Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ جنوری » حدیث اورجدید سائنس

حدیث اورجدید سائنس

’’استسقاء کی بیماری اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘

قارئین کرام! جیسا کہ آپ کے مطالعہ میں یہ بات الحمدللہ آرہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین من جانب اللہ ہوتے ہیں،ہم آپ کے سامنے اس حدیث مبارکہ کاذکرکریں گے کہ جس کاتعلق ایک انتہائی موذی بیماری سےہے، عربی میں اسے استسقاء اور انگریزی میں اسے (Ascites)ایسائٹیزکہتے ہیں۔
امام بخاریaاپنی صحیح میں ایک حدیث ذکرفرماتے ہیں:
’’عن انس رضی اللہ عنہ أن ناسا کان بھم سقم قالوا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آونا وأطعمنا…..‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الطب،الرقم:۵۶۸۵)
انسtسے مروی ہے کہ انہوں نے کہا مدینے میں کچھ لوگوں کو(پیٹ) کی بیماری ہوگئی ،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم کو رہنے کاٹھکانہ بتلائیں اور ہمارے کھانے پینے کا بندوبست کردیں۔
جب وہ صحت یاب ہوگئے تو کہنے لگے مدینہ کی آب وہوا غلیظ ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوحرہ(جگہ کانام ہے)مقام پر بھیجا وہاں صدقے کےاونٹ تھے،نبیuنے فرمایا اونٹنیوں کادودھ پیاکرو، اور ایک روایت میں ہے کہ اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پیاکرو۔
یہ وہ حدیث ہے جس کاتعلق میڈیکل سائنس سے ہے اور یہ حدیث امت مسلمہ کے لئے باعث فخر ہے اگر ہم اس حدیث پر غور کرتےہیں تو 1400سال پہلے نبیuنے جو علاج تجویز کیا آج (Medical Science)میڈیکل سائنس اس کو ثابت کرتی ہے۔الحمدللہ
جولوگ نبیuکےپاس آئے تھےان کا تعلق قبیلہ عکل اور عرینہ سے تھا ان کو استسقاء کی بیماری ہوگئی تھی یعنی ان کےپیٹ میں پھیپھڑوں میں پانی بھرگیاتھا۔ جدید طبی اصطلاح میں اس بیماری کو ایسائٹیزکہا جاتا ہے، اور اس بیماری میں اونٹنی کاپیشاب موثرہے۔سبحان اللہ
اسی طرح ایک فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ۝۰ۚ] (یونس:۱۰۷)
اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والانہیں ہے۔
اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:ماانزل اللہ دآء الاانزل لہ شفاء.
کہ بیماری کے لئے شفاء ہے مگر من عنداللہ۔
اور ایک مشہور سیاح ڈاؤنی اپنی کتاب(1.Arabie Petra 2. Arbic Deserta)میں لکھتا ہے:1924ء میں اس نے پورے عرب کا دورہ کیا او راس نے یہ دوکتابیں لکھیںاور ان میں اپنی یادداشت تحریر کرتا ہے کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران وہ ایک موقعہ پر بیمار پڑ گیا۔ پیٹ پھول گیا رنگ زرد ہوگیا۔ اور اسے زرد بخار کی طرح ایک بیماری ہوگئی، جس کا اس نے مختلف ممالک میں علاج کروایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔آخرکار جرمنی میں کسی بڑے ڈاکٹر نے مشورہ دیاکہ اسی علاقے میں جائے جہاں وہ بیمار پڑاتھا، ممکن ہے وہاں کوئی مقامی علاج ہو یاکوئی عوامی انداز کا دیسی علاج ہو۔
لکھتا ہے کہ جب وہ واپس گیا تو جس بدو کو اس نے بطور خادم رکھا ہوا تھا،اس نے دیکھا تو پوچھا آپ کو یہ بیماری کب سے ہے؟
اس نے بتایا کہ کئی مہینوں سے ہے اور بہت پریشان ہوں، تو اس بدو نے کہا میرے ساتھ چلیں، اسے اپنے ساتھ ایک ریگستان میں اونٹوں کے باڑے کی طرف لے جاکرکہا آپ یہاں پرکچھ دن ٹھہریں اور اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کےعلاوہ اور کچھ استعمال نہ کریں۔
جب اس نے یہ علاج شروع کیا تو ایک ہفتے میں وہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔سبحان اللہ
یہ ہے حکمتِ نبیصلی اللہ علیہ وسلم ۔جوآج سے 1400سال پہلے بتلائی گئی۔ جو بظاہر عقل نہیں مانتی مگر آج کی ٹیکنالوجی اسے ماننے پر مجبورہوگئی۔
اور استسقاء کی بیماری کے ایک دو اور نام بھی ہیں،مثلاً:
Pleural(پلیورل)
Effusion(ایفیوزن)
Ascites(ایسائٹیز)وغیرہ
اس قسم کے مریضوں کو بے حس کرکے پسلیوں کے درمیان سوراخ کرکے آپریش کیاجاتاہے، اس سوراخ کے ذریعے پھیپھڑوں میں Chst Tube(چیسٹ ٹیوب)داخل کیاجاتاہے اور اس ٹیوب کے ذریعے سے پھیپھڑوں سے آہستہ آہستہ پانی خارج ہوتارہتاہے، اس عمل کا دورانیہ 6سے 8ہفتے تک ہے، اس مکمل عرصہ میں مریض ناقابل برداشت تکلیف محسوس کرتاہے۔ اور یہ راقم الحروف کے آنکھوں دیکھاحال ہے کہ جب ان کے کزن(چچازاد)کو یہ بیماری ہوئی تھی اور وہ مریض یہ کہنے پر مجبور ہوگیا مجھے اس تکلیف سے بہتر ہے گولی مار کرہلاک کردوں۔
اورصاحب نقل واقعہ کہتےہیں کہ یہ حالت میں نے خود کراچی کے ہسپتالوں میں ان وارڈز کے دورے کے دوران دیکھی۔ایسائٹیز یعنی استسقاء کے مریض کے پیٹ میں موٹی سرنج داخل کرکے پانی نکالاجاتاہے اور یہ عمل بارباردہرایاجاتاہے اور اس علاج میں مریض کو مکمل یاجزوی طور پر بے حس کیاجاتاہے۔
(Short Practicel of Surgry Pag 698_948 & 950)
اللہ کے حبیبuنے خیر القرون میں اس بیماری کا علاج اونٹنی کادودھ اور پیشاب بتلایاتھاجو کہ آج بھی کارآمد ہے۔
ڈاکٹرخالدغزنوی اپنی کتاب’’علاج نبویصلی اللہ علیہ وسلم اور جدیدسائنس کے جلد نمبر۳صفحہ:۳۰۵‘‘ میں رقم طراز ہیں:
گوجرانوالہ میں4سال کا ایک بچہ گردوں اور جگر کی خرابی کی وجہ سے میوہسپتال لاہور کے بچہ وارڈ میں زیرعلاج تھا بچے کے پیٹ سےکئی بار پانی نکالاگیاا ور (کورٹی سون) کی گولیوں کے مسلسل استعمال سے اس کی حالت قابل رحم تھی وہ پہلامریض تھا جس کو ارشاد نبویصلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل میں اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پلایاگیا اور ایک ماہ میں اس کا پیٹ بالکل صاف ہوگیا دوسرے ماہ کمزوری جاتی رہی اور جلد ہی صحت یاب ہوگیا۔
غورفرمائیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس بچے کے لئے باعث رحمت ہوئی۔ وہ بچہ مستفید ہوا اگر ہم اس بچے کے والدین سےپوچھیں تو یقینا وہ یہ کہے بغیر نہیں رہیں گے کہ نبیuکی حدیث تو ہمارے لئےمعجزہ بن گئی۔ اور واقعتاً ایسا ہی ہے۔
وفی الاخر نسأل اللہ عزوجل ان یشفینا ومرضنا ومرضی المسلمین من کل داء.آمین

About قاری حبیب اللہ برڑو

جواب دیجئے