Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:7

مِنْ دُوْنِ اللہِ کاصحیح مفہوم قسط:7

 قسط:7


پندرہواں سیالوی مغالطہ:

لکھا ہے:
’’اور(من دون اللہ) کی شان یہ ہے کہ وہ مکھی بھی پیدا کرسکتے ہیں، اور عیسیٰ فرماتے ہیں:[اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَہَيْــــَٔــۃِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْہِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۚ](آل عمرا ن:۴۹)کہ میں مٹی سے ایک مورتی بناتاہوں جو پرندے کی شکل پر ہوتی ہے ،پھر میں اس میں پھونک مارتاہوں پھر وہ اللہ کے اذن سے پرندہ بن جاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ انبیاء اور اولیاء کرام(من دون اللہ) میں شامل نہیںہیں۔‘‘
(ندائےیارسول اللہﷺ،ص:۱۸۶)
جواب:….سیالوی صاحب اگر اس آیت کا ا بتدائی حصہ ذکر کردیتے ،ان کامغالطہ کافور ہوجاتا۔ بہرحال سنیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۰ۥۙ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۙ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَہَيْــــَٔــۃِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْہِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۚ ] ’’اور(بھیجے گا اسے) رسول بناکر بنی اسرائیل کی طرف(وہ انہیں آکر کہے گا)میں آگیاہوں تمہارے پاس ایک معجزہ لے کر تمہارے رب کی طرف سے(وہ معجزہ یہ ہے کہ) میں بنادیتاہوں تمہارے لئے کیچڑ سے پرندے کی سی صورت پھر پھونکتاہوں اس(بے جان صورت) میں وہ فوراً ہوجاتی ہے پرندہ اللہ کے حکم سے۔‘‘(آل عمران:۴۹، ترجمہ از بھیروی صاحب، ضیاء القرآن ۱؍۲۳۱)
1بھیروی صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’حضرت عیسیٰ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ کٹ حجتی میں اپنی مثال آپ تھی اس لئے انہیں ایسے کھلے معجزات عطافرمائے گئے جنہیں دیکھ کرکسی عقلمند کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔قرآن کریم ان معجزات کو بڑی وضاحت سے بیان فرمارہا ہے اور ان کو لفظ آیت سے تعبیر کیا اور آیت کہتے ہیں:’’العلامۃ الظاہرۃ‘‘ جو کسی کو پہچاننے کی کھلی نشانی ہو جس کے بعد شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔ یہ معجزات پانچ قسموں پر مشتمل ہیں:(۱)مٹی سے پرندے کی تصویربناکر اس میں پھونک مار کر زندہ کردیاکرتے۔

(۲)مادر زاد اندھے کو بیناکردیتے۔

(۳)کوڑھی کو تندرست کردیتے۔

(۴)اور مردہ کو ازسرنوزندہ کریا کرتے۔یہ چار قسمیں عملی معجزات کی تھیں اور پانچویں قسم علمی معجزہ کی تھی یعنی غیب کی خبر دینا۔‘‘(ضیاء القرآن ۱؍۲۳۱تا۲۳۲)
تنبیہ: ….اللہ تعالیٰ نےجو کچھ وحی نازل فرمایا، اس وحی کےذریعے سےخبر دینے کاکوئی منکر نہیں۔
2نعیم الدین مرادآبادی صاحب نے لکھا:
’’جب حضرت عیسیٰ نے نبوت کا دعوی کیا اور معجزات دکھائے تو لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ایک چمگادڑ پیداکریں آپ نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی۔‘‘
(خزائن العرفان،ص:۱۰۱)
3سعید صاحب نے اسی آیت کی تفسیر میں ایک مقام پر لکھا:
’’یہ مذکورۃ الصدر پانچ چیزیں زبردست اور قوی ترین معجزات ہیں جو میرے دعویٰ نبوت کےصدق پر دلالت کرتے ہیں اور جوشخص دلیل سے کسی بات کو مانتاہواس پرحجت ہیں۔‘‘(تبیان القرآن ۲؍۱۷۷)
بریلویہ کی ان تفاسیر سے ظاہرہوتاہےکہ جمیع اہل ایمان کی طرح یہ بھی ان امور کو سیدنا عیسیٰuکے’’معجزات‘‘ تسلیم کرتے ہیں اور معجزات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
۱:[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّۃً۝۰ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ۝۳۸ ](الرعد:۳۸)
’’اور بے شک ہم نے بھیجے کئی رسول آپ سے پہلے اور بنائیںان کے لئے بیویاں اور اولاد اور انہیں ممکن کسی رسول کے لیےوہ لے کر آئے کوئی نشانی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہرمیعاد کےلیے ایک نوشتہ ہے۔‘‘(ترجمہ از بھیروی صاحب،ضیاءالقرآن ۲؍۴۹۴)
اگرمعجزہ نبی کافعل ہوتا تو ان کے لیے معجزہ پیش کرناممکن کیوں نہ ہوتا اور اسے اللہ تعالیٰ کے امر پرموقوف کیوں بتلایاجاتا؟
۲:اللہ تعالیٰ کافرمان:
[قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللہِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ۝۰ۙ اَنَّہَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝۱۰۹ ](الانعام:۱۰۹)
’’آپ فرمایئے نشانیاں توصرف اللہ ہی کے پاس ہیں اور(اے مسلمانو!)تمہیں کیا خبر جب یہ نشانی آجائے گی تو(تب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘(ترجمہ از بھیروی صاحب،ضیاءالقرآن ۱؍۵۹۱)

معجزات کاخالق کون؟

زیربحث آیت میں بھی یہی مذکور ہے کہ سیدناعیسیٰuمٹی کا پرندہ بناتے اور اس میں پھونکتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سےپرندہ بن جاتا، جیسا کہ خود سیالوی صاحب نے آیت کاترجمہ اس طرح کیا:
’’پھر وہ اللہ کے اذن سے پرندہ بن جاتا۔‘‘
(ندائے…..ص:۱۸۶)
سیالوی صاحب اور ان کے جمیع ہم مشرب جو اس آیت سے غلط مفہوم کشید کرکے عوام الناس کومغالطہ دیتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ آیت کے الفاظ پرخوب غور کریں جن سے واضح ہے کہ سیدنامسیح uتو مٹی سے صرف پرندے کی ہیئت؍شکل بناتے تھے اور اس پر پھونکتے تھے۔ مٹی کا وہ پتلا اللہ کے حکم سے ہی پرندہ بنتا تھا، چونکہ یہ معاملہ سیدنا عیسیٰuکے ہاتھ پر ظاہر ہوتا تھا تو یہ ان کا معجزہ تھا۔ اسی طرح آپu نے پرندے کی تخلیق اپنی طرف منسوب نہیں کی بلکہ پرندےکی ہیئت کی تخلیق اپنی طرف منسوب کی ہے۔ ’’کَہَيْــــَٔــۃِ الطَّيْرِ‘‘کے الفاظ اس پر شاہد ہیں۔ نیز ’’ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِ اللہِ‘‘ کے الفاظ بتلارہے ہیں کہ وہ مٹی کا پتلا اللہ کے اذن سےپرندہ بن جاتا ۔ گویا’’خلق طیر‘‘ کی مجازی نسبت بھی نہیں ہے۔ اہل ایمان تو ہمیشہ سے ان معجزات کاخالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں۔ جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کسی نبیuکی تائید وتصدیق کے لیے ان کےہاتھ پرظاہر فرماتے ہیں، تاکہ ان پر ایمان نہ لانے والوں کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے: ’’نشانیاں (معجزات)تو صرف اللہ کے پاس ہیں‘‘
البتہ اس معاملہ میں کفار کا طریقہ وعقیدہ کچھ مختلف تھا ،چنانچہ سعیدی صاحب نے سورۂ مائدہ آیت:۱۱۶کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’عیسائی یہ کہتے تھےکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کےہاتھوں سے جو معجزات ظاہرہوئے ان کےخالق حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم ہیں۔ اس لحاظ سےان سے یہ نقل اورحکایت کرنا صحیح ہے کہ’’کیا تم نے لوگوں سے کہ کہاتھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دوخدابنالو۔‘‘
(تبیان القرآن :۳؍۳۷۶)
۳:بریلویہ کے’’حکیم الامت‘‘احمد یار خان نعیمی صاحب نے اسی آیت کی تفسیر میں لکھا:
’’عیسائی حضرت عیسیٰ uکو ان معجزات کا خالق مانتےہیں اور حضرت مریم کو ان کی کرامات کا خالق مانتے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ خالق الہ ہی ہوتا ہے ان وجوہ سے یہاں وامّی فرمایاگیا۔(تفسیر نعیمی ۷؍۱۹۲)
اگر عیسائیوں کی طرح سیالوی صاحب اور ان کا گروہ بھی سیدنا عیسیٰuکو پرندہ بنانے کے معجزے کا خالق سمجھتے ہیں تو خود بتائیں کہ وہ عیسائیوں کے دوش بدوش چل پڑے کہ نہیں!اور بقول نعیمی وسعیدی بریلویان ،عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰuکو ان معجزات کا خالق مانا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں اللہ کے سوا’’الٰہ‘‘ بناناقراردیا۔اگر بریلویہ بھی ایسا عقیدہ بنالیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ وہ سیدنا عیسیٰuکو ’’الٰہ‘‘ مانتے ہیں اور یہ توخود ان کے ہاں بھی صریح شرک ہے۔اعاذاللہ منہ
الغرض! سیالوی صاحب کے اس مغالطہ میں بھی اس بات کاثبوت مفقود ہے کہ انبیاء کرامoاو ر اولیاء کرام ’’من دون اللہ‘‘ یعنی ’’اللہ کے علاوہ‘‘ نہیں ۔اس کے ساتھ ہی سیالوی صاحب کی نام نہاد ’’نفیس بحث‘‘ کا اختتام ہوا ہے۔آگے انہوں نے جو بحث چھیڑی ہے وہ اس مضمون کے موضوع سے خارج ہے۔ الحمدللہ صریح دلائل کے مقابلہ میں سیالوی صاحب کے مغالطات وعقلی ڈھکوسوں کی حقیقت بخوبی ظاہر ہوگئی۔

احمد سعید کاظمی اور’’من دون اللہ‘‘

قارئین کرام احمد خان نعیمی وغلام نصیر الدین سیالوی صاحب نے تو علی الاطلاق یہ دعویٰ کررکھا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کرام’’من دون اللہ‘‘ میں شامل نہیں ۔لیکن بریلویہ کے’’امام اہلسنت غزالی زمان ورازی دوراں‘‘احمد سعید کاظمی ملتانی صاحب نے ان کے موقف کے برعکس کچھ مختلف نظریہ پیش کیاہے،ملاحظہ کیجئے لکھا ہے:
’’من دون اللہ‘‘ کے بارے میں اس امر کااظہار بھی ضروری ہے کہ قرآن مجید کی وہ سب آیات جن میں غیراللہ کی الوہیت کی نفی اور ماسوا اللہ کی عبادت کی ممانعت ومذمت وارد ہے۔ یقینا تمام انبیاء واولیاء کی الوہیت کی نفی اور ان کی عبادت کی مذمت وممانعت کی قطعی دلیلیں ہیں اور بے شک عقیدہ توحید اصل دین ہے لیکن….‘‘
(البیان ،ص:۱۰)
ملتانی صاحب نے’’لیکن‘‘ کے بعد جو لکھا ہے وہ ہم بھی نقل کریں گے۔ ان شاءاللہ مگر پہلے یہ عرض کردیاجاتاہے کہ درج بالااقتباس میں جناب نے صاف اورصریح الفاظ میں اس حقیقت کا اعتراف کردیا کہ ’’من دون اللہ‘‘ یا ’’غیراللہ‘‘ یا ’’ماسوی اللہ‘‘ یعنی اللہ کے علاوہ کی عبادت کی ممانعت ومذمت پر مبنی جتنی آیات ہیں وہ یقینا تمام انبیاءoاور اولیاء کرام کی الوہیت وعبادت کی مذمت وممانعت کی قطعی دلیلیں ہیں۔
سیالوی صاحب سے سوال یہ ہے کہ ان کے نزدیک تو انبیاء oاور اولیاء کرام تو’’من دون اللہ‘‘ میں داخل وشامل ہے۔ پھر کاظمی صاحب کا یہ کہنا واضح کرتا ہے کہ انبیاء oواولیاء کرام کو’’من دون اللہ‘‘ نہ سمجھنا قطعاً ویقینا غلط ہے۔ اب کاظمی ملتانی صاحب کی مزید سنیں، لکھا ہے:
’’لیکن انہیں’’من دون اللہ‘‘ اور ’’من دونہ‘‘ کے مفہوم میں اس اعتبار سےشامل کرنا کہ وہ مطلقا کسی تصرف یاحکم کے اہل نہیں ،خواہ ان کا وہ تصرف اور وہ حکم باذن اللہ ہی کیوں نہ ہو، نصوصِ قرآنیہ کے خلاف ہے بلکہ اس اعتبار سے غیراللہ کے کسی فرد کو بھی ان آیات کے مفہوم میں شامل کرنا درست نہیں ہے۔(البیان ،ص:۱۰)
اس بات سے تو کاظمی صاحب بھی انکار نہ کرسکے کہ انبیا کرام اور اولیاء’’من دون اللہ‘‘ میں شامل نہیں یا اللہ کے علاوہ ،غیراللہ نہیں اور کوئی بھی عقلمند ومنصف مزاج فرد اس سے انکار نہیں کرسکتا۔اب قرآن مجید یا نصوص سنت میں جن باتوں کااثبات ہے اس حد تک اسے تسلیم کرنا فرض ولازم ہے۔ اسی طرح قرآن مجید واحادیث مبارکہ میں’’من دون اللہ‘‘ کے بارے میں جن چیزوں کی نفی ہے ان تمام کی نفی کا عقیدہ رکھنا بھی فرض ولازم ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب الوہیت وعبادت کی نفی کا معاملہ ہوتو’’من دون اللہ‘‘ کےتمام افراد حتی کہ انبیاء کو بھی اس میں شامل وداخل سمجھا جائے، لیکن جب دعائیں قبول کرنے ،فریاد سننے، مشکل کشائی وحاجت روائی کی نفی ہو تو انبیاءoکے علاوہ اولیاءکرام کو بھی ’’من دون اللہ‘‘ میں داخل وشامل نہ سمجھاجائے۔آخر اس فرق کی وجہ اور دلیل کیا ہے؟
خود اللہ رب العالمین کےنازل فرمودہ(خواہ وہ قرآن کی شکل میں ہو یااحادیث کی شکل میں)دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیراللہ کو پوجا پاٹ وپرستش میں مبتلا ہونے والے اور ان سے اسباب سےہٹ کر مشکل کشائی چاہنے والوں نے محض خیالی بتوں ہی کی پوجا پاٹ نہیں کی بلکہ مقربان الٰہی کی مرضی وتعلیمات کے خلاف ان کی پرستش کرنے لگے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں نیک لوگوں کے استثناء کے بجائے ’’من دون اللہ‘‘ ’’من دونہ‘‘ یا’’غیراللہ ‘‘ جیسے عام الفاظ سے جمیع ما سوی اللہ کی نفی فرمادی۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

[قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا۝۵۶ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّہِمُ الْوَسِـيْلَۃَ اَيُّہُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ۝۰ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۝۵۷ ]

کاظمی ملتانی صاحب سے ہی ان آیات کا ترجمہ ملاحظہ کیئجے، لکھا ہے:
’’آپ انہیں فرمائیں پکارو انہیں جنہیں تم اللہ کے سوا(معبود) سمجھتے ہوتو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے اور نہ بدل دینے کا۔وہ(نیک بندے) جنہیں کافرپوجتے ہیں خود ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ان میں کون زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کے امیدوارہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔‘‘
(بنی اسرائیل:۵۶،۵۷،البیان ص:۴۶۰)
تیسرے سیالوی مغالطہ کے رد میں یہ آیات اور بریلوی مفسر سعیدی صاحب سے ان کی تفسیر ہم نقل کرآئے ہیں ،اب پیر آف بھیرہ محمد کرم شاہ ازہری صاحب سے اس کی تفسیر ملاحظہ کیجئے، لکھا ہے:
’’مطلب یہ ہے کہ مشرکین جن کو خدا بنائے ہوئے ہیں اور جن کو اپنی تکالیف ومصائب میں پکارتے ہیں یہ خدانہیں بلکہ وہ تو خود ہرلمحہ، ہر لحظہ اپنے ربِ کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ اگر واقعی وہ خداہوتے جیسے مشرکین کاخیال ہے تو پھر انہیں کسی کی عبادت اوررضاجوئی کی کیا ضرورت تھی۔‘‘(ضیاء القرآن ۲؍۱۳۳۹)
اب ان آیات پر غور کیجئے، ان آیات میں بت،ستارے،سیارے اور شیاطین کی عبادت اور انہیں مشکل کشاوفریاد رسا سمجھنے کاتذکرہ نہیں بلکہ نیک صالح اور پارسالوگوں کو پکارنے کاذکر ہے۔ جنہیں وہ مشرک مشکل کشا ،حاجت روا، بگڑیاں بنانے والے اور بیڑے تارنے والے سمجھ بیٹھے ہیں، بلاشبہ وہ اللہ کے پیارے اور محبوب بندے تھے، جیسا کہ قرآن نے گواہی دی۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنہیں تم اللہ کے سواپکارتے ہو، اپنا حاجت روامشکل کشاسمجھتے ہو انہیں پکارو[فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ]وہ تم سےتکلیف دور کرنے کا اختیار نہیں رکھتے،تکلیف ٹالنا تو دور وہ اس تکلیف کو پھیر بھی نہیں سکتے۔پھر آگے،ان کی نیکی تقویٰ، عبادت،خوف وخشیت کے افعالِ محمود کا تذکرہ بھی فرمایا۔
جب معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے تصرف واختیار کی نفی فرماکر انہیں پکارنے کی مذمت بیان کی اور جمیع’’من دونہ‘‘سے نفی کی توقرآنی تعلیمات کو نظرانداز کرکے کاظمی ملتانی نے خود ساختہ تاویل کس طرح اور کیوں اپنائی جائے؟ المختصر: کاظمی صاحب کا تصرف واختیار کے معاملہ میں یہ کہنا کہ’’اس اعتبار سے غیراللہ کے کسی فرد کو بھی ان آیات کے مفہوم میں شامل کرنا درست نہیں ہے۔‘‘غلط اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔
کاظمی صاحب نے بزعم خود دلیل پیش کرتے ہوئے لکھا:
’’ایسی تمام آیات میں’’من دون اللہ ‘‘ سے ’’بغیر اذن اللہ‘‘ مراد ہے۔ مثلاً آیت: [وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ ]میں’’ من دون اللہ ‘‘ کے تحت تفسیر مظہری میں فرمایا:’’ای بغیر اذن من للہ‘‘ یعنی اللہ کی جانب سے اذن کے بغیر (ج۲ص۶۳) یعنی کسی کو ذاتی تصرف یاذاتی حکم کا اہل ماننا اوربغیر اذن الٰہی کے اس کے حکم کو واجب العمل قراردینا، گویا اسے اپنا رب بنالینا۔
(البیان،ص:۱۰)
اس تاویل سے بھی بریلویہ کی مشکل آسان نہیں ہوتی، چونکہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں کہیں بھی غیراللہ سے دعامانگنے کاحکم واذن نہیں، بلکہ اللہ ہی سے دعا مانگنے کا حکم ہے۔ اگر بات ذاتی وعطائی کی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آیات یااحادیث پیش کی جائیں جن سے اس بات کا ثبوت ملتا ہوکہ انبیاءoاورصالحین کرام عطائی طور پر دعا اور فریاد قبول کرسکتے ہیں، لہذا ان سے دعائیں مانگی جائیں انہیں پکاراجائے۔ اگر آیت یاحدیث نہیں ملتی اوریقینا نہیں ملتی تو اللہ کی جانب سے اذن کا ثبوت نہیں۔
مزید مثال نقل کرتے ہوئے کاظمی صاحب نے لکھا:
’’اورکسی حکم یاتصرف باذن اللہ ہو تو وہ’’من دون اللہ‘‘ کے مفہوم میں شامل نہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰuکا مقولہ قرآن مجید میں وارد ہے:[اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَہَيْــــَٔــۃِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْہِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۚ ] ’’کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی صورت بناتاہوں پھر میں اس میں پھونک مارتاہوں تو وہ اڑنے والی ہوجاتی ہے باذن اللہ،یعنی اللہ کے حکم سے اور میں شفایاب کرتاہوں مادرزاداندھے اور برص والے کو اور میں جلاتاہوں مردے باذن اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔‘‘(آل عمران آیت:۴۹)
معلوم ہوا اپنی طرف سے تصرف کرنے یاذاتی حکم کا کوئی اہل نہیں بلکہ بغیراذن اللہ ایک تنکا بھی متحرک نہیں ہوسکتااور’’باذن اللہ‘‘ اللہ کے محبوبوں کے تصرف سےبے جان جسم میں جان بھی پڑسکتی ہے اور اذن الٰہی سے وہ مردوں کو بھی جلاسکتے ہیں۔‘‘(البیان ،ص:۱۰،۱۱)
تعجب ہے ان کے ’’غزالی زمان‘‘ و’’امام اہلسنت‘‘ کہاں کی بات کہاں جوڑ بیٹھے! آیت جو پیش کی اس میں سیدناعیسیٰuکے معجزات کا ذکر ہے،جیسا کہ اس آیت کے آغاز میں اس کی صراحت ہے۔ لیکن سیالوی صاحب کی طرح کاظمی صاحب نے بھی آیت کے اس حصہ کو پیش کرنا مناسب نہ سمجھا کہ اس طرح بات بنانا کچھ مشکل ہوجاتا ہے۔بہرحال عیسیٰuکے اس ’’مقولہ‘‘ میں سب سے پہلے اس بات کی صراحت ہے کہ[اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۙ ]’’میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیاہوں۔‘‘
اور ہم عرض کرآئے ہیں کہ’’نشانی‘‘ معجزہ ہے، جو اللہ کا فعل ہے اور کسی نبی uکے ہاتھوں ظاہرہوا۔اسے اس نبی کا تصرف قراردینا نصاریٰ کے اس ذہن کی غمازی ہے کہ معجزات کے خالق عیسیٰuتھے (نعوذباللہ) پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آیت میں خاص سیدنا عیسیٰ کے معجزات کا ذکر ہے، لیکن بریلویہ کے ’’رازی دوران وامام اہلسنت ‘‘اپنی منطق کی کھینچا تانی سے اسے عام کرتے ہوئے لکھ گئے کہ ’’معلوم ہوا ….اللہ کے محبوبون کے تصرف سے بے جان جسم میں جان پڑسکتی ہے۔‘‘یقینا یہ نظریۂ ضرورت کی کارفرمائی ہے، چونکہ ان کا یہی عقیدہ ہے تو اس کے ثبوت کے لئے سیدنا عیسیٰuکے معجزہ والی آیت نقل کرکے’’محبوبوں‘‘ کا استدلال کردیا،تاکہ اپنے اس عقیدہ کا ثبوت بنائیں کہ اولیاء کرام بھی بیماری سے شفادے سکتے ہیں، اندھوں کوانکھیارا کرسکتے ہیں۔مردوں کو زندہ کرسکتے ہیںباذن اللہ ،مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مزید تفصیل کے لئے سیالوی صاحب کامغالطہ اور اس کا جواب دیکھ لیجئے۔
کاظمی صاحب نے مزید لکھا:
’’یعنی ’’من دون اللہ‘‘ کوئی کچھ نہیں کرسکتا، اور ’’باذن اللہ‘‘ بندہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے جس کے ساتھ اللہ کااذن متعلق ہوجائے۔‘‘(البیان ،ص:۱۱)
گویااللہ تعالیٰ نے’’من دون اللہ‘‘ یعنی اللہ کے علاوہ فرماکرتمام لوگوں کے جن جن قوتوں کی نفی فرمائی، کاظمی صاحب نے اپنی اس منطق سے ان تمام کااثبات کردیا۔ اگر ان کی یہ تاویل باطل نہیں تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نفی کیوں فرمائی جبکہ’’من دون اللہ‘‘ کہنے سے جمیع ماسوی اللہ کی نفی ہوتی ہے۔
پھر کاظمی صاحب نے یہ بھی کہا کہ ’’باذن اللہ بندہ وہ سب کچھ کرسکتا ہےجس کےساتھ اللہ کااذن متعلق ہوجائے‘‘آیئے دیکھتے ہیں جسے یہ لوگ ’’ولی‘‘ قرار دیتے ہیں وہ کیا کچھ کرسکتا ہے؟قارئین کرام آپ نے بھی ایسے کئی قصے سنے ہوں گے، ان قصوں کا بیان تو کافی طوالت کا باعث بنے گا۔ان کے ایک’’علامہ ومفتی ‘‘ محمد اکمل عطاقادری عطاری صاحب نے’’انبیاء واولیاء سے مدد طلب کرنے کے بارے میں’’بزعم خود دلائل دیتے ہوئے ایک کتاب لکھی ہے’’غیر اللہ سے مدد مانگنا کیسا؟‘‘ یہ کتاب’’مکتبہ اعلیٰ حضرت ،سرائے مغل جنازہ گاہ مزنگ لاہور‘‘ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے صفحہ۵۰ پر ایک ہیڈنگ دی گئی ہے’’اولیاء کرام کے مددفرمانے کے واقعات‘‘پھر مختلف عنوانات قائم کیے ہرعنوان کے تحت مددکاقصہ بھی نقل کیا،اس کے عنوانات سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ اپنے اولیاء کے لئے کس کس تصرف کے قائل ہیں، چند عنوانات ملاحظہ کیجئے:
(۱)گمشدہ اونٹ واپس دلوادیے(ص:۵۱)(۲)منہ مانگی نعمتیں عطا فرمادیں(ص:۵۰)(۳)دریاکو بڑھنے سے روک دیا (ص:۵۸)(۴)شفاعطا فرمادی(ص:۶۱)(۵)آنکھ ٹھیک کردی (ص:۶۳)(۶)فالج زدہ کو ٹھیک کردیا(ص:۶۶)(۷)بیٹا عطا فرما دیا(ص:۷۲)(۸)اللہ کے حکم سے موت کو ٹال دیا (ص:۸۱) (۹)لاٹھی کو انسان بنادیا(ص:۸۲)(۱۰)بیمار کو تندرست کردیا (ص:۹۳)
کاظمی صاحب کے معتقدین بتائیں کہ اولیاء کے ان تصرفات کا اللہ کااذن سے ہوجانے کی دلیل کیا ہے،قرآن وحدیث کی کون سی نص ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء کرام ان تمام تصرفات پر’’باذن اللہ‘‘ یا ’’اللہ کی عطا‘‘ سے عطائی قدرت رکھتے ہیں؟
خلاصہ بحث یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور اسی طرح احادیث میں جہاں کہیں ’’من دون اللہ‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بعد’’من دونہ‘‘ کے الفاظ آئے وہاں ان الفاظ سے ہر وہ ذات مراد ہے جو اللہ کے علاوہ ہے۔ اولیاء اور محبوبانِ الٰہی کو ان سے خارج قرار دینا درست نہیں۔ سردست اسی پر اکتفاء کرتےہیں۔ ان شاء اللہ بشرط زندگی کسی دوسری فرصت میں طاہر القادری صاحب کے دلائل کا جائزہ لیں گے،وباللہ التوفیق
غیراللہ سے دعاء اور مددمانگنے کے قائلین حضرات کی طرف سے جو دلائل دیئے جاتے ہیں ان کاجائزہ لیاجائے گا۔اللہ توفیق مرحمت فرمائے۔

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

اہل حدیث وشیعیت میں توافق کااتہام اورحقیقت قسط 3

بعد میں آنے والے کئی لوگ صحابہ سے افضل ہیں اس عنوان کے تحت غازی …

جواب دیجئے