Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » فتنۂ غامدیت قسط:۱۹

فتنۂ غامدیت قسط:۱۹

 قسط:۱۹
جوپیرہن اس کاہے وہ مذہب کاکفن ہے

بعض شکوک وشبہات کاازالہ
ایک بزرگ نےبہت عرصہ قبل ایک مضمون میں، عورتوں کے مسئلے میں مغربی ذہن کی حمایت کرتے ہوئے علمائے کرام سے اپیل کی تھی کہ وہ عورتوں کے بارے میں ’’حرفیت پسندی‘‘ سےا لگ ہوکر عورتوں کے حقوق وفرائض کےمسئلے کو وسیع ترانسانی بنیادوں پرحل کریں، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کے طرزعمل سے عورتوں کے دلوں میں  اسلام کےبارے میں شکوک وشبہات پیداہوجائیں گے۔
(روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘لاہور،۱۳اکتوبر۱۹۸۴ء)
یہ مضمون عورت کی پوری دیت کی حمایت کے ضمن میں ہی لکھاگیا تھا اور اس میں یہ اپیل کی گئی تھی، ہمارے خیال میں علمائے کرام سے یہ اپیل غلطی ہائے مضامین کی آئینہ دار ہے۔ اس میں :
اولاً: علمائے کرام کو علم وفہم سے عاری اور حکمت ودانش سے بے بہرہ باورکرایاگیاہے۔
ثانیاً: عورتوں کے حقوق وفرائض کو حل طلب بتلایاگیاہے۔
ثالثاً: ’’حرفیت پسندی‘‘ سے الگ ہوکر سوچنے کی دعوت دےکر نصوص شریعت میں تبدیلی کی گنجائش نکالی گئی ہے۔
رابعاً:عورتوں کے اندرغلط جذبات کی آبیاری کی گئی ہے۔
ہمارے خیال میں بزرگ مرحوم کی یہ باتیں متجددین کی حمایت اور بے جاخوش فہمی ہے۔ کاش ایسی باتیں ان کے قلم سے نہ نکلتیں۔ چند علمائےکرام کے علم وفہم کو تو مہتم کیا جاسکتا ہے، انہیں حکمت ودانش سے بے بہرہ بھی ثابت کیاجاسکتا ہے لیکن جہاں مسئلہ نص شرعی اور اجماع صحابہ کاہو، اور اقلیت واکثریت سے قطع نظر پوری امت کے علماء وفقہاء کا بھی ہو، وہاں یہ بحث جچتی نہیں۔ یہاں پوری امت کے(صحابہ سمیت) فقہاء کو بے دانش سمجھنے کے بجائے اگرآج کل کے متجددین کی دانش افرنگی ہی کو درخوراعتناء نہ سمجھاجائے توزیادہ بہتر ہے کیونکہ نبیﷺ کی حدیث ہے:
ان اللہ لایجمع امتی علی ضلالۃ.
(ترمذی، الفتن، حدیث:۲۱۶۷)
’’اللہ تعالیٰ میری امت کو کسی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔‘‘
۲۔عورتوں کے حقوق وفرائض بھی آج سے چودہ سوسال پہلےمتعین کردئے گئے ہیں اور آج بھی جب تک عورت کو ان حقوق وفرائض کا پابند نہیں بنایاجائے گا،اصلاح احوال کی کوئی صورت ممکن نہیں اس لئے مسئلہ عورت کے حقوق وفرائض کاحل کرنانہیں ہے بلکہ اسے اسلام کے متعین کردہ حقوق وفرائض کا پابندبنانا اور اس کے مطابق عمل درآمد کرانا ہے۔
۳۔’’حرفیت پسندی‘‘ سےالگ ہوکر سوچنے کی دعوت دینا، انتہائی گمراہی کاراستہ ہے۔ ایسے ہی لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا ہےکہ عورت کو نصف میراث کے بجائے مرد کے مساوی حصہ ملناچاہئے۔ ایسے ’’اجتہاد‘‘ کے مقابلے میں’’حرفیت پسندی‘‘قابل تعریف ہےجس میں نصوصِ شریعت سے انحراف نہ ہو۔
۴۔جہاں تک اس اندیشے کا تعلق ہے کہ عورت کی نصف دیت پر اصرار کرنے کی وجہ سے عورتوں کےا ندراسلام کےخلاف شکوک وشبہات پیداہوجائیں گے،تو یہ بات بھی غلط ہے۔ کیونکہ چودہ سوسال سے اسلام میں عورت کاحصۂ میراث مرد کے حصۂ میراث سے نصف چلا آرہا ہے ۔نصف دیت میں تو سرے سے عورت کی کوئی حق تلفی ہی نہیں ہے۔ عورت کے قتل کردیے جانے کی صورت میں جودیت جن ورثاء کو ملے گی، وہ اس کے والدین، بھائی یاخاوند وغیرہ ہی ہوں گے، عورت کا اس میں کیانقصان ہے؟ یا اس کی بے حرمتی کا اس میں کیاپہلوہے؟ اگر عورتوں کےاندرشکوک وشبہات پیدا ہوسکتے ہیں تو مسئلہ میراث کی وجہ سے ہوسکتے ہیں، مسئلہ دیت کی وجہ سے نہیں۔
الحمدللہ!مسلمان عورت کے اندرمسئلہ میراث کی وجہ سے آ ج تک اسلام کے خلاف شکوک وشبہات پیدا نہیں ہوئے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس میں جوحکمت ومصلحت ہے، وہ بالکل صحیح ہے۔ اب اگر کسی ’’انگریزی خواں‘‘ عورت کے اندر ایسےشبہات پیداہوتے ہیں تو جو جواب مسئلۂ میراث کے سلسلے میںدیاجائے گانصف دیت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے شبہے کا جواب بھی وہی ہوگا۔
عورت کے لیے حق طلاق
اس عنوان کے تحت عمار صاحب نے لکھا ہے:
’’عورت کے لیے مرد کے مساوی اور مطلق حق طلاق کی بات میرے نزدیک شرعی ترجیحات کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق مرد کو وللرجال علیھن درجۃ کی تصریح کے ساتھ دیا ہے۔ اس تناظر میں راقم نے لکھا ہے کہ:
’’اگر آپ مطلق طور پر عورت کو حق طلاق دےدیں تو جو سوئے استعمال آپ مرد کی طرف روکنا چاہتے ہیں اس کاامکان عورت کی طرف بھی ہے۔ اگرخاتون کو آپ علی الاطلاق ،بالکل ABSOLUTE RIGNTدے دیتے ہیںکہ وہ جب چاہے،مرد سے الگ ہوجائے تو رشتۂ نکاح کی وہ اصل ہیئت بھی قائم نہیں رہے گی جو اللہ نے قائم کی ہے اورغلط استعمال کی مثالیں بھی خواتین کی طرف سے زیادہ سامنے آئیں گی‘‘(الشریعہ)
مرد کے حق طلاق، بلکہ صرف اسی کاحق ہونے کے بارے میں عزیز موصوف کی یہ وضاحت شریعت اسلامیہ کی بالکل صحیح توجیہہ ہے۔ کاش وہ اسی توجیہہ تک ہی محدود رہتے۔لیکن یہاں بھی حسب سابق وہ تضاد ہی کاشکار ہیں۔ اس لیے اگلے پیرے میں وہ مرد کے اس حق طلاق کی نفی کردیتے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’البتہ عملی مشکلات ومسائل کے تناظر میں خواتین کو بعض شرائط کے ساتھ محدود دائرے میں شوہر کے ساتھ حق طلاق میں شریک کرنے کی گنجائش فقہاء کے ہاں ہمیشہ تسلیم کی گئی ہے۔‘‘
اس کے بعدانہوں نے اپنا یہ موقف قدرے تفصیل سے پیش کیا ہے کہ عورت نکاح کے وقت طلاق کاحق مانگ سکتی ہے۔لیکن عام حالات میں خاوند کی رضامندی سے مشروط ہے کہ وہ بیوی کو حق طلاق تفویض کرتا ہے یانہیں کرتا؟ قانون اس کوپابند نہیں کرتا۔‘‘
اس کےبعد وہ مزیدآگے بڑھتے ہوئے ایسے قانون بنانےکی بھی حمایت کرتےہیں کہ جس کی رو سے ’’ہرنکاح کے موقع پر خاوند اپناحق طلاق ان ان شرائط کے ساتھ بیوی کودے دے تو میرے نزدیک فقہی طور پر اس کی گنجائش موجود ہے۔‘‘
(مزیدفرماتےہیں) ’’مثال کے طور پر یہ شرط لگائی جاسکتی ہےکہ بیوی اگر کسی موقع پر یہ مطالبہ کرے کہ مجھے طلاق چاہئے ،اور بیوی کا باپ یا سرپرست یاخاندان کا کوئی دوسرا ذمے دار آدمی اس مطالبے کی توثیق کردے کہ ہاں اس کامطالبہ بجا ہے تو پھر خاوند پابندہوگا‘‘
(الشریعۃ،ص:۱۸۶)
ہماری گزارشات
اس سلسلے میں ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ یہ ساری دراز نفسی اس مفروضے پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صرف مرد کو حق طلاق دیتےوقت ،اس کے علم کامل ومحیط میں یہ بات نہیں آسکی کہ بعض دفعہ عورت کو ایسی ’’عملی مشکلات ومسائل‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ عورت کے لیے طلاق لیناناگزیرہوجائے۔ لیکن(نعوذباللہ) اللہ نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس کاکوئی حل اس دین اسلام، میں جس کی کاملیت کا اعلان بھی اس نے فرمایاہے، نہیں بتلایا۔ اب عمار صاحب سمیت حنفی علماء کو اس کاحل نکالنے کی سعی کرنی پڑرہی ہے۔
ہم پوچھتے ہیں :کیا یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔
۱۔اللہ کو مستقبل میں عورت کو پیش آنے والی مشکلات او رمسائل کا علم نہیں تھا؟
۲۔اس لیے دین اسلام میں اس کاکوئی حل بھی نہیں بتلایا گیا ہے؟
اور اگر ایسانہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح ماکان کا علم ہے، وہ مایکون کا علم بھی رکھتا ہے۔ اور اس نے دین اسلام کی کاملیت(الیوم اکملت لکم دینکم،الآیۃ) کا جواعلان فرمایا ہے، وہ بھی بالکل درست ہے۔
اور عمارصاحب اور دیگر ان کے ہم مسلک علماء مسلمان عورت کو اس کی مشکلات سے نکالنے کے لیے نئے نئے حل تلاش کرنے میں پیچاں وغلطاں ہیں، اس کی قطعاً ضرورت ہی نہیں۔
الحمدللہ شریعت اسلامیہ نے جس طرح مرد کوحق طلاق دیا ہے اور عورت کو نہیں دیا ۔لیکن اس نے مطلقاً عورت کو صرف مرد کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑا ہے، بلکہ ناگزیر صورت میں عورت کے لیے اپنے ناپسندیدہ خاوند، یاحقوق زوجیت کی ادائیگی سےقاصر مرد سے چھٹکارا حاصل کرنے کاحق بھی عورت کودیاہے۔ وہ اس کو استعمال کرتے ہوئے علیحدگی اختیارکرسکتی ہے، اسلام کابتایاہواوہ حل کیا ہے؟ (ہم آگے وہ حل بتلائیں گے)
اس حل شرعی کانام لیتے ہوئے جس طرح دوسرے حنفی گریز کرتے ہیں، عمارصاحب بھی اس کانام اپنی نوک قلم پر لانے سے مکمل پرہیز کررہے ہیں۔(اس کانام بھی عنقریب آپ پڑھ لیں گے)
۲۔اس گریزپائی، یاپرہیزگاری کی وجہ فقہی جمودہے۔ ہمارا خیال تھا کہ شاید عمارصاحب میں اتنا فقہی جمود نہیں ہوگا۔ وہ توغامدی صاحب کے حلقۂ تلمذ میں آنے کے بعد اتنے بے باک ہوگئے ہیں کہ ان کی فکری ہم آہنگی میں نصوص صریحہ سے انحراف یا ان میں معنوی تحریف کرنے میں بھی ان کوکوئی باک نہیں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ وہ اس زیربحث مسئلے میں فقہ حنفی کے تنگنائے سے نکلنے کی اپنے اندرجرأت پیدا نہیں کرسکے، جب کہ بوقت ضرورت عورت کاخاوند سے علیحدگی کا طریقہ قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے۔ لیکن چونکہ حنفی فقہ میں اس کو تسلیم نہیں کیاگیا ہے، اس لیے وہ اس کا’’نیاحل‘‘ تلاش کرنے کے لیے تو ہاتھ پیرمارہے ہیں، لیکن ان کو یہ توفیق نہیں مل رہی ہےکہ وہ اپنے حل کے بجائے ،اللہ رسول کابتلایاہواحل تسلیم کرلیں۔
۳۔عورت کے لیے مطلوب حق یاحل جب اللہ نے خود ہی اپنے کلام ،قرآن مجید ،میں نازل فرمادیاہے، اس کوچھوڑ کر اس کا متبادل حل تلاش کرنا کیا یہ شریعت سازی اور ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یأذن بہ اللہ.(الشوریٰ:۲۱) کامصداق نہیں؟
۴۔جوحق اللہ نےصرف مرد کو دیا ہے، عورت کو نہیں دیا، اور اس کی حکمت ومصلحت بھی واضح ہے جو خودعمار صاحب کو بھی تسلیم ہے۔ پھر اس مردانہ حق کو مرد سے چھین کر عورت کو کس طرح تفویض کیاجاسکتاہے؟ اور اللہ کی اس نہایت حکیمانہ تقسیم کو بدلنے کاحق علماء وفقہاء کو کس طرح دیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں مرد محکوم اور عورت حاکم بن جائے؟ پھر تو قرآن کی آیات الرجال قوامون علی النساء اور وللرجال علیھن درجۃ کو کم از کم اس مسئلے میں النساء قوامات علی الرجال اور وللنساء علی الرجال درجۃ.میں تبدیل کرنا پڑے گا۔
اس کاجواب یہ دیاجاسکتا ہے کہ علماء وفقہاء کو اجتہاد کاحق حاصل ہے اور ان کے اجتہادی مسئلے کو شریعت سازی نہیں کہاجاتا۔ بلکہ وہ شرعی حکم ہی قرار دیاجاتاہے۔ یہ بات بالکل درست ہے ۔ لیکن اجتہاد کی اجازت یا حق منصوص مسائل میں ہرگز نہیں ہے۔ امرمنصوص میں اجتہاد یا اس سے انحراف ،سراسرگمراہی اور شریعت سازی ہی ہے، اس کاحق کسی کو حاصل نہیں ہے۔
بہرحال ہماراموقف یہ ہے، جوقرآن وحدیث کے واضح دلائل سے ثابت ہے کہ عورت کو طلاق کاحق تفویض نہیں کیاجاسکتا، نہ نکاح کے وقت اور نہ کسی اورموقع پر۔ اگر کسی نے یہ حق طلاق عورت کو دے دیا اور عورت نے اسے استعمال کرتے ہوئے خاوند کوطلاق دے دی، تو یہ طلاق نہیں ہوگی۔ طلاق کاحق صرف مردکوحاصل ہے، یہ حق اللہ نے صرف مرد ہی کو عطاکیا ہے، اسے پوری امت مل کر بھی عورت کی طرف منتقل کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ بنابریں عمارصاحب کا اپنے آخری پیرے میں یہ کہنا کہ
’’قانونی طور پر لازم کردیاجائے یایہ قرار دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کامطالبہ کرے تو ایک مخصوص مدت کے اندرشوہر بیوی کو مطمئن کرنے یا اسے طلاق دینے کاپابند ہوگا، ورنہ طلاق ازخود واقع ہوجائے گی۔‘‘(الشریعۃ)
بے بنیاد اور شریعت سازی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس قسم کی صورتوں میں عورت کو مرد کے حق طلاق کے مقابلے میں خلع کاحق عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ خاوند سے طلاق کامطالبہ کرکے طلاق لے سکتی ہے، خاوند اس کا یہ جائز مطالبہ تسلیم نہ کرے تو عدالت یاپنچایت یہ نکاح فسخ کرکے عورت کو اس سے آزاد کردے گی۔ اس کو خلع کہتے ہیں اور خلع کا یہ حق شریعت اسلامیہ نے عورت کو دیا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے حل کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس کی اجازت ہی ہے۔
(جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے