Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمن لکھوی

شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمن لکھوی

یہ انٹرویو بروز اتوار 12مئی 2017 ء کو شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ سے محمد آصف فاروق نے معہد القرآن الکریم کی مسجد میں لیا۔آپ کا شمار اہل حدیثوں کے کبار علماء میںہوتا ہے،آپ معہدالقرآن الکریم کے بانی ہیں اور مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں 20 سال کلیہ کے استاد رہے ہیں اور اب معہد القرآن الکریم کے رئیس وشیخ الحدیث ہیں ۔

سوال : آپ اپنا نسب بیان کریں ؟
جواب :خلیل الرحمن بن حبیب الرحمن بن عطاء اللہ بن عبدالقادر ۔
میرے والدصاحب کے تین بھائی تھے اور تینوں ہی عالم تھے اور دو بہنیںتھیں۔بھائی 1مولاناعبدالرحمن لکھوی 2مولانا شفیق الرحمن لکھوی 3مولانا حافظ عزیزالرحمن لکھوی۔
میرے والد صاحب عالم دین تھے۔
میرے والد صاحب اورمیرے دونوں چچا مولانا حافظ شفیق الرحمن لکھوی اورمولاناحافظ عزیزالرحمن نے ساری زندگی ’’جامعہ محمدیہ ‘‘اوکاڑہ اور ’’جامعہ ابوہریرہ‘‘میںپڑھایااور انہی مدارس میں تدریس فرماتے ہوئے اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے اللھم اغفرلھم، وارحمھم. اور میرے تایا ابو مولانا عبدالرحمن لکھوی رحمہ اللہ نے جامعہ دارالحدیث محمدیہ ملتان میں پڑھایاآپ فنون کے بڑے ماہر تھے آپ نے دیوبندیوں کے مدارس ’’خیرالمدارس‘‘اور ’’قاسم العلوم ‘‘میں بھی تدریس فرمائی ۔
میرے والد صاحب نے 1973ء کو لاہور میں وفات پائی ۔
مولانامحی الدین لکھوی رحمہ اللہ میرے والد صاحب کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور مولانامعین الدین لکھوی رحمہ اللہ میرے پھوپھا تھے۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے بانی میرے دادا مولانا عطاء اللہ لکھوی رحمہ اللہ ہیں۔میرے دو بھائی اور دوبہنیںہیں۔بھائی مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ اور ڈاکٹر مجیب الرحمن لکھوی رحمہ اللہ ہیں۔
مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ اہل حدیثوں کے عظیم عالم دین مولانامحمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے ہیںاور اس وقت آپ لاہور شہر میں جامعہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کے نام سے ادارہ قائم کرکے چلارہے ہیں آپ مجھ سے بارہ سال بڑے ہیں اور میرے استاد بھی ہیں اور آپ کا شمار لکھوی خاندان کے اکابر علماء میں ہوتاہے ۔اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اور شریروں کے شر سے بچائے آمین
سوال :آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟
جواب : میری پیدائش 1/11/1955کی ہے۔
سوال :آپ کی دنیاوی تعلیم کیا ہے؟
جواب : میں نے اپنی اسکول کی تعلیم اپنے گائوں چک نمبر18-1-Lضلع اوکاڑہ میں حاصل کی ہے،پرائمری تک یہاں پڑھا پھر میٹر ک کے لئے گورنمنٹ ہائی اسکول دینالہ خوردگیایہ بھی اوکاڑہ میں ہی ہے۔
سوال :آپ نے دینی تعلیم کہاں سے اور کن کن اساتذہ سے حاصل کی ؟
جواب : 1971ء کی بات ہے کہ میں مزید دیناوی تعلیم حاصل کرناچاہتا تھااور والد صاحب کا بھی یہی کہنا تھاکہ تو دیناوی تعلیم حاصل کر کیونکہ تو خاموش بہت رہتا ہے تو مولوی نہ بن کیونکہ مولوی تو ہوشیار اورچالاک ہوتا ہے تیرے اندر یہ چیزیں نہیںہیں۔آگے تعلیم جاری رکھنے کے لئے شناختی کارڈ کی ضرورت تھی تو شناختی کارڈ بننے چلاگیا لیکن بیچ کے دن فارغ ہونے کی وجہ سے میں نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں داخلہ لے لیا تو یہاں میں نے محدث العصر عامل بالحدیث استاذالعلماء والمحققین مولانا حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ سے نسائی اور شرح نخبۃ الفکر پڑھی اور مفسر قرآن مولانا عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ سے ابن ماجہ پڑھی اور استاذ الاساتذہ مولانا عبدالحمید ہزاروی رحمہ اللہ سے بلوغ المرام، نحو میر ،صرف میر ،ھدایۃ النحو پڑھی اور دیوبندی استاذ مولاناجمعہ خان سے تہذیب منطق پڑھی اورمشکوٰۃ بھی یہیںکسی استاذ سے پڑھی اور مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ سے ابواب الصرف ، علم الصیغہ پڑھی۔
پھر 1975ء میں جامع مسجد چینیانوالی لاہورچلاگیا اس میں شہید اسلام امام العصر علامہ احسان الہٰی ظہیررحمہ اللہ کا ادارہ تھا تو یہاں میں نے مولانا عبداللہ عفیف سے نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر پڑھی اور مولانا حافظ عبداللہ بھٹوی سے ترمذی پڑھی اور مولانا محمد اسحاق صاحب سے تلخیص المفتاح پڑھی اس ادارہ میںایک سال پڑھاتھاکہ میر اداخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میںہوگیا ۔
مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا قصہ یوںہے کہ محدث العصر حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ جو میں نے پڑھا وہ آپ لکھ دیں اور اپنی تصدیق بھی لکھ دیں میںاسے مدینہ یونیورسٹی میںداخلہ کے لئے بھیجوں گا اور شیخ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب لکھ کردینا ہے تو اسے مدرسہ کے لیٹر پیڈ پے لکھ دوں تو شیخ صاحب نے مدرسہ کے لیٹر پیڈ پے عربی میں لکھ دیا وہ جامعہ اسلامیہ بھیج دیا اور وہ قبول ہوگیا۔
1976ء میں میر اداخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہوگیا وہاں میں نے کلیۃ الحدیث میں داخلہ لیا وہاں میں نے :شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی،شیخ عبدالمحسن العباد، حمادانصاری ،ڈاکٹر اکرم العمری ،شیخ محمد امان جامی ،شیخ عبدالرئوف للبدی ، ڈاکٹر محمود میرا سے پڑھا ۔
اور نیل الاوطار ،شرح عقیدۃ الطحاویۃ ،شرح ابن عقیل ،تفسیر ابن کثیر،سیرۃ ابن ہشام ،منتخبات کتب ستہ ،تیسیرمصطلح الحدیث ،علم جرح والتعدیل ،الدفاع عن السنۃ ،تقریب التہذیب وغیر ہ یہ کتب میںنے وہاں پڑھیں ۔1980ء میں وہاں سے سند فراغت حاصل کی ۔
سوال : مدینہ منورہ کے طالب علمی دور میں آپ کی وہاں کن کن علماء سے ملاقات ہوئی ؟
جواب : محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ ، محدث الزماںمفتی اعظم سعودیہ علامہ عبدالعزیزبن عبداللہ ابن باز رحمہ اللہ ، محدث الوقت وفقیہ السعودیۃمحمد بن صالح العثمین رحمہ اللہ، ابو بکر جابر الجزائری ،شیخ عبدالقادر شیبۃالحمد،ابن سبیل وغیرہ سے ملاقات ہوئی او ر ان کے دروس سے بھی بہت استفادہ کیا اللہ تعالی ان کی قبروں کو جنت کا باغیچہ بنائے اور جو زندہ ہیں ان کو اپنے حفظ و امان میںرکھے ۔آمین
سوال : آپ نے کن کن مدارس میں پڑھایا اور کون کون سی کتب پڑھائی ہیں۔
جواب : 1980ء میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں مجھے مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے مدرس بنا کر بھیج دیا گیا یہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ابتدائی سال تھا اس جامعہ میں20سال پڑھایا یعنی 2000ء میں استعفٰی دیااس کے بعد جامعۃ الدراسات الاسلامیہ میں دو سال شیخ الحدیث رہا۔
2000ء سے اب تک اپنے مدرسہ معہد القرآن الکریم میں مدرس ہوں اور شیخ الحدیث کے بھی فرائض انجام دے رہا ہوں۔ صحیح بخاری ،صحیح مسلم،ابوداؤد ،ترمذی ،نسائی ،مشکوٰۃ،نیل الاوطار،شرح ابن عقیل ،ابن ماجہ ،تدریب الراوی وغیرہ کتب میں نے پڑھائی ہیں۔ جامعہ ابی بکر میں کلیہ کا استاذ مقرر ہواتھا آخر تک یہیں رہا اور اس دوران مدیر تعلیم بھی رہا۔
سوال : آپ اپنے معروف شاگردوں کے نام بتائیں؟
جواب : میرے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے وللہ الحمد علی ذلک اللھم زد علمھم وعملھم.ان میں سے عبد اللطیف ارشد رحمہ اللہ ،مولانا محمد افضل اثری ،محمد ابراہیم بھٹی ،مولانا طاہر باغ ،علامہ نور محمد ،ارشد وزیر آبادی ،محمد حسین لکھوی ،طاہر آصف ،سلیمان خان وغیر ھم
سوال : آپ نے اپنے ادارہ معہد القرآن الکریم کی بنیاد کس سن میں رکھی؟
جواب : 1985ء میںجامع مسجد بیت الرضوان میں پڑھائی کا سلسلہ شروع کیا تو پھر 1993ء میں معہد القرآن الکریم کی بنیاد رکھی اور حفظ وناظرہ کی کلاسیں شروع کیں۔2000ء میںدرسِ نظامی بھی شروع کردیا اور ابتداء سے انتہا ء تک پڑھایا بیچ میں کسی اور مدرسہ کے پڑھے ہوئے بچے کو نہیں لیا سوائے ایک یا دو کے اور یہاں الحمد للہ 125 طلبہ رہائشی ہیں اور اس میں مجھ سمیت 10اساتذہ پڑھارہے ہیں: دو حفظ کے قاری ،تین اسکول وناظرہ کے اور پانچ درسِ نظامی کے، تقریب بخاری میںدرس بخاری کے لئے ہم نے محدث العصر حافظ محمد شریف صاحب فیصل آبادی حفظہ اللہ کو دعوت دی تو شیخ صاحب نے ہماری دعوت کو قبول کیا اور تشریف لائے ۔اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے ۔آمین
سوال : درسِ بخاری کے لئے آپ کا جانا ہوتاہے ؟
جواب : جی ہاں۔
سوال : زیر مطالعہ کون کون سی کتب رکھنی چاہئیں؟
جواب : محدثین کی کتب کا مطالعہ کریں ،ان کی کتب کے ابواب میں ہی مسائل کو حل کردیا جاتاہے اس سے مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے اور حوالہ بھی یاد رہتا ہے ،اس لئے ان کی کتب کو ہمیشہ مطالعہ میں رکھنا چاہیے اور جو کتب فقہیہ مسائل پر ہیں وہ بھی پڑھیں علماء کو تو چاہیےکہ ہر کتاب پڑھیں جو بھی ہو جس موضوع پربھی ہو یعنی وہ کتاب اپنے حق میں ہو یا خلاف ہو وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو وہ مشکل ہو یا آسان ہو۔
سوال : آپ کی پاکستان میںکن کن علماء سے ملاقات ہوئی ہے؟
جواب : مولانا محمد محدث گوندلوی ،علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ، علامہ سید ابو قاسم محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا حافظ عبداللہ محدث بڈھیمالوی ،مولانا سلطان محمود محد ث جلالپوری ،مولاناعطاء اللہ حنیف محدث بھوجیانی ،محد ث العصر علامہ ارشادالحق الاثری فیصل آبادی،مولانا محمد یونس محدث دہلوی ،مولاناعبدالحکم دہلوی ،مولانا کرم الجلیلی،مولانا محمد سلیمان جوناگڑھی ،علامہ عبدالخالق رحمانی ،مولانا عبداللہ جھال والے سے میری ملاقات ہوئی اور ان سے استفادہ بھی کیا ۔
سوال : آپ خطباء کو کیا نصیحت فرمائیں گے؟
جواب : خطباءحضرات کو چاہیے کہ وہ رطب ویابس سے بچیںیعنی ضعیف و موضوع روایا ت نہ بیان کریں اگرچہ فضائل میں ہی کیوں نہ ہوں یعنی فضائل میں بھی صرف صحیح روایات بیان کریں کسی چیز کی فضیلت کےلئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ کام رسول ﷺ نے کیاہے ،اس کام کی فضیلت میں خوامخواہ ضعیف و موضوع روایات بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سوال : دعوت و تبلیغ کے حوالے سے اپنے متعلق بتائیں؟
جواب : سال سے جامع مسجد ایک منارہ بہادرآباد کراچی میں جمعہ پڑھارہاہوں،میںجمعہ وغیرہ بغیر تیاری کے نہیں پڑھاتا اور جو تیاری کرتاہوں وہ ڈائری پر لکھ لیتاہوں اوریہ لکھنے کی وجہ سے میری بہت سی ڈائریاں تیار ہوچکی ہیںاور بساوقت ہمارے اس ادارے کے اساتذہ بھی میری ڈائریوںسے تیاری کرتے ہیں(اس دوران شیخ صاحب نے ڈیسک پر پڑی ڈائریوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا)ان میں سے چارپانچ یہ پڑی ہیں۔
ایک بار میں نے جلسہ میں تقریر کی تو اس جلسہ میں ایک معروف عالم وخطیب بھی بیٹھے تھے اس جلسہ کے دوسرے یا تیسرےدن وہ میرے پاس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں آئےاور مجھ سے کہنے لگے کہ شیخ صاحب وہ جو آپ نے تقریر کی تھی وہ مواد مجھے دے دیں،تو میں نے ان سے کہا:آپ مذاق نہ کریں،تو اس نے کہا کہ میں مذاق نہیں کررہا بلکہ سچ میں کہہ رہا ہوںکیونکہ وہ آپ کی تو ایک تقریر تھی میرے یہ چار پانچ جمعہ ہیں۔
اسی طرح ایک جگہ جلسہ میں تقریر کی اور جب جارہاتھا تو ایک شخص نے آکر میرا ہاتھ تھام لیااورمجھ سے کہاکہ آپ جمعہ کہاں پڑھاتے ہیں تومیں نے کہا ایک منارہ مسجد بہادرآباد تو اس نے کہا آج کے بعد آپ کےپیچھے جمعہ پڑھاکروںگا اور کہا کہ میںاس جلسہ میں کافی دیر سے بیٹھا ہوں کسی نے نصوص کی طرف توجہ ہی نہیں کی بلکہ جو بھی خطیب آیا وہ اپنی جماعت کے (یہاں شیخ صاحب نے اس جماعت کی طرف اشارہ کیا تھالیکن اس اشارہ کو ذکرکرنے سے منع کردیا تھا)کارنامے بیان کرتا رہا تو آپ نے تقریر جب شروع کی تو مجھے محسوس ہوا کہ آپ نصوص بیان کریں گے تو آپ نے ایسے ہی کیا اس لئے اب جمعہ آپ کے پیچھے پڑھاکروں گا۔
سوال : آپ کی تصانیف کون کون سی ہیں؟
جواب : 1احسن البدایۃ فی اصول الروایۃ یہ کتاب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے نصاب میں ہے 2سفر کے آداب واحکام 3قرض کے آداب و احکام 4تخریج حجۃاللہ البالغۃ یہ میرا پی، ایچ، ڈی کا رسالہ ہے 5 میرے خطبات جو ڈائریوں کی صورت میں ہیں۔
سوال : آپ نے کتنے حج وعمرے کیے ؟
جواب : میں نے عمرے تو شمار نہیںکتنے کیے ہیں لیکن حج صر ف پانچ کیے ہیں۔
سوال : آپ کا باہر کن کن ممالک میںجانا ہواہے ؟
جواب : سعودی عرب اور عر ب امارات جانا ہوا ہے۔

About آصف فاروق کمبوہ

Check Also

انٹرویو: الشیخ محمدداؤد شاکر۔قسط 1

سوال:اپنا نام وسلسلہ نسب بیان کریں؟ جواب:میرا نام محمد داؤد شاکر ہے اور میرا سلسلہ …

جواب دیجئے