Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ فروری » مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط 1

مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط 1

 قسط:1

’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ ایک منصوص ترکیب ہے۔ قرآن مجید کی کئی ایک آیات اور بہت سی احادیث میں یہ ترکیب واقع ہے، اسی طرح بعض آیات میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکر کے بعد ’’ ’’مِنْ دُوْنِہِ‘‘ کے الفاظ بھی ہیں۔بطورمثال چندآیات ملاحظہ کیئجے:
۱)[وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ۝۲۰ۭ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۰ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۝۲۱ۧ ](النحل:۲۰،۲۱)
’’اور جن لوگوں کو یہ لوگ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے اور وہ تو خودمخلوق ہیں، مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں، انہیں یہ شعور بھی نہیں کہ(قبروں سے) کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘
۲)[يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ۝۰ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَـيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ۝۰ۭ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۝۷۳](الحج:۷۳)
’’اےلوگو! ایک مثال بیان کی جا تی ہے،اسے غورسے سنو! یقیناً اللہ کے علاوہ تم جن لوگوںکو پکارتے ہو وه ہرگز ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، اگر چہ اس کام کیلئے وہ سب جمع ہو جائیں(مکھی پیدا کرناتودرکنار) اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس (چیز)کو وہ اس (مکھی) سے چھڑابھی نہیں سکتے، مانگنے والااور جس سے مانگا جارہا ہے دونوں ہی کمزور ہیں۔‘‘
۳)[لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَہُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْہِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَبِبَالِغِہٖ۝۰ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۝۱۴ ] ’’اسی(اللہ) کو پکارنا حق ہے او رجو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعائیں قبول نہیں کرسکتے،(ان کاپکارنا تو ایسے ہے)جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو، تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے اور (اس طرح) پانی اس کے منہ تک پہنچنے والانہیں، اور نہیں کافر کی پکارمگر سراسر بے فائدہ۔‘‘ (الرعد:۱۴)
۴)[وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ۝۰ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِــمِيْنَ۝۱۰۶ ] ’’ اللہ کے علاوہ کسی ایسی چیز کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچاسکے۔ پس اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔‘‘(یونس:۱۰۶)
۵)[قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ۝۰ۚ اَمْ اٰتَيْنٰہُمْ كِتٰبًا فَہُمْ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْہُ۝۰ۚ] ’’آپ کہہ دیجئے کیا تم نے اپنے شرکاء کو دیکھاجنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، مجھے دکھلاؤانہوں نے زمین میں سے کیا بنایاہے؟ یا آسمانوں کے پیداکرنے میں ان کاکچھ حصہ ہے؟ انہوںنے زمین میں کیا بنایا؟ یا آسمانوں کے پیداکرنے میں ان کاکچھ حصہ ہے؟ یا ہم نے ان کوکوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی دلیل سے قائم ہیں۔‘‘(فاطر:۴۰)
۶)[وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ۝۵ ] (الاحقاف:۵)
’’اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ ان کو پکارے جو قیامت تک اس کی فریاد رسی نہیں کرسکتے اور وہ تو ان کی دعا سے بھی بے خبر ہیں۔
۷)[قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ ] ’’آپ کہہ دیجئے پکارو ان کو جنہیں تم اللہ کے علاوہ(مددگار) سمجھتے ہو، وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ ہی ان کا کوئی حصہ ہے ان دونوں (آسمانوں اور زمین کے بنانے) میں اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مددگارہے۔‘‘(سبا:۲۲)
(۸)[ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝۱۳ۭ اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ۝۰ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝۰ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ۝۰ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝۱۴ۧ ] (فاطر:۱۳،۱۴)
’’وہ اللہ ہی تمہارا پالنہار ہے اس کی بادشاہت ہے اور جن لوگوں کو تم اللہ کےعلاوہ پکارتے ہو وہ تو کھجور گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعا نہیں سن سکتے اگر سن بھی لیں تو تمہاری التجا قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
مذکورہ اور اس مفہوم کی دیگر آیات میں ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘یا ’’مِنْ دُوْنِہِ‘‘ کا مطلب ہے:’’اللہ کے علاوہ‘‘یا ’’اللہ کے سوا‘‘ تمام مکاتب فکر کے اکثرمترجمین نے تقریبا یہی ترجمہ کیا ہے۔ قرآنی آیات کی اس ترکیب کے مطابق ہر وہ ذات وشخصیت خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کے ہاں کتنی ہی عظمت ورفعت کی حامل ہو اور کتنے ہی بلند درجے پر فائز ہو۔ ہر وہ ذات وشخصیت جس پر لفظ جلالت’’اللہ‘‘ کا اطلاق نہ ہوسکتا ہو، اسے ’’اللہ‘‘ نہ کہاجاسکتا ہو وہ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ہی ہے۔اسلام کے مدعی ہر شخص کا علانیہ اعتقاد یہی ہے کہ ’’اللہ ایک ہے۔ ‘‘ اسی کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے، چنانچہ فرمایا:
[قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۝۱ۚ ] (اخلاص:۱)
’’کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے‘‘
اسلام کا مدعی کوئی فرد اس سے انکار واختلاف کی جسارت نہیں  کرسکتا اور یہ بھی ایک بین حقیقت ہے کہ دین اسلام میں اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ محبت جس ذات سے فرض ولازم ہے، وہ اللہ کے پیارے آخری رسول محمد ﷺہیں۔
لیکن اس شان وعظمت ،رفعت وعالی منزلت کے باوجود کوئی مومن یہ بات کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ ’’محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ ہیں‘‘ (نعوذباللہ) اس قدر فضیلت ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہی ایک عظیم ذات ہیں۔ پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلم ’’اللہ‘‘ نہیں تو کوئی اور کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘کا یہ مفہوم ومطلب اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں، لیکن افسوس کہ بعض لوگوں کی کج فہمی کی وجہ سے اب یہ بات بھی اختلاف کی نظر ہوچکی ہے، ایسے لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ قرآن مجید کی محولہ آیات ان کے بہت سے نظریات واعمال کی تردید کرتی ہیں تو اپنے غلط نظریات کی اصلاح اور قرآن مجید کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے بجائے اس پر بحث کرنے لگے کہ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘کامصداق کون ہیں اور کون نہیں؟؟؟!!
بریلویہ کے اس نظریے کاثبوت
۱: بریلویہ کے’’حکیم ومفتی‘‘ احمد یارخان نعیمی صاحب نے اسی مفہوم کی ایک آیت کا جواب دیتے ہوئے لکھا:
’’جواب:یہاں ولی اللہ کی نفی نہیں ہے، بلکہ ولی من دون اللہ کی نفی ہے جنہیں کفار نے اپناناصر ومددگار بنارکھاتھا یعنی بت وشیاطین، ولی اللہ وہ جسے رب نے بندوں کاناصر بنایا جیسے انبیاء واولیاء‘‘
(جاءالحق، ص:۲۱۶مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز ،لاہور)
قارئین کرام!آیت میں’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘کے الفاظ ہیں نہ کہ’’ولی من دُوْنِ اللہِ‘‘کے،لیکن بریلویہ کے’’حکیم الامت ومفتی‘‘ صاحب بضد ہے کہ ’’انبیاء واولیاء‘‘ مراد نہیں۔ پھر اپنی طرف سے کہہ دیا کہ ان کو اللہ نے ناصر بنایا ہے۔ بہرحال کوئی ان سے پوچھے کہ اس قدر ضد کا فائدہ کیا ہے؟’’ولی من دُوْنِ اللہِ‘‘کا مطلب بھی تو یہی ہے کہ ’’اللہ کے علاوہ ولی‘‘۔ اس سے بھی تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر ایک کی نفی ہے۔
۲:ان کے ایک دوسرے’’کثیر الالقاب،علامہ ‘‘غلام رسول سعیدی صاحب نے لکھا:[وَالذِّیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘] کا مصداق اصنام اور بت ہیں، انبیاء اور اولیاء نہیں‘‘(تبیان القرآن ۶؍۳۸۴مطبوع فریدبک اسٹال،لاہور)
۳:ان کے ایک دوسرے ’’علامہ ‘‘غلام نصیر الدین سیالوی صاحب نے اپنی کتاب’’تنبیہ الغفول فی نداء الرسولصلی اللہ علیہ وسلم ،ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘میں ایک سرخی جمائی ’’ایک نفیس بحث’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کے مفہوم کا تعین‘‘(ص:۱۷۹) اپنی اس مزعومہ نفیس بحث میں بار باریہ لکھا :’’ثابت ہوگیا کہ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ میںانبیاء اور اولیاء شامل نہیں‘‘
(ص:۸۱،۱۸۳،۱۸۴،۱۸۵،۱۸۶)
ان ’’غفول‘‘ کے نام نہاد ’’نفیس بحث‘‘ کا جواب اپنے مقام پر ضرور آئے گا ،جس سے ان کی غفلت روز روشن کی طرح آشکارہ ہوگی۔
۴: بعض لوگوں کی طرف سے بنائے ہوئے خود ساختہ ’’شیخ الاسلام‘‘ سیاسی، دینی اور اخلاقی اعتبار سے پاکستان کی متنازع ترین شخصیت طاہر القادری صاحب نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور اپنی کتاب’’کتاب التوحید‘‘ کے تناظر میں’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کاصحیح مفہوم‘‘ کا عنوان قائم کیا، اس میں لکھا ہے:
’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کی حقیقی مراد قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ یااس کے مماثل الفاظ کاذکر ہو اہے وہاں اس سے مقصود کفار ومشرکین کے باطل عقائد ونظریات کا رد اور معبودانِ باطلہ کی بے وقعتی کا اظہارہے۔بنیادی طور پر ان الفاظ سے درج ذیل امور کابیان مقصود ہوتا ہے۔‘‘(کتاب التوحید۱؍۵۵۷)
پھر قادری صاحب نے چند عنوانات قائم کیے جیسے:’’(۱)باطل عقائد ونظریات(۲) معبودانِ باطلہ ‘‘ ہر ایک کی چند سطور میں وضاحت کی۔ اسی طرح لکھا:
’’اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی ان الفاظ کے ذریعے معبودانِ باطلہ کی ذاتِ حق سے مطلقا بے تعلقی اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی کی گئی ہے‘‘(حوالہ بالا،ص:۵۵۸)
یہاں تو لکھ دیا کہ’’اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی‘‘ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘سے کی گئی ،لیکن اپنے تنازع پن کے نقوش چھوڑتے ہوئے مزید لکھا:
’’کفار ومشرکین سے خطاب کلام الٰہی میں’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کے مخاطب موردواطلاق کے اعتبار سے اہل ایمان نہیں بلکہ اہل کفر مشرکین اور ان کے وہ الٰہ اورجھوٹے معبود ہیں جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ سے نہ تو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ انبیاء ورسل علیھم السلام مراد ہیں اور نہ ہی صلحاء واولیاء‘‘(حوالہ بالا،ص:۵۵۹)
اسی طرح لکھا: ’’جہاں تک انبیاء ورسل ،اولیاء وعرفاء ،مومنین کاملین اور خدا کے مقبول وبرگزیدہ بندوں کاتعلق ہے وہ بارگاہِ ایزدی میں مقرب ومحبوب تصور کئے جاتے ہیں، ان پر’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کاحکم نہیں  لگایاجاسکتا،ارشاد باری تعالیٰ ہے:[اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ]، (۶؍الانعام:۵۱)
’’بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے ہیں‘‘(حوالہ بالا،ص:۵۶۰،۵۶۱)
قادری صاحب نے آیت تو ایسے نقل کردی گویا یہ ان کے بیان کی دلیل ہے ،جبکہ آیت میں ایسی بات ہی نہیں کہ انبیاء یااولیاء’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ نہیںہیں۔
مزید لکھا: ’’اولیاء اللہ(اللہ تعالیٰ کے دوست اور محبوب بندے) اللہ تعالیٰ کا غیر اس لئے بھی نہیں ہوسکتے کہ وہ خود زمین پرچلتے پھرتے اللہ تعالیٰ کی صفات کےمظہر ہوتے ہیں‘‘(حوالہ بالا،ص:۵۶۱)
اگراولیاء اللہ ’’غیراللہ‘‘ نہیں تو پھر طاہر القادری صاحب بتائیں کہ ان کے کتنے الٰہ ہیں؟ اور ان اولیاء کی عبادت حق کیوںنہیں؟ المختصر! ان عبارات سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا عقیدہ کیا ہے؟
فی الوقت ان اقتباسات سے محض یہی مقصود ہے کہ ان کاعقیدہ ان کے الفاظ میں قارئین کے سامنے رکھا جائے، تاکہ کوئی اسے الزام واتہام قرار نہ دے۔
’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کامفہوم اور شَھِدَشَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا
قرآنی آیات کے بریلویہ ترجموں سے بھی یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کامفہوم ومعنی کیا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کی ضد وکج روی کے سبب اس کی لغوی تشریح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، اس کے لیے بھی ہمیں خود سے کسی محنت وطویل بحث کرنے کی احتیاج نہیں کہ ’’شَھِدَشَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا‘‘کے بمصداق اس پر بریلویہ کے گھر کی گواہی موجود ہے۔
پیرمہر علی شاہ گولڑوی صاحب کے خاندان کے ایک نامور اور مشہور فرد’’پیرسید ‘‘ نصیر الدین نصیرشاہ گولڑوی صاحب( کہ جن کی قبر پر بریلوی اپنی مخصوص عقیدت کا اظہار کرتے نظرآتے ہیں) ان صاحب نے جب اپنے لوگوں کی کج روی اورضد دیکھی تو ان کی تردید کرتے ہوئے’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘ کے لغوی مفہوم پر کافی تفصیلی بحث کی ہے۔ نصیر صاحب نے لکھا:’’بلکہ لفظ ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘کےمعنی ہی اس چیز کاتقاضہ کرتے ہیں کہ جب اس کامضاف الیہ لفظ اللہ ہو تو پھر ساری مخلوق ’’مِنْ دُوْنِ اللہِ‘‘میںآسکتی ہے۔ مشہور ومستند لغت لسان العرب میں ’’دُوْنَ‘‘کی تشریح اس طرح کی گئی ہے:
دون نقیض فوق: کہ دون فوق کامتضاد ونقیض ہے جب فوق کے معنی اوپر کے ہیں تولامحالہ دون کے معنی نیچے کے ہوں گے۔لہذا ہر وہ چیز جو اللہ سے مقام ومرتبہ میں نیچے ہے وہ دون اللہ ہے اور دون کےدوسرے معنی الحقیر والخسیس کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس بادشاہِ ہردوعالم کے برابر کوئی بھی نہیں۔ لہذا دون اللہ کا دائرہ بہت وسیع ہے، صاحب لسان العرب آگے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وقال بعض النحویین: لدون تسعۃ معانکہ دون اللہ کے نو(۹)معانی ہیں۔تکون بمعنی قبلوبمعنی امام وبمعنی واراء وبمعنی فوق..الخ ہم نے تحت والے معنی اس لئے چنے کہ اس ذات کے اوپر کوئی نہیں اگر اس سے اوپر کچھ اور تسلیم کیا جائے تو یہ کفرِ صریح ہوگا۔لہذا تحت کی مثال لسان العرب میں یوں ہے وبمعنی تحت کقولک دون قدمک خد عدوک أی تحت قدمککہ تیرے دشمن کارخسار تیرے پاؤں کےنیچے ہے…لہذا اس لئے یہ معنی ہوں گے کہ مرتبہ، عزت اور شان کے لحاظ سے کائنات کی ہر شے دون اللہ (اللہ سے نیچے)ہے لہذا بشمول برگزیدہ شخصیات، اصنام،معبودانِ باطلہ اور مشرکین کے ہر چیز من دون اللہ ہے۔
یہاں ایک حدیث شریف بھی بطور مثال پیش کی جاتی ہے، غور فرمائیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:((ان آدم ومن دونہ تحت لواءی یوم القیامۃ ….الخ))ترجمہ: بے شک آدمؑ اور آپ کے علاوہ )(تمام عالم انسانیت) قیامت کے دن میرے جھنڈے کےنیچے ہوں گے یہاں ومن دونہ کےلفظ سے دومفہوم سامنے آتے ہیں :نمبر۱۔دون بمعنی علاوہ یعنی حضرت آدمؑ اور آپ کے علاوہ اور بھی جتنےانسان ہیں وہ سب میر ے جھنڈے کے نیچے ہوں گے… واضح ہوگیا کہ دون کااطلاق کیاجاسکتا ہے اور اس میں گستاخی کاپہلو نہیں نکلتا۔ ہاں البتہ اس قدر فرق مراتب ضرور ملحوظ رہے کہ مقبولانِ خدا کیونکہ کبھی شرک پرراضی نہ ہوئے، نہ انہوں نے کسی کو ایسا کرنے کاحکم دیا، لہذا عنداللہ ان کامرتبہ مسلم ہے۔
(اعانت واستعانت کی شرعی حیثیت ،ص:۱۰۰تا۱۰۲،مطبوعہ مہریہ نصیریہ پبلشرز اسلام آباد)
من دون اللہ کا یہ مفہوم پیر مہر علی شاہ صاحب کی اولاد میں سے ایک کا ہے،پھر پیرنصیرالدین گولڑوی کے بریلویہ کے ہاں مقبولیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی موت کے بعد انہوں نے(احادیث کی خلاف ورزی کرتے ہوئے) گولڑہ میں ان کامزار بنایا، جس پر لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے۔ راقم الحروف بچشم خود دیکھ چکا ہے کہ وہاں کتنے ہی لوگ نصیرصاحب کی قبر کے سامنے دست بستہ کھڑے ہیں، کوئی قبر کے گرد چکر کاٹتا ہے تو کوئی ماتھا ٹیکے نظرآتا ہے۔ غرض ہراونچی مزین اور ولی کی قبر کےنام سے معروف قبر پہ یہ لوگ جوکچھ کرتے ہیں، وہ نصیر صاحب کی قبر پر بھی جاری ہے۔
تویہ یقیناً ان کے گھر ہی کی گواہی ہے کہ ہر مخلوق خواہ برگزیدہ شخصیات ہی کیوں نہ ہو ’’من دون اللہ ‘‘ اللہ کے علاوہ ہی ہیں۔ اس پر قرآن ،حدیث اور کتب لغت میں دلائل موجودہیں۔ نیز اس میں گستاخی کا کوئی پہلو نہیں۔ نصیرصاحب نے اسی کتاب میں ایک جگہ لکھا: ’’جن حضرات کانقطۂ نظر یہ ہے کہ جن آیات میں اصنام کوخطاب کیا گیا ہے، ان آیات کو انبیاء واولیاء پرمنطبق کرنانہ صرف جہالت ہے بلکہ تحریف قرآنی ہے وہ ہماری تحقیق بھی ذہن نشین کرلیں کہ غیراللہ ،من دون اللہ، شریک اور انداد کے الفاظ قرآن میں جہاں بھی آئے ہیں ، ان سے مراد ہر وہ چیز ہے جواللہ تعالیٰ کےسوا ہو اور وصول الی اللہ میں رکاوٹ بنتی ہو۔ اگراصنام رکاوٹ بن رہے ہوں تو ان الفاظ سےمراد اصنام ہوں گے اور اگر انسان بن رہے ہوں تو انسان مراد ہوں گے۔ ہم نے اس کے ثبوت میں قرآن مجید سے کئی مثالیں پیش کی ہیں او رمزید بھی پیش کرسکتے ہیں۔(اعانت واستعانت کی شرعی حیثیت،ص:۹۷)
حیرت ہے کہ اپنے جس بزرگ کی قبر کی غالیانہ تعظیم کرتےہیں، جنہیں اپنا مشکل کشا وحاجت روا مانتے ہیں، ان کی زبان وقلم سےپیش کیا ہوا قرآن ماننے پرآمادہ نظر نہیں آتے۔ بہرحال پیرصاحب کا بیان عیاں ہے اور ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ کے مصداق بیان کی احتیاج نہیں کہ ان کے ہاں بھی ’’من دون اللہ ‘‘ غیراللہ اور انداد ایک ہی چیزوں کے نام ہیں۔
’’غیراللہ‘‘کا مفہوم احمدرضاخان صاحب سے
بریلویہ کے ’’اعلیٰ حضرت،عظیم البرکت، عظیم المرتبت، مجدد ملت، امام‘‘احمدرضاخان صاحب نے اپنے رسالہ ’’برکات الامداد لاھل الاستمداد‘‘ میں اپنے مخصوص طرزتکلم میں لکھا:
’’اگر آیت کریمہ(اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ)میں مطلق استعانت کاذاتِ الٰہی جل وعلا میںحصرمقصود ہوتو کیا صرف انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام ہی سے استعانت شرک ہوگی، کیایہی غیرخدا ہیں، او ر سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیک خداہیں یاآیت میں خاص انہیں کانام لے دیا ہے کہ ان سےشرک اوروں سےر وا ہے، نہیں نہیں جب مطلقا احدیت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہوگی کہ انسان ہوں یا جمادات، احیاہوں یااموات ،ذوات ہوںیاصفات ،افعال ہوں یا حالات، غیرخدا ہونے میں سب داخل ہیں۔ اب کیاجواب ہے آیۃ کریمہ کا‘‘(فتاویٰ رضویہ ۲۱؍۳۰۵مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)
سب سے پہلے تو یہ عرض کردیں کہ من دون اللہ کامطلب ہے ’’اللہ کے علاوہ‘‘ اور یہی مفہوم ’’غیراللہ‘‘ کا ہے، بریلویہ کے امام خاں صاحب نے بھی اعتراف کرہی لیا کہ انسان ہوں یاجمادات ،احیاہوں یااموات ’’غیرخدا ہونے میں سب داخل ہیں۔‘‘ھوالمقصود!
اب رہا مسئلہ آیتِ کریمہ [اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ۭ] کا توعرض ہے کہ آیت کامفہوم ومطلب دیگر آیات واحادیث کی روشنی میں بالکل ظاہر ہے،لہذا آیت کے جواب کی تو ضرورت ہی نہیں، ہاںخلطِ مبحث پر مبنی مجددِ بریلویہ کے اشکالات جواب کی احتیاج رکھتےہیں۔ سردست اتنا ہی کافی ہے کہ باہمی معاونت اور اسباب واشیاء سےمدد لینا نصوص قرآن واحادیث سے ثابت ہے ،وہ مدد اس آیت کے قطعاً خلاف نہیں، وگرنہ قرآن کریم میں تعارض وتناقض لازم آئے گا جومحال ہے۔ البتہ اموات سے یاغیر موجود اشخاص سے اسباب وذرائع سے ہٹ کر دعا مانگنا مشکل کشائی چاہنا جیسا کہ ان لوگوں کا وطیرہ ہے کسی نص سے ثابت نہیں۔ تو آیت بالااور ان کے طرز عمل میں تفاوت صاف ظاہر ہے۔ وللعاقل تکفیہ الإشارۃ.
(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت قسط 3

بعد میں آنے والے کئی لوگ صحابہ سے افضل ہیں اس عنوان کے تحت غازی …

جواب دیجئے