Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جولائ » رفعتِ آسمان’’ اللہ ‘‘کی عظمت کا نشان

رفعتِ آسمان’’ اللہ ‘‘کی عظمت کا نشان


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ذات، صفات ،اختیارات کے ثبوت اور اپنی عبادت کے استحقاق کیلئے درجنوں الہامی، عقلی اور مشاہداتی دلائل دیئے اور انسان کو اپنے انعامات یاد دلا کر بار بار متوجہ کیا ہے کہ ’’ اے انسان میری قدرت کے نشانات اور میرے احسانات پر غور کر‘‘ تاکہ تجھے علم سے بڑھ کر عین الیقین ہو جائے کہ ’’اللہ‘‘ ہی تجھے اور زمین و آسمانوں اور پوری کائنات کو پیدا کرنے اور اس کا نظام چلانے والا ہے۔ اس نے انسان کی فہم اور صلاحیت کا خیا ل رکھتے ہوئے اپنی قدرت کی اُن نشانیوں اور مظاہرات کی طرف توجہ دلائی ہے جنہیں ہر انسان دیکھتا اور جانتا ہے اور ان سے اپنی استعداد اور قوّت کار کے مطابق استفادہ کرتا ہے ۔ قدرت کاملہ کی بڑی نشانیوں میں سات آسمانوں کا کسی ستون اور سہارے کے بغیر اوپر نیچے تنے رہنا، لاتعداد سال گزرنے کے باوجود اپنی جگہ سے نہ ہلنا اور نہ جھکنا ہے۔
اَن گنت مدّت بیت جانے کے باوجود آسمان کی رنگت میں فرق واقع نہ ہونا ، دن کے وقت سورج کا چمکنا اور رات کے وقت چاند ستاروں کا جگمگانا، یہ خالق کائنات کی ایسی نشانیاں ہیں جن کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں لہٰذا ان کے خالق کا حکم مانا جائے اور صرف اسی کی بندگی کی جائے۔ ان حقائق کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے ایسے دلائل دیئے کہ ایک ان پڑھ بھی بات کو پوری طرح سمجھتا ہے اور علم و آگہی رکھنے والا یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اور پیدا کیا ہے وہ اپنے جمال و کمال کی انتہاء تک پہنچا ہوا ہے۔ اس لیے ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہے :’’ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۔‘‘ اسی خالق نے ہی زمین و آسمانوں کو بغیر پہلے سے موجود نمونے کے پیدا کیا ہے۔
{بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَی أَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ} (البقرۃ: ۱۱۷) (انعام:۱۰۱)
’’ اللہ ‘‘ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی نمونے کے پید اکیا، جب وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اُسے حکم دیتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ وہ کام اس کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
’’بدیع ‘‘کا لفظ استعمال فرما کر واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے کے، اوپر نیچے سات آسماں اور تہ بہ تہ سات زمینیں پیدا کیے ہیں ۔جبکہ اس سے پہلے زمین وآسمان آپس میں ملے ہوئے تھے۔
{أَوَلَمْ یَرَالَّذِینَ کَفَرُواأَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَائِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ} (الانبیائ:۳۰)
’’کیا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور بات کا انکار کرتے ہیں انہوں نے غور نہیں کیاکہ آسمان اور زمین آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہرزندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا پھربھی وہ ایمان نہیں لائیں گے ؟‘‘
’’رَتْقًا‘‘کا معنی ہے آپس میں خلط ملط اور جڑے ہوئے ۔
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو حکم دیا کہ تم اوپر نیچے سات آسمان بن جائو اور زمین کو حکم ہوا کہ تو تہہ بہ تہہ سات زمینوں کی شکل اختیا رکر لے چنانچہ ایسا ہو گیا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بظاہر عمل بڑا سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اب تک اس کی جو جزئیات سامنے آئی ہیں اُن پر غور کیا جائے تو آدمی کی عقل نہ صرف دنگ رہ جاتی ہے بلکہ اس عمل کا احاطہ کرنے سے پہلے ہی سوچ کی حد ختم ہو جاتی ہے ۔
{ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء ِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْہًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ} (حم السجدہ:۱۱)
’’پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا، اُس نے آسمانوں اور زمین سے فرمایا چاہو یا نہ چاہو ہر حال وجود میں آجاؤ، دونوں نے کہا ہم تابع فرمان ہو کر حاضر ہوگئے۔
آسمان بنانے کے بعد انہیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس میں مسلسل توسیع کی جارہی ہے ۔آسمانوں کو دو دن میں بنایا اور پھر ہر آسمان کو اس کے متعلقہ امور کے بارے میں احکام صادر فرمائے پھر پہلے آسمان کو چاند ستاروں سے مزیّن کیا اور شیاطین سے اسکی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔
{وَالسَّمَاء بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ}[سورۃ الذاریات:۴۷] ’’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم اس کو وسعت دیئے جا رہے ہیں ۔ ‘‘
’’اَیْدِیَ‘‘ ’’ید ‘‘کی جمع ہے جس کے بارے میں اہل علم کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بارے میں ید کا لفظ بولتا ہے تو اس کا مطلب ا س کا ہاتھ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں قیاس آرائی اورکوئی تاویل کرنے کی اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے لیے ’’اَیْدِیْ ‘‘کا لفظ استعمال فرماتا ہے تو اس کا معنٰی قوت اورطاقت ہوتاہے۔ یہاں ’’اَیْدِیْ‘‘ کا معنٰی یہ ہوگا کہ ہم نے آسمانوں کو بنایا اورہمیں اس پر پوری قوت اور اختیار حاصل تھا اور ہے اور ہم اسے وسعت دئیے جا رہے ہیں۔
{اَللّٰہُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ } (الرعد:۲)
’’اللہ وہ ہے جس نے آسما نوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا جنہیں تم دیکھتے ہو ،پھر وہ عرش پرجلوہ افروز ہوا۔‘‘
{وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاء ِ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا}(ہود:۷)
’’اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘
فَقَضَاہُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَوْمَیْنِ وَأَوْحَی فِی کُلِّ سَمَاء ٍ أَمْرَہَا وَزَیَّنَّا السَّمَاء َ الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ وَحِفْظًا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ (حم السجدہ:۱۲)
’’ اُس نے دو دن میں سات آسمان بنا ئے اور ہر آسمان کے لیے اس سے متعلقہ قانون جاری کیا، اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے خوبصورت بنایا اور اسے محفوظ کر دیا۔ یہ سب کچھ جاننے والی زبردست ہستی کا بنایا ہوا ہے۔‘‘
{أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی الْأَرْضِ وَالْفُلْکَ تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِأَمْرِہِ وَیُمْسِکُ السَّمَائَ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِہِ إِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَؤُفٌ رَحِیمٌ} (الحج:۶۵)
’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی نے کشتی کو پابند کیا ہے جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی ذات آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر نہایت شفقت کرنے اور مہربانی فرمانے والاہے۔ ‘‘
آسمان کی طرف دیکھیں نہ معلوم کتنی مدّت سے بغیرسہارے کے کھڑا ہے ۔ نہ اس میں کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے اور نہ وہ کسی طرف سے جھکا ہے ۔ یہ اللہ کے حکم کے مطابق تنا ہوا ہے اور نیچے گرنے کا نام نہیں لیتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آسمان زمین پر دھڑان آگرے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی ہے کہ وہ لوگوں کے کفرو شرک اور ہر قسم کی نافرمانی دیکھ کر بھی آسمانوں کو تھامے ہوئے ہر چیز کو انسان کی خدمت میں لگائے ہوئے ہے لیکن اس کے باوجودانسان اس کو معبودِ برحق ماننے کے لیے تیار نہیں،غور کریں کہ انسان کس قدر ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ کس قدرمہربان ہے ۔
{إِنَّ اللَّہَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ إِنَّہُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا}(فاطر:۴۱)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ سوا کوئی اُنہیں تھامنے والا نہیں ہے، بے شک اللہ بڑے حوصلے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔‘‘
یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کوپیدا فرمایا اور وہی انہیںتھامے ہوئے ہے ۔تاکہ اپنے مقام سے ہلنے نہ پائیں اگر وہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو کون ہے جو اُسے اصل جگہ پر لے آئے؟ آسمان کو تھامنا تو درکنار ،پوری دنیا کے حکمران اورعوام مِل کرزمین کوہلنے یعنی زلزلہ سے نہیں بچا سکتے ۔زلزلہ سے بچانا تو دور کی بات، ارضیات کے سائنسدان اب تک یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ زمین میں کہاں اورکب زلزلہ واقع ہوگا ۔تاریخِ انسانی میںکتنی بار زلزلہ آیا جس نے چند لمحوں کے اندر نہ صرف ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس علاقے کا نقشہ بدل کررکھ دیا۔اب تک نہ ہوا ہے او ر نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سِوا کوئی زلزلوں کوروک سکے اس کی قوت و قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دے رکھا ہے۔ جس وجہ سے انسان زمین و آسمانوں کے خالق اورمالک کو بھول کراس کی مخلوق میں دوسروں کو اس کا شریک بنا لیتاہے ۔
{أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللَّہَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی بَلَی إِنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ}(الاحقاف:۳۳)
’’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور ان کو بنانے میں اسے کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی، وہ پوری قدرت رکھتا ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے ،کیوں نہیں؟ یقینا وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘
جو لوگ ’’اللہ تعالیٰ ‘‘کی ذات پر اس کے حکم کے مطابق ایمان نہیں لاتے، کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ’’اللہ ‘‘وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اوران کے پیدا کرنے میں اسے کوئی تھکان محسوس نہ ہوئی ۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے ۔کیوں نہیں ! بلاشبہ وہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر اقتدار اور پورا اختیار رکھنے والا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود لوگ اللہ کی ذات ،صفات ،اس کے احکام اور اس کی بات پر یقین نہیں رکھتے ،وہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ مردوں کو زندہ نہیں کرسکتا۔
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ}(ق:۳۸)
’’ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے اُسے چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکان نہیں ہوئی۔‘‘
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے زمین و آسمان پیدا کر نے کے بعد تھکان نہ ہونے کا مسئلہ ہے اس بارے میں یہودیوں اوران سے متاثرین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانو ں اورہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد تھکان محسوس کی۔ اس لیے ہفتہ کے دن آرام فرمایا جس وجہ سے ہم بھی ہفتہ کے دن کام کاج سے چھٹی کرتے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی واضح نفی فرمائی ہے کہ زمین وآسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد اسے کوئی تھکان نہیں ہوئی تھی۔ اس نے زمین وآسمانوں اور مخلوق کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ہر وقت پوری مخلوق کی نگرانی اور حفاظت بھی فرما رہا ہے اور اسے کوئی تھکان نہیں ہوتی۔
{وَلَا یَؤُدُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ}البقرہ:۲۵۵
’’وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتاہے وہ بہت ہی بلند وبالا اور بڑی عظمت والا ہے۔‘‘
{الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ٭ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَہُوَ حَسِیرٌ } (الملک: ۳،۴)
’’اُسی نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم الرّحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو، کیا تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کرپلٹ آئے گی لیکن تم آسمان میں کوئی شگاف نہیں پاؤ گے۔‘‘
{أَفَلَمْ یَنْظُرُواإِلَی السَّمَائِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَاوَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ} (ق: ۶)
’’کیا پھر انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھاکہ ہم نے اسے کس طرح بنایا اور مزیّن کیا اور اس میں کہیں شگاف نہیں ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زمین و آسمان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے ۔ہرمقام پر چند الفاظ کے تکرار کے سوا نئے الفاظ کے ساتھ نیا استدلال پیش کیا ہے ۔ اسی اصول کے تحت قیامت کے دن جی اٹھنے کاانکار کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ کیا وہ اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کی طرف غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بنایا اور سجایا ہے اور اس میں کسی قسم کا شگاف نہیں پایا جاتا۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ بَیْنَمَا نَبِیُّ اللَّہِ ﷺَ جَالِسٌ وَأَصْحَابُہُ إِذْ أَتَی عَلَیْہِمْ سَحَابٌ فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ ہَلْ تَدْرُونَ مَا ہَذَا فَقَالُوااللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ ہَذَا العَنَانُ ہَذِہِ رَوَایَا الأَرْضِ یَسُوقُہُ اللَّہُ إِلَی قَوْمٍ لَا یَشْکُرُونَہُ وَلَا یَدْعُونَہُ ثُمَّ قَالَ ہَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَکُمْ قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہَا الرَّقِیعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَکْفُوفٌ ثُمَّ قَالَ ہَلْ تَدْرُونَ کَمْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہَا قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَم قَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہَا مَسِیرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ ثُمَّ قَالَ ہَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِکَ قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِکَ سَمَائَیْنِ مَا بَیْنَہُمَا مَسِیرَۃُ خَمْسِمِائَۃِ عَامٍ حَتَّی عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ مَا بَیْنَ کُلِّ سَمَائَیْنِ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ(رواہ الترمذی:بَابٌ وَمِنْ سُورَۃِ الحَدِیدِ قال الترمذی ہذا حدیث غریب من ہذا الوجہ)
’’حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبیؐ اکرم اور آپ کے صحابہؓ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اچانک موسم ابرآلود ہوگیا۔آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا کیا تم اس کے بارے میں جانتے ہو؟ صحابہ نے جواب دیا: اللہ اوراس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: یہ بادل زمین کو سیراب کرنے والے ہیں،اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو ان لوگوں سے دور لے جاتا ہے جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے دعا کرتے ہیں۔ آپؐ نے پھر پوچھا تمہارے اوپر کیا چیز ہے؟ صحابہ نے عرض کی اللہ اوراس کا رسول زیادہ علم رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہے یہ محفوظ اورمضبوط چھت اور بند موج ہے۔ آپ نے پھر پوچھا: تمہارے اورآسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔صحابہ نے عرض کی: اللہ اوراس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اورآسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ اس کے اوپر کیاہے ؟ صحابہ نے پھر کہا اللہ اوراس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس کے اوپر ایک اور آسمان ہے اورہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سوسال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان بتلائے اورہر دو آسمانوں کے درمیان اتنی ہی مسافت بیان فرمائی۔‘‘
{وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاء ِ بُرُوجًا وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ ٭ وَحَفِظْنَاہَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ ٭ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ }(الحجر:۱۶-۱۸)
’’او ریقینا ہم نے آسمان میں برج بنائے او راسے دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا ہے اور اس کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کی ہے ۔ جو کوئی سُنی ہوئی بات چرا لے تو ایک بھٹکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے ۔‘‘
خالقِ کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے آسمان کو خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے اسے محفوظ کر دیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والوں نے آسمان ِدنیا کے بارہ برج متعین کیے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ بُرج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے ہیں اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بروج سے مرادوہ مقام ہوں جہاں ملائکہ شیاطین پر شہابِ ثاقب پھینکتے ہیں۔اکثر اہلِ علم نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ کیا گیا ہے۔
’’شہاب مبین ‘‘ کے لغوی معنی ’’ روشن شعلہ‘‘ ہے ۔ دوسرے مقام پر قرآن مجید میں اس کے لیے ’’شہابِ ثاقب‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، یعنی ’’اندھیرے کو چیرنے والا شعلہ ۔ ‘‘ اس سے مراد ضروری نہیں کہ وہ ٹوٹنے والا تارہ ہی ہو جسے ہماری زبان میں شہاب ِثاقب کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شعاعیں ہوں ، یعنی کائناتی شعائیں (Cosmic Rays) یا ان سے بھی زیادہ شدید قسم کی کوئی چیز جو اب تک سائنس دانوں کے علم میں نہ آئی ہو۔ ممکن ہے کہ یہ شہاب ثاقب وہ ہوں جنہیں کبھی کبھی ہماری آنکھیں زمین کی طرف گرتے ہوئے دیکھتی ہیں ۔ زمانۂ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ دوربین سے دکھائی دینے والے شہاب ِثاقب جو فضائے بسیط سے زمین کی طرف آتے ہیں، ان کی تعداد کا اوسط ۱۰ کھرب یومیہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور ان میں بمشکل ایک آدھ زمین تک پہنچتا ہے ۔ ان کی رفتار بالائی فضا میں کم و بیش ۲۶ میل فی سیکنڈ ہوتی ہے جو بسا اوقات ۵۰ میل فی سیکنڈ تک دیکھی گئی ہے ۔ کئی دفعہ ایساہواہے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ٹوٹنے والے ستاروں کی غیر معمولی بارش دیکھی ہے ۔ چنانچہ یہ چیز ریکارڈ پر ہے کہ ۱۳ نومبر ۱۸۳۳ء کو شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے میں صرف ایک مقام پر نصف شب سے لے کر صبح تک ۲ لاکھ شہاب ِثاقب گرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ) ہو سکتا ہے کہ یہی بارش عالم بالا کی طرف سے شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو ۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیّﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللّٰہُ الأَمْرَ فِی السَّمَائِ ضَرَبَتِ الْمَلاَئِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا لِلَّذِیْ قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہٖ الْیُمْنَی نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہُ وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِیَ بِہَا إِلَی الَّذِیْ یَلِیہِ إِلَی الَّذِی ہُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتَّی یُلْقُوہَا إِلَی الأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی الأَرْضِ فَتُلْقَی عَلَی فَمِ السَّاحِرِ فَیَکْذِبُ مَعَہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ فَیَصْدُقُ فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ یُخْبِرْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا یَکُوْنُ کَذَا وَ کَذَا فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِی سُمِعَتْ مِنَ السَّمَائِ [رواہ البخاری باب قَوْلِہِ إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ ] ’’حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ اُنہیں نبی ﷺکی یہ حدیث پہنچی کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر ہلاتے ہیں جس طرح چٹان پر کوئی چیز گھسٹنے سے آواز نکلتی ہے۔ حضرت علیؓ اس حدیث کے بارے میں یوں فرماتے ہیں ملائکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ کرتے ہیں جب اُن کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: آپ کے رب نے کیا فرمایا؟ دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ جو فرمایا حق فرمایا وہ سب سے بلند و بالا ہے۔ شیاطین اس سے چوری چھپے کچھ سُن لیتے ہیں۔ اُن کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بیان کرنے والے راوی سفیانؒ نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے یہ ذکر کیا۔ کئی مرتبہ سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب پڑتا ہے اس سے پہلے کہ وہ اُس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے اور بسااوقات شہاب ثاقب اُسے نہیں لگتا۔اس وقت تک وہ شیطان اُسے نیچے والوں تک پہنچا چکا ہوتا ہے۔ یہ بات چلتے چلتے زمین والوں تک پہنچ جاتی ہے۔ تابعی حضرت ابو سفیانؒ کہتے ہیں اُسے شیاطین جادو گر کے دماغ میں القاء کرتے ہیں ۔ وہ اُس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتا ہے، اُس کی ایک سچی بات کی وجہ سے اُس کی تصدیق کی جاتی ہے۔ وہ لوگوں سے کہتا ہے میں نے فلاں فلاں موقع پر تمھیں فلاں فلاں بات نہیں بتلائی تھی؟ جو سچ ثابت ہوئی تھی اس لیے کہ وہ بات اسے شیاطین کے ذریعے آسمان سے پہنچی تھی ۔ ‘‘
{ وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَائَ فَوَجَدْنَاہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیدًا وَشُہُبًا٭وَأَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ یَسْتَمِعِ الْآنَ یَجِدْ لَہُ شِہَابًا رَصَدًا٭ } (الجن ۸،۹)
’’اور بے شک ہم نے آسمان کو ٹٹولا ، دیکھا کہ وہ پہرے داروں اور شہابوں سے بھرا پڑا ہے۔اس سے پہلے ہم کچھ سننے کے لیے آسمان کے قریب بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے مگر اب جو سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے شہابِ ثاقب پاتا ہے۔‘‘
نبیؐ کی بعثت سے پہلے جِنّات آسمان کے دروازوں کے قریب جاکر کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے پھر وہ باتیں کسی کاہن کے دل میں ڈالتے تھے۔اس بنا پر کاہن غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب نبی علیہ السلام کونبوت عطا فرمائی تو آسمان کی حفاظت کا خصوصی بندوبست فرمادیا تاکہ جِنّات کسی طرح بھی آسمان کی باتیں نہ سن سکیں۔ اس بنا پر مسلمان ہونے والے جِنّات نے اپنے ساتھیوں کو بتلایا کہ اب آسمان کی حفاظت کے لیے پہرے دار بٹھادیئے گئے ہیں اورشہابِ ثاقب ہمارا تعاقب کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کوزمین میں حکمرانی عطا فرمائی اورزمین و آسمانوں کی ہر چیز کواس کی خدمت پر لگایا (الجاثیۃ:۳۱)اوراسے حکم دیا کہ میرے سوا تونے کسی کے سامنے نہ جھکنا ہے اورنہ ہی کسی کواپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا ۔مگر بے شمار لوگوں نے ’’ اللہ تعالیٰ‘‘پر ایمان لانے اورصرف اُس کی عبادت کرنے کی بجائے اس کے شریک بنائے اوراس کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے اپنی فریادیں، رکوع وسجود اورنذر ونیاز پیش کرتے ہیں۔
{قُلْ أَرَأَیْتُمْ شُرَکَاء َکُمُ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَرُونِی مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَیْنَاہُمْ کِتَابًا فَہُمْ عَلَی بَیِّنَتٍ مِنْہُ بَلْ إِنْ یَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا }(فاطر:۴۰)
’’اے نبی ان سے فرمائیں کہ کبھی تم نے اپنے اُن شریکوں کے بارے میںغور کیا ہے جنہیں تم ’’ اللہ‘‘ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو؟ مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا آسمانوں میں ان کی کیا شراکت ہے یاہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ دی ہے ؟جس بنا پر یہ واضح ثبوت رکھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ ظالم ایک دوسرے کو دھوکہ دیئے جا رہے ہیں۔‘‘
ایسے لوگوں کو چیلنج کے انداز میں مخاطب کیا گیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو،دکھائو انہوںنے پور ی دھرتی میںکونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں کی بناوٹ اوران کے درمیان بسنے والی مخلوق میں سے کس کی تخلیق میں وہ شامل تھے اور ہیں ؟ یا ان کے پاس کوئی ایسی آسمانی کتاب ہے جس میں ان کے عقیدہ اور طریقہ کی کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ دلیل ہو ؟اگر کوئی دلیل ہے تو اسے پیش کرو۔ ظاہرہے کہ ان کے شریکوں نے زمین وآسمانوں اور پوری مخلوق میں سے نہ کسی چیز کو پیدا کیا ہے اورنہ ہی یہ آسمانوں کی ساخت اور پرداخت میں شریک تھے اور نہ ہی ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کی کوئی دلیل ہے۔
ان کے شرکیہ عقائد اوراعمال کااس کے علاوہ کوئی وجودنہیں کہ یہ جھوٹی داستانوں ،من گھڑت کہانیوں اور بناوٹی کرامات کے ساتھ ایک دوسرے کودھوکادیتے ہیں۔ چنانچہ بتوں کے پجاری اپنے اپنے بتوں اور قبروں کے مجاور مزارات کے بارے میںجھوٹی کرامات اور مشکل کشائی کے من گھڑت واقعات بیان کرتے ہیں۔ تاکہ بتوں کے پوجنے والوں اور قبروں کے پرستاروںسے اپنے اپنے انداز میںنذر و نیاز وصول کرتے رہیں۔یہاں تک کہ آخرت کے بارے میںبھی دھوکا دیتے ہیںکہ یہ بزرگ ’’ اللہ ‘‘ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ باربار یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک نہیں۔ چاہئیے تو یہ کہ لوگ اپنے خالق اور مالک کی بندگی کریں اور اس کا حکم مانیں لیکن بے شمار لوگ ’’اللہ‘‘ کو خالق اور مالک ماننے کے با وجود دوسروں کی بندگی اورغلامی کرتے ہیں ۔ان لوگوں کے کان کھولنے کے لیے مزید فرمایا :
{قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَرُونِی مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمَاوَاتِ ائْتُونِی بِکِتَابٍ مِنْ قَبْلِ ہَذَا أَوْ أَثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ} (الاحقاف:۴)
’’اے نبیﷺ! ان سے فرمائیںکبھی تم نے غور کیا ہے کہ جنہیں تم ’’اللہ‘‘کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے ؟اس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا تمہارے پاس کوئی علمی دلیل ہے اگر تم سچے ہو تو اُسے پیش کرو ۔‘‘
ظاہر بات ہے کہ ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کا حوالہ اور کوئی عقلی اور علمی ثبوت نہیں۔ مگر پھر بھی ذاتِ کبریا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکتے اور انہیں پکارتے ہیں۔ان کے باطل عقیدہ کی کلی کھولتے ہوئے یہاں یہ بات سمجھائی ہے کہ دین اللہ کی کتاب ،نبی کی سنت اور ٹھوس علمی ثبوت پر مبنی ہے۔ اس کے سوا کسی کی رائے دین کی تشریح میں معاون تو ہوسکتی ہے مگر دین کہلوانے کی حقدار نہیں ہوسکتی ۔ جہاں تک کفّار سے اس سوال کا تعلق ہے کہ جن کی وہ عبادت اورغلامی کرتے ہیں انہوں نے زمین و آسمان میں کیا پیدا کیا ہے تو ہر مشرک اورکافر اس کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ زمین وآسمان اور ہر چیز کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جسے دماغ کی حاضری اور دل کی حضوری کے ساتھ سنا جائے تو انسان کا کلیجہ کانپ اٹھتا ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّﷺ یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ ہَذِہِ الآیَۃَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ أَمْ ہُمُ الْخَالِقُونَ٭أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ یُوقِنُونَ ٭ أَمْ عِنْدَہُمْ خَزَائِنُ رَبِّکَ أَمْ ہُمُ الْمُسَیْطِرُونَ}کَادَ قَلْبِی أَنْ یَطِیرَ (رواہ البخاری:باب و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب)
’’ محمدؒ اپنے والد جبیرؓ بن مطعم سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے مغرب کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ سے سورۃ طور سنی جب آپ اس آیت پر پہنچے۔ ’’کیا وہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں؟ یا وہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں؟ یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے ۔کیا تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر ان کا کنٹرول ہے؟‘‘ یہ آیات سنتے ہوئے قریب تھا کہ میرا کلیجہ پھٹ جاتا۔‘‘
{وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَیَقُولُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیزُ الْعَلِیمُ }(الزخرف:۹)
’’اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے کہ انہیں زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔‘‘
{قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ٭ سَیَقُولُونَ لِلَّہِ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ }(المؤمنون:۸۶،۸۷)
’’ان سے پوچھیں ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے وہ ضرور کہیں گے اللہ ہی مالک ہے فرمائیں پھر تم شرک کرتے ہوئے ڈرتے کیوں نہیں ہو؟‘‘
اہلِ مکہ رسمی طور پر مانتے تھے کہ انہیں اورزمین و آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن حقیقی طور پر ان کااللہ تعالیٰ کی ذات اور فرمان پر ایمان نہیں تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ُاسے بلا شرکتِ غیر مانا جائے اور خالص اسی کی عبادت کی جائے اور اسی کے حضور ہاتھ پھیلائے جائیں اور اسے تمام اختیارات کا مالک سمجھتے ہوئے اس پر بھروسہ کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدے کے اثبات اور وضاحت کے لیے شمس وقمر، لیل و نہار اور آفاق و افلاک کو ثبوت کے طور پر پیش فرما کر انسان کو سمجھایا اور مطالبہ کیا ہے کہ شمس وقمر اور کائنات کے خالق و مالک کی خالص عبادت کی جائے ۔کسی اور کی عبادت کرنا شرک اور جرم ہے اس سے ہر صورت بچنا ہو گا۔
{فَادْعُوااللّٰہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ} (المؤمن:۱۴)
اے لوگو! صرف ایک اللہ ہی کو پکارو اپنی اطاعت اس کے لیے خالص کر تے ہوئے ۔بے شک یہ کام کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
{إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِیعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِہِ ذَلِکُمُ اللَّہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوہُ أَفَلَا تَذَکَّرُونَ } (یونس:۳)
’’یقینا تمھارا رب ’’اللہ‘‘ ہے جس نے آسمانوں اورزمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر بلند ہواوہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیرکوئی سفارش کرنے والا نہیں ، اللہ ہی تمھارا رب ہے ، بس اس کی عبادت کرو ، کیا تم نصیحت حاصل نہیںکرتے ؟‘‘
إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللَّہُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ٭ اُدْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ (الاعراف:۵۴،۵۵)
’’بے شک تمہارا رب ’’اللہ‘‘ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیداکیا، پھرعرش پرجلوہ افروز ہوا ،وہ رات کو دن پراوڑھاتا ہے جو تیز چلتاہوا اس کے پیچھے چلاآتا ہے ۔سورج ، چاند اور ستارے پیداکیے ، اس حال میں کہ اس کے حکم کے تابع ہیں۔ سن لو پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے ،اللہ بہت برکت والا ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خفیہ انداز میں پکارو ،بے شک وہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

About میاں محمد جمیل ایم اے

Check Also

عقیدہ ختمِ نبوّت کے چار بنیادی تقاضے

﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَ …

جواب دیجئے