Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ فروری » نتائج امتحانات فترۂ اولیٰ المعہد السلفی کراچی

نتائج امتحانات فترۂ اولیٰ المعہد السلفی کراچی

18جنوری2017ءبمطابق ۱۹ ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ بروز بدھ ۱۲بجے دن المعہد السلفی کے امتحانات فترۂ اولیٰ کے نتائج کا اعلان کیاگیا،منعقدہ تقریب میں رئیس المعہد فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیd، اساتذہ کرام وتمام طلبہ نے شرکت کی، شیخ محمدداؤد شاکر نائب مدیر المعہد نے نتائج کا اعلان کیا جو کہ حسبِ ذ یل ہے:
درجہ ثامنہ:
اول:عبدالجبار بن ولی محمد تھرپارکر
دوم:حافظ طارق بن عبداللطیف خیرپور میرس
سوم:محمد ابراہیم میوو بدین
درجہ سابعہ:
اول:حافظ بدیع الدین بن شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کراچی
دوم:حافظ مغیث الرحمٰن بن مجیب الرحمٰن کراچی
سوم:عبدالرحمٰن بن عبدالکریم نیوسعیدآباد
درجہ سادسہ:
اول:حافظ بلال احمد بن مشتاق احمد کراچی
دوم:یونس بن دامن علی رتودیرو
سوم:راشد سکندر میہڑ
درجہ خامسہ:
اول:حافظ سمیع اللہ بن عثمان غنی لیاری کراچی
دوم:عبدالرحمٰن بن اسلم خان کراچی
سوم:حافظ محمد عمران بن رجب علی رتودیرو
درجہ رابعہ:
اول:حافظ صفی الرحمٰن بن عبدالرزاق عامر کراچی
دوم:اسماعیل بن محمد صادق تھرپارکر
سوم:حافظ سلیمان بن محمد زکریا لودھراں
درجہ ثالثہ:
اول:حافظ عابد بن شفقت محراب پور
دوم:عادل بن نفیس اورنگی ٹاؤن کراچی
سوم:فیضان بن انیس اورنگی ٹاؤن کراچی
درجہ ثانیہ:
اول:حافظ محمد زبیربن احمد علی جمالی نواب شاہ
دوم:حافظ علی اختر بن محمد اکرم گولارچی
سوم:الیاس بن اسحٰق میہڑ
درجہ اولیٰ:
اول:عثمان بن نصیراحمد کوٹ غلام محمدمیرپورخاص
دوم:معاویہ بن محمد حنیف ٹنڈو آدم
سوم:نبیل بن توفیق سرجانی ٹاؤن کراچی
درجہ ادنیٰ:
اول:عبدالواجد بن منظور حسین میہڑ
دوم:اسامہ بن محمد ایوب شاہ فیصل کالونی کراچی
سوم:اسداللہ بن علی حیدر جمالی نواب شاہ
سوم:علی محمد بن لیاقت علی لاڑکانہ
شعبہ حفظ حدیث:مکمل نمبر حاصل کرنے والے :
(۱)جاوید(۲) حبیب اللہ(۳)اظہر(۴)عمران راہب(۵)فہد بشیر
حفظ المتون:عبدالرحمٰن بن محمد اسلم خان کراچی
اس کے بعد رئیس المعہد فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdنے نصائح فرمائیں،آپ کا فرمانا تھا:
عزیز طلبہ!ابھی آپ نے اپنی تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے ایک رپورٹ رزلٹ کی صورت میں ملاحظہ کی ہے۔ جو طلبہ زیادہ بہتر کارکردگی نہیں دکھلاسکے وہ آنے والے فترہ میں بہت زیادہ محنت کریں اور اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں تاکہ ان کا سالانہ رزلٹ بہتر ہو اور جو طلبہ اللہ کی توفیق سے کامیاب ہوئے ہیں بالخصوص وہ طلبہ جنہوں نے درجہ ممتاز مع الشرف حاصل کیا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم امتیاز حاصل کرچکے اب مزید محنت کی ضرورت نہیں بلکہ فترہ ثانیہ کے امتحانات میں بھی یہی کارکردگی دہرائیں اس کیلئے ایک دوسرے سے مسابقت کریں جوکہ شرعی مزاج ہے قرآن وحدیث میں اس کاحکم دیاگیاہے جیسا کہ:
[وھم لھا سابقون] اور وہ(ان) امور خیر میں ایک دوسرے سے مسابقت کرتے ہیں۔
[وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ] اور تم اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف مسارعت کرو۔
[ففروا الی اللہ ] پس تم اللہ کی طرف بھاگو۔
عزیز طلبہ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کو تعلیم وتعلم کے علاوہ اور کوئی کام نہیں، والدین کی طرف سے نہ اساتذہ کی طرف سے، لہذا دستیاب ہونے والی اس فرصت سے فائدہ اٹھائیںاور خوب محنت کریں ،ان شاء اللہ یہ محنت آپ کو سرخروکرے گی۔ علم حاصل کریں تاکہ جب آپ میدانِ عمل میں قدم رکھیں تو یہ علم قدم بقدم آپ کے کام آئے، اس علم کے ذریعہ آپ اپنی زندگی سنواریں اور عوام الناس کی بھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:نضراللہ امرأ سمع مقالتی فحفظھا ووعاھا ثم اداھا کما سمعھا .آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ان طلبہ کیلئے ہے جو علم حاصل کرتے ہیں ،سمجھتے ہیں ،عمل کرتےہیں اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
آپ کو اساتذہ کی زیرنگرانی جو تعلیم وتربیت مل رہی ہے، اس پر ذوق وشوق سے عمل پیراہوں اور یہاں سے کندن بن کر نکلیں۔
یاد رکھیئے! شریعت کی نظر میں عزت اس کیلئے ہے جواپنے علم پر عمل کرتا ہے،کتبِ تاریخ وسیر میں عبداللہ بن مسعودtکے قبولِ اسلام سے قبل کا واقعہ مذکور ہے کہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعودtمکہ سے باہر بکریاں چراتے تھے، ایک دن دیکھا کہ دو آدمی آرہے ہیں وہ(آپ صلی اللہ علیہ وسلم او رابوبکرتھے)
اشتد علیھما الظمأ حتی جفت منھما الشفتاہ والحلوق. یا غلام احلب لنا ….نطفیٔ من ظمأنا ونبل عروقنا فقال: لاافعل ،فالغنم لیست لی، وانا علیھا مؤتمن.
یعنی دونوں کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی ،دونوں کےہونٹ وحلق سوکھ گئے تھے۔کہنے لگے ہمارے لئے بکری کا دودھ لاؤ،ابن مسعودؓ نے کہا یہ میرے پاس امانت ہیں لہذا نہیں لاسکتا۔
فرمایا :کوئی ایسی بکری لے آؤ جس نےدودھ دینا شروع نہ کیاہو وہ ایسی بکری لے آئے اور
جعل یمسح ضرعھا بیدہ ھو یذکر علیھا اسم اللہ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے تھنوں کو چھورہے تھے اور اللہ کاذکر کررہے تھے۔بکری کے تھن دودھ سے بھرگئے ابن مسعودؓ کہنے لگے:
علمنی من ھذ القول الذی قلتہ انک غلام معلم
جو آپ نے پڑھا ہے مجھے بھی سکھلائیں آپ نے فرمایا: تو سکھلایا ہوا ہے۔عبداللہ بن مسعود کی یہ تعریف باعمل ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
اللہ تعالیٰ آپ طلبہ کو علم نافع وعمل صالح عطافرمائے اور آپ سے ہمیں جو توقعات ہیں ،اللہ تعالیٰ وہ آپ کو پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About ادارہ

Check Also

مراسلے ومکاتیب

 منکیرہ بھکر سے پروفیسر سعیدمجتبی السعیدی صاحب کامکتوب برادر عزیز الشیخ ذوالفقار علی طاہر حفظہ …

جواب دیجئے