نکاح متصور نہیں ہوگا،بلکہ دونوں میاں بیوی ساری عمرزناکارشمارہوں گے۔
علمائے احناف سے سوال ہے کہ ایسی صورت میں ایک حنفی عورت اپنے خاوند کے بیٹے کابوسہ لے کر یااس سے اپنامنہ کالاکراکر اپنے آپ کو اپنے خاوند پرحرام کرلے تو وہ اس حیلے سے اپنے خاوند پر حرام ہوگی یانہیں؟
اس سوال کاجواب دیاجائے۔
اگرحنفی علماء یہ فتوی دے دیں کہ وہ عورت اس حیلے سے اپنے خاوند پرحرام نہیں ہوگی ،وہ بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار سکتےہیں تو ہم اپنی بات سے رجوع کرکے معذرت کرلیں گے کہ مولانا داؤد رازؔدہلوی کی شرح بخاری کے حوالےسے جوحیلہ بیان کیاگیا ہے، وہ صحیح نہیںہے، احناف کا یہ مسلک نہیں ہے۔ اگر وہ مبینہ صورت واقعی حنفی مذہب کے مطابق ہے تو پھر اس کے بیان کرنے میں کیااعتراض ہوسکتاہے؟
یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح اسے بیان کیاگیا ہے تو اس کی وضاحت کردی جائے اور اس کاصحیح مفہوم واضح کردیاجائے، تب ہم نہ صرف یہ کہ اپنے قصور علم وفہم کا اعتراف کرلیں گے بلکہ ہمیں نہایت خوشی ہوگی کہ یہ مکروہ حیلہ حنفی مذہب یا اس کے مسئلہ حرمت مصاہرت پر متفرع بھی نہیں ہے، کاش ایسا ہی ہو۔ اس سے یقینا ہماری آنکھیں روشن اور دل شاد ہوگا۔
کیا علمائے احناف واقعی خلع کے منکر ہیں؟
البتہ یہاں یہ سوال کیاجاسکتاہے کہ کیا واقعی علمائے احناف عورت کے اس حق خلع کو تسلیم نہیںکرتے جو شریعت نے عورت کو مردکے حق طلاق کے مقابلے میں دیا ہے اور جو قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے؟
ہماری طرف سے اس کاجواب اثبات میں ہے اور الحمدللہ ہمارا یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں ہے، اس کے واضح دلائل موجودہیں اور وہ علمائے احناف کے اعترافات ہیں۔
اس کی ایک واضح دلیل خودعمارصاحب کا موقف ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عورت بھی خاوند کے رویے سے مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے، اس لئے اس کے لئے بھی مرد سے گلوخلاصی کا کوئی راستہ ہوناچاہئے، پھر اس کے لئے وہ دوسرے علمائے احناف کی طرح تفویض طلاق کا راستہ تجویز کرتے ہیں، حالانکہ اسلام نے عورت کے لئے متبادل راستہ ۱۴ سوسال پہلےبتلایاہواہے۔ عزیز موصوف اس کانام نہیں لیتے اور اپنی طرف سے نیاراستہ یا نیاحل اس طرح سے پیش کررہے ہیں جیسے اسلام نے عورت کو اس کایہ حق نہیں دیا ہے، اب یہ حل چودہ سوسال بعد انہیں تلاش کرناپڑرہا ہے، یہ کیاحق خلع کاانکار نہیں ہے؟ اوراللہ کے بتلائے ہوئے حق کے مقابلے میں یہ نئی شریعت سازی نہیں ہے؟
۲:مولاناتقی عثمانی صاحب کااور دیگربعض علماء کا انکار
مولانا عثمانی صاحب محترم نے بھی’’درس ترمذی‘‘ میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے اور اس کا انکارکیاہےمولاناموصوف نے اس بحث کا عنوان مقرر کیا ہے:
’’کیاخلع عورت کاحق ہے؟‘‘
اس سوالیہ عنوان ہی سے اس امر کی نشاندہی ہوجاتی ہے کہ ان کے نزدیک عورت کو حق خلع حاصل ہی نہیں ہے، پھرفرماتے ہیں:
’’ہمارے زمانے میں خلع کے بارے میں ایک مسئلہ عصر حاضر کے متجددین نے پیداکردیاہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ تمام علمائے امت کا اس پر اتفاق رہاہے کہ خلع ایک ایسا معاملہ ہے جس میں تراضیٔ طرفین ضروری ہے اور کوئی فریق دوسرے کو مجبور نہیں کرسکتا۔
لیکن ان متجددین نے یہ دعویٰ کیا کہ خلع عورت کا ایک حق ہے جسے وہ شوہر کی مرضی کے بغیر عدالت سے وصول کرسکتی ہے یہاں تک کہ پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے عدالت عالیہ یعنی سپریم کورٹ نے اس کے مطابق فیصلہ دے دیا اور اب تمام عدالتوں میں اسی فیصلے پر بطور قانون عمل ہورہاہے حالانکہ یہ فیصلہ قرآن وسنت کے دلائل اور جمہور کے متفقہ فیصلے کےخلاف ہے‘‘(درس ترمذی:۳؍۴۹۷)
دیکھ لیجئے! حق خلع کے انکار کے لیے مسئلے کی کیسی غلط تعبیر کی ہے، حالانکہ اس میں پہلاسوال یہ ہے کہ گھر کے اندر ہی خاوند اگر کسی صورت بھی عورت کے حق علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا، تو پھر وہ عورت کیاکرے؟ کیا ایسی صورت میں عدالت ہی وہ واحد راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنا حق وہاں وصول کرے ؟
ایسی صورت میں’’تراضی طرفین‘‘ کس طرح ممکن ہے جس کوموصوف نہایت جرأت سے قرآن وسنت کے دلائل کے مطابق اور جمہور کامتفقہ فیصلہ باورکرارہے ہیں؟
پھر مزیدستم ظریفی ،قرآن وحدیث کے عطاکردہ حق خلع کو، جس کی بابت خاوند کی ہٹ دھرمی کی صورت میں قرآن نے بھی معاشرے کے ذمے داران کو خطاب کرکے (وان خفتم)کہا ہے کہ تم ان کے درمیان علیحدگی کرادو اور حدیث رسول میں بیان کردہ سیدناثابت بن قیس کے واقعے سے بھی اس امر کا اثبات ہوتا ہے کہ عورت حاکم وقت کی طرف رجوع کرسکتی ہے ،موصوف اس کوعصرحاضر کے متجددین کا موقف قرار دے رہے ہیں؟
یہ قرآن وحدیث میں بیان کردہ حق خلع کا صریح انکار نہیں ہے؟
۳۔مولانا تقی عثمانی صاحب کے والد گرامی قدرمولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے قرآن مجید کی اردو میں نہایت مفصل تفسیر تحریر فرمائی ہے جوآٹھ ضخیم جلدوں میں شائع شدہ ہے، تفسیر’’معارف القرآن‘‘ اس کانام ہے۔
اس میں ہر اہم مسئلے پر مفتی صاحب موصوف نے خاصی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ آیت خلع میں خلع کے بارے میں سرے سے انہوں نے نہ صرف یہ کہ کوئی بحث نہیں کی بلکہ نہایت پراسرار طریقے سے بالکل خاموشی سے گزرگئے ہیں۔
یہ خاموشی کس بات کی غماز ہے؟
کچھ تو ہے غالب جس کی پردہ داری ہے
اصل حقیقت تواللہ تعالیٰ ہی جانتاہے لیکن کچھ نہ کچھ اندازہ قرائن وشواہد سے بھی ہوجاتاہے ۔ہمارےخیال میں اس کی وجہ شاید یہی ہوسکتی ہے کہ خلع کی اصل حقیقت جوقرآن وحدیث سے ثابت ہے، وہ حنفی موقف سے متصادم ہے جس کی وضاحت ہم کرآئے ہیں۔ اس کی صراحت ان کے حلقۂ ارادت کیلئے ناقابل قبول ہوتی اورحنفی موقف کے بیان سے ان کے تقلیدی جمود کااظہار ہوتا۔ اس لئے انہوں نے خاموشی ہی کوبہترخیال فرمایا۔
۴: ایک اور حنفی مفسر کی ’’جرأت رندانہ‘‘ملاحظ ہو:
تفسیر ’’روح القرآن‘‘ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم مفتی محمدنعیم کی زیرنگرانی تحریر کردہ ہے ،اس تفسیر میں اس کے مفسر آیت خلع کی تفسیر میںلکھتے ہیں:
’’خلع میاں بیوی کا آپس کامعاملہ ہے ، اس میں عدالت یاتیسرا کوئی شخص مشورہ تو دے سکتاہے، جبر نہیں کرسکتا، نہ عدالت کے پاس از خود یہ اختیارہے کہ وہ شوہر کی رضامندی کےبغیر عورت کے حق میں یکطرفہ (ون سائڈ) خلع کافیصلہ کردے۔اگر عدالت ایساکوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ قرآن وحدیث اور اجماع کے خلاف ہونے کی وجہ سے لوگوں کے نزدیک ناقابل عمل ہوگااور اللہ کے نزدیک ناقابل قبول رہے گا۔
(تفیسر’’روح القرآن ۱؍۵۸۸،جامعۃ البنوریہ العالمیۃ)
ان صاحب کی بھی جرأت دیکھ لیجئے!حنفی طریقِ خلع کو،جس میں عورت اپناحق عدالت سے بھی وصول نہیں کرسکتی،قرآن وحدیث کا بیان کردہ خلع قراردے رہےہیں۔ حالانکہ ان دونوں میں زمین آسمان کافرق ہے۔ان سے پوچھا جائے کہ عدالت کس لیے ہوتی ہے؟اس کا کیاکام ہے؟
کیا عدالت میں سارے فیصلےطرفین کی رضامندی سے ہوتے ہیں؟ عدالت تو ہوتی ہے اسی لئے ہے کہ ایک فریق،دوسرے فریق کاحق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا،ایسی ہی صورت میں عدالت یاپنچایت مداخلت کرکے حق دار کو اس کاحق دلواتی ہے۔ علاوہ ازیں عدالت میں جانے کی ضرورت ہی اس وقت پیش آتی ہے جب ایک فریق، دوسرے فریق کا جائز حق بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایسے دنیا بھر کے مقدمات میں لوگ عدالتوں ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔کیا عورت ہی وہ واحد مظلوم ہے کہ وہ اپنے ظلم کے ازالے اور اپناحق وصول کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکتی؟ یہ کیاانصاف ہے؟ اوریہ کونسا قرآن وحدیث ہے جس میں عورت پر یہ ظلم روا رکھاگیا ہے؟خدارا! اس ظلم کو قرآن وحدیث اور اجماع امت کی طرف تو منسوب نہ کریں؟
پھر ستم بالائے ستم!’’اگر کوئی عورت عدالت سے خلع کافیصلہ لے لے گی، تووہ اللہ کے نزدیک ناقابل قبول رہےگا‘‘ اس کامطلب کیا ہے؟ اس کامطلب توبظاہریہی ہے کہ وہ عورت عدالت کے فیصلے کے باوجود اسی ظالم اور سخت ناپسندیدہ خاوند ہی کی بیوی شمار ہوگی اور اگر وہ اس عدالتی فیصلے کو طلاق سمجھ کر کسی اور جگہ نکاح کرے گی تو عمر بھر زناکار رہےگی۔اناللہ واناالیہ راجعون.
۵۔بھارت کے ایک معروف حنفی عالم ہیں جن کی علمی وفقہی حیثیت پاک وہند کے حنفی (دیوبندی) علماء میں مسلم ہے، یہ ہیں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، فاضل دیوبند،صدرمدرس دار العلوم سبیل السلام(حیدر آباد دکن ،بھارت) انہوں نے فقہ حنفی کے انکار خلع کے مسلک پر سخت تنقید کی ہے اور اس پر تفصیل سے بحث کی ہے، جس میں احناف کے دلائل کا ردقرآن وحدیث کے دلائل سے اس کااثبات ہے۔ اس کاصرف ایک اقتباس، جو اپنے ہم مسلک احناف کے دلائل کا رد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے،حسب ذیل ہے:
’’ان(احناف) کا یہ کہناکہ اصل یہ ہے کہ طلاق کا اختیار مرد کے ہاتھ میں ہے، تسلیم ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مقاصدِ نکاح کی حفاظت اور زوجین کی مصلحتوں کی رعایت کےپیش نظر قاضی بھی بہت سی صورتوں میں تفریق کامختار بن جاتاہے۔ یہاں بھی زوجین کے بڑھتے ہوئے شدید اور ناقابل حل اختلاف کو پیش نظر رکھ کر جب قاضی کے نمائندے اس نتیجے پرپہنچ جائیں کہ ان دونوں میں تفریق اورعلیحدگی ہوجانی چاہئے تومقاصد نکاح کی حفاظت اور دونوں کو اللہ کی حدوں پرقائم رکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ یہ لگام مرد سے لے لی جائے اور قاضی کی طرف سے مقرر شدہ حکم ازخود تفریق کردیں‘‘
آگے احناف کےمزیددلائل کانہایت معقول رد ہے۔ اس بحث کا عنوان ہی انہوں نے یہ لکھاہے:
’’خلع میں قاضی اور حکم کے اختیارات‘‘
یعنی احناف جس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے، موصوف نے سب سے پہلے عنوان ہی میںاس کااثبات کردیا ہے اور پھر مفصل بحث کی ہے جو ان کی کتاب ’’جدید فقہی مسائل‘‘حصہ دوم کے صفحہ ۹۷سے۱۰۷ صفحات تک ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ یہ کتاب پاکستان میں بھی چھپ گئی ہے،ہمارے سامنے وہی پاکستانی ایڈیشن ہے۔
ہم نے موصوف کی کتاب کاحوالہ اس لئے دیا ہے کہ اس سے یہ بات واضح ہےکہ احناف عورت کے اس حق خلع کو نہیں مانتے جس کااثبات قرآن وحدیث کی واضح تصریحات سے ہوتا ہے، مولانا رحمانی نے اس حنفی موقف سے دلائل کی روشنی میں انکار کیا ہے۔
۶۔ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن (حنفی) نے بھی اپنی کتاب’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ کی جلد دوم میں اپنے حنفی مسلک سے اختلاف کرتےہوئے متعدد صورتوں میں عورت کے لیے اس خلع کا اثبات کیا ہے جو وہ عدالت کے ذریعے سے حاصل کرسکتی ہے۔
۷۔آج سے کم وبیش ۸۳سال قبل (۱۳۵۱ھ)میںمولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا مفتی عبدالکریم گتھلوی مرحوم کے تعاون سے ایک کتاب تالیف فرمائی تھی، اس وقت سے اب تک وہ متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔ اس کا تازہ ایڈیشن (فوٹو) دار الاشاعت کراچی سے(فروری ۱۹۸۷ء میں) شائع ہوا ہے۔ اس کا مقدمہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نےلکھا ہے جس میں انہوں نے اس کتاب کی تالیف کاپس منظر اور مقصد بھی بیان فرمایاہے اور وہ حسب ذیل ہے:
’’اسلام نے طلاق کا حق بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر زوجین میں سے صرف مرد کو عطا فرمایا ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات سے صرف نظر نہیں فرمایا کہ بعض حالات ایسے پیدا ہوسکتے ہیں جن میں عورت کو مرد سے گلوخلاصی حاصل کرنے کےلیے اس سےطلاق یاخلع حاصل ہونے کی کوئی صورت نہ بن سکےْ حنفی مذہب میں اس کے لیے بہترین طریقہ تفویض طلاق کا ہے۔ اگر نکاح کےآغاز ہی میں اس طریقے کو اختیار کرلیاجائے تو ایسے حالات میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوسکتی‘‘
(ص:۹)
قارئین کرام!سے ہم معذرت خواہ ہیں کہ مولانا عثمانی صاحب کا اقتباس مکمل کیے بغیر ہی ہم نے درمیان میں دخل دینا شروع کردیا ہے، بات دراصل یہ ہے کہ اقتباس کا یہ پہلا پیراپڑھتے ہی ہمیں یارائے ضبط نہیںرہا اور ذہن میں ایک اہم سوال پیدا ہوا کہ اسلام نے مرد کو حق طلاق حنفی مذہب کی تدوین سے کئی سوسال قبل دیا تھا، یہ حق صرف مرد کو دینے کی وجہ سے عورت کو جو مشکلات پیش آسکتی تھیں، وہ حنفی مذہب کی تدوین سے پہلے بھی پیش آئیں یا نہیں؟اگرپہلے بھی پیش آئی ہیں اور یقیناً آئی ہیں، خود عہدرسالت میں سیدنا ثابت بن قیس tکی اہلیہ کو اپنے خاوند سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون کی مشکل کوحل فرمایا ہے ۔ وہ حل کیا تھا؟ کیا وہ حل تفویض طلاق کاتھا؟ یا اس خاتون کے لیے توآپﷺ نے یہ حل تجویز نہیں فرمایا لیکن آئندہ کے لیے یہ حل تجویز فرمادیاہو؟ کیونکہ یہ مشکلات توبہرحال پیش آنی ہی آنی تھیں۔ شریعت نے مرد کو تو ’’ویٹوپاور‘‘ عطاکردیالیکن اس کے نتیجے میں عورت کے لیے جو مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں، اس کاکوئی حل اسلام نے نہیں بتلایا؟ یہ ایک ناقابل فہم بات ہونے کے علاوہ اسلام کی ابدیت وکاملیت کے بھی منافی ہے، اللہ تعالیٰ کے عالم ماکان ومایکون کے عقیدے کے بھی خلاف ہے۔
حنفی مذہب کو اس مشکل کے حل کا کریڈٹ دینے سےپہلے علمائے احناف کو اس سوال کا جواب دیناچاہئے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ علمائے احناف کے لیے اس حل کوچھوڑ کرجو عہدرسالت وعہدصحابہ وتابعین میں معمول بہ رہا، نیاحل اختیار کرناکیوں ضروری ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ اسلام کے بتلائے ہوئے شرعی حل کوچھوڑ کر’’ایجاد بندہ‘‘ حل کواختیار کرنا کیا شریعت سازی نہیں ہے؟ کیاشریعت سازی کا یہ حل کسی کوحاصل ہے؟ چوتھا سوال ہے کہ اصل شرعی حل کے مقابلے میں حنفی مذہب کے تفویض طلاق کو’’بہترین طریقہ‘‘ قرار دینا، شریعت اسلامی سے بھی برتری کااظہار نہیں ہے؟
بہرحال مولاناتقی عثمانی صاحب’’تفویض طلاق‘‘ کے’’فضائل‘‘ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں، ان کے اقتباس کادوسرا پیرا ملاحظہ ہو:
’’لیکن چونکہ شرعی احکام سے ناواقفیت عام ہوچکی ہے اس لئے عام طور پر لوگ نکاح کے وقت شریعت کی دی ہوئی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور آگے چل کر خواتین مشکلات کاشکار ہوجاتی ہیں۔ ایسی خواتین جنہوں نے نکاح کے وقت تفویض طلاق کے طریقے کو اختیار نہ کیا ہو، اگربعد میں کسی شدید مجبوری کے تحت شوہر سے گلوخلاصی حاصل کرناچاہیں، مثلاً شوہر اتناظالم ہو کہ نہ نفقہ دیتاہو، نہ آباد کرتاہو، یا وہ پاگل ہوجائے، یا مفقود الخبرہوجائے، یانامرد ہو اور از خود طلاق یاخلع پر آمادہ نہ ہو، تواصل حنفی مسلک میں ایسی عورتوں کے لیے شدید مشکلات ہیں۔ خاص طور پر ان مقامات میں جہاں شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والاقاضی موجود نہ ہو، ایسی عورتوں کے لئے اصل حنفی مسلک میں شوہر کی رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے‘‘(حیلۂ ناجزہ،ص۹،۱۰)
اس پس منظر کے بعد انہوں نے اس امر کی صراحت فرمائی ہےکہ غیرمنقسم ہندوستان میں، سب سے پہلے خواتین کی ان مشکلات کا احساس مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے حلقۂ ادارت کے چندعلماء نے کیا اور پھر ان کاجوحل پیش کیا، اس پر اکابر علماء کی تصدیقات بھی حاصل کیں۔
ان علمائے مرحومین نے خواتین کی مذکورہ مشکلات کاحل فقہ حنفی سے نہیں،کیونکہ فقہ حنفی میں تو سرے سے ان کاحل ہی نہیں ہے، بلکہ دوسری فقہوں کی روشنی میں کیا۔حالانکہ پہلے پیرے میں انہوں نے فرمایا تھا کہ حنفی مذہب نے سب سے پہلے خواتین کی مشکلات کااحساس کیا اور اس کے لیے ایک بہترین طریقہ’’تفویض طلاق‘‘ کاتجویز کیا۔
یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے جس کی طرف ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ طریقۂ تفویض یادیگرحلوں سے پہلے عہدخیرالقرون میں بھی عورتیں ان مشکلات کاشکارہوئی ہیں، اس وقت فقہ حنفی سمیت کوئی بھی فقہ نہیں تھی، ان مشکلات کو کس طرح حل کیاگیا؟
ظاہر بات ہے کہ اس دور میں انہیں صرف قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کی روشنی ہی میں حل کیاگیاہے، جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں ان مشکلات کاحل موجود ہے۔ اور یقیناً ہے، پھرعلمائے دیوبند کو ان حلوں کو سب سے پہلے دریافت کرنے اور پیش کرنے کا دعویٰ کیوں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ میں جب ان تمام مشکلات کاحل الحمدللہ موجود ہے (جس کی تفصیل راقم کی کتاب ’’خواتین کے امتیازی مسائل میں موجود ہے) توپھر ان کو بنیاد بنانے سے گریز کیوں؟
تیسراسوال ہے کہ دوسری فقہوں کے بعض مسائل کو اختیار کرنے سے ایک حنفی ،حنفیت سے خارج نہیں ہوتا بلکہ حنفیت ہی میں رہتا ہے، تو کیا قرآن وحدیث کی نصوص سے استفادہ کرنے والاحنفی حنفیت سے خارج ہوجاتاہے؟وہ حنفی رہتے ہوئے کم از کم ان مسائل میں، جن کاحل فقہ حنفی میں نہیں ہے، قرآن وحدیث اور آثار صحابہ میں پیش کردہ حل کیوں اختیار نہیں کرتا،یانہیں کرسکتا؟علمائے دیوبند نے ان حلوں کو کیوں قبول نہیں کیااور اب بھی اس کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟ اس سے تو بظاہر یہی مفہوم نکلتا ہے کہ جس طرح فقہ حنفی میں ان کاحل نہیں ہے، شریعت اسلامیہ میں بھی ان کاحل نہیں ہے۔ اگر ہمارا یہ سمجھنا غلط ہے تو یہ علماءجواب دیں کہ ان کے اکابر نے ایسا کیوں کیا؟اور اب بھی شریعت اسلامیہ کے حل کوماننے کے لیےکیوں تیارنہیں؟
علاوہ ازیں پھر یہ کہنا کہ:
’’خاص طور پر ان مقامات میں جہاں شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والاکوئی قاضی موجود نہ ہو، ایسی عورتوں کے لیے اصل حنفی مسلک میں شوہر سے رہائی کی کوئی صورت نہیں‘‘
لیکن قاضی کو توعلمائے احناف تفریق بین الزوجین کااختیار دینے کے لیے تیار ہی نہیںہیں، توپھرقاضی کی دہائی کیوں؟
بہرحال یہ چندباتیں ،یاسوالات مولاناعثمانی صاحب کا اقتباس نقل کرتے ہوئے بے اختیارذہن میں پیداہوگئے، ہمارا اس اقتباس سے اصل مقصود یہ واضح کرنا تھا کہ علمائے احناف خلع کی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیںہیں جوقرآن وحدیث کی نصوص سے ثابت ہیں۔اس لئے وہ خواتین کی مشکلات کے اس حل کو تو نہیں مان رہے ہیں اور اس کے متبادل اپنے وضع کردہ حل’’تفویض طلاق‘‘ ہی کو اس کاواحد حل بتلارہےہیں ،اناللہ واناالیہ راجعون.
۸۔مولانا مودودی مرحوم کی وضاحت
مولانامودودی مرحوم نے بھی اپنی کتاب’’حقوق الزوجین‘‘ میں مسئلہ خلع پر مفصل بحث کی ہے اور حنفی ہونے کے باوجود انہوں نے علمائے احناف کے خلع کے نہ ماننے پر نہ صرف یہ کہ سخت تنقید کی ہے بلکہ عورت کے اس حق خلع کاقرآن وحدیث اور آثار صحابہ سے اثبات کیا ہے، مضمون اگرچہ خاصا لمبا ہوگیا ہے لیکن مضمون کی اہمیت اس بات کی متقاضی ہے کہ قارئین کرام کو بھی اس سے آگاہ کیاجائے۔ چنانچہ ان کی کتاب کایہ حصہ درج ذیل ہے۔ (جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے