Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » اربعینِ نووی حدیث نمبر:20 قسط:48

اربعینِ نووی حدیث نمبر:20 قسط:48

درسِ حدیث
حدیث نمبر:20
قسط:48

عَنْ أَبيْ مَسْعُوْدٍ عُقبَة بنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِيِّ البَدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عليه وسلم (إِنَّ مِمَّا أَدرَكَ النَاسُ مِن كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذا لَم تَستَحْيِ فاصْنَعْ مَا شِئتَ) رواه البخاري
أخرجه البخاري كتاب: الأدب، باب: إذا لم تستحی فاصنع ما شئت، (6120)
ترجمہ:ابومسعود عقبہ بن عمرو الانصاری البدریtسے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:سابقہ نبوتوں کی باتوںمیں سے جو باتیں (ہماری امت کے)لوگوں نے پائی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تمہارے اندرحیاء نہ ہوتو جوچاہوکرتےپھرو۔
اس حدیث کے راوی جناب عقبہ بن عمروالانصاری البدری ہیں، ان کی کنیت ابومسعود تھی،بدر کے مقام پر سکونت پذیرتھے اس لئے انہیں البدری کہاجاتاہے،امام بخاری رحمہ اللہ نے انہیں غزوۂ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایاہے،جبکہ بہت سے اہل سیرنے اس کی نفی کی ہے، بیعتِ عقبہ ثانیہ میں بھی شریک تھے، تمام شرکاء میں سب سے چھوٹی عمر کے تھے،جنگِ احد اور بعد کے تمام غزوات میں موجود رہے،عمر کے آخری حصے میں کوفہ میں سکونت اختیار کرلی تھی،امیر المؤمنین علی بن ابی طالبtنے معرکۂ صفین کے موقع پر انہیں کوفہ کا عامل مقرر کیاتھا۔ ۴۱ یا۴۲ہجری میں فوت ہوئے۔فرضی اللہ عنہ وأرضاہ.
شرحِ حدیث
(إِنَّ)جو حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے،تحقیق اور تاکید کا معنی دیتاہے،(مِمَّا أَدرَكَ النَاسُ)جارومجرور(إِنَّ)کی خبرمقدم ہے، جبکہ جملہ (إِذا لَم تَستَحْيِ فاصْنَعْ مَا شِئتَ)،(إِنَّ) کااسم مؤخر ہے،(مِمَّا)کا (مِنْ) برائے تبعیض ہے،یعنی :بعض کا معنی دیتا ہے، نبوتِ اولیٰ سے مراد:نبوتِ سابقہ ہے، یعنی :انبیاءِ سابقین کی نبوتیں۔
انبیاءِ سابقین کے اخبارواحوال کا سب سے معتبر ذریعہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کابیان ہے،یعنی وہ اخبارواحوال یا تو قرآن مجیدمیں ہوں یاپھر مصطفیٰ uکی حدیث مبارک میں۔
انبیاءِ سابقین کی شرائع سے وارد ہونے والے امور کی تین قسمیں کی جاسکتی ہیں:1وہ امور جن کی صحت کی گواہی ہماری شریعت فرما دے، ایسے تمام امور حق ہیں۔
2وہ امور جن کا ہماری شریعت ابطال فرمادے،ایسے تمام امور باطل متصور ہوں گے۔
3وہ امور جن کی شریعتِ مطہرہ میںتائید یاتفنید کچھ بھی وارد نہ ہو،ایسے امور کے بارہ میں توقف اختیارکرنابہترہے،البتہ بیان کرناجائز ہے۔
حدیث میں وارد جملہ(إِذا لَم تَستَحْيِ فاصْنَعْ مَا شِئتَ) انبیاءِ سابقین کی نبوتوں میں موجود تھا،ایک نبی سےد وسرےنبی تک منتقل ہوتے ہوتے امتِ محمدیہ علی صاحبھا ألف ألف تحیۃ تک پہنچ گیا، جس کی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم  نے خبر دی۔
حیاء کاتعلق ان اخلاقِ کریمہ سے ہے،جن کی ہرنبی نے تعلیم وتلقین فرمائی، نبیٔ آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیماتِ مبارکہ میں حیاء کو خصوصی اہمیت حاصل ہے؛کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکارمِ اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث کئے گئے تھے:(بعثت لأتمم مکارم الأخلاق)یعنی:مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجاگیاہے۔
اورآپصلی اللہ علیہ وسلم  کافرمان ہے:(أکمل المؤمنین إیمانا أحسنھم خلقا)یعنی:اس مومن کاایمان سب سے زیادہ کامل واکمل ہے،جو سب سے اچھے اخلاق کا مالک ہو۔
دیگر اخلاقِ کریمہ کے ساتھ ساتھ حیاء جیسے عظیم مکرمہ کاتذکرہ بڑی خصوصیت کے ساتھ موجودہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبِ ایمان کے بیان میں جہاں سب سے اعلیٰ شعبہ کے طور پر توحید کاذکرفرمایا ہے، وہاں حیاء کا بھی خصوصی الفاظ میں تذکرہ فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ – أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ – شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»
(صحیح بخاری:۹صحیح مسلم:۵۸)
ابوھریرہ tسے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:ایمان کے سترسے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شعبے ہیں،سب سے افضل، کلمہ (لاالٰہ الااللہ) کا اقرار واعتراف کرنا ہے،جبکہ سب سے ادنیٰ شعبہ راستہ سے کسی ایذاء رساں چیز کو ہٹادینا ہے، حیاء بھی ایمان کا ایک (اہم ترین) شعبہ ہے۔
سیدناعثمان غنیtکے مناقبِ جلیلہ میں حیاء کو خصوصی مقام حاصل ہے،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سب سے سچی حیاء والاقراردیا۔
سچی حیاء سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی گناہ کے مرتکب ہونے سے قبل اللہ تعالیٰ کی نگرانی کاتصور اجاگرہوجائےاور اس ذاتِ جبار وقہار کی حیاء نیزاس کاخوف ،گناہ کے ارتکاب سے مانع ہوجائے،یہ حیاء کی سب سے اعلیٰ اور عمدہ صورت ہے۔
فقیہ العصر شیخ محمد بن صالح العثیمینaنے حدیث بالاکی شرح کرتے ہوئے،حیاء کی دوقسمیں بیان فرمائی ہیں:
1وہ حیاء جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ہے،جس کا خلاصہ یہ ہےکہ اللہ رب العزت کی ایسی حیاء دل میں جاگزیں ہوجائے کہ آپ ایسےکسی مقام پر موجود نہ ہوں ،جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، اور ایسے کسی مقام سے غائب نہ ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ نے موجود رہنےکا حکم دیا ہے،یعنی :جملہ اوامر ونواہی میں اللہ تعالیٰ کے فرامین کی تطبیق وتنفیذ ہی حقیقی حیاء ہے۔
2وہ حیاء جس کا تعلق مخلوقات کے حقوق سے ہے،جس کاتقاضا یہ ہے کہ مخلوقات کے سامنے ایسا کوئی کام نہ کیاجائے،یا کوئی گفتگو نہ کی جائےجو مروت کے خلاف ہواور اخلاقی پستی پر منتج ہوتی ہو۔
شیخ aنے حیاء کی ایک دوسری تقسیم بھی ذکرفرمائی ہے :
(۱)طبعی حیاء ۔
(۲) مکتسب حیاء۔
طبعی حیاء سے مراد وہ حیاء ہے جو فطرۃً وطبعاً انسان کے اندرموجود ہو،چنانچہ کچھ لوگ صغرِ سنی ہی سے باحیاء ہوتے ہیں،ضرورت کے وقت بات کرتے ہیں،ورنہ خاموش ہی رہتےہیں،نیز ضرورت کے وقت کوئی کام انجام دیتے ہیں ،ورنہ عافیت کاپہلو اختیار کیے رہتے ہیں۔
مکتسب حیاء سے مراد ایسی حیاء ہے جو فطرۃً وعادۃً تو موجود نہ ہو لیکن علماء وصالحین کی صحبت اختیار کرتے کرتے باحیاء بن جاتے ہیں اور دیگراخلاقِ حسنہ کے ساتھ ساتھ حیاء کا وصف بھی اپنے اندر پیداکرلیتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ فطری حیاء، مکتسب حیاء سے زیادہ افضل ہے؛ کیونکہ فطری حیاء شروع ہی سے انسان کے اندر موجود ہوتی ہے،جبکہ مکتسب حیاء ایک عرصہ کی تربیت کے بعد اجاگر ہوتی ہے،لیکن جب اجاگر ہوجائے تو انتہائی محمود اور قابلِ تعریف قرار پاتی ہے۔
واضح ہو کہ حیاء کی کچھ صورتیں قابلِ مذمت بھی ہیں، مثلاً:کسی دینی امرجو خواہ واجب ہو یامستحب، کی ادائیگی میں حیاء رکاوٹ بن جائے، ہمیں ایک شخص کی بات یاد آرہی ہے،جو رفع الیدین عندالرکوع وعندالرفع نہیں کیاکرتے تھے،جب ہم نے انہیں لاتعداد احادیث دکھائیں تو انہوں نے اس سنت کو قبول کرلیا،کچھ عرصہ بعد دیکھاکہ وہ اب بھی رفع الیدین نہیں کررہے،جب ان سے پوچھاتوجواب دیا:مجھے شرم آتی ہے۔
یہ حیاء کی انتہائی مذـموم صورت ہے،مذموم حیاء کی ایک مثال یہ بھی ہےکہ انسان اپنے سامنے کوئی برائی دیکھے اورمحض حیاء کی وجہ سے اسے روکنے سے باز رہے،یہاں تو حقیقی حیاء کا تقاضایہی ہے کہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اس برائی سے لوگوںکو منع کردے،البتہ منع کرنے کاانداز حکمت، رفق اور محبت جیسے اوصاف سے مزین ہو۔
واضح ہو کہ حیاء خواہ فطری ہویامکتسب،ایمان کے اعلیٰ درجات ومقامات میں شامل ہوتی ہے،جس کانتیجہ خیرہی خیرہے، حافظ ابن رجب البغدادیaنے جامع العلوم والحکم میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک ارشاد مبارک کے حوالے سے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے۔
(الحیاء لایأتی إلابخیر)یعنی:حیاء تو صرف خیر ہی خیر لاتی ہے، اگر وقتی طور پر خیر نہ بھی دکھائی دیتی ہولیکن بالآخرخیرکے نتائج ضرور برآمد ہوں گے[وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰى۝۱۳۲ ] جس بندے سے حیاء جیسی بلندوبالافضیلت وخصلت چھن جائے اور وہ زیورِحیاء سے خالی اورمحروم کردیاجائے وہ انتہائی فضیحت ودناءت میں گِھر جاتاہے،اور نتیجۃً ردی اخلاق نیز قبیح قسم کے اعمال کا مرتکب بن جاتاہے،چنانچہ بے حیائی کا انجام شرہی شر ہے،واللہ المستعان.
واضح ہو کہ اگر انسان جبلی اور فطری حیاء سے محروم ہوتو وہ مکتسب حیاء اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے،تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوںکے حقوق کی ادائیگی وحفاظت کے قابل ہوسکے، اس کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اپنے اوپر اپنے پروردگار کی نازل شدہ لاتعداد نعمتوں پرغورکرے،نیز اس کے رحمتوں اورحصولِ جنت کے وعدوں کوسامنے رکھے، نیز اس کی وعیدوں سے خوف کاپہلوکبھی نظرانداز نہ ہونے دے،تویہ امور حیاء کے منہج کے پیداہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ ولی التوفیق.
(جاری ہے)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی حدیث نمبر:26 قسط :58

حدیث نمبر:26 قسط :58 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: …

جواب دیجئے