Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 3

فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 3

معاصر علماء ،طلباء ومحققین کیلئے اسلاف کے اقوال، افعال اور قابل محبت آثار پیش خدمت ہیں

احادیث سننے اور سنانے میں کتب پر اعتماد کرنااور ازبر احادیث یاد نہ کرنا عیب وکراہت کی بات نہیں،دور سلف میں یہ عادت بھی معمول بہا تھی۔
یزید بن ھارون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ نے کوئی روایت سنائی پھر فرمایا:
فیکم احد سمعہ من حریز ابن عثمان؟ قلت: انا، قال حدثنی بہ، قلت:لا احفظہ ،قال صحفیون، فضحک یزید.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۶۴وسندہ صحیح)
کوئی ہے تم میں سے جس نے(یہ روایت) حریز بن عثمان سے سنی ہو؟ (یزید بن ھارون فرماتے ہیں)میں نےکہا: میں نے(سنی ہے) کہا:پھرسناؤ۔(یزید بن ھارون کہتے ہیں)میں نے کہا: مجھے یاد نہیں،(شعبہ نے) کہا: کتب سے بیان کرنیوالوں میں سے ہو۔(یہ سن کر)یزید ہنس پڑے۔
سلف صالحین ایمان کے بڑھنے گھٹنے کے قائل تھے
یحیی بن مغیرہa(المتوفی ۲۵۳ھ)فرماتے ہیں:
قرأت کتاب حماد بن زید الی جریر، بلغنی عنک تقول فی الایمان بالزیادۃ، وأھل الکوفۃ یقولون بغیر ذالک، اثبت علی ذالک ثبتک اللہ.(الجرح والتعدیل ۱؍۱۶۷وسندہ صحیح)
میں نے حماد بن زید کاو ہ خط پڑھا جو انہوں نے جریر(بن حازم) کی طرف لکھاتھا(اس میں لکھا تھا کہ اے جریر)آپ کے متعلق مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ایمان کے بڑھنے کی بات کرتے ہیں ،اور اہل کوفہ اس کے برعکس بات کرتےہیں۔(لہذا میں آپ کو وصیت کرتاہوں)اسی فہم پرڈٹے رہیں،(مزید اللہ پاک سے دعاکرتاہوں کہ) اللہ (پاک) آپ کو اس پر ثابت قدم رکھے۔
فائدہ: کوئی طالب علم یامعاصر جب گمراہ مخالفین کے مدمقابل محاذ پر کھڑاہو، اس وقت اس طالب علم کی ہمت افزائی کرنا، اس کو استقامت کی تبلیغ کرنا،اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعائیں کرناسلف کی عین مطابقت وموافقت ہے۔
اپنے شیوخ وعلماء کو عظمت وحشمت کاپروٹوکول دینا بھی دور سلف کی اداہے۔
عثمان بن عاصم بن صہیب aفرماتے ہیں:
رأیت سفیان الثوری بمکۃ اٰخذا بزمام ناقۃ الاوزاعی ،وھو یقول :کفوا عنا یامعشر الشباب ،حتی نسلل الشیخ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۸۶وسندہ صحیح الا لم یجد توثیق عثمان بن عاصم)
میں نے مکہ میں سفیان ثوری کو اوزاعی کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے دیکھا:لوگوں تب تک رُک جاؤجب تک ہم اپنے شیخ کو رخصت کردیں۔
تنبیہ: لیکن اس سے وہ معاشرتی پروٹوکول قطعامراد نہیں ہے جو خالصتاً تصنع ،ریاکاری، اور ہزاروں معاشرتی ناپاکیوں سے آلود ہے اس سے صرف وہ احترام واہتمام ہی مراد ہے جس میں خلوص ،محبت اور عاجزی کی چاشنی موجود ہو۔
معاصرین علماء وطلباء کو خوابوں کی تعبیر کا علم بھی رکھنا چاہئے کیونکہ اسلافِ امت اس میدان کے بھی شہسوار تھے۔
قبیصہ aکہتے ہیں:
قال رجل لسفیان: یا ابا عبداللہ رأیت کان ریحانۃ قلعت من الشام اراہ قال: فذھب بھا فی السماء قال سفیان :ان صدقت رؤیاک فقد مات الاوزاعی ،قال: فجاءہ نعی الاوزاعی فی ذالک الیوم سواء.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۸۸وسندہ صحیح)
ایک شخص نے سفیان کو کہا:اے ابوعبداللہ میں نے خواب دیکھا ہے :دیکھتاہوں کہ شام میں ایک پھول ٹوٹا ہے ،پھر وہ آسمان کی طرف لے جایا گیا ہے ،سفیان نے کہا: اگر آپ کا خواب درست ہے (تو پھر سمجھو کہ) البتہ تحقیق (امام) اوزاعی وفات پاگئے ہیں، قبیصہ کہتے ہیں کہ اسی دن اوزاعی کی وفات کی خبرآئی۔
علماء سلف ہر دن اورخصوصا جمع کے روز بہت زیادہ نوافل پڑھتے تھے:
عقبہ بن عقلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
لقیتہ یعنی الاوزاعی یوم الجمعۃ رائحا الی الجمعۃ علی باب المسجد، فسلمت علیہ ثم دخل فاتبعتہ فاحصیت علیہ قبل خروج الامام صلاتہ اربعا وثلاثین رکعۃ، کان قیامہ ورکوعہ وسجودہ حسنا کلہ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۹۳وسندہ صحیح)
میں جمعہ کے دن اوزاعی سے مسجد کےد روازے پر ملا، انہیں سلام کیاوہ(مسجد میں) داخل ہوگئے، میں ان کے پیچھے آیا، اور امام کے نکلنے سے پہلے کے نوافل میں نے گنے توانہوں نے ۳۴رکعات نماز پڑھی، ان کے قیام،رکوع،اور سجود بھی بہترتھے۔
فائدہ: معاصرین علماء وخطباء غور کریں اور سوچیں وہ ہرروز اورخصوصا جمعہ کے دن کتنے نوافل پڑھتے ہیں۔
بعض اوقات سند صحیح محسوس ہونے کے باوجود بھی معلول وضعیف ہوسکتی ہے۔
علی بن مدینی aفرماتے ہیں:
سألت یحیی عن احادیث عکرمہ بن عمار عن یحی بن کثیر، فضعفھا وقال لیست بصحاح.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۰۷وسندہ صحیح)
میں نے یحیی(بن سعید القطان) سے یحیی بن ابی کثیر کی ان روایات کا پوچھا جو ان سے عکرمہ بن عمار نقل کرتے ہیںتو(یحیی بن سعید القطان نے) انہیں ضعیف قرار دیا،اور فرمایا: صحیح نہیں ہیں۔
فائدہ: معلوم ہو کہ عکرمہ بن عمار اور یحیی بن ابی کثیر الیمامی دونوں ثقہ ہیں اسی طرح مزید ابن القطان فرماتے ہیں:
ان الاعمش کان مضطربا فی حدیث ابی اسحاق.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۰۸وسندہ صحیح)
(سلیمان بن مھران) الاعمش ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ السبیعی) سے روایت(بیان کرنے) میں مضطرب ہیں۔
حالانکہ دونوں ثقہ ہیں۔
فہم سلف سے معلوم ہوتا ہے کہ تخصیص کی تخصیص بھی ہوسکتی ہے، وہ اس طرح کہ قتادہ سےجب شعبہ روایت لیں،اس وقت قتادہ کی اپنے شیخ سے گویا سماع کی صراحت ہوجاتی ہے ،بھلے وہ صراحت نہ بھی کریں، یہ اصول خاص ہے، لیکن اس خاص اصول کی تخصیص کرتے ہوئے یحیی بن سعید القطان aفرماتے ہیں:
کل شیٔ حدثنا شعبۃ، عن قتادۃ ، عن انس فھو علی السماع من انس، الا حدیث اقامۃ الصف.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۰وسندہ صحیح)
ہر وہ حدیث جو شعبہ،قتادہ عن انس کےواسطے ہمیں سنائیں گے محمول بر سماع ہوگی، سوائے صف کی درستگی والی روایت کے۔
یحیی بن سعید القطانaکے نزدیک مرسل روایت ضعیف ہے،علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قلت لیحیی بن سعید، سعید بن المسیب عن ابی بکر؟قال ذاک شہ الریح.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۲وسندہ صحیح)
میں نے یحیی بن سعید القطان سے سعید بن المسیب عن ابی بکر (کی مرسل روایت) کے متعلق پوچھا:فرمایا:یہ توہوائی ہے۔
عبداللہ بن مبارک بھی مرسل کوحجت نہیں مانتےتھے۔
(الجرح والتعدیل ۱؍۳۳۳وسندہ صحیح)
مراسیل(یعنی ضعیف) روایات کے مابین بھی طبقات بنائے جاسکتےہیں:
یحیی بن سعیدالقطان aفرماتے ہیں:
مرسلات مجاہد احب الی من مرسلات عطاء بکثیر، کان عطاء یأخذ عن کل ضرب.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۲وسندہ صحیح)
مجھے عطاء کی مرسل روایات کے بنسبت مجاہد کی مرسل روایات پسند ہیں۔(اس لئے کہ) عطاتو ہر ایک سے روایت لےلیتے ہیں۔
اہل بیت سے محبت، ان کی عظمتوں کابیان، ان کی عظمت میں منقول روایات کا مذاکرہ وغیرہ سب فہم سلف کی پیروی ہے۔
یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جاءنی ابو اسامۃ، فذھبت معہ الی شعبۃ، فحدثہ باربعین او خمسین حدیثا فی فضائل علی، ثم قال: لولا مکانک ما حدثتہ بحدیث.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۵وسندہ صحیح)
میرے پاس ابواسامہ آئے،میں ان کے ساتھ شعبہ کے پاس گیا، انہوں نے(سیدنا ) علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ۴۰یا۵۰ روایات انہیں (یعنی ابواسامہ) کو سنائیں، پھرکہا:(اےیحیی) اگر آپ کا مکان نہ ہوتا تو میں اسے حدیث نہیں سناتا۔
فائدہ اول: ایک ہی شہر کے علماء ومحققین کوآپس میں محبت واحترام کا رشتہ بحال رکھناچاہئے۔
فائدہ ثانی: آئے ہوئے مہمان وعالم کو علاقے کے علماء سے ملاناچاہئے۔
علمی اختلاف کو آڑ بناکرعلماء حق سے بائیکاٹ کرناقطعا غلط وخلاف سلف ہے۔
یحیی بن سعیدالقطانaفرماتے ہیں:
اختلفت الی شعبۃ عشرین سنۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۶وسندہ صحیح)
میں نے(امام) شعبہ سے بیس سال(علمی) اختلاف رکھا ہے۔
اس کے باوجود امام شعبہ سے علمی تعلق جوڑے رکھا، اور ان کےذکر خیر سے اپنی زبان کو رطلب اللسان رکھا،جوکہ ایک بار فرماتے ہیں:
کان شعبۃ اعلم الناس بالرجال.
(الجرح والتعدیل ۱؍۱۳۲وسندہ صحیح)
کہ شعبہ سب سے زیادہ (رواۃو)رجال کی پہچان رکھتے تھے۔
فائدہ:بہت بڑا علم حاصل کرنیوالے کو بھی چاہئے کہ اپنے سے بڑے علامہ سے علم سیکھنے میں عیب وعار محسوس نہ کرے ، بلکہ اسے چاہئے کہ اپنے بڑے علامہ کے علمی حلقے میں بیٹھے، علم سیکھے، اور محب اسلاف ہونے کی دلیل دے۔
طالب العلم ،طلب علم سے رات کو گھرلوٹے تو اس میں کوئی قباحت نہیں یحیی بن سعید القطانaفرماتے ہیں:
کنت اخرج من البیت وانا اطلب الحدیث فلا ارجع الا بعد العتمۃ.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۶وسندہ صحیح)
میں طلب حدیث میں گھر سے نکلتا تھا، اور رات کو عشاء (یامغرب) کے بعد ،ہی گھرلوٹتا تھا۔
محدث وعالم کوبابصیرت اور مزاج شناس ہوناچاہئے۔
نعیم بن حماد aفرماتے ہیں:
قلت لعبدالرحمٰن ابن مھدی: کیف تعرف الکذاب ؟ قال :کما یعرف الطبیب المجنون.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۱۹وسندہ صحیح)
میں نے عبدالرحمٰن بن مھدی کوکہا:آپ جھوٹے راوی کو کیسے پہچانتے ہیں؟فرمایا:جیسے طبیب (وڈاکٹر) پاگل کو پہچانتاہے۔
راوی پر جرح کرتے ہوئے خوب احتیاط سے کام لینا چاہئے، جتنا ممکن ہو اس کادفاع کیاجائے، اس کی توثیق تلاش کی جائے۔
نعیم بن حماد aفرماتے ہیں:
کان ابن المبارک لا یترک حدیث الرجل حتی یبلغہ عنہ الشیٔ الذی لایستطیع ان یدفع.
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۳۱وسندہ صحیح)
ابن المبارک کسی راوی کی حدیث کو تب تک ترک نہیں کرتے تھے جب تک اس کامعاملہ اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ(اس کا) دفاع ہی ممکن نہ ہو۔
امام احمد بن حنبل نے کتاب الایمان اور کتاب الاشربہ کے نام سے بھی حدیث کی کتب لکھی تھیں، کما قال ابوحاتم
(الجرح والتعدیل ۱؍۲۵۲وسندہ صحیح)
فائدہ: راقم نے امام احمد کی کتاب’’الاشربہ‘‘ مکمل پڑھی ہے اور یہ بڑی نایاب کتاب ہے۔
امام احمد بن حنبل ۱۲aربیع الاول کو فوت ہوئے ،کما قال ابنہ صالح.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۵۸وسندہ صحیح)
سلف اللہ رب العالمین سے بڑی دلی محبت رکھتے تھے اور اپنے مالک کی رحمت سے ایسے پرامید تھے کہ مایوسی خود ان سے مایوس ہوچکی تھی۔
ابوزرعہ کے بھتیجے احمد بن اسماعیل aفرماتے ہیں:
سمعت ابا زرعۃ یقول فی مرضہ الذی مات فیہ، اللھم انی اشتاق الی رؤیتک فان قال لی:بای عمل اشتقت الی؟ قلت برحمتک یا رب.(الجرح والتعدیل ۱؍۲۸۱وسندہ صحیح)
وہ اپنے مرض الموت میں(اپنے محبوب ومعبود) کی دربار میں دعا مانگ رہے تھےکہ :اے میرےاللہ میں تیری زیارت کا اشتیاق رکھتا ہوں، اگر تو مجھے کہے کہ کس عمل کی بدولت یہ اشتیاق رکھتے ہو؟ میں کہوں گا:مولیٰ بس تیری رحمت کے سہارے۔
کسی حد تک علماء سلف سنت وحدیث میںفرق کرتے تھے:
عبدالرحمٰن بن مھدی(المتوفی ۱۹۸ھ) aفرماتے ہیں:
سفیان الثوری امام فی السنۃ امام فی الحدیث ، وشعبۃ بن الحجاج امام فی الحدیث ولیس بامام فی السنۃ.
(الجرح والتعدیل ۱؍۳۱۱)
سفیان ثوری سنت(یعنی شرعی مسائل) میں بھی ماہر تھے(اور اسی طرح اس کے اصل ماخذ)حدیث رسول ﷺ کے بھی ماہر تھے جبکہ شعبہ بن حجاج حدیث رسول ﷺ کے تو ماہر تھے لیکن سنت (یعنی شرعی مسائل) میں (اتنے) ماہر نہ تھے۔
گویا کہ ابن مھدی حدیث سے محض علوم حدیث مراد لیتے ہیں اور سنت سے مفاھیم ومسائل مراد لیتےہیں۔واللہ اعلم
صحیح روایت کی صحت کے متعلق امام شافعیaفرماتے ہیں:
لا تقوم الحجۃ بخبر الخاصۃ حتی یجمع امورا، منھا ان یکون من حدیث بہ ثقۃ فی دینہ معروفا بالصدق فی حدیثہ، عاقلا لما یحدث بہ عالما بما یحیل معانی الحدیث من اللفظ او ان یکون ممن یؤدی الحدیث بحروفہ کما سمعہ لا یحدث بہ علی المعنی ، لانہ اذا حدث بہ علی المعنی، وھو غیر عالم بما یحیل معناہ لم یدر لعلہ یحیل الحلال الی الحرام، فاذا اداہ بحروفہ فلم یبق وجہ یخالف فیہ احالتہ الحدیث، حافظا ان حدث من حفظہ حافظا لکتاب ان حدث من کتابہ اذا شرک اھل الحفظ فی الحدیث وافق حدیثھم بریئا من ان یکون مدلسا یحدث عمن لقی ما لم یسمع منہ، فیحدث عن النبی ﷺ بما یحدث عنہ الثقات خلافہ، ویکون ہذا من فوقہ ممن حدثہ حتی ینتھی بالحدیث موصولا الی النبی ﷺ او الی من انتھی الیہ دونہ، لان کل واحد منھم مثبت لمن حدثہ، ومثبت علی من حدث عنہ فلا یستغنی فی کل واحد منھم عما وصفت.
(الجرح والتعدیل ۱؍۳۱۹وسندہ صحیح)
کسی بھی روایت سے کوئی حجت تب تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک اس میں یہ شرائط نہ پائی جائیں:بیان کرنیوالا، دینی معلومات میں ثقہ ہو، سچ بولتاہواور اس کا سچ مشہور ہو، حدیث کے معانی ومفاہیم سے واقف ہو، کیونکہ ناواقف ہوگا توناواقفی میں ممکن ہے کہ حلال کو حرام(اور حرام کو حلال) بنادے گا،حدیث کو یاد وبیان کرنے کی قدرت رکھتاہو،کتاب سے بیان کرنیوالاہو تودرست بیان کرے دیگر محدثین امت اس کی موافقت کرتے ہوں، وہ تدلیس سے بری ہو،سند متصل ہو اور یہ تسلسل تمام طبقات میں پائے جائیں تبھی جاکر روایت درست ثابت ہوگی۔ملخصا
رواۃ کی توثیق وتضعیف کے سلسلے میں محض حسن ظن سے کام لینا غلط ہے بلکہ اس سلسلے میں احوال وافعال کی تحقیق ضروری ہے۔
عبدالرحمٰن بن مھدی a(المتوفی ۱۹۸ھ)فرماتے ہیں:
خصلتان لا یستقیم فیھما حسن الظن الحکم والحدیث یعنی لا یستعمل حسن الظن فی قبول الروایۃ عمن لیس بمرضی.(الجرح والتعدیل ۱؍۳۲۲وسندہ صحیح)
دوچیزوں میں حسن ظن مفید نہیں ہے ،ایک فیصلہ کرنے میں دوسرا حدیث کے بیان کرنے میں،یعنی کہ ناقابل اعتماد بندے سے روایت لینے میں حسن ظن سے کام نہیں لینا چاہئے۔
نقل کردہ یہ نکات ازحد قیمتی ہیں، ان کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ اخلاف سینکڑوں سالوں سے ان نکات کی طلب وتتبع میں نظرآئے ہیں اب معاصرین طلباء وعلماء کو بھی چاہئے کہ وہ ان سنہری نکات وزریں افہام کو اپنے دلوں میں جگہ دیں، اور انہیں اختیار کرکے اپنے اسلاف کی یاد تازہ کریں اور یقینا معاصرین علماء وطلباء کے لئے اس راہ میں حصول منزل ممکن ہے کہ وہ امت کے اسلاف کا سلفی وثمنی راستہ اختیار کریں۔

About حافظ شبیر جمالی

Check Also

فضل الخلیل فی فوائد تقدیم الجرح والتعدیل قسط 2

معاصر علماء ،طلباء ومحققین کیلئے اسلاف Sکے اقوال، افعال اور قابل محبت آثار پیش خدمت …

جواب دیجئے