Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » مسئلہ ختم نبوت

مسئلہ ختم نبوت

اعداد: فیصل یاسین،متعلم المعہد السلفیکراچی

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم[مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ ] (الاحزاب:۴۰)
وقال رسول اللہ ﷺ انہ سیکون من امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وأنا خاتم النیین ولانبی بعدی.(ابوداؤد)
مسلمانوں کا ایک غیر متزلزل اور متفق علیہ عقیدہ ہے’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ کے بعد اب تو نہ کوئی نیانبی آئے گا اور نہ ہی کوئی نیا رسول آئے گا اس پر قرآن کریم کی آیات بھی دلیل ہیں اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے فرامین بھی دلیل ہیں۔ اس عقیدہ کو مان لینے اور قبول کرلینے سے دین میں ہر قسم کے بگاڑ کارا ستہ خود بخود ختم ہوجاتا ہے کیونکہ جناب محمد ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا معنی یہ ہوا کہ دین مکمل ہوچکا ہے اور قیامت تک کے لئے یہی دین ہے جو جناب محمد ﷺ نے پیش کیا ہے، جس میں کسی کمی اور بیشی کا تصور تک نہیں ملتا۔ خاتم النبین ہونے کا یہ مفہوم اپنے مطلب میں بالکل واضح ہے کہ اب اللہ کی طرف سے دین کے حوالے سے نہ کوئی نئی بات آئیگی نہ کوئی تبدیلی واقع ہوگی اور نہ ہی کوئی کمی وبیشی رونماہوگی،دین میں بگاڑ کا دروازہ ختم نبوت کے ذریعے بند کردیاگیا ہے اور مسلمانوں کو ایک بہترین تصور دے دیا گیا ہےکہ اب تمہارے اِس دین میں کسی قسم کی کمی وبیشی کا امکان نہیں ہے۔ لیکن دین کے دشمن،ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کریں اور مسلمانوں کے دین میں بگاڑ پیداکریں۔ دین میں بگاڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، مثلاً:قرآنی آیات کا غلط معنی بتانا، حدیث کی غلط توضیح کرنا، حدیثوں میںمن گھڑت احادیث داخل کرنا۔ بدقسمتی سے اُمت میں یہ سب کچھ ہوتاہوانظر آرہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی گمراہ ہوئے چاہے وہ کسی بھی بنیاد پر گمراہ ہوئے انہوں نے اپنی گمراہی کو ثابت کرنے کے کیلئے لازماً قرآن مجید میں تحریف کا راستہ اختیار کیا، اِسی طرح انہوں نے احادیث میں بھی من پسند تاویلات کااور تحریفات کا دروازہ کھولا۔ لیکن ان سب سے بُر اراستہ اور دین میں بگاڑ کا خطرناک ترین اقدام جھوٹی نبوت کا دعویٰ اور اعلان ہے ،نبوت کے اعلان کے بعدجھوٹا مدعی نبوت جو دل میں آئے وہ کرلے۔ کیونکہ وہ بزعم خود نبی ہے اور نبی کا تعلق اللہ سےہوتا ہے اور نبی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتا، لہذا نبوت کے دعوی کے بعد وہ جو کچھ چاہے کرتارہے اور کہتار ہے ، اور وہ تعلیمات وہدایات جو پہلے سے دین میں موجود ہیں وہ اِن میں سے جسے چاہے منسوخ کردے اور جس طرح چاہے تبدیلی کردے ،لیکن اس سب کے باوجود اس کو ماننے والوں کو اِس کے ان تصرفات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ثابت ہوا کہ جھوٹی نبوت دین میں بگاڑ کا اور مسلمانوں میں انتشار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،اور ان جھوٹے مدعیان نبوت کا ہردور میں یہی کردار رہا ہے۔ دورِ حاضر میں عام طور پر جھوٹی نبوتیں اِسی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئیں بالخصوص ہمارا واسطہ جس جھوٹی نبوت سے پڑا ہے وہ ہے، ’’مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا دعوی نبوت‘‘ اِس ملعون کے دعویٰ نبوت سے پاک وہند کی اکثریت کو واسطہ ہے ،آپ دیکھیں! کہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلمانوں کے دین کوبگاڑنے کی کوشش کی گئی اور یہ باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ہوا۔ مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتاہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون انگریزوں کاپروردہ ہے، اور انہی کا آلہ کار ہے ان لوگوں نے اس علاقے میں اپنا تسلط قائم کرنے اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنیکی کوشش کی۔ بالخصوص پاک وہند کے مسلمانوں کے اندر انگریزوں کے خلاف جو بیداری پیدا ہوئی تھی اوران کے خلاف جو تحریک جہاد اٹھی تھی اسے دبانے کے لئے ہی یہ کھیل کھیلاگیا،ہمیشہ سے جھوٹی نبوتیں انہی اغراض ومقاصد کے تحت معرض وجود میں آتی ہیں ،یقینا اللہ تعالیٰ نے اس امت پر بہت بڑا احسان کیا اور امت محمدیہ کو ایک بڑی آزمائش سے بچالیا،ختم نبوت کے مضبوط ومستحکم عقیدہ کے ذریعے سے ہم بہت بڑی آزمائش سے بچ چکے ہیں۔اب اگر کوئی شخص خود اپنی ذات کے لئے یا کسی دوسرے کے لئے نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو ہم بلاکسی شک اور تذبذب کے پوری قوت کےساتھ اس کذاب اور ملعون کو یہ کہہ سکتےہیں کہ تو جھوٹا ہے، توجھوٹا ہے ،توجھوٹا ہے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ سے پہلے یہ بہت بڑی آزمائش تھی کیونکہ ان سے پہلے نبی آسکتے تھےاب اگر اس زمانہ میں کوئی نبوت کا جھوٹا دعویدار آجاتا اور وہ نبوت کا اعلان کرتا اور معجزات کے نام پر شعبدہ بازی اور جادووغیرہ کے کچھ کرتب بھی دکھادیتا تو دیکھیں!اِ س میں اس زمانے کے لوگوں کیلئے کتنی بڑی آزمائش واقع ہوسکتی تھی اس لئے کہ یہ ایمان اور کفر کامعاملہ ہے، لیکن اے امت محمد ﷺ تم پر اللہ کااحسان ہے اور انعام ہے کہ تم اس بہت بڑی آزمائش سے بچ چکے ہواس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور نبی اکرم ﷺ نے اپنے فرامین کے ذریعے اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔ اور صاف صاف اعلان کردیا ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی اور نبی اور رسول نہیں آئیگا۔ قیامت تک کے لئے یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ میں نے جیسے عرض کیا کہ دین میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ،دین میں بگاڑ ہورہا تھا،ایمان خراب کیاجارہا تھا،لیکن شیطان مطمئن نہیں تھا جو دشمن ہوتا ہے وہ مطمئن نہیں ہوتا اپنے مقابل کو نقصان ضرور پہنچاتا ہے زیادہ سے زیادہ اور بڑے سے بڑا نقصان پہنچاتاہے۔ ہمارا دشمن شیطان اور اس کے چیلے عالم کفر بالخصوص یہود ونصاریٰ،ان کی تو کوشش ہی یہی ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
[ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ](البقرہ:۱۰۹)
کہ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ اے مسلمانو! تمہیں یہودی بنادیں عیسائی بنادیں اگر بالفرض وہ بعض مسلمانوں کو یہودی اورعیسائی بنا بھی ڈالیں تو شاید پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہوسکتے ۔چنانچہ ان کی کوششوں سے یہ جھوٹی نبوت معرض وجود میں آئی ۔اس کے ذریعے سے ایک تو انہوں نے(۱) تحریک جہاد کو دبانے کی کوشش کی ۔(۲)مسلمانوں میں انتشار پیدا کیا کہ مسلمان آپس میں ایک نئے فتنے میں الجھ گئے ۔(۳) اس جھوٹے مدعی نبوت کے ذریعے دین میں بگاڑ کی کوشش کی گئی۔ دین کی تعلیمات میں تغیر اور ردوبدل پیدا کرکے رکھ دیا۔ اندازہ کریں کہ ختم نبوت کا عقیدہ کتنا واضح اور دوٹوک عقیدہ ہے جس پر پوری امتِ مسلمہ کا قابلِ فخر اتفاق ہے اس کے باوجود بھی پتا نہیں لوگ ان فتنوں کا کیوں شکار ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا علم اورعلماء سے مضبوط تعلق نہیں ۔
یہ ایک بنیادی سبب ہے بگاڑ کا،آج یہ بگاڑ شرک وکفر کی صورت میں موجود ہے اور لوگ اس میں مبتلا بھی ہوچکے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ایک عالم دین موجود ہے لیکن لوگ ایک جھوٹے شخص کی چکنی چپڑی ،بے بنیاد اور جھوٹی باتوں میں آکر اِس کے فریب کا شکار ہوجاتے ہیں اس کے مد مقابل لوگوں کو اپنے اندر موجود دین کے بڑے اور متفق علیہ عالم کی طرف رجوع کرنے کی توفیق ہی نہیں ہے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے ایک سزا ہے ،اور عذاب ہے ۔عرض یہ کررہا ہوں کہ ختم نبوت کے عقیدہ کے ذریعے سے نہ صرف امت کو بہت بڑے انتشار سے بچالیاگیا بلکہ دین کو بھی بہت بڑے بگاڑ سے بچالیا گیا ہے۔
کچھ نصوص آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ یہ عقیدہ ختم نبوت پوری قوت کے ساتھ اور انتہائی ٹھوس طریقے سے ذہنوںمیں بیٹھ جائے۔
آپ ’’ختم نبوت‘‘ کے دلائل یقینا کسی نہ کسی ،پیرائے میں سنتے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی مناسبت اور کسی نہ کسی پہلو سے آپ کوان سے آگہی ہوتی رہتی ہے لیکن آج خصوصی طور پر اسی پہلو سے ان نصوص کو بیان کرتا ہوں، سب سے پہلے قرآن مجید کی یہ آیت جو اس سلسلہ میں نص صریح کا درجہ رکھتی ہے ۔اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
[مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ ](الاحزاب:۴۰)
اے لوگو! محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں۔
’’خاتم‘‘ مہر کو کہتے ہیں اور مہرآخری عمل ہی کو کہا جاتاہے، یعنی آپ پر نبوت ورسالت کا خاتمہ کردیاگیا، آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا ،وہ نبی نہیں کذاب ودجال ہوگا۔ احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیاگیا ہے اور اس پر پوری امت کا اجماع واتفاق ہے۔ قیامت کے قریب سیدنا عیسیٰuکا نزول ہوگاجوصحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے بلکہ نبی ﷺ کےامتی بن کر آئیں گے ،اس لیے ان کانزول عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ متنبّی قادیان کے پیروکار،اسی آیت سے جو ختم نبوت کے مفہوم میں واضح ہے، اجرائے نبوت کا مفہوم کشید کرکے مرزاغلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کااثبات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ڈاک خانے سےمہر لگ لگ کر خطوط جاری ہوتے ہیں، اسی طرح نبی ﷺ کی مہر سے نبوت عطا ہوتی ہے، آپ کی مہر کے بغیر کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ اول تو یہ معنی عربی زبان ولغت کےخلاف ہے۔ عربی لغت میں ختم یا خاتم کالفظ آخری عمل کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ ختم الشیٔ کا مطلب چیز پر مہرلگانا نہیں بلکہ شے کابالکل خاتمہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کی مہر کا کیا مطلب ۔وہ آخر کس طرح لگے گی۔ اور جس شخص پر لگے گی ،اس کا پتہ کس طرح چلے گا۔جب تک ان دوباتوں کی وضاحت نہیں ہوتی، یہ مفہوم بالکل بے معنی ہے۔ اس طرح ہر شخص نبوت کا دعویٰ کرسکتا ہے اور کرسکے گا ،اس کے دعوے کو جانچنے پرکھنے کےلیے کوئی معیار اور کسوٹی نہیں ہوگی۔ ایک بات وہ یہ کہتے ہیں کہ’’ خاتم النبین‘‘،ختم نبوت کے لیے نص نہیںہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بڑے محدث کو خاتم المحدثین، بڑے شاعر کو خاتم الشعراء ،وغیرہ کہا جاتا ہے جبکہ ہم دیکھتےہیں کہ اس کے بعد بھی محدثین اور شعراء پیدا ہورہے ہیں لیکن وہ مثال دیتے ہوئےیہ بھول جاتےہیں کہ یہ ایک قول اللہ کا ہے جو عالم ما کان ومایکون ہے، اس نے پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین کہا ہے اور ایک انسانوں کاقول ہے جنہیں مستقبل کا کوئی علم نہیں۔ وہ اپنے بالکل ناقص اور نہایت محدود علم کے مطابق ایک بڑےمحدث یا ایک بڑے شاعر کی بابت اس رائے کااظہار کرتے ہیں کہ اس جیسا محدث یا شاعر آئندہ پیدا نہیں ہوگا۔ تو کیا واقعی ایسا ہوتا ہے یا ایسا ہی ہوگا۔ظاہر بات ہے کہ انسان کی رائے غلط بھی ہوسکتی ہے ،خاص طور پر مشیت الٰہی کے بارے میں رائے زنی کے تو وہ قطعامجاز ہی نہیں ہیں، اس لیے انسانوں کے کلام کو محض خوش گمانی یا خوش فہمی یا زیادہ سے زیادہ عقیدت ومحبت یا غلو عقیدت یامجاز ہی قرار دیاجائے گا۔اسے اللہ کےفرمان سے کسی طرح بھی مشابہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔
یہاں میں ایک بات کہناچاہوں گا کہ جو آیت مسئلہ ختم نبوت کے تعلق سے امت مسلمہ کے تمام علماء کے ہاں متفق علیہ ہے آپ نے دیکھا کہ ان قادیانیوں نے اس کا کیامطلب لیا، ان کے مد مقابل اس آیت کا جو ہم معنی کرتے ہیں کہ آپﷺ آخری نبی ہیں بالکل یہ معنی نبی ﷺ کی احادیث سے واضح اور ثابت ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص اس آیت کا غلط مفہوم یا غلط معنی اختیار کرلیتا ہے تو وہ یقینا احادیث کے اندر بیان کردہ معانی کا رد کرتا ہے ،پھر یہ حدیث قرآن کے ساتھ ہے اگر حدیث کو قرآن سے الگ کردوگے تو جس طرح ان لوگوں نے غلط استدلال کیا اسی طرح دوسرے جاہل لوگ بھی ہر آیت کا غلط معنی اور مفہوم لیتے رہیں گے، اگر گمراہی کے دروازوں کو بند کرنا ہے تووہ صرف اور صرف صحیح احادیث کے ذریعے سےہی بند ہونگے، دورِ حاضر میںیہ حدیث کا تمسخراور مذاق کابڑھتا ہوارجحان بھی دین میں بگاڑ پیداکرنیکی غرض سے اور مسلمانوں میں انتشار پیداکرنے کے لئے ہے،یقینا یہ فتنہ بھی مستشرقین کی طرف سے آیا ہے آج منکرین حدیث جتنے بھی ہیں یہ یورپین لوگوں کی کتابوں (جوانہوں نے ہمارے دین کے متعلق لکھیں ہیں) کامطالعہ کرکے ہی منکرین حدیث بنے ہیں ان کی سازشوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو حدیث سے دور کردو اور ان کو قرآن کاغلط معنی بیان کرنے پرمجبور کردو۔
اب آئیں احادیث کی طرف، سب سے بڑی واضح حدیث
(۱)صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے ،آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ ” مَثَلِي وَمَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ "(صحیح بخاری،الرقم:۳۵۳۵)
لوگو!میری مثال اور باقی انبیاء کرام کی مثال ،یعنی میری دیگر انبیاء کرام کے ساتھ مثال اس طرح ہے کہ ایک خوب صورت محل بنایا گیا، بڑا ہی عالی شان محل لیکن اس محل میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے،لوگ آتے ہیں اور اس محل کو دیکھتےہیں اور اس محل کی خوب صورتی کی تعریف کرتے ہیں لیکن جب اس اینٹ کے برابرخالی جگہ پر آتے اور دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ کمی ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ وہ جوخالی جگہ تھی وہاں آکر میں فٹ ہوگیاہوں یعنی اس محل میں ایک اینٹ کی وجہ سے جو کمی تھی وہ میرے ذریعے اب پوری ہوگئی ہے اب نبوت اور رسالت کا محل مکمل ہوچکا ہے۔
پھرآپﷺ نے فرمایا:
ختم بی النبیون ختم بی المرسلون.
میرے ذریعے نبوتیں ختم کردی گئیں اور رسالتیں بھی ختم کردی گئیں،لہذا میں آخری نبی اور آخری رسول ہوں۔
(۲)یہ حدیث بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے ،آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّ لِي أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ.(صحیح مسلم،الرقم:۱۸۲۸)
میرے بہت سارے نام ہیں ایک نام محمد،ایک نام احمد،ایک نام ہے مٹانے والااللہ نے میر ے ذریعے کفر کومٹایا، اور میں حاشر بھی ہوں اور کل قیامت کے دن سب سے پہلے میں اٹھایاجاؤنگا ،میرا ایک نام عاقب ہے اور عاقب کامعنی خود آپﷺ نے بیان فرمایا:جس کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔
ایک اور حدیث یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے ،آپﷺ نے فرمایا:
مجھے دیگر انبیاء کرام پر چھ خصوصیتوں کے ذریعے فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم عطاکیے گئے ہیں،مجھے رعب اور دبدبہ دیا گیا ہے میرے لئے مالِ غنیمت حلال کیاگیا ہے اور میرے لئے زمین کو پاک اورمقام سجدہ بنادیاگیا ہے یعنی جہاں نماز کا وقت ہوجائے ،نماز پڑھ لواور اگر پانی نہیں ہے تو تیمم کرلواورمجھے تمام لوگوںکی طرف رسول بنا کر مبعوث کیاگیا ہے اور آخری بات
’’وختم بی النبیون‘‘
اورمیرےذریعے سلسلہ نبوت ختم کردیاگیا ہے۔
اور اس حوالے سے ایک اور حدیث جو ابوداؤد میں مذکور ہے، اس کی اصل صحیح مسلم میں ہےجس کی طرف ہم نے شروع میں اشارہ کیا تھا کہ آپﷺ نے فرمایا:
انہ سیکون من امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وأنا خاتم النیین ولانبی بعدی.
(ابوداؤد)
میری امت میں میرے بعد 30جھوٹےآئیں گے ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
قرآن کی آیت میں’’خاتم النبین‘‘ کے لفظ کے مطلب ومفہوم کو احادیث نے بالکل واضح کردیا اورکچھ بدچلن لوگ اس کاجودوسرا معنی مراد لے رہےہیں ان کا بھی رد کردیا ہے اور آپﷺ کے خاتم النبین ہونے کے عظیم الشان عقیدہ کوواضح طور پر بیان کردیا ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ ختم نبوت کامقصد یہی ہے کہ جودین اور شریعت محمد ﷺ نے پیش کیا ہے وہ دین آخری ہے اور اب اس میں مزید کوئی بھی بات وغیرہ داخل نہیں کی جاسکتی اور جہاں تک رہا’’دعویٰ نبوت ‘‘کا معاملہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا دعویٰ کرنے کی جرأت بہت ہی کم لوگ کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ملتی جلتی یہ بیماری مسلمانوں میں بہت پھیل رہی ہے کہ وہ اپنے کسی امام کسی بزرگ یا اپنے کسی بڑے کے بارہ میں دعویٰ نبوت تو نہیں کرتے لیکن ان کو نبوت کے مقام تک پہنچادیتے ہیں ،انہیں نبوت کےمقام پر بٹھادیتے ہیں،پھر کیافرق رہا؟
انہوں نے کھلے عام نبوت کا اعلان کیا اور تم نے اپنے بزرگوں اور بڑوں کو کھلے عام نبوت کے اوصاف دے ڈالے۔کچھ ظالم لوگ اپنے ا ئمہ کے متعلق نبوت کااعلان تونہیں کرتے لیکن باتیں ایسی کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔کچھ لوگوں کے ہاں مسئلہ امامت اور ولایت ہےکیا آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے نزدیک مسئلہ امامت اور ولایت کی تشریح کیا ہے؟ ان کے نزدیک وقت کا امام معصوم اور مامور من اللہ ہوتا ہے یعنی اسے اللہ کی طرف سےہدایات ملتی ہیں اوراس سے غلطی نہیں ہوسکتی اس سے خطاء نہیں ہوسکتی،اور اس کا تعلق اللہ سے براہ راست ہوتا ہے لہذا اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے دین میں کمی وزیادتی کرتا رہے۔مسلمانو! اس عقیدہ کی رو سے ان لوگوں نے اپنے امامِ وقت کو نبی نہیں بنایاہے تو پھر اور کیاوصف دیا ہے؟یہ ائمہ بھی دینی بزرگ ہیں وہ ان سب باتوں سے بری ہیں جو ان کی طرف منسوب کی جاتی ہے سچ تو یہ ہے کہ سب کچھ ان کی طرف جھوٹ منسوب کیا گیا ہے ،ان کا ان خرافات سے کوئی تعلق نہیںوہ ہمارے ہاں قابل احترام ہیں قابل عزت ہیں اس جھوٹ اورخرافات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے اپنے معتقدین سے کبھی یہ تقاضا نہیں کیا کہ انہیں نبوت کے مقام تک بٹھایا جائے۔اب آپ موازنہ کرکے دیکھیں ان دونوں کے مابین بس اتنا سا فرق ہے کہ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان لیا اور انہوں نے اپنے اماموں کو کھلےلفظوں میں نبی تونہیں کہالیکن انہیں مقام نبوت ورسالت ضرور دے دیا ہے،انہیں یہ مقام دے کر جو بات مرضی آتی ہے وہ ان کی طرف سونپ دی جاتی ہے اس کو دین بنالیا جاتا ہے اس طرح دین کوبگاڑاجارہا ہے قادیانیوں کے ملعون ترین پروپیگنڈے کوضرور واضح کرنا چاہئے اورواضح کرنا چاہئےکہ ان کی غلط تاویلات کے ذریعے سے دین میں بگاڑ پیداہوا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ’’امامت وولایت‘‘ کے باطل معنی ومطالب کا بھی توڑ کرنا چاہئے۔ پھر کچھ افراد میں جن کو ہمارے ہاں صوفی سمجھاجاتا ہے ان کا حال جانتے ہیں؟ان کے ہاں توبڑوں بڑوں کے یہ دعوے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سےبراہ راست کلام کرتا ہے لہذاہمیں تمہارے اس دین کی ضرورت نہیں ہے اندازہ کریں کہ کیا یہ دعویٔ نبوت نہیں ہے؟؟؟
اس کی سرکوبی کون کرے گا؟ اس کارد کون کرے گا؟ تصوف کے نام پر بالکل نئے دین ایجاد کیے بیٹھے ہیں۔آج ختم نبوت کے نام پر یہ لوگ بہت باتیں کرتےہیں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر خود ختم نبوت پرڈاکہ مارتے ہیں اپنے ائمہ اور اپنے اکابر کو نبوت کے مقام پر فائز کرکے یہ لوگ ان باتوں پر سے اور اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالتےہیں لیکن جب بھی ان کی طرف سے یہ کھوکھلے نعرے آئیں گے ہم بتائیں گے کہ ختم نبوت پر یہ بھی ڈاکہ ڈالتے ہیں۔پھرملک کے اندر وبا کی طرح پھیل جانے والی قبر پرستی نے کیادین کو کم بگاڑاہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہورہاہے اور کسی شخصیت کو رسول کے مقام پر کیوں بٹھا دیا جا تا ہے؟ہمیں تو ان کے انداز میںاتنا فرق نظر آتا ہے کہ کسی نے خود اعلان نبوت کرلیا اور کچھ نے اپنے ائمہ کو مقام نبوت پر فائز کردیا۔ہمارے ہاں یہ آغاخانی اور بوہری موجود ہیں ان کے جو بڑے ہیں کیا ان لوگوں نے ان کو نبوت کے مقام پر نہیں بٹھادیا؟ جن کو معصوم سمجھاجاتا ہے اور انہیں دین میں ردوبدل کا اختیار دیاجاتاہے۔اور عام مسلمان جو تقلید جامد کا شکار ہیں کا طرز عمل بھی اسی بات کا غماز ہے۔ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا ،مگر ختم نبوت کے ذریعے جو اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت کااہتمام کیا اور دین کوبگاڑ سے بچایا آج وہ دین محفوظ نہیں ہے ،دین میں بگاڑ ہے، انتشار ہے کہیں بڑے پیمانے پر اور کہیں چھوٹے پیمانے پر کسی نے خود مقام نبوت پر اپنے آپ کو بٹھایااورلوگوں نے اس کو عام کیا اور کسی نے خود کو تو نہیں بٹھایا لیکن لوگوں نے ان کوبٹھادیا،اس کی مثال ائمہ اربعہ ہیں جنہوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا نبی ہونے کا اور نہ ہی کسی کوحکم دیا، لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان کے ماننے والے ان کی ہر بات کو دین سمجھتے ہیں، کیا ان کو ’’معصوم‘‘ نہیں سمجھتے؟ پھر آخر کیا فرق باقی رہ جاتا ہے دیگر گمراہ لوگوں کا اور ہمارے ان سنی حضرات کا؟ کیا یہ نبوت کے مقام تک بٹھانا نہیں ہے کیا ان سے غلطی نہیں ہوسکتی اور کیا یہ معصوم ہیں؟بلکہ ان کی بات کورسول اللہ ﷺ پر پیش کیاجائے گا ۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ اہل حدیث ہرد ور میں ہی ان جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیںمرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کا پہلا فتویٰ جماعت اہل حدیث کےایک عظیم سپوت مولانا محمد حسین بٹالویaنے دیا اور پھر دیگر علماء سے تصدیق کراکر اس وقت ملک کے طور وعرض میں پھیلادیااور لوگوں کو اس فتنہ سے آگاہ کیا ،مرزا غلام احمد قادیانی سے سب سے زیادہ مناظرے اہل حدیث کے ایک سپوت مناظراسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری نے کیے،حتی کہ انہیں مناظراسلام اور فاتح قادیان جیسے القاب سے نوازاگیا یہاں تک کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری aنے مرزا سے مباہلہ کیا اور اسی مباہلہ کے نتیجہ میں ہی وہ مولانا ثناءاللہ امرتسری کی زندگی میں ذلت آمیز موت کا شکارہوا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کی موت کے چالیس سال بعد تک زندہ رہے اور خوب خوب قادیانی فتنہ کی سرکوبی کرتےرہے پھر قادیانیوں کے رد میں اہل حدیث کےایک اور سپوت علامہ احسان الٰہی ظہیرa نے ایک مفصل کتاب ’’القادیانیہ‘‘ لکھی، اور عرب ممالک کو اس فتنہ سے آگاہ کیا اور خود ہی اس کا اردو ترجمہ کرکے اسے شایع کیا اوراس طرح پاک وہند کے اردوخواں طبقے کوبھی اس فتنہ سے آگاہ کیا۔
لیکن ہم کھوکھلے نعرے لگانے والے نہیں ہیں آج بھی ختم نبوت کے صحیح پاسبان ہم لوگ ہیں اس ختم نبوت کی چوکیداری کرنے والے بھی ہم لوگ ہیں ۔
لوگو!اللہ کے رسول سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبین ہیں۔ لہذا اب دین اللہ کے رسول ﷺسے لینا ہے اور یہی دین ہی منزل من اللہ ہے اور ختم نبوت پر ایمان کے جوتقاضے ہیں ان کو پوراکریں ،اب تا قیامت اللہ کے رسول محمد(ﷺ)ہی اتھارٹی ہیں ان کے علاوہ کوئی اور شخصیت اتھارٹی کی حیثیت نہیں رکھتی، اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطافرمائے۔

About شیخ داؤد شاکر

Check Also

آئینہ کتب

الشیخ محمد داؤدشاکر، نائب مدیر المعہد السلفی کراچی نام کتاب توحید(حقیقت،ثمرات وفوائد)اورشرکیہ امورکابیان تالیف فضیلۃ …

جواب دیجئے