Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » اربعین نووی حدیث نمبر25قسط57

اربعین نووی حدیث نمبر25قسط57

عَنْ أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه أَيضَاً أَنَّ أُنَاسَاً مِنْ أَصحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالوا للنَّبيِ ﷺ يَارَسُولَ الله: ذَهَبَ أَهلُ الدثورِ بِالأُجورِ، يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ، وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ، وَيَتَصَدَّقُوْنَ بفُضُوْلِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: (أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُوْنَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَة. وَكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَحْمَيْدَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بالِمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَفِيْ بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيَأْتِيْ أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُوْنُ لَهُ فِيْهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فيْ حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا في الحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ
أخرجه مسلم- کتاب: الزكاة، باب: بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف)1006)
ترجمہ:سیدناابوذرغفاریtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے،آپﷺ سے عرض کیا:یارسول اللہ!مالدارحضرات اجر لینے میں بازی لے گئے،وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں،ہماری طرح روزے رکھتےہیں،اوراپنا ضرورت سے زائدمال صدقہ کردیتے ہیں (جو فقر کی وجہ سے ہم نہیں کرپاتے)رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی تو صدقہ دینے کے بھرپور مواقع عطافرمائے ہیں؛ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تحمید (الحمدللہ کہنا)صدقہ ہے،ہر تھلیل(لاالٰہ الااللہ کہنا) صدقہ ہے،نیکی کاحکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے،(بیوی ) سے جماع کرنا صدقہ ہے۔
صحابہ کرام نے عرض کیا:یارسول اللہ! کیا (بذریعہ جماع)اپنی شہوت کی تسکین بھی باعثِ اجر ہے؟رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اگر یہی تسکین حرام(یعنی زنا)سے حاصل کرے تو گناہ نہیں ہوگا؟پس حلال طریقہ سے انجام دینا یقیناً موجبِ اجرہوگا۔(رواہ مسلم)
یہ حدیث دینِ اسلام کی عظمت،برکت اور سماحت کی زبردست دلیل ہے، اس میں چند ایسے طرقِ خیر کابیان ہےجو تمام بنی نوع انسان کے مقدور میں ہے،ہر شخص خواہ وہ امیر ہویاغریب،اگران طرقِ خیر کو اپنانا چاہےتو بآسانی اپنا سکتا ہے۔
اس حدیث میں چندفقراءصحابۂ کرام کا نبیﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کاذکر ہے،جو اس بات کی دلیل ہےکہ صحابہ کرام حصولِ علم کے کس قدر حریص تھے،نیز اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ ہمارے اس مسئلے کا بلکہ تمام مسائل کاحل رسول اللہ ﷺ کے پاس ہے،کسی اور کے پاس نہیں۔
ان صحابہ نے جو فقراء تھے،مالدار صحابہ کی بابت بات کی،جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ وہ بدنی اعمال انجام دیتے ہیں،جو ہم بھی انجام دے رہے ہیں،مگر چونکہ وہ مالدارہیں لہذا اللہ کی راہ میں اپنے فاضل اموال خرچ کرکے بے تحاشہ اجرکمارہے ہیں،جوغربت کی بناء پر ہم نہیں کرپاتے، لہذا وہ ہم سے کہیں سبقت لےجاچکے ہیں۔
واضح ہو کہ صحابہ کرام کی یہ گزارش نہ تو بربناءِ حسد تھی اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر کسی قسم کا اعتراض یاشکوہ تھا،وہ تو محض اس لئے حاضر خدمت ہوئےکہ شاید ہمیں دربارِ نبوت سے ایسے اعمالِ صالحہ عطاہوجائیں جن کے ذریعے مالدار حضرات سے آگے نکل جانے کی صورت بن جائے، چنانچہ ان کے الفاظ پر غورکرلیاجائے،انہوںنے کہاتھا:
’’يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ، وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ، وَيَتَصَدَّقُوْنَ بفُضُوْلِ أَمْوَالِهِمْ ‘‘
وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں،ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، اوراپنا ضرورت سے زائدمال صدقہ کردیتے ہیں(جو فقر کی وجہ سے ہم نہیں کرپاتے)
اس جملہ میں نہ تو حسد کا کوئی شائبہ ہے،نہ تقدیر پر اعتراض کی کوئی صورت۔صرف حصولِ سبقت کیلئے کسی واضح پروگرام کی تلاش مقصود ہے۔
واضح ہو کہ نیکیوں میں آگے نکلنے کی کوشش کرنا،جذبۂ مسابقت کہلاتاہے،جوانتہائی قابلِ تعریف ہے۔
[وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۝۱۰ۚۙ اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۝۱۱ۚ ] ترجمہ:اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں ،وه بالکل (اللہ تعالیٰ کا)قرب حاصل کیے ہوئے ہیں ۔(الواقعہ:۱۰،۱۱)
[وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۝۲۶ۭ ] (المطففین:۲۶)
ترجمہ: سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے ۔
واضح ہو کہ فقراء صحابہ کا مالدارصحابہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ’’اپنا ضرورت سے زائدمال صدقہ کردیتے ہیں‘‘اس بات کی دلیل ہے کہ مالدار صحابہ واقعۃً خوب صدقہ کیاکرتے تھے،جس کا فقراء صحابہ نے اعتراف بھی کیا اور رسول اللہ ﷺ کو آگاہ بھی کیا۔
یہاں امت کے تمام مالداروں کیلئے یہ پیغام ہے کہ وہ بھی صدقہ کرنے کو اپنا ایک واضح معمول بنالیں،تاکہ منہجِ اصحابِ رسول ﷺکی پیروی کا شرف حاصل ہوجائے،اسی میں ہدایت کی ضمانت ہے:
[فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا۝۰ۚ ] (البقرہ:۱۳۷)
ترجمہ:اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں۔
پھر صدقہ دیتے رہنا صرف صحابہ کرام کا وطیرہ ہی نہیں ہے،بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین میں بھی صدقہ دیتے رہنے کی ترغیب وتاکید وارد ہے۔
[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ۝۰ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۲۵۴ ](البقرہ:۲۵۴)
ترجمہ:اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت اور کافر ہی ظالم ہیں ۔
صدقہ نہ دینا اور بخل اختیارکرلینا،قیامت کی بہت بڑی حسرت کا ذریعہ ہوگا:
[وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰ وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُہَا۝۰ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۱۱ۧ ] ترجمہ:اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے ۔(المنافقون:۱۰،۱۱)
رسول اللہ ﷺکا جواب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُوْنَ؟‘‘
یعنی:اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی تو صدقہ دینے کے بھرپور مواقع عطافرمائے ہیں۔
( تَصَّدَّقُوْنَ)فعل مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے،اصل میں (تَتَصَدَّقُوْنَ) تھا،فاءکلمہ(ص)کو قرب مخرج کی بناء پر تائے تفعل میں ادغام کردیاگیا ( تَصَّدَّقُوْنَ)ہوگیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فقراء صحابہ کے سامنے چند ایسے امور کی نشاندہی فرمائی،جو بآسانی اپنائے جاسکتے تھے،اور انہیں صدقہ قراردیا،جس کا معنی یہ ہے کہ صدقہ کا تعلق صرف مال سے نہیںہے، بلکہ بہت سے بدنی اعمال بھی صدقہ ہوسکتے ہیں،ان میں سے کچھ اعمال کا تعلق تو اپنی ذات سے ہے اور کچھ کا تعلق دوسروں سے۔
یہ شریعتِ مطہرہ کی وسعت اور سماحت ہے کہ اس میں مالداروں اور فقیروں سب کی دلجوئی کے وافر اسباب موجود ہیں،چنانچہ اہل ثروت اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرکے،اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں،جبکہ فقراء ومساکین مندرجہ ذیل امور کی انجام دہی سے،جوکہ شرعاً صدقہ ہی شمارہوتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فقراء صحابہ کے سامنے سات امور کا ذکرفرمایا جنہیں بآسانی انجام دیا جاسکتا ہے،ان میں سے چار امور کاتعلق اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہے ،چنانچہ آپﷺ نے فرمایا:
اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَة. وَكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَحْمَيْدَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ .
ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے،ہر تھلیل صدقہ ہے۔
تسبیح سے مراد(سبحان اللہ کہنا)تکبیر سے مراد(اللہ اکبرکہنا) تحمید سے مراد(الحمدللہ کہنا)اور تھلیل سے مراد(لاالٰہ الااللہ کہنا)
یعنی:آپﷺ نے (سبحان اللہ والحمدللہ ولاالٰہ الااللہ واللہ اکبر)کی تعلیم ارشاد فرمائی۔
واضح ہو کہ یہ چاروں کلمات،اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کلمات شمار ہوتے ہیں۔
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ. لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ "(صحیح مسلم:۲۱۳۷)
یعنی:سمرہ بن جندبtسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا محبوب اور پسندیدہ کلام چار کلمات ہیں: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ.جس کلمے کو بھی پہلے لے آؤنقصان نہ ہوگا۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ان کلمات کو (افضل الکلام ) کہا گیا ہے،مسند ابوداؤد الطیالسی کی ایک روایت میں ان کلمات کو (اطیب الکلام ) کہاگیا ہے،جبکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ان کلمات کوایک بار پڑھنا دنیاکی ہرشیٔ سے محبوب بتایاگیا ہے۔(صحیح مسلم:۲۶۹۵)
ایک عظیم الشان حدیث
اس حدیث کی صحت ثابت ہونے پر شیخ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے سجدۂ شکر اداکیاتھا:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي خَيْرًا فَأَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِهِ فَقَالَ: ” قُلْ سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ قَالَ: فَعَقَدَ الْأَعْرَابِيُّ عَلَى يَدِهِ ” وَمَضَى فَتَفَكَّرَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ ﷺقَالَ: تَفَكَّرَ الْبَائِسُ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : ” يَا أَعْرَابِيُّ إِذَا قُلْتَ: سُبْحَانَ اللهِ قَالَ اللهُ: صَدَقْتَ وَإِذَا قُلْتَ: الْحَمْدُ لِلهِ قَالَ اللهُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ اللهُ: صَدَقْتَ وَإِذَا قُلْتَ: اللهُ أَكْبَرُ قَالَ اللهُ: صَدَقْتَ وَإِذَا قُلْتَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي قَالَ اللهُ: فَعَلْتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللهُمَّ ارْحَمْنِي قَالَ اللهُ: فَعَلْتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللهُمَّ ارْزُقْنِي قَالَ اللهُ: قَدْ فَعَلْتُ قَالَ: فَعَقَدَ الْأَعْرَابِيُّ عَلَى سَبْعٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ وَلَّى "(شعب الایمان:۲؍۱۳۳سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للألبانی :۳۳۳۶)
انس بن مالکtسے مروی ہے،ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ !مجھے کوئی بہت اچھی بات کی تعلیم دیجئے،رسول اللہ ﷺنے اس کا ہاتھ پکڑ لیااور فرمایا:کہو: (سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ.)
اعرابی ان کلمات کو انگلیوں کےپوروں پر گنتے ہوئے مٹھی کو بند کرکے وہاں سے روانہ ہوگیا،پھر کچھ سوچ کر واپس لوٹا،رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرماتے ہوئے کہا:بیچارا کچھ سوچ میں پڑگیا ہے۔
اعرابی نے قریب آکرکہا:یارسول اللہ ﷺ!یہ کلمات تو اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں،میرے لئے کیا ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے اعرابی! جب تم (سبحان اللہ )کہوگےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:تو نے سچ کہا۔اور جب تم (الحمد للہ )کہوگےتواللہ تعالیٰ فرمائے گا:تو نے سچ کہا۔ اور جب تم(لاالہ الا اللہ )کہوگےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:تو نے سچ کہا۔ اور جب تم( اللہ اکبر )کہوگےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:تو نے سچ کہا۔ اور جب تم(اللھم اغفرلی )کہوگےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میں نے معاف کردیا۔اور جب تم(اللھم ارحمنی )کہوگےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میں نے رحم فرمادیا۔اور جب تم( اللھم ارزقنی) کہو گےتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میں نے رزق عطافرمادیا۔
وہ اعرابی ان کلمات کو بھی اپنے پوروں پر گنتے ہوئےمٹھی بند کرکے وہاں سے روانہ ہوگیا۔
واضح ہو کہ انسان اس عظیم الشان اجروثواب کا تب ہی مستحق قرار پائے گا جب تمام موانع منتفی ہوں،یعنی کوئی ایسی رکاوٹ نہ ہو جو اس اجروثواب کے حصول کا راستہ روک دے،مثلاً: عقیدہ کی خرابی،توحید میں خلل،بدعت کا ارتکاب،فرائض مثلا:نماز،زکاۃ اور روزہ وغیرہ میں کوتاہی۔
یہ وہ موانع ہیں جن کی بناء پر اذکار کا اجر ضایع ہوجاتاہے،بقول شارحِ صحیح بخاری ابن بطال اذکار کا بیان کردہ اجر اہلِ کمال کو حاصل ہوتا ہے،حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس قول کی تائید فرمائی ہے۔ واللہ ولی التوفیق.
امربالمعروف و نہی عن المنکر
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺنے امربالمعروف یعنی نیکی کاحکم دینا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکناکو بھی صدقہ قراردیاہے۔
معروف سے مراد ہرنیکی اوربھلائی ہے،اسے معروف اس لئے کہا جاتا ہے کہ شریعتِ مطہرہ یا پھر فطرتِ سلیمہ اسے پہچانتی ہے،جس سے ثابت ہوا کہ جس عمل کو شریعت نہیں پہچانتی وہ نیکی نہیں ہوسکتا۔
منکر سے مراد ہربرائی ہے ،یا یوں کہہ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہر معصیت،منکرکہلاتی ہے،اسے منکر اس لئے کہا جاتا ہے کہ شریعت اور فطرت اس عمل کا انکار کرتی ہیں۔
دینِ اسلام میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو بڑا عظیم مقام حاصل ہے؛کیونکہ اس عظیم عمل کے ذریعے آپ دوسروں کی اصلاح کا بیڑااٹھاتے ہیں،دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے باز رہنے کی ترغیب دیتے ہیں،یہ عظیم الشان صدقہ ہے،بلکہ اس کی اہمیت مالی صدقہ سے زیادہ ہے۔
اسی لئے اللہ رب العزت نے امت محمدیہ علی صاحبھا الفُ الفِ تحیۃ کی خیریت وافضلیت،امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم وموقوف فرمائی ہے:[كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ] (آل عمران:۱۱۰)
ترجمہ:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔
کتاب وسنت کے نصوص سے امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے،بعض حالات میں فرض عین جبکہ بعض حالات میں فرض کفایہ۔
البتہ ہرشخص اپنی حدوداور طاقت ووسعت کے مطابق یہ فریضہ انجام دےگا،جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:
عن أَبی سَعِيدٍ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: (مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ).(صحیح مسلم،الرقم:۴۹)
یعنی:ابوسعیدخدریtسے مروی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :تم میں سے جوشخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کرےاور اگر ہاتھ سے تبدیل کرنے کی طاقت نہ ہو توزبان سے ،اور اگر زبان سے بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے براجانے،اور یہ کمزورترین ایمان ہے۔
اس حدیث نے استطاعت کی شرط عائد کی ہے،چنانچہ وہ شخص جسے اقتدار کی طاقت حاصل ہے وہ اپنے ہاتھ سے برائی کو ہٹائے ،اور جسے اقتدار کی طاقت میسر نہ ہو وہ زبان سے برائی سے ہٹانے کی کوشش کرے ،اور جوشخص یہ طاقت بھی نہ پاتاہووہ دل میں ضرور اس برائی کو براجانے،جوایمان کی آخری اسٹیج ہے،اس کے بعد ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں بچتا۔
امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا کام یکسرچھوڑدینا،اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دیتاہے،جبکہ دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں،اخروی مسئولیت اس کے علاوہ ہے۔والعیاذباللہ.
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی سے قضاءِ شہوت کو بھی صدقہ قراردیاہے،یہ صدقہ بعض صورتوں میں واجب ہےورنہ مستحب ہے،وجوب کی شکل یہ ہے کہ ایک شخص کو اپنی بیوی سے حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنے میں زنا کاخوف ہوتوپھر وجوب کاحکم ہے،ورنہ مستحب ہے، بہرحال اس عمل کو صدقہ قراردیاگیا ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مرد کی طرح عورت کے اندر بھی شہوت کا مادہ موجودہوتاہے،حقوقِ زوجیت ادا کرنے میں اسے تسکین حاصل ہوتی ہے،جو کہ اس پر ایک طرح کا صدقہ ہے۔
یہاں صحابہ کرام کو ایک اشکال محسوس ہوا،جس کا انہوں نے اظہار بھی کردیا:
’’یارسول اللہ! کیا (بذریعہ جماع)اپنی شہوت کی تسکین بھی باعثِ اجر ہے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے اس اشکال کو یہ فرماکر زائل کردیا:
’’اگر یہی تسکین حرام(یعنی زنا)سے حاصل کرے تو گناہ نہیں ہوگا؟پس حلال طریقہ سے انجام دینا یقیناً موجبِ اجرہوگا۔
اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام امورِ دین میں کسی بھی اشکال کے پیدا ہونے پر نبیuسے وضاحت طلب کرلیاکرتے تھے،تاکہ ان کیلئے اور بعد میں آنے والوں کیلئے عمل کی آسانی پیداہوجائے۔
اللہ رب العزت نے ان لوگوں کو سچامومن قراردیا ہے اور جنت الفردوس کی وراثت عطافرمائی ہے جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں :
[وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝۵ۙ اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ۝۶ۚ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ۝۷ۚ ] (المؤمنون:۵تا۷)
ترجمہ:جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ،بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں، جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں ۔
اس حدیث مبارک میں تمام مسلمانوں بالخصوص فقراء کے لئے تسلی، تشفی اور دلجوئی کا وافر سامان موجود ہے،چنانچہ اگرکوئی شخص مال وزر سے محروم ہے اور مالی صدقہ اداکرنے سے قاصر ہے تو اس کے لئے شریعت نےصدقہ دینے کے بہت سے مواقع پیداکردیے،ان مواقع سے زیادہ تر فقراء ہی مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں، چنانچہ اہل ثروت تو مال ودولت کمانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جبکہ فقراء کیلئے ذکراللہ اور امربالمعروف ونہی عن المنکر کافریضہ انجام دینے کیلئے خاصہ وقت ہوتا ہے۔(واللہ تعالیٰ ولی التوفیق)
(جاری ہے۔)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی حدیث نمبر 24 قسط 56

یقول الإمام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ فی باب تحریم الظلم: حدثنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن …

جواب دیجئے