Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ فروری » اسلام امن کاپیغام ہے

اسلام امن کاپیغام ہے

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،امابعد
معزز قارئین!کچھ سے خصوصاً چندسالوں سے اسلام کےمتعلق بہت زیادہ گفت وشنید ہوتی چلی آرہی ہےکہ اسلام دہشتگرد ہے اور دہشتگردی کاپیغام دیتا ہے۔
لیکن حقیقت میں یہ اسلام دشمنوں کی سازش رہی ہے کہ اسلام سے لوگوں کو کس طرح متنفر کیاجائے اوراسلام کے روشن چہرے کو مسخ کیا جائے اس لئے اسلام دشمن ایک سازش کے تحت اسلام کو دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیںاور یہ سازش کوئی نئی نہیں ہے بلکہ بہت پرانی ہے جس کے بارے میں آج سے 1400سال پہلے امام الانبیاء خاتم النبین محمد ﷺ نےاپنی پیاری زبان مبارک سے وحی الٰہی کی روشنی میں بتادی تھی تاکہ اہل حق کبھی دھوکہ نہ کھائیں، جیسا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم کافرمان مبارک ہےکہ ایک زمانہ ایساآئےگا کہ فتنے سمندر کی لہروں کی مانند آئینگے جس طرح سمندر کی لہریں تہ بہ تہہ ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہیں یعنی انسان کا ان فتنوں سے بچنامشکل ہوگا، اور ان فتنوں سے صرف وہی شخص بچ سکتا ہے جو قرآن وحدیث پر عمل کرنے والاہوگا اور ان فتنوں کے متعلق نبیصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمامین سےواقفیت رکھتا ہوگا۔
دلیل: سیدناحذیفہ بن یمانtسےمروی ہے کہ ایک دن عمرفاروقtنےسوال کیا کہ تم لوگوں میں سے فتنوں کے متعلق حدیث رسولﷺ کسی کویاد ہے، حذیفہ بن یمانtنے کہا مجھے یاد ہے،عمرtنےان سے کہا جوآپ کہہ رہےہیں کیاآپ اس کو بیان کرنے پر قادرہیں ؟میں نے کہا ہاں۔اور حدیث بیان کرناشروع کی کہ جس میں فتنوں کا ذکر تھا آدمی کو فتنے لاحق ہونگے اس کےگھر ،اہل،مال اولاد ،پڑوس کے متعلق ۔عمرtنے کہا:
لیس ہذہ أرید ولکنی أرید التی تموج کموج البحر.
میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ میں ان فتنوں کےبارے میں پوچھ رہاہوں جس کے بارے میں ہےکہ وہ سمندر کی لہروں کی طرح ہونگے۔
پھرحذیفہtنے وہ حدیث سنائی:
کہ ایسے فتنوں کے درمیان ایک بنددروازہ ہے، توعمرtنے سوال کیا کہ کیا وہ بند دروازہ کھولاجائے گا یاتوڑا جائیگا؟توحذیفہtنے جواب دیا کہ وہ دروازہ توڑاجائیگا۔توعمرtنےکہا کہ جب وہ دروازہ توڑ دیاجائے گا توپھر وہ دروازہ (فتنوں کوروکنے والا) کبھی بھی بند نہیں ہوگا۔حذیفہtنے جواب دیا جی ہاں ایسے ہی ہے۔
(صحیح بخاری ۱؍۱۹۳،کتاب الزکوٰۃ، باب الصدقۃ تکفر الخطیئہ)
فائدہ: اس حدیث سے دوباتیں معلوم ہوئیں جن کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
1پہلی بات کہ اہل حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث فارق بین الحق والباطل.کو کس طرح یاد رکھتےہیں کہ کل کو ایسے اسلام دشمنوں کے فتن سے محفوظ ہوسکیں،جن کے ذریعے پہنچا سکیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ اس لئے آج ہم ان احادیث مبارکہ سے دورہونے کی وجہ سے آئے روز نت نئے فتنے میں مبتلاہیں اور بڑی بات یہ کہ اس فتنے کوحق سمجھ کر ترویج دینا شروع کردیتے ہیں جبکہ احادیث فرق واضح کرتی ہیں کہ وہ اسلام دشمن فتنہ ہے یاحق ہے؟
2دوسری بات یہ کہ فتنوں نےآنا ہے یہ حق ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات برحق ہے، پتھر پرلکیر ہے اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی اسی طرح سچ ثابت ہوئی جب خلیفہ ثانی سیدناعمرt(جوفتنوں کے درمیان بنددروازہ تھے)کی شہادت واقع ہوئی تو ان فتنوں کاراستہ ہموار ہوا کہ آج تک وہ فتنے نہ رک سکے اور آئے روز نت نئے فتنے اسلام کاروپ دھار کرہمارے سامنے ہیں۔ ان ہی فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے اسلام کے علمبرداری کادعویٰ،جھنڈا لیکراسلام کے چہرے کومسخ کرنے کی ناکام کوشش کی ہوئی ہے جن کاکام اسلام کو دہشتگرد ثابت کرنا ہے اور بقیہ اہل حق کو کافر قرار دینا ہے اور اسلام سے لوگوں کو متنفر کرنا ہے، اور اپنے اس کام سے کافروں کو خوش کرنا اور ان کو بہت زیادہ فائدہ پہچانا ہےجو آج تک دین اسلام کو دہشتگرد ثابت کرتے رہے ہیں ،تاریخ گواہ ہے ان ہی فتنوں کا نتیجہ ہے سیدنا عثمان بن عفان خلیفہ ثالث داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کا جام پیناپڑا، اور اسی کی کڑی ہے کہ جس کی وجہ سے سیدناعلی المرتضی اور امیر معاویہ yکے درمیان جنگ ہوئی اور اسلامی قوت کو نقصان سے دوچارہوناپڑا اور دشمنِ اسلام نے فائدہ اٹھایا، اسی طرح آج تک بہت بڑے نقصان ہوتے آرہے ،ان نام نہاد لوگوں کی وجہ سے جن کی لگام کفار کے ہاتھوں میں ہے اور ان سے ایسے کام کرواتے رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں پھر ان واقعات وحوادث کو لیکر اسلام پر اعتراض کیاجاتاہے کہ اسلام دہشتگرد ہے اور دہشتگردی کاپیغام دیتا ہے۔
مثال ان لوگوں کی جو اسلام کو دہشتگرد بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جہاد کانام لیکر اسلامی تعلیمات کو تارتار کرتےہیںمثلا:لوگوں کا قتل عام، نہ عورتوں کا نہ بچوں کا نہ بوڑھوںکا نہ ذمی لوگوں کا نہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا احترام کیابلکہ قتل عام کیا کہ لوگوں کے پاس یہ کہنے کو جواز رہے کہ اسلام دہشتگرد ہے اور اس کاپیغام دیتا ہے نعوذباللہ۔اور جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہورہےہیں وہ اسلام سے متنفر ہو کر اسلام میں داخل ہوکر اپنے حقیقی رب کی رحمت سے فائدہ حاصل نہ کریں  اور یہ لوگ اکثر طور پر قتل عام بھی مسلمانوں کا کرتے ہیں جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسے لوگوں کی نشانی ہے کہ
یقتلون اھل الاسلام ویدعون اھل الاوثان.
اس فکر کے لوگ مسلمانوں کو قتل کرینگے اوربت پرستوں کو چھوڑ دینگے۔
نبیصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی آج ہمارے سامنے پتھر پرلکیر کی طرح ہے آج دورحاضر میں کتنی ایسی جماعتیں ہیںجنہوں نے اسلام(اہل حق، اہل سنت) کا کیاہواہے اور ان کاجہاد کلمہ گواور اہل ا سلام سے ہے، جبکہ اہل کفر ان کے پڑوس میں ہیں ان کے خلاف ایسی زبان سے بھی حرکت نہیں کرتے جہاد بالسیف بالقتال تو دور کی بات ہے جبکہ اہل اسلام خصوصا روئے زمین پر توحید کے علمبردار خطہ سعودی عرب اور پاکستان ان کی زبانوں اورنشانوں پر ہیںاللھم اھلک الظالمین بالظالمین.
یہی وجہ ہے کہ کفار تو دور کی بات ہے ہمارے مسلم بھائی جن کا اٹھنا بیٹھنا ،کھاناپیناہمارے ساتھ ہے اس کے باوجود جب کسی اہل حق عالم دین یاداڑھی والے مسلم کو دیکھتے ہیں تو اسے دہشتگرد قرار دیتے ہیں اور کڑوی نظروں سے دیکھتے ہیں۔العیاذباللہ
جب اس طرح کے واقعات دیکھنے ،سننے کو ملتے ہیں تو اس وقت جسم سکتہ میں آجاتاہے کیونکہ جس اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے خاص چنا ہے وہ اسلام کیا دہشتگرد ہوگا اور اس کاسبق دیگا؟؟؟
اسلام بڑا ہی امن کاپیغام ہے جس کی مثال کوئی مذہب نہیں دے سکتا،جس دین کو اللہ تعالیٰ نے چناہے وہ دین اسلام ،سراپاخیر اور امن ہے اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ ](المائدۃ:۶)
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اسلام کوبطوردین چن لیا۔
فائدہ:معلوم ہوا کہ جو اللہ خودبڑا رحیم ہے،امن کوپسند کرنے والاہے اس اللہ نے جس دین کو چنا ہے وہ اسلام کتنا امن کاپیغام ہوگا؟؟؟
اور جس نبی جناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دین دے کربھیجا وہ نبیﷺ بھی بڑے رحم دل اور امن پسند ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷ ] ہم نے آپ کو تمام جہانوں والوں کےلئے سراپارحمت(امن) والابناکربھیجاہے۔(الانبیاء:۱۰۷)
فائدہ: اس قدر امن کوپسند کرنے والااللہ، اوراس کا پیارانبیﷺ امن والاتوجواسلام اللہ نے اپنے پیارے پیغمبر کودیکربھیجاہے وہ اسلام بھی سراپاامن کاپیغام ہے نہ کہ دہشتگردی اور اس پیغام کے داعی مسلمان بھی امن والے ہیں۔
آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اسلام تو وہ امن کاگہوارہ ہے جو دنیا کی ہر چیز کے ساتھ امن کاپیغام دیتاہے اور ہرطرح کے ظلم سے روکتا ہے چاہے وہ ظلم انسان پرہویاحشرات الارض ،کیڑوںمکوڑوں یاجانوروں حتی کہ حرام کردہ جانوروں پرظلم سے بھی روکتا ہے وہ اسلام دہشتگرد کیسے ہوسکتا ہے اور اس کاکس طرح پیغام دے سکتاہے؟؟
اسی مناسبت سے صرف چندنصوص پرمبنی مثالیں پیش خدمت ہیں جس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اسلام امن ہے یادہشتگرد؟؟؟؟
قارئین کرام! اسلام کی لغوی بحث ہم نہیں کرتے اس لئے کہ اس علمی رسالے کو پڑھنے والے علماء کرام ہیں جولغوی واصطلاحی تعریفات سےبخوبی واقف ہیں اور عوام کے لئے یہ اہم نصوص کافی ہیں جس سے وہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اسلام نہ دہشتگرد ہے نہ اس کاپیغام دیتاہے۔ نصیحت حاصل کرنے والے کے اس قسم کے شہادت کوتوڑنےکے لئے کافی ہیں:
(الف) ہماراپیارااسلام جانوروں،چرندپرند،حشرات الارض کے ساتھ امن کارحمت کاپیغام دیتا ہے اور ان پرظلم سے روکتاہے۔
1’’کتا‘‘ایک حرام جانور ہے اور بہت زیادہ ناپسندیدہ بھی ہے حتی کہ جوشخص اس جانور کو شوقیہ پالتاہے اس کااجروثواب روزانہ ایک قیراط کم ہوتارہتا ہے اور جس گھرمیں ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اس قدرناپسندیدہ ہے لیکن اسلام اس کے ساتھ رحمت کاپیغام دیتا ہے ظلم سے منع کرتا ہے۔
(۱)سیدنا عبداللہ بن مغفل tسے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لولاأن الکلاب أمۃ من الامم لامرت بقتلھا کلھا.(جامع ترمذی،الرقم:۱۴۸۶،سنن نسائی،الرقم:۴۲۸۵شیخ زبیر علی زئیaنے اس کی سند کوحسن قرار دیاہے)
رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کتے امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان سب کے قتل عام کاحکم دیتا۔
(۲) عبداللہ بن عمرwسے روایت ہے کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عذبت امرأۃ فی ھرۃ سجنتھا حتی ماتت فدخلت فیھا النار الی آخرہ.(مسلم:۵۸۵۲،،کتاب قتل الحیات وغیرھا، باب فی تحریم قتل الھرۃ)
ایک عورت کو عذاب دیاگیا بلی کے معاملے کی وجہ سے اس عورت نے بلی کو قید کردیا یہاں تک کہ وہ بلی مرگئی وہ عورت اس وجہ سے جہنم میں داخل ہوگئی، کہ اس عورت نے بلی کو نہ کھانا دیا نہ پینا دیا اس بلی کوقیدمیں رکھا،اور نہ ہی اس کوقیدسے آزاد کیا کہ وہ زمین کے حشرات الارض کوکھالیتی۔
(۳)سیدنا ابوھریرہ tرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان نملۃ قرصت نبیا من الانبیاء فامر بقریۃ النمل فاحرقت فاوحی اللہ الیہ أفی ان قرصتک نملۃ اھلکت أمۃ من الامم تسبح.(مسلم:۵۸۴۹،،کتاب قتل الحیات وغیرھا، باب النھی عن قتل النمل)
پہلے انبیاء میں سے ایک نبی کوایک چیونٹی نے کانٹا اس نبی نے چیونٹی کی بستی کو جلانے کا حکم دے دیا ،اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی کی کہ کیا ایک چیونٹی کے کاٹنے سے آپ نے ایک بستی کو ہلاک کردیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی۔
اس کے برعکس جوجانوروں پرظلم نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ امن؍ رحمت کاپہلو اختیار کرتا ہے تووہ قابل فخرہے بلکہ مغفرت کاحقدار بن جاتا ہے۔
(۴)فقیہ امہ سیدنا ابوھریرہtسے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان امرأۃ بغیا رأت کلبا فی یوم حار یطیف ببئر قد ادلع لسانہ من العطش فنزعت لہ بموقعھا فغفرلھا.(مسلم کتاب الحیات، باب سقی البھائم المحترمۃ واطعامھا ،رقم:۵۸۶۰)
ایک بدکارعورت نے ایک کتےکو سخت گرمی والے دن دیکھا جو کنویں کے اردگردچکرکاٹ رہاتھا اور پیاس کی شدت کی وجہ سے اس کی زبان لٹک رہی تھی،اس عورت نے اپناموزہ اتارا اور اس سے کتے کو پانی پلایا،اس پانی پلانے کے سبب اس بدکارہ عورت کو معاف کردیاگیا۔(سبحان اللہ)
فائدہ:ان چندنصوص سے واضح طور پہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر امن کاگہوارہ ہے، پیغام امن ہے نہ کہ دہشتگردی، اور اسی امن،رحمت کا حکم دیتا ہے جیسا کہ ان احادیث میں انسان تودور کی بات ہے دنیا کے حشرات الارض ،کیڑے مکوڑے، جانوروں حتی کہ حرام کردہ جانوروں کے ساتھ بھی نرمی ،امن ،رحمت کے معاملے کاحکم دیتاہے۔
(ب)اسلام تو وہ امن کاپیغام ہے جو اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی امن اورعدل وانصاف کاحکم دیتا ہے:
(۱)[يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۝۰ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۸ ](المائدۃ:۸)
ترجمہ:اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ۔
(۲)قال تعالیٰ:[الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ۝۰ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْہَا اسْمُ اللہِ كَثِيْرًا۝۰ۭ وَلَيَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۝۴۰ ](الحج:۴۰)
ترجمہ:یہ وه ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کےاس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وه مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والابڑے غلبے والا ہے ۔
فائدہ:اللہ نے لوگوں کو جنگ سے روک دیا حکمت بتائی کہ اگر ایک دوسرے سے جنگ کرتے تو ایک دوسرے کے معبدخانے ،مساجد وغیرہ گرادی جاتی لیکن آج کل جہاد کے ٹھیکےدار ،جہاد کے نام پرمساجد اور بازاروں میں قتل عام کرتے ہیں ،جبکہ یہاں اللہ نے کفار کے معبدخانوں کوڈھانے سے منع کیا ہے یعنی اہل حق کا یہ شیوہ نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں کاطرز عمل ہے جو اسلام کے چہرے کومسخ کرنے اور دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔العیاذ باللہ
(۳)پیارے نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں کافروں کے بچوں، عورتوں اوربوڑھوں کوقتل کرنے سے منع فرمایا ہے جو جہاد میں مسلمانوں کے خلاف شریک نہیں ہوتے ۔
ایک جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی لاش کو دیکھا توفوراً ارشاد فرمایا:کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔
دلیل: عن عبداللہ بن عمرwقال: وجدت امرأۃ مقتولۃ فی بعض مغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان.
(بخاری، کتاب الجہاد،باب قتل الصبیان فی الحرب۱؍۴۲۳)
فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کس قدر امن کاپیغام دیتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے جب حالت جنگ میں ہوجہاں ایک دوسرے کو قتل کرنے کانشہ ہوتا ہے پھر بھی عورتوں اور بچوں کو قتل سے منع فرمایاہے، جن کاجنگ میں حصہ نہیں ہوتا۔
اسی طرح کفار کے ساتھ امن کامعاملہ کئی مثالیں موجود ہیں ،مثال فتح مکہ ہےکہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کےپاس پورااختیار تھا لیکن پھر بھی بڑے بڑے دشمنوں کو معاف کردیا اور فرمایا:[ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۝۰ۭ](یوسف:۹۲)آج کے دن وہ کہوں گا جو میرے بھائی یوسفuنے اپنے بھائیوں سے متعلق کہاتھا۔ اسی طرح لاش کو مثلہ کرنے سے منع فرمایا ،الغرض بہت سی مثالیں لیکن اختصار کے پیش نظر ایک مثال آپ کے سپرد کی ہے۔
(ج) جب اسلام جانوروں ،چرند پرند،حشرات الارض، دشمنوں وغیرہ کے ساتھ امن کاپیغام رحمت کاحکم دیتا ہے تو وہ اسلام ،اہل اسلام اور انسانیت کے ساتھ کس قدر امن رحمت کاپیغام دیتاہوگا؟؟؟اور وہ اسلام کیسے دہشتگردی سکھاتا ہوگا،کیا یہ ممکن ہے؟؟؟
مسلمانوں کے ساتھ امن کے پیغام کی چند مثالیں:
(۱)[وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَيْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِيْمًا۝۹۳ ](النساء:۹۳)
ترجمہ:اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے ۔
فائدہ: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جوشخص کسی مسلمان کوناحق قتل کرتا ہےتو اسلام اس کے لئے کتنی بڑی شدیدوعید سناتا ہے اور کس انداز میں اس لئے کہ مسلم معاشرہ قتل وغارت سےپاک ہوجائے اور امن کاگہوارہ بن جائے، وعیدکامنظر بھی انوکھا اپنایاہے۔
1ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
2اللہ کاغضب مسلسل رہےگاجب تک اللہ رحم نہ فرمائے۔
3اللہ کی لعنت کامستحق ٹھہرتاہے۔
4اس کے لئے خاص عذاب تیارکیاگیاہے۔
(۲) مثال: پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان معاشرے کے لئے آداب سکھائے ان میں سے ایک ادب یہ سکھایا کہ کنکری کو انگلی پر رکھ کر اس کوراستے میں پھیکنا، کنکریوں سے اس طرح مت کھیلو،یعنی دوسروں کیلئے اپنے راستے بھی محفوظ رکھو ،مطلب یہ کہ راستے بھی امن والے ہوں۔
عن عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ قال نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الخذف وقال انہ لایقتل الصید ولاینکی العدو وانہ یفقأ العین ویکسر السن.
(بخاری،کتاب الادب ،باب الخذف ۲؍۹۱۸)
عبداللہ بن مغفل tسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کوانگلیوں پر رکھ کر پھینکنے سے منع فرمایا کہ وہ شخص اس کنکری کے ساتھ نہ کسی چیز کاشکار کرسکتا ہے نہ دشمن کو نقصان دے سکتا ہے ہاں البتہ وہ شخص اس کنکری کے ساتھ کسی شخص کی آنکھ پھوڑ سکتا ہے اور کسی شخص کا دانت توڑ سکتا ہے۔
(۳)مثال: اسلام نے معاشرے کے امن کے لئے یہاں تک سبق دیا ہے کہ کسی مسلمان کو گالی اور برابھلامت کہوا گر ایسا نہ کروگے تومعاشرہ سے امن ختم ہوجائے گا ۔
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر.
(بخاری،کتاب الادب، باب ماینھی عن السباب۲؍۸۹۳)
عبداللہ بن مسعودtفرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق گناہ کاکام ہے اور اسے لڑنا کفرہے۔
(۴)مثال: کسی ایمان والےکو برایالعن طعن کرنا بھی بڑاگناہ ہے کیونکہ اسلام ہرایک مؤمن کو امن فراہم کرتا ہے اور ہر ایک ایمان والے کاحق ہے کہ اس کو امن دیاجائے۔
سیدنا ثابت بن ضحاکtنبیصلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث ذکر کرتے ہیں جس کے الفاظ یوں ہیں،جوہمارے موضوع سے تعلق رکھتےہیں:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :ولعن المؤمن کقتلہ.
(مسلم،کتاب الایمان،ص:۷۲)
مومن کو لعن طعن کرنا گویا اس کو قتل کرنا ہے۔
فائدہ: اسلام امن کاگہوارہ ہے قلعہ ہے جوشخص اسلام میں داخل ہوگیا اسلام اس کو امن فراہم کرتا ہے، جس کی مثال صرف اسلام میں ہی دی جاسکتی ہے اس جیسی مثال کوئی اورمذہب نہیں دے سکتا۔
(۴) انسان کی حرمت کااندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ اسلام کس قدر امن اور سکون دینے کی کوشش کرتا ہے۔
مکہ بیت اللہ کس قدر حرمت والی جگہ ہے جہاں کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی لیکن جب انسان، مومن کی حرمت امن وسکون کا مسئلہ آیا تو اسلام نےان چیزوں کو مارنے قتل کرنے کاحکم دیا جوانسان کو ظاہری طور پر نقصان دیتی ہے اور عبادت میں خشوع وخضوع کوتوڑتی ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے:باب ما یقتل المحرم من الدواب.
صحیح بخاری کتاب الحج ۱؍۲۴۶ کے تحت حدیثیں ذکر کی ہیں کہ:
حالت احرام میں محرم ،حرمت والے ماہ میں کن کن چیزوں کو قتل کرسکتا ہے،۵چیزوں کاذکر کیاہے:سانپ، بچھو، کوا، اورگرگٹ وغیرہ
خلاصہ: اسلام بڑا ہی امن کاپیغام دیتا ہے نہ کہ دہشتگردی کاجولوگ ان حدودوقیود کاخیال نہیں رکھتے بلکہ بغیر دعوت، یاذمی طور پر رہنے رہنے والوں کو قائل کئے بغیراورخصوصا مسلمانوں کو ،حکومت کے لوگوں کو اور ملک کے محافظوں کو موت کی گھاٹ اتارتے ہیں امن چھیننے کی کوشش کرتےہیں وہ حقیقتا اسلام کے نصوص اور فقہ سے نابلدہیں۔ اور کم عقلی اور کم ظرفی کی وجہ سے کفار اور غلط لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہےہیںجس کانقصان اسلام اور اہل اسلام کوہورہاہے اوریہ فتنہ آج عروج پر ہے لہذا اس فتنے سے بچنے کے لئے تعلق باللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنے آپ کو مزین کریں اور اپنے ظاہر وباطن کو منور فرمائیں۔
جس طرح سلف صالحین کو فتن سے متعلق نصوص یاد ہواکرتی تھیں تاکہ اگر لوگوں کانیافتنہ سامنے آئے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے ذریعے اسے پہچان سکیں اورہم اپنے دامن کو ان سے محفوظ کرسکیں۔
ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ بعض لوگ ان احادیث وآیات کو سامنے رکھ کر بھی اعتراض کرتے ہیں جن میں حدود بیان ہوئی ہیں مثلاً: زانی کی حد، چور کی حد، شرابی کی حد،الغرض اسی کی حدود پرکہ اسلام امن نہیں بلکہ ظلم پر قائم ہے،نعوذباللہ
جواب: ایسے لوگ بھی عقل سے عاری ہیں، بلکہ بیوقوف ہیں اگر غور کرتے تو یہ کوئی اعتراض کی بات ہی نہیں ہے، یعنی ایک معاشرے کو پاک صاف ،اور امن والابنانامقصود ہے ،چورکاہاتھ نہ کاٹاجاتاہے تو معاشرہ کا امن تباہ ہوتا اس طرح کسی شخص کامال محفوظ نہ رہتا۔
زانی کی سزا کاحکم نہ ہوتا تو اس معاشرے میں نسل کی حفاظت کیسے ممکن ہوتی،جس پر لوگ فخر کرتےہیں کہ میں فلاں قبیلہ سے ہوں وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن وحدیث کوسمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمیشہ اسلام کا دفاع کرنے کی توفیق اور مدد فرماتارہے ،آمین یا رب العالمین

About حافظ انس کاکا

Check Also

اخبارالجمعیۃ

مفتی حافظ محمد سلیم صاحب اور شیخ محمدداؤد شاکر صاحب کا تبلیغی دورہ اپرسندھ 06دسمبر2017ءبروزبدھ …

جواب دیجئے