Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:53

اربعینِ نووی حدیث نمبر:23 قسط:53

درسِ حدیث


(۴) الصَّلاةُ نُورٌ.
اورنماز نورہے۔
حدیث کا اطلاق یہ واضح کررہا ہے کہ نماز خواہ فرض ہویا نفل،نمازی بندے کیلئے نورہے،اس کے دل کانور ہے،اس کے چہرے کانور ہے، اس کی قبر کانور ہے، اس کیلئے یوم الحشر کانور ہے، پل صراط کانور ہے،ایسا نور جسے ہرلحاظ سے مکمل قراردیاگیا ہے۔
عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»(ابوداؤد:561،اسے شیخ البانی نے صحیح کہا ہے۔)
یعنی: بریدہ اسلمیtسےمروی ہے،نبیﷺ نے فرمایا: اندھیروں میں مساجدکی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت دے دیجئے۔
واضح ہو کہ ہر نماز باعثِ نور ہے،لیکن حدیث مذکور سے ثابت ہورہا ہے کہ عشاء اور فجر جو اندھیرے کی دونمازیں ہیں،کی محافظت کرنے والا مزیدایسے نور کا مستحق قراردیاگیا ہے، جسے مکمل ہونے کا شرف حاصل ہے، یہی وجہ ہےکہ ان دونوں نمازوں کو اضافی اجروثواب سے نوازاگیا ہے:
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قال سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ»(صحیح مسلم:260)
یعنی:عثمان بن عفانtسے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:جوشخص عشاء کی نماز باجماعت اداکرلے ،گویا اس نے آدھی رات کا قیام کرلیا، اور جوشخص فجر کی نماز باجماعت اداکرلے،گویا اس نے پوری رات کا قیام کرلیا۔
ثابت ہوا کہ نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کی باجماعت ادائیگی اضافی نور اور اضافی اجر کے حصول کا سبب ہےیہی وجہ ہے کہ انہیں ضایع کرنے کا گناہ بھی خطرناک اور ہیبتناک ہے۔
رسول اللہ ﷺنے ان دونمازوں کو منافقین کیلئے بہت بھاری قرار دیا ہے،جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان نمازوں میں غفلت کے مرتکب انسان کے اندر نفاق پایاجاتاہے،والعیاذباللہ.
(إن ھاتین الصلاتین من أثقل الصلاۃ علی المنافقین ولویعلمون ما فیھما لأتوھما ولوحبوا)
(رواہ النسائی)
یعنی:یہ دونمازیں منافقین پر سب سے بھاری ہیں،اور اگرانہیں معلوم ہوجائے کہ ان کا کیااجروثواب ہےتو وہ ان کی ادائیگی کیلئے ضرور پہنچیں، خواہ گھٹنوں کے بل آناپڑے۔
عبداللہ بن عمرwفرمایاکرتے تھے:ہم جب کسی شخص کو فجراور عشاء کی نماز میں غیرحاضر پاتےتو اس کے متعلق بدگمان ہوجاتے تھے۔
(طبرانی)
واضح ہو کہ رسول اللہ ﷺکے فرمان:(الصَّلاةُ نُورٌ)کا صریح مصداق یہی ہے کہ نماز ایک عجیب قسم کا نور ہے،جس کے بہت سے مفہوم ہوسکتے ہیں،چنانچہ یہ چہرے کانورہے،جس کامعنی یہ ہے کہ نمازی کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی بشاشت اور رونق موجود ہوتی ہے، بالخصوص وہ نمازی جو تہجد کااہتمام کرتاہے۔
نماز آنکھوں کا نور ہے،جس کا معنی یہ ہے کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،جیسا کہ رسول اللہ ﷺکافرمان ہے:
(جعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ)
یعنی:نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
(سنن نسائی :3940،مسند احمد:13088،مستدرک حاکم :160/2امام حاکم نے اسے صحیح اور شرط مسلم پر قرار دیا ہے،امام ذھبی نے اس کی موافقت فرمائی ہے۔)
زندگی کے معاملات وتصرفات میں نماز کے نور ہونے کا معنی یہ ہے کہ یہ بندے کو گناہوں اور معصیتوں سے پاک صاف رکھے گی،اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
[اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ۝۰ۭ وَلَذِكْرُ اللہِ اَكْبَرُ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ۝۴۵ ](العنکبوت:۴۵)
ترجمہ: یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے ۔
اس کے علاوہ نماز کی ادائیگی،دنیوی امور کیلئے زبردست معاون کی حیثیت رکھتی ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۝۰ۭ وَاِنَّہَا لَكَبِيْرَۃٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ۝۴۵ۙ ](البقرۃ:۴۵)
ترجمہ:اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر ۔
قیامت کے دن نمازیوں اور دیگر اعمالِ اطاعت انجام دینے والوں کو باقاعدہ حسی نور فراہم ہوگا،جو چاروں طرف پھیلاہوگا،منافقین شدید ترین ظلمتوں میں ہوں گےاور اہل ایمان سے نور کی بھیک مانگیں گے :
[يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ۝۰ۚ قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا۝۰ۭ فَضُرِبَ بَيْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ۝۰ۭ بَاطِنُہٗ فِيْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۝۱۳ۭ ](الحدید:۱۳)
ترجمہ:اس دن منافق مرد وعورت ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار تو کرو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں دروازه بھی ہوگا۔ اس کے اندرونی حصہ میں تو رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہوگا ۔
واضح ہو کہ حدیث الباب کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ جو لوگ نماز کا اہتمام نہیں کرتے ان کےچہروں پر ظلمت،کدرت اور نحوست طاری ہوگی،وہ ہر قسم کے حسی اور معنوی نور سے محروم ہوں گے۔والعیاذباللہ
واضح ہو کہ نماز کا نور ہونا اس شخص کیلئے ہے جس کی نماز ہر قسم کے خلل سے پاک ہو،خلل سے مراد یہ ہے کہ اس کی نماز یاتو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف ہو یا پھر ریاکاری پر مبنی ہو،نیز خلل سے مراد قلتِ خشوع بھی ہوسکتا ہے،یعنی بندے کی تمام تر توجہ دائیں بائیں مختلف امور کی طرف مبذول ہو،حضورِ قلبی مفقود ہو،نگاہیں سجدہ کے مقام پر جمے رہنے کی بجائے اوپرنیچے،دائیں بائیں جھانکتی ہوں۔
ایسی نمازوں کا نتیجہ برآمد نہیں ہوگا،اور ایسانمازی نور سے محروم کردیاجائے گا۔
(۵) والصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ
اور صدقہ دلیل ہے۔
صدقہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں،اس کی رضاجوئی کیلئے مال خرچ کرنا ہے۔
برہان ہونے سے مراد یہ ہے کہ صدقہ انسان کے صدقِ ایمان کی دلیل ہے،گویا صدقہ دینے والے انسان نے اپنی انتہائی محبوب چیز، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرکے ثابت کردیا کہ اس کا ایمان سچا ہے،وجہ یہ ہے کہ مال کی محبت ایک فطری شیٔ ہے،جبکہ نفوس میں بخل بھی پایا جاتا ہے،اس کے باوجود انسان کا اپنے مال کو خرچ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کسی ایسی شیٔ کا طالب ہے جو مال سے بڑھ کر محبوب ہے،لامحالہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی،محبت اور رضاہے۔
تو ایسے انسان کے ایمان کی صحت وصداقت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا،یہی وجہ ہے کہ عدمِ انفاقِ مال کو نفاق سے تعبیر کیاگیا ہے،گویا مومن اپنا مال خرچ کرتا ہے اور منافق اپنا مال روکے رکھتاہے،مال خرچ کرنا صدقِ ایمان کی علامت ہے اور خرچ نہ کرنا نفاق کی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ میں ایک آیت کریمہ میں منافقین کی دوعلامتیں ذکرفرمائی ہیں:1نماز میں سستی 2اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی کراہت ونفرت۔
[وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَہُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَہُمْ كٰرِہُوْنَ۝۵۴ ](التوبہ:۵۴)
ترجمہ:اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں ۔
یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسعت اور کشادگی سے خرچ کرنا صحتِ ایمان کی دلیل ہے اور خرچ میں تنگی کاپہلوروارکھنا یا پھر خرچ کرنے سے گریزکرلینا نفاق کی علامت ہے۔
واضح ہو کہ صدقہ کے بے شمارفضائل ہیں،لیکن اس عجالہ میں ایک فضیلت کی نشاندہی پر اکتفاء کرتے ہیں،اس فضیلت کی تفصیل یہ ہے کہ مجرمین مرنے کے بعدجب اخروی عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ سے دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے ،دنیا میں لوٹ کر کیا کریں گے کہ انہیں اخروی کامیابی حاصل ہوجائے،قرآن کی زبانی سن لیجئے:
[وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۰ ](المنافقون:۱۰)
ترجمہ:اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں ۔
یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ وہ شخص مہلت حاصل کرکے یہ دنیا میں دوبارہ لوٹ کے صدقہ کیوں دیناچاہے گا؟اس کاجواب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے صدقہ کے اجرعظیم کا مشاہدہ کریگا،لہذا اس خواہش کا اظہار کریگا تاکہ میں بھی صدقہ دیکر عظیم الشان اجر پانے والوں کی صف میں شامل ہوجاؤں۔
اس اجر کی ایک جھلک جومیدانِ محشر میں نمایاںہوگی،درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے:
عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ یقول: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: (کل امریٔ فی ظل صدقتہ حتی یفصل بین الناس)
(صحیح ابن خزیمہ ،صحیح ابن حبان ،مستدرک حاکم ،شیخ البانی فرماتے ہیں:اس حدیث کی سند صحیح ہے،اور شرط مسلم پر ہے۔)
یعنی:عقبہ بن عامرtسے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے(قیامت کے دن) ہرشخص اپنے صدقہ کے سائے میں کھڑا ہوگا،(یہ سایہ اس وقت تک قائم رہے گا) جب تک تمام لوگوں کا فیصلہ نہ کردیاجائے۔
اس حدیث کے ایک راوی یزید بن حبیب فرماتے ہیں:کہ ان کے شیخ ابو الخیرمرثد بن عبداللہ، روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ دیا کرتے تھے، خواہ روٹی کاٹکڑا یا پیاز ہی کیوں نہ ہو۔
ممکن ہے صدقہ کی اسی فضیلت اور اہل صدقہ کی اسی شان کودیکھ کر مجرمین دنیا میں لوٹنے اور صدقہ دینے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔
واللہ اعلم

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعین نووی حدیث نمبر25قسط57

عَنْ أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه أَيضَاً أَنَّ أُنَاسَاً مِنْ أَصحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالوا …

جواب دیجئے