Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اگست » شیخ سعود بن ابراھیم الشریم

شیخ سعود بن ابراھیم الشریم


ادارہ


مسجدحرام کے دوسرے سینئر ترین امام


شیخ سعود بن ابراھیم الشریم دنیا کے مشہورقاری اور مسجد حرام کے امام وخطیب ہیں۔ مسجد حرام کے دس سے زائد ائمہ کرام میں شیخ شریم تقویٰ کے سب سے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اور آپ مستجاب الدعوات ولی اللہ ہیں۔ ایک مرتبہ سعودی عرب میں طویل عرصہ سے بارشوں کا سلسلہ رک گیا ،اس دوران شیخ شریم نے نماز میں سورۃ الانعام کی تلاوت شروع کردی جب اس آیت پر پہنچے:’’اور زمین پر چلنے والاکوئی جاندار ایسا نہیں جس کارزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھاہو۔‘‘ تو اس آیت کو شیخ شریم اپنے مخصوص انداز میں بار بار دہراتے رہے اور ان پر رقت طاری ہوگئی۔ ابھی وہ نماز پوری بھی نہ کرپائے تھے کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔(عرب جریدہ رأی الیوم 5اپریل 2015ء)
دنیا میں چند قرائے کرام کی تلاوت سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ شیخ شریم بھی ان میں شامل ہیں۔ مسجد حرام کے سب سے سینئر امام وخطیب اور حرمین کمیٹی کے چیئرمین شیخ عبدالرحمن السدیس کا ماننا ہے کہ اس وقت شیخ شریم سے زیادہ قرآن کریم کو عمدہ انداز میں پڑھنے والاکوئی نہیں۔ شیخ شریم انتہائی پرسوز انداز میں تلاوت کرتےہیں، ان کی آواز میں جودرد وسوز ہے ، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ شیخ شریم کی خشیت الٰہی اور تقویٰ کا اثر ہے کہ ان کی تلاوت دل پر اثر کرتی ہے۔ وہ قرآن کریم کو بروایت حفص عن عاصم پڑھتے ہیں۔ وہ اکثر وبیشتر خود بھی دوران تلاوت روتے ہیں اور حاضرین بھی اشکبار ہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان پر ایسی رقت طاری ہوجاتی ہے کہ آیت کا پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ ایک مرتبہ نماز تراویح کے دوران وہ ایک رکعت کے شروع سے آخر تک اتنی شدت سے روتے رہے کہ کئی نمازی بے ہوش ہوکرگرپڑے ۔عرب میڈیا کے مطابق یہ ’’اقویٰ بکاء فی تاریخ الحرم المکی‘‘ یعنی مسجد حرام کی تاریخ میں سب سے زیادہ رقت آمیز اور آہ بکاء سے پرنماز تھی۔ جس کی ویڈیو کلپ صرف یوٹیوب پر دس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی جاچکی ہے۔دیگر ویب سائٹس کے اعداد وشمار اس کے علاوہ ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی والدہ کی وفات کے روز بھی شیخ شریم نے اسی طرح رقت آمیز نماز پڑھائی تھی، جس میں وہ بڑی مشکل سے سورۂ فاتحہ پوری کرپائے،اس رقت آمیز تلاوت کی ویڈیو کے علاوہ آڈیو کلپ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ شیخ شریم کا نوں میں رس گھولنے والی اپنی تلاوت کی وجہ سے بے حد پسند کیے جاتےہیں، خصوصاً عرب نوجوان ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ ٹیوٹر میں ان کے فالورز کی تعداد ایک ملین سے زائد ہے ۔ جبکہ فیس بک میں ’’عشاق الشیخ الشریم‘‘ اور ’’محبی الشیخ الشریم‘‘ کےنام سے ان سے عشق کی حدتک محبت کرنےو الے عرب نوجوانوں نے مختلف پیجز بنارکھے ہیں۔
شیخ شریم 19جنوری 1964ء کو سعودی دار الحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ آپ کاآبائی تعلق نجد کے شہر شقراء کے قحطان قبیلے سے ہے۔ آپ کے دادا محمد بن ابراھیم الشریم شقراء کے گورنر تھے۔ شیخ شریم نے ابتدائی تعلیم مدرسہ عرین میں حاصل کی۔ اور مڈل کیلئے مدرسہ نموذجیہ میں داخلہ لیا۔ اور 1404ھ میں سیکنڈری کی تعلیم سے فارغ ہوئے ،شیخ شریم نے اعلیٰ تعلیم کیلئے ریاض میں واقع امام محمد بن مسعود اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ عقیدہ ومعاصر مذاہب میں داخلہ لیا اور 1409ھ میں یہاں سے فراغت حاصل کی۔ 1410ھ میں ہائز انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں داخلہ لیاا ور وہاں سے 1413ھ میں امتیازی درجات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1416ھ میں ام القری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، پی ایچ ڈی میں ان کے مقالے کاعنوان ’’المسالک فی المناسک‘‘ تھا۔ اس مقالے کے نگران اعلیٰ سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ تھے۔ ان کے اس مقالے کو کتابی شکل میں بڑی تعداد میں چھاپاگیا۔ شیخ شریم نے شیخ عبدالعزیز ابن باز، شیخ عبدالعزیز بن عقیل، شیخ عبدالرحمٰن البراک، شیخ عبدالعزیز الراجحی اور شیخ صالح بن فوزان الفوزان جیسے بڑے اساتذہ کرام سے استفادہ کیا۔
1410ھ میں شیخ شریم ہائز انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں مدرس مقرر ہوئے۔ 1412ھ میں خادم حرمین شریفین کی جانب سےحرم مکی میں آپ کے امام وخطیب مقرر کیے جانے کا فرمان جاری ہوا۔جبکہ وہ اس سے پہلے دار الحکومت ریاض میں ایک مشہور امام تھے۔ شیخ شریم نے پہلی بار ریاض کی مسجد میں نماز پڑھائی تو ان کی تلاوت کو بے حد پسند کیاگیا۔ اس دوران ان کی اہلیہ نے ایک خواب دیکھ کر انہیں خوشخبری سنائی کہ وہ مسجد حرام کے امام بن جائیں گے۔ اس وقت شیخ شریم کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں یہ سعادت عظمیٰ نصیب ہوگی۔مگر چند برس گذرنےکے بعد ان کی اہلیہ کا خوب شرمندہ تعبیر ہوگیا۔1413ھ میں مسجد حرام میں درس وتدریس کی خدمات کیلئے آپ کے نام شاہی فرمان جاری ہوا ۔شیخ شریم مسجد حرام میں امامت وخطابت کے فرائض کے ساتھ ساتھ ام القری یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی میں ڈین اور استاد فقہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ شیخ شریم عربی کے مشہور شاعر سلیمان بن شریم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی ایک مایہ ناز شاعر ہیں۔ وہ ایک بہترین انشاء پرداز، ادیب، ماہرخطیب اور مصنف بھی ہیں۔ ان کے قلم سے دینی موضوعات پر13کتابیں چھپ کر قارئین سے داد وصول کرچکی ہیں۔ حرم شریف میں دیئےگئے ان کے بلیغ خطبات بھی چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔ وہ مسجد حرام کئی خطبے اشعار کی صورت میں دے چکے ہیں۔ جن میں صلوٰۃ الاستسقاء کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس میں انہوں نے قصیدے کی صورت میں نہایت بلیغ اور رقت آمیز انداز میں بارش کی دعامانگی ہے۔
عالم اسلام کی موجودہ صورتحال خصوصا شام کے حالات کا وہ اپنےخطبوں میں ذکر کرتے رہتے ہیں۔ شامی مظلومین کا ذکر وہ انتہائی رقت آمیز انداز سےکرتےہیں ۔اور حرم شریف میں ان کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔(روزنامہ امت کراچی 31مئی2017ء)
bbbbbbbbbbbbbb

About ادارہ

Check Also

سانحہ سقوط ڈھاکہ

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کے جذبات وتاثرات علامہ صاحب ملک وقوم کا درد …

جواب دیجئے