Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » قسط 194 بدیع التفاسیر

قسط 194 بدیع التفاسیر

قسط 194 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

الریاضۃ: اپنے اخلاق کو سدھارنے اور طبعی ہوس سے اسے محفوظ رکھنا۔
الزراریۃ: زرارہ بن اعین کی جماعت جو اللہ کی صفات کو حادث یعنی نئی پیداہونے والی کہتے ہیں۔(نعوذباللہ من ذالک)
الزعفرانیۃ:  جو اللہ تعالیٰ کےکلام کو اس کا غیر قرار دیتےہیں اس لئے اسےمخلوق کہتے ہیں بلکہ غیرمخلوق کہنے والوں کی تکفیر کرتے ہیں۔
الزعم: بمعنی گمان، ہر وہ قول جس کے لئے کوئی دلیل نہ ہو۔
الزمان: زمانہ وقت کو کہتے ہیں وہ کم ہو یا زیادہ۔
(لسان العرب۱؍۱۹۹)
علماء متکلمین کے نزدیک ایک معینہ وقت یا مدت کو کہتے ہیں ،جس کےآنے پر کسی اور چیز کے آنے کو مقرر کیاجائے۔
الزھد: کسی چیز کی طرف رغبت کرنا اصطلاحا دنیا کے بجائے آخرت کی طرف رجوع ورغبت کرنا۔
السبب: جس چیز سے اپنامقصد حاصل کیاجائے، شرعی اصطلاح میں اس طریقہ کو کہا جاتا ہے جس سے اس حکم تک پہنچایااسےمعلوم کیا جائے اس حکم یامقصود کو مسبب کہتے ہیں ، سبب کی دوقسمیں ہیں اگر اس سے ایک ہی مقصد حاصل ہو تو اسے تام کہتے ہیں اور اگرایسا نہ ہو بلکہ وہ سبب تو ضروری ہولیکن اس ایک سبب ہی سے مقصود حاصل نہ ہو بلکہ دوسرے سبب کی بھی ضرورت پڑے تو اسے سبب ناقص کہتے ہیں۔
السبائیۃ یا السبئۃ: عبداللہ بن سبا کی جماعت جس نے علیtکو حقیقتاً اللہ کہا اس لئے انہیں علی نے مدائن کی طرف دھتکار کر نکال دیا، یہ کہتے تھے کہ علی کو قتل نہیں کیاگیا بلکہ ابن ملجم یہودی نےجسے قتل کیا وہ ایک شیطان تھا جو ان کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا، علیtتو اوپر بادلوں میں رہتےہیں گرج ان کی آواز ہے اور چمک ان کی داڑھی ہے وہ بعد میں نیچے اتر کر عدل وانصاف کریں گے، جب یہ لوگ آسمان سے گرج کی آواز سنتے ہیں تو کہتےہیں: علیک السلام یا امیر المؤمنین.
فائدہ: عام جہلاء بھی کہتے ہیں کہ گرج علیtکی آواز ہے یا اس کا چالیسواں حصہ ہے، اس کی اصل بھی شاید یہی معلوم ہوتی ہے۔
السداسی: وہ کلمہ جس میں چھ حروف اصلی ہوں۔
السفسطۃ: اوہام پر مشتمل دلائل جن سے مد مقابل کو خاموش کرایا جائے ۔
السفہ: خوشی یا غصہ کے وقت کوئی ایسا عارضہ لاحق ہوجانا جس سے کوئی خلاف عقل یا شرع کام سرزد ہوجائے۔
السکون: چلنے پھرنے والی چیز کا رک جانا۔(یاکھڑا ہوجانا)
السکوت: قدرت گویائی رکھتے ہوئے بھی خاموش رہنا۔
السلیمانیہ: سلیمان بن جریر کی جماعت جو ابوبکروعمرwکی خلافت کو برحق تسلیم کرتے ہیں مگر انہیں منتخب کرنے والوں کو خاطی کہتے ہیں کیونکہ علیtان سے افضل تھے ان کی موجودگی میں وہ انہیں منتخب نہ کرتے، مگر یہ غلطی ایسی نہیں ہے کہ انہیں فاسق کہاجائے، نیز یہ لوگ عثمان، طلحہ، زبیر اور عائشہyکو کافر کہتے ہیں۔
السماعی: جس کا استعمال صرف سننے سے تعلق رکھتا ہو اور اس بارے میں کوئی قاعدہ مذکور نہ ہو۔
السند: جس پر کسی چیز کی منع، رد یا اس کا ثبوت موقوف ہو محدثین کے نزدیک رواۃ کے اس سلسلے کو کہتےہیں جس کے ذریعے وہ روایت کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
السنۃ: بمعنی طریقہ۔ شرعی اعتبار سے وہ طریقہ جس پر رسول اللہ ﷺ گامزن ہوئے نیز حدیث کو بھی السنۃ کہتے ہے خواہ قولی ہویافعلی۔
السور فی القضیۃ: وہ لفظ جو موضوع یا مسند الیہ کے افراد کی کمیت اور تعداد پر دلالت کرے۔
الشاہد: گواہی دینے والایعنی بمعنی حاضر۔
الشاذ: جو چیز خلاف قاعدہ ہو، محدثین کے نزدیک وہ حدیث شاذ ہوتی ہے جس کو ثقہ ومعتبر راوی اپنے سے زیادہ معتبر روات کے خلاف نقل کرتا ہے یعنی وہ حفظ وغیرہ میں ان کا ہم پلہ نہ ہو یا وہ روات تعداد میں اس سے زیادہ ہوں۔(شرح النخبۃ ،ص:۳۹)اور فقہاء کے نزدیک وہ روایت جس کی ایک ہی سند ہو۔
الشبہ: جس کے حلال یاحرام ہونے کا یقین نہ ہو۔
الشرط: وہ چیز جس کے وجود پر کسی دوسری چیز کا وجود موقوف ہو یعنی جب پہلی چیز موجود ہو تو دوسری کا وجود بھی ہوسکتا ہو، نیز شرط بمعنی علامت ونشانی بھی ہوتا ہے۔مثلاً: اشراط الساعۃ؛ یعنی قیامت کی نشانیاں ۔
الشرطیۃ: جو جملہ دو جملوں کے باہم ملانے سے بنے پہلے جملے کو شرط اور دوسرے کو جزا کہتےہیں۔
الشرع: لغۃ بمعنی بیان کرنا یاظاہرکرنا ،اصطلاحاً وہ مذہب یا طریقہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہو۔
الشعر: علم ومعرفت کو کہتے ہیں اصطلاحی طور پر کلام جو ارادۃً وقصداً وزن اور قافیہ کے مطابق بنایاجائے۔
الشعبیۃ: شعیب بن محمد کی جماعت جو تقدیر کے علاوہ باقی مسائل میں فرقہ میمونیہ سے موافقت رکھتے ہیں۔
الشکل: کسی جسم کا ایسا نمونہ جس سے اس کی حدود ومقدار معلوم ہو۔
الشک: دومخالفین (یامعارضین) کے درمیان ایسے تردد کا پیش آنا کہ کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جاسکے۔
الشیعۃ: جنہوں نے علی کے نام پر جماعت بنائی جن کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امام (خلیفہ) صرف علیtہیں اور ان کے بعد امامت ان کے خاندان ہی میں رہے گی۔
الشیبانیہ:شیبان بن سلمہ کی جماعت جو کہ تقدیر کے منکر اور جبر کے قائل ہیں یعنی انسان تقدیر کے آگے مجبور ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔
الشیٔ:بقول سیبویہ جس کے بارے میں علم ومعرفت حاصل کی جاسکے اور اس کے بارے میں کوئی نہ کوئی خبر دی جاسکے، نیز ہر موجود چیز کو بھی شیٔ کہتےہیں۔
الصالحیۃ: جن کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کے اوصاف علم، قدرت، سماعت وبصارت اس کے ساتھ قائم رہتےہیں۔
الصحیح: جس پر بھروسہ کیاجاسکے، علماء صرف کے نزدیک وہ کلمہ جس میں تین کلمات ف،ع اور ل کے مقابلہ میں حرف علت یا تضعیف یعنی دوہم جنس حرف نہ ہوں علماء نحو کے نزدیک وہ اسم جس کے آخر میں حرف علت نہ ہو،حروف علت تین ہیں: واؤ ،الف،ی۔
الصحابی: جس شخص کو بحالت اسلام رسول اللہ ﷺ سے لقاء وصحبت کا شرف حاصل ہواہو اور اس کی وفات اسلام پر ہوئی ہو۔(شرح النخبۃ،ص:۸۱) بعض فقہاء نے طویل صحبت کی شرط لگائی ہے۔
الصدق: وہ حکم جو وقوعہ کے مطابق ہو یعنی سچ اور جھوٹ کے مقابلے میں ہو۔
الصرف: معروف علم وفن کا نام ہے جس میں تعلیلات کے ذریعہ کلموں کے حالات معلوم ہوتے ہیں۔
الصریح: ایسا کلام کہ کثرت استعمال کی وجہ سے جس کا معنی ومفہوم ظاہر ہو۔
الصفۃ: وہ اسم جو کسی ذات کے بعض حالات پر دلالت کرے یا ایسی کوئی علامت ہو جو ذات موصوف کے لئے لازمی ہو، جس سے وہ پہچانا جائے۔
الصلتیہ:عثمان بن ابی الصلت کی جماعت جن کے عقائد فرقہ عجاردہ والے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ جو اسلام لاکرتوبہ کرلے اسے چھوڑ دیاجائے گا لیکن ان کی اولاد سے بیزاری اختیار کی جائے گی جب تک وہ سن بلوغت کو نہ پہنچیں بالغ ہونے پر انہیں دعوت اسلام دے جائے گی تا کہ وہ قبول کر لیں۔
الصناعۃ: اندرونی ملکہ جس کی بنا پر انسان کے اختیاری کام ظاہر ہوں نیز کسی کلام یافن کے کرنے کا طریقہ وعلم بھی الصناعۃکہلاتا ہے۔
الصواب: بمعنی السداد، درست وصحیح ہر وہ ثابت چیز یا قول جس کے انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو وہ حق کے معارض نہ ہو صواب کی ضد خطاء ہے، اجتہادی مسائل میں فقہاء بکثرت ان الفاظ کو استعمال کرتے ہیں۔
الضبط: بمعنی پختگی ،اصطلاحی طور پر وہ کلام جسے اچھی طرح غور وفکر کے ساتھ سننے اور سمجھنے کے بعد بڑی محنت ،تکرار ومذاکرہ سے یاد کرلیا جائے۔
vvvvvvvvvvvvvv
(جاری ہے)


About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔

صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر قسط 198

المنفصلہ:جس میں دو قضیوں پرآپس میں منافات کاحکم لگایا جائے اگرصدق وکذب دونوں میں منافات کاحکم …

جواب دیجئے