Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد

ذوالفقارعلی طاہر


الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
پاکستانی قوم14اگست کو یوم آزادی مناتی ہے،71سال قبل اس روز ہم نے یہ پیارا وطن حاصل کیا تھا،برطانوی سامراج کا سورج غروب ہواتھااور ہندوؤں کی سازشیں ناکام ہوئی تھیں، بابائے قوم کی قیادت میں علامہ اقبال کے پیش کیے ہوئے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا، ہندورہنما جھانسہ دینے کیلئے کہتے تھے کہ ہمارا رہن سہن، ثقافت،زبانیں سب ایک ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں جان سکتے تھے کہ اسلام سے بڑا فرق اور کیاہوسکتا ہے ہمارےاور ان کے درمیان یہ اتنی بڑی لکیر ہے کہ کوئی اسے پاٹ نہیں سکتا،انہی دنوں کی بات ہے کہ قائد ایک ہوٹل میں کھانا تناول فرمارہے تھے کہ ایک جوشیلا ہندوآیا اور قائد کے پاس آکر دوقومی نظریہ کی مخالفت کرنے لگا اور کہنے لگا ہندومسلم جدانہیں ہوسکتے ہمارارہن سہن،ثقافت،زبان ایک ہی ہے، ہم میں کوئی تفریق ،جدائی اور دوری نہیں ہے، قائد نے اسے بیٹھنے کو کہا، کچھ دیر بعد قائد نے گلاس میں پانی لیا، نوش فرمایا، پھر اسی گلاس میں پانی لیا اور اس جوشیلے ہندو نوجوان کو دیا اور فرمایا پانی پیجیئے،وہ کہنے لگا میں اس گلاس میںپانی نہیں پیوں گا اس میں تو آپ نے پانی پیا ہے،میں ہندوہوں اور آپ مسلم!قائد نے فرمایا: یہ ہے دوقومی نظریہ جو زندہ تھا،زندہ ہے اورزندہ رہے گا،اور تجھے ہندومسلم کے مابین تقسیم سمجھ آگئی؟اس سے کوئی جواب بن نہیں پایا اور بڑبڑاتاہوا وہاں سے چلاگیا۔
ان دنوں ہندوستان کے طول وعرض میںہرمسلمان یہ نعرہ لگاتا نظرآتاتھا کہ

بٹ کے رہے گا ہندوستان

لےکررہیں گے پاکستان

ان میں وہ مسلمان بھی شامل تھے، جنہیں یہ علم تھا کہ پاکستان بننے پر بھی وہ وہاں نہیں جائیں گے،لیکن وہ بھی اس تحریک میں شامل تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ان کے بھائی آزاد ہوں گے تو انہیں بھی اس سےتقویت حاصل ہوگی، ان کیلئے پڑوس میں کوئی آوازتو اٹھانے والاہوگا۔
اگر ہم اپنی تاریخ پر نظرڈالیں تو آزادی کے بعد ہم نے جہاں بہت کچھ کھویا ہے، وہیں بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے، یہ سچ ہے کہ ہم اپنے ملک کو صحیح معنوں میں اسلام کا گہوارہ نہیں بناسکے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہی دنیا کے نقشے پر ایسا اسلامی ملک ہے، جہاں مسلمانوں کو اپنے عقائد کے حوالے سے سب سے زیادہ آزادیاں حاصل ہیں، جہاں سب سے زیادہ دینی مدارس ہیں، جن میں لاکھوں طلبہ کو دینی تعلیم دی جاتی ہے، جہاں سے ہرسال حفاظ وعلماء کے قافلے نکلتے ہیں، جہاں علماء کھل کر اپنی رائے کااظہار کرسکتے ہیں، جہاں مساجد ومدارس پر کوئی پابندی نہیں، جہاں کوئی غیر اسلامی قانون نہیں بنایاجاسکتا، پاکستان وہ ملک ہے، جس نے ہمیشہ اسلامی کاز کیلئے آواز بلند کی، جس کے پاسپورٹ پر آج تک اسرائیل کیلئے ممنوع لکھا ہوا ہے، حالانکہ مصر اور اردن سمیت کتنے ہی عرب ممالک ایسے ہیں جو اس ملک کو تسلیم کرکے بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن ہم نے صرف اخوتِ اسلامی ا ور قبلۂ اول کی وجہ سے آج تک اسرائیل کو منہ نہیں لگایا۔
ہمارے آباؤاجداد نےیہ ملک بناتے ہوئے اسے اسلام کا مرکز بنانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اگر سوفیصد پورانہیں ہوا تو ٹوٹا بھی نہیں ہے۔ کشمیر بوسنیا،فلسطین، افغانستان ،برما الغرض جہاں کہیں بھی مسلمانوں پرظلم ہوا، ہم نے سب سے مؤثر آواز ان کیلئے بلند کی، جو کچھ بن پڑا ان کیلئے کیا، اگر کہیں حکومت نے کمزوری دکھائی تو ہماری دینی تنظیموں نےوہ خلاپورا کیا، یہ نعمت بھی اسی ملک میں ہی حاصل ہے کہ یہاں دینی تنظیمیں آزادانہ کام کررہی ہیں، انہیں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیلئے امداد جمع کرنے اور ان تک پہنچانے کی آزادی حاصل ہے۔
آج سے ایک عرصہ قبل شہید ناموسِ صحابہ علامہ احسان الٰہی ظہیرa نے مسجد حرام میںایک فلسطینی کو پاکستان کی سلامتی کی دعا مانگتے دیکھا تھا، استفسار پر اس کا کہنا تھا کہ:عالم اسلام کو پاکستان سے امیدیں وتوقعات ہیں،اگر پاکستان سلامت ہے تو عالم اسلام سلامت ہے۔
معلوم ہوا کہ ہم دنیا بھر کےمسلمانوں کی امیدوں کامرکز ہیں،اور اس کی وجہ یہ ہےکہ رب العالمین نے ہمیں ایسی قوت سے نوازا ہے، جو اسلامی دنیا میں اور کسی کےپاس نہیں ۔ جی ہاں!ہم بفضل اللہ ایٹمی قوت ہیں، ہمارے میزائل دنیا کے ایک بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم ایک ایسی عسکری قوت ہیں کہ جسےدنیا چاہے بھی تو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت، جنگی حکمت عملی اور حربی صلاحیتوں کا ناصرف اسلامی دنیا، بلکہ پوری دنیا کی افواج میں کوئی ہم پلہ نہیں۔ تنقید کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کے بعد ہم نے آدھا ملک گنوادیا ۔ہاں یہ سچ ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پھر ہم نے غلطیوں سے سبق بھی سیکھااور اس کے بعد پیچھے مڑکر نہیں دیکھا، اب ہم اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے اتنے مضبوط ہیں کہ کسی کو ہمارے وجود کے بارے ناپاک سوچ رکھنے کی بھی جرأت نہیں ہوسکتی۔ گذشتہ ڈیڑھ عشرہ میں دنیا کی بڑی طاقتوں نے ہمیں توڑنے اور کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، کہیں اسلامی شدت پسندی کے نام پر اور کہیں آزادی کے نعروں کے نام پر ہمارے وجود پر اندر سے حملے کرائے لیکن نصرت الٰہی سے یہ سب ناکام ہوگئے۔پاک فوج نے دنیا کی بڑی طاقتوں سے لڑی جانے والی یہ خفیہ جنگ جیت لی،اب دشمن ہارچکاہے،پسپائی اختیار کررہا ہے، پہلےجنرل راحیل شریف نے ’’ضربِ عضب‘‘ اور اب جنرل قمرجاویدباوجوہ نے’’ردالفساد‘‘ کے ذریعہ دشمن کوناکوں چنے چبوادیئے ہیں، یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ ہم اس پر جتنا فخر اور رب تعالیٰ کا شکرکریں، کم ہے، دنیا کی عسکری تاریخ میں ہمارے حدود اربعہ کےکسی ملک کی جانب سے اتنی طاقتوں کو شکست دینے کی کوئی مثال نہیں ملتی، گوریلاجنگ میں تو امریکہ جو اپنے آپ کو سپرپاورگردانتاہے بھی شکست کھاگیا، صومالیہ ہویاعراق اور افغانستان ہر جگہ اس نے بھاگنے میں عافیت جانی، لیکن پاکستانی افواج نے اللہ کے فضل سے یہ جنگ بھی جیت کردکھائی، یہ سب آزادی کے بسبب ملنے والاثمر ہے۔
آج کچھ عاقبت نااندیش قسم کے لوگ اس وطن عزیز کا کھاتےہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے’’پاکستان نہ کھپے‘‘ اور کوئی کہتا ہے اگر میں1947ء میں ہوتاتوپاکستان کو کبھی ووٹ نہ دیتا،جن کو پاکستان نہیں چاہئےوہ ذرا اپنے چہیتے ہندوستان جاکر وہاں زندگی گزار کر دکھائیں تو انہیں لگ پتہ جائے۔اور پاکستان کو ووٹ نہ دینے کی باتیں کرنے والے بھی سن لیں کہ امام ہند ابوالکلام آزاد اور دیوبندی حضرات کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے پاکستان کو ووٹ نہیں دیا پھر بھی یہ ملک بن کر رہا،تمہارے ووٹ نہ دینے سے کیا فرق پڑتا؟؟؟
آج ہم کچھ لوگوں کی طرف سے یہ فقرہ سنتے ہیں’’ اس ملک میں کیا رکھاہے؟‘‘ وہ لوگ یہ فقرہ اکثر دہراتے ہیں اس بات کا احساس کیے بغیر کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیںآزاد ملک عطاکیا ہے، جہاں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں وہ نعمتیں پیدا کی ہیں جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں نہیں ہیں۔ وطن عزیز کی خاطرجان قربان کرنے والے محبِ پاکستان حکیم سعید جو حافظ قرآن تھے اور صومِ داؤدی کے پابند بھی، فرمایا کرتے:قرآن مجید کی سورت الرحمٰن باترجمہ پڑھیں تو آپ کو ادراک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جن نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے وہ پاکستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کوبے شمار نعمتوں سے مالامال فرمایاہے، یہاں عظیم نہری نظام موجود ہے، بہترین زراعت ہے، لہلاتے کھیت اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی فصلیں اور باغات ہیں، اللہ نے اس ملک کو چار موسموں سے سجایاہے ،شدید گرمیوں کے بعد بارشیں ہوتی ہیں اور اس کے بعد جب ٹھنڈی ہواچلتی ہے تو ایسا سکون وسرور ملتا ہے جو اے سی بھی نہیں دے سکتا۔الغرض ہزاروں مثالیں باور کرتی ہیں کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کاخاص انعام ہے اس کی حفاظت کیجئے، ہمارے اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر ہمیں آزادی کی نعمت دلائی، اس کی قدر کریں، آزادی کی قدر صحیح معنوں میں اگر سمجھنی ہو تو ذرافسلطین اور کشمیر کی طرف نظر دوڑالیجئے، آپ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ واقعتاً پاکستان اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے، لہذا:پاکستان زندہ باد۔
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

سنتِ رسولﷺ کی طرف رجوع کیجئے

ایک اخباری خبرملاحظہ فرمائیں:

’’جمعیت علمائےاسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن عیدالفطر کی نماز میں امامت کے دوران رکوع بھول گئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائر ہوچکی ہے۔ مولانافضل الرحمٰن اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسمعیل خان میں کیمروں کی موجودگی میں عیدالفطر کی نماز پڑھارہے تھے کہ اس دوران دوسری رکعت میں عید کی 3زائد تکبیرات کے بعد رکوع کے بجائے سجدے کیلئے جھک گئے،تاہم سجدے سے قبل ہی خیال آنے پر وہ دوبارہ رکوع میں آگئے، لیکن ان کےمقتدی وچھوٹے بھائی ضیاء الرحمٰن خیالات میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ وہ مکمل سجدے میں چلے گئے۔ اس سے قبل 2015ء میں امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی ایسی ہی غلطی کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں نماز عید پڑھاتے ہوئے سراج الحق نمازیوں کی جانب سے’’رکوع ،رکوع‘‘کےآوازے لگائے جانے کے باوجود سجدے میںچلے گئے تھے اور کافی دیر بعد سجدے سے واپس رکوع میں آئے‘‘(روزنامہ امت کراچی29جون 2017ء)
رسول اکرم ﷺ کی احادیث کےمطابق زائد تکبیراتِ عید کااصل محل وموقعہ حالت قیام میں قراءت سے قبل ہے اور ان کی تعداد بارہ ہے پہلی رکعت میں7اور دوسری میں5،جب رسول اللہ ﷺ سے ثابت زائد تکبیرات کی تعداد بھی گھٹادی جائے گی اور ان کامقام ومحل بھی تبدیل کردیا جائے گا توپھر ایسا ہی ہوگا،نماز عید کی دونوں رکعات میں قراءت کے بعد اور رکوع سے پہلے کہی جانے والی تین تین تکبیرات، کہے جانے کے وقت باقاعدہ مشاہدہ کیاجاسکتا ہے کہ بہت سارے لوگ پہلی زائد تکبیر سن کر رکوع میں چلے جاتے ہیں دوسری پررکوع سے اٹھتے ہیں اور تیسری پر سجدہ میں چلے جاتے ہیں اور جب امام رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہتا ہے تو وہ سجدہ اول سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح کی تمام کیفیات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ سنتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کیاجائے ،اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو فرامین رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

احباب جماعت کیلئے خوشخبری

یقیناً یہ اطلاع احباب جماعت کیلئے باعث مسرت ہوگی کہ بحکم فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ،مناظر مسلک اہل حدیث شیخ محمد صدیق رضا فاضل مرکز الدعوۃ ستیانہ بنگلہ ومرکز التربیہ الاسلامیہ فیصل آباد کی خدمات المعہد السلفی وجمعیت اہل حدیث سندھ کیلئے حاصل کرلی گئی ہیں، آپ المعہد السلفی کراچی میں تدریس کریں گے اور ہر ماہ کا ایک ہفتہ مدارس جمعیت اہل حدیث سندھ میں سے کسی ایک مدرسہ کے طلبہ کو مسلک اہل حدیث کے امتیازی مسائل پر مناظرہ کی تیاری کرائیں گے ،اللہ تبارک وتعالیٰ سےدعا ہے کہ وہ امیر محترمdکے اس فیصلہ میں برکت عطا فرمائے اور شیخ محمد صدیق رضا کو اخلاص کےساتھ خدمتِ دین کی توفیق عطافرمائے اور آپ کی تمام کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطافرمائے۔آمین ثم آمین
مولانا ارشد زاہدوزیرآبادی
بتاریخ08جولائی2017ءبروزاتواربوقت شام مولانا ارشد زاہدوزیر آبادی مدیر مدرسہ ابی بکرملیر کراچی بقضائے الٰہی انتقال کرگئے، آپ کی نماز جنازہ اگلے روز مدرسہ ابی بکر ملیر میں قاری خلیل الرحمٰن جاوید کی اقتداء میں ادا کی گئی، مولانا ارشد زاہد وزیرآبادی aبڑے ملنسار ،مہمان نوازاور خادم دین تھے ،آپ نے پوری زندگی طلبہ مدرسہ ابی بکر کی خدمت کیلئے وقف کی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ آ پ کی خدماتِ جلیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین
دریں اثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ نے مولانا ارشد زاہد وزیر آبادی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مولانا ارشد زاہدوزیر آبادی کی وفات احبابِ جماعت کیلئے ایک بہت بڑے سانحےسےکم نہیں، میں پوری جماعت اہل حدیث سےمسنون تعزیت کرتاہوں اور دعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ مولانا ارشد زاہدوزیرآبادی کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین ثم آمین

امیرمحترم کا تبلیغی وتدریسی ودعوتی دورۂ سعودی عرب

فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی امیر جمعیت اہل حدیث سندھ ،تبلیغی وتدریسی ودعوتی دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے،آپ کی روانگی بتاریخ31جولائی2017ءبروزسوموار دس بجےشب کراچی ایئر پورٹ سے ہوئی۔
امیرمحترم dاپنے اس دورے میں سعودی عرب میں دس روز قیام فرمائیں گے، امیرمحترم کے دروس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
5,4,3اگست2017ء بروزجمعرات ،جمعہ وہفتہ سعودی شہر قصیم میں علمی دروس۔
8,7,6اگست2017ء بروز اتوار،سوموار،منگل ریاض میں علمی دروس۔
9اگست2017ء بروزبدھ عمرہ کی ادائیگی۔
اللہ تبارک وتعالیٰ امیرمحترم کی تمام دینی جہود کو شرف قبولیت بخشے اور آپ کیلئے ذخیرۂ آخرت بنائے۔آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہر

ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ

Check Also

جن سے اللہ محبت نہیں کرتا

جس طرح ایسے خوش نصیب لوگ موجود ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، …

جواب دیجئے