Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » فتنۂ غامدیت قسط:۲۱

فتنۂ غامدیت قسط:۲۱

 قسط:۲۱

چند شبہات واشکالات کا ازالہ
1بعض علماء آیت تخییر سے تفویض طلاق کاجواز ثابت کرتے ہیں، حالانکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
آیت تخییر سے مراد وہ واقعہ ہے جونبیﷺ اورازواج مطہرات کے درمیان پیش آیا کہ جب فتوحات کے نتیجے میںمال غنیمت کی وجہ سے مسلمانوں کی معاشی حالت قدرے بہتر ہوئی توازواج مطہرات نے بھی اپنے نان ونفقہ میںاضافے کا مطالبہ کردیا جونبیﷺ کو پسند نہ آیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَہَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۝۲۸ (الاحزاب:۲۸)
’’اے پیغمبر !اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے :اگر تم دنیا اور اس کی زینت کی طالب ہو،تو آؤمیںتمہیں کچھ حصہ(فائدہ) دے کرتمہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دیتا ہوں،یعنی طلاق دے دیتاہوں۔‘‘
جب یہ آیت نازل ہوئی تورسول اللہﷺ نے سیدہ عائشہ سمیت تمام ازواج مطہرات کواختیار دے دیا کہ تم دنیا چاہتی ہویاآخرت؟ اگر دنیا کی آسائشیں مطلوب ہیں تو میں تمہیں طلاق اورکچھ متعۂ طلاق دے کر آزاد کردیتا ہوں لیکن سب نے دنیاکے مقابلے میںرسول اللہﷺ کے حبالۂ عقد میں ہی رہنے کو پسند کیا۔
یہ آیت تخییر کہلاتی ہے۔ اس سے تفویض طلاق کا اثبات نہیں ہوتا کیونکہ اس میں تو ان کے مطالبات کے جواب میں انہیں یہ اختیار دیا گیا کہ اگرتمہیں اپنے مطالبات پورے کرانے پر اصرار ہے تومیں زبردستی تمہیں اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور نہیں کرتا،میں تمہیں طلاق دے دیتاہوں، قرآن کے الفاظ واضح ہیں:’’آؤ میں تمہیں متعۂ طلاق او ر طلاق دے کرچھوڑ دیتاہوں‘‘جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نبی ﷺ کے ساتھ رہنے کے بجائے دنیا کی آسائشیں پسند کرتیں تو آپ ان کو طلاق دے کر اپنے سے جدا کردیتے۔از خود ان کوطلاق نہ ہوتی۔
اس سے مستقل طورپرعورت کو طلاق کاحق تفویض کرنے کااثبات ہرگز نہیںہوتا۔اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اگر کچھ ایسے مطالبات پیش کرے جس کوخاوند پورانہ کرسکتا ہو توبیوی سے یہ کہے کہ میں یہ مطالبات پورے نہیں کرسکتا، اگر تو انہی حالات کے ساتھ گزاراکرسکتی ہے توٹھیک ہے، بصورت دیگر میں طلاق دیکر اچھے طریقے سے تجھے فارغ کردیتاہوں۔ اگر عورت دوسری(طلاق کی صورت) اختیار کرتی ہے تواسے طلاق نہیں ہوجائے گی بلکہ خاوند اس کی خواہش کوپورا کرتے ہو ئے طلاق دے گاتوطلاق، یعنی علیحدگی ہوگی۔
اس صورت کاتفویض طلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لئےاس آیت سے استدلال یکسر غلط اوربے بنیاد ہے۔
2امرک بیدک(تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے)؟
اسی سے ملتی جلتی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ جھگڑے کے موقع پر خاوند عورت کویہ کہہ دے:امرک بیدک(تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے)؟
اس سے بھی بعض لوگوں نے تفویض طلاق کے جوازپر استدلال کیا ہے۔ حالانکہ یہ طلاق کنائی کی ایک صورت بنتی ہے۔اوراکثر فقہاء اس کے جواز کے قا ئل ہیں لیکن یہ تفویض نہیں طلاق ہے۔
نیزاول تو یہ الفاظ نہ مرفوعاً ثابت ہیں اور نہ موقوفاً،یعنی یہ نہ حدیث رسول ہے اور نہ کسی صحابی کاقول(مفصل ضعیف سنن ابی داؤد،للالبانی ۱۰؍۲۳۴،رقم:۳۷۹) یہ الفاظ جامع ترمذی، سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میںمنقول ہیں۔ان سب کی سندیں ضعیف ہیں تاہم اسے حسن بصری aکاقول قرار دیاگیا ہے۔(اس کامطلب کیا ہے؟اس کی تفصیل آگے آرہی ہے)
البتہ بعض صحابہ کےان الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ سے بھی استدلال کیاگیا ہے،مثلاً:المعجم الکبیر للطبرانی ۹؍۳۷۹،۹۶۲۷میں سیدنا عبداللہ بن مسعودکاقول ہے:
’’اذا قال الرجل لامرأتہ :امرک بیدک او استفلحی بامرک او وھبھا لاھلھا فقبلوھا فھی واحدۃ بائنۃ‘‘
’’اگرآدمی اپنی بیوی سےکہے :تیرااختیار تیرے ہاتھ میں ہے،یا تم اپنے معاملےمیںکامیاب ہوجاؤ، یا وہ اس (حق) کو اس بیوی کے گھر والوں کے حوالے کردے، پھر وہ اسے قبول کرلیں تو یہ ایک (طلاق)بائن (نکاح کوختم کردینے والی ہے)(ماہنامہ ’’الحدیث، حضرو،مئی۲۰۱۳ء)
اس اثرپرغور کریں، کیا اس کاتعلق زیر بحث تفویض طلاق سے ہے؟ قطعا نہیں۔اس میں بھی وہی خیارطلاق (طلاق کنائی) یا توکیل کی صورت ہے کہ اختلاف اورجھگڑے کی صورت میں خاوند بیوی کواختیار دے دے کہ اگر تومیرے پاس رہنے کیلئے تیارنہیں ہے توتجھے اختیار ہے کہ تو خود میرے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کافیصلہ کرلے۔اگر وہ علیحدگی کا فیصلہ کرلیتی ہے تومذکورہ اثرکی بنیاد پر اسے طلاق ہوجائےگی اوربقول عبداللہ بن مسعود یہ ایک طلاق بائن ہوگی۔یہ خیارطلاق سے ملتی جلتی وہی صورت ہے جس کی تفصیل آیت تخییر کے ضمن میں گزری ہے یایہ طلاق بالکنایہ ہے کیونکہ یہ طلاق کون سی ہوگی؟یہ خاوندکی نیت پر منحصر ہے جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
دوسری صورت اس میں توکیل کی ہے،یعنی بیوی کے گھروالوں کو طلاق دینے کاحق دےدےاور وہ طلاق دے دیں، تو طلاق بائن ہوجائےگی۔ وکالت کو بھی شریعت نے تسلیم کیا ہے،یعنی خاوند خود طلاق نہ د ے بلکہ وکیل کےسپرد یہ کام کردے،تو وہ طلاق خاوندہی کی طرف سے تسلیم کی جا ئے گی۔
مذکورہ اثر میں یہی دو صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک صورت خیار طلاق کی سی ہےبلکہ یہ طلاق بالکنایہ ہے اور دوسری توکیل طلاق کی۔ اس اثر سے زیربحث تفویض طلاق کااثبات ہرگزنہیںہوتا۔
دوسرااثر ،جس سے استدلال کیاگیاہے، حسب ذیل ہے:
’’سیدنا عثمانtکے پاس وفد میں ابو الحلال العسکیa آئے،توکہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس کا اختیار دے دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’فامرھا بیدھا‘‘’’پس اس عورت کااختیار اس کے پاس ہی ہے۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ۵؍۵۶،حدیث:۱۸۰۷۱)
میں بھی وہی خیارطلاق بلکہ طلاق بالکنایہ کااثبات ہے جس سے کسی کواختلاف نہیں،یعنی لڑائی جھگڑے کی صورت میں عورت کوعلیحدگی کا اختیارکنائے کی صورت میں دےدینا، اس اثر کابھی تفویض طلاق کے مسئلے میں کوئی تعلق نہیںہے۔
تیسرااثر جس سے استدلال کیاگیا ہے،حسب ذیل ہے:
’’سیدنا عبداللہ بن عمرwسے اس آدمی کےبارے میں پوچھا گیا جس نےاپنی بیوی کواس کا اختیار دے دیا تو انہوں نے فرمایا: ’’القضاء ماقضت فان تناکر احلف‘‘وہ عورت جوفیصلہ کرےگی وہی فیصلہ ہے، پھر اگر وہ دونوں ایک دوسرے کاانکارکریں تو مرد کوقسم دی جائے گی۔
(مصنف ابن ا بی شیبہ ۹؍۵۸۱،حدیث:۱۸۳۸۸)
یہ اثر نقل کرکے فاضل مفتی تحریر فرماتے ہیں:
’’یہاں پرچونکہ یہ اختیار نکاح نامے پرشوہر کے دستخطوں اور گواہوں کے ساتھ لکھا ہوا ہے،لہذا یہاںکسی قسم کے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘(ماہنامہ ’’الحدیث حضرو ،مئی ۲۰۱۳ء)
لیکن اس اثر میں بھی پہلے قابل غور بات تو یہ ہے کہ اس میں طلاق بالکنایہ والامسئلہ ہی بیان ہواہے یاتفویض طلاق کا؟ واقعے پر غور فرمالیا جائے ،اس میں بھی طلاق کنائی یاخیارِ طلاق ہی کامسئلہ بیان ہواہے جس کا تعلق شادی کے بعد ہونے والے میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑے سےہےکہ اگراختلاف کاکوئی حل نہ نکلے توخاوند اس کایہی حل پیش کرے کہ تجھے اختیار ہے میرے ساتھ رہنے یانہ رہنے کا۔ اس صورت میںظاہر بات ہے کہ عورت جوفیصلہ کرے گی وہی نافذ ہوگا۔ علیحدگی پسند کرے گی توطلاق ہوجائے گی ،بصورت دیگر نہیں۔ لیکن اس طلاق میں بھی فیصلہ کن بات خاوند کی نیت ہی ہے کہ طلاق رجعی ہے یابائن؟
اس اثر سے بھی رشتۂ ازدواج میں جڑنے سےپہلے ہی نکاح کےموقع پرمرد کا اپنے اس حق طلاق سے دست بردار ہوکر،جو اللہ نے اسے عطاکیا ہے،عورت کو اس کامالک بنادینا، کس طرح ثابت ہوتا ہے؟
میاں بیوی کے درمیان عدم موافقت کی صورت میں ان کے اختلافات دور کرنے کے کئی طریقے ثابت ہیں۔ایک یہ ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہےکہ ایک ثالث (حَکَم)بیوی کی طرف سے اور ایک خاوند کی طرف سے مقرر کیے جائیں ،وہ دونوں کے بیانات سن کر فیصلہ کریں اور دونوں کی کوتاہیوںکومعلوم کرکے ان کو دورکرنے کی تلقین دونوں کوکریں،اگر یہ ممکن نہ ہوتو وہ بطور وکالت ان کے درمیان علیحدگی کافیصلہ کردیں۔ اس کوتوکیل بالفرقہ کہاجاتاہے ،یہ وکالت کی وہ صورت ہے جوجائز ہے۔
دوسری صورت خیارِ طلاق کی ہے جونبی ﷺ نے اختیار فرمائی تھی۔ اس کامطلب یہ تھا کہ اگر ازواج مطہرات علیحدگی کو پسند کرتیں تو آپﷺ ان کوطلاق دے کرفارغ کردیتے۔
تیسری صورت یہ ہے جوبعض آثارِ صحابہ سے ثابت ہے کہ خاوند علیحدگی کامعاملہ عورت کے سپرد کردے۔امرک بیدک(تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے)مذکورہ سارے آثار کاتعلق اسی صورت سے ہے۔ اس جملے کی بابت فقہاء کہتے ہیں اورمذکورہ آثارِ صحابہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ اگر عورت علیحدگی اختیار نہیں کرتی اورخاوند ہی کے پاس رہنے کواختیار کرتی ہے تو طلاق نہیںہوگی اوراگر وہ علیحدگی کافیصلہ کرتی ہے تو یہ طلاق شمار ہوگی۔البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ طلاق ایک ہوگی یا تین طلاقیں۔ایک طلاق ہونے کی صورت میں رجعی ہوگی یا بائنہ؟ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا کہ اس میںخاوند کی نیت کے مطابق فیصلہ ہوگا،اگر اس سے مراد اس کی ایک طلاق رجعی ہے تو یہ ایک طلاق رجعی شمار ہوگی اورخاوند کوعدت کے اندررجوع کرنے کاحق حاصل ہوگا۔ اس میں خاوند کی نیت کے فیصلہ کن ہونے سے اس کوطلاق بالکنایہ بنادیا ہے اور یوں یہ خیارطلاق سے مختلف صورت ہےکیونکہ اسے اگر خیارطلاق کی وہی صورت قرار دیں جونبی ﷺ نے ازواج مطہرات کے سلسلے میں اختیار فرمایا تھاتو اس میں بھی طلاق کا حق مرد ہی کوحاصل تھا، اورامرک بیدکمیںیہ اختیار عورت کودے دیاگیا۔لیکن اس کے باوجود یہ طلاق کنائی بنے گی اس لئے کہ یہ طلاق طلاقِ رجعی ہوگی یابائنہ؟ اس کافیصلہ خاوند کی نیت کے مطابق ہوگا۔
سیدنازید بن ثابت tکے پاس محمد بن عتیق نامی ایک شخص آیا اور اس کی آنکھوں سے آنسوجاری تھے ۔زیدtنے پوچھا:کیابات ہے، روتے کیوں ہو؟اس نے کہا: میں نے اپنی عورت کو اس کے معاملے کا مالک بنادیا تھا تو اس نے مجھ سے جدائی اختیار کرلی ہے۔ زید tنے پوچھا: تو نے ایساکیوںکیا ؟کہنے لگا: بس اسے تقدیر ہی سمجھ لیں۔زید tنے فرمایا: اگر تورجوع کرناچاہتا ہے تورجوع کرلے ،یہ ایک طلاق ہے اورتورجوع کرنے کا اس عورت سے زیادہ اختیار رکھتاہے۔
اورزیدبن ثابتtکا ایک دوسراقول یہ نقل ہواہے اور اسے عثمان اورعلیwکا قو ل بھی بتلایاگیا ہے کہ القضاء ماقضت (عورت جو فیصلہ کرے گی وہی فیصلہ ہوگا)یعنی اس کے کہنے کے مطابق اسے طلاق رجعی یا بائنہ ،ایک یاتین شمارکیاجائے گا کیونکہ معاملہ اس کے سپرد کردیا گیا تھا۔
اور ایک تیسری رائے عبداللہ بن عمرwکی یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر عورت اسے تین طلاق شمارکرے اورخاوند کہے کہ عورت کو طلاق کا مالک بناتے وقت میری نیت ایک طلاق کی تھی ،تین طلاق کاانکار کرے ،جس کافیصلہ عورت نے کیاتھا،تو خاوند سے قسم لی جائے گی اور پھر اسے ایک ہی طلاق شمارکرکے خاوند کوعدت کے اندررجوع کرنے کاحق دیاجائے گا۔(ملاحظہ ہو،شیخ الحدیث مولاناحافظ ثناء اللہ مدنیd کی تالیف’’جائزۃ الاحوذی فی التعلیقات علی سنن ا لترمذی،حدیث ۲؍۴۴۹،۴۵۱)
ان آثارسے،قدرے اختلاف کے باوجود ،یہ واضح ہے کہ لڑائی جھگڑے کی صورت میںعورت کوعلیحدگی کااختیاردینا، زیربحث تفویض طلاق سے یکسرمختلف معاملہ ہے جس کاجواز ان آثار سے کشیدکیاجارہا ہے۔ امرک بیدک کی صورت یا تو توکیل کی بنتی ہے کہ مرد کسی اورکو وکیل بنانے کے بجائے عورت ہی کووکیل بنادیتاہے یا یہ کنائی صورت ہے کیونکہ اس میں فیصلہ کن رائے خاوند کی ہوگی اگر عورت نے علیحدگی پسند کرلی ہے تویہ کون سے طلاق شمارہوگی ،رجعی یابائنہ ،ایک یاتین؟ ایک رجعی شمارکرنے کی صورت میں خاوند کو عدت کے اندررجوع کرنے کاحق حاصل ہوگا۔
اس سے زیربحث تفویض طلاق کااثبات کرنے والوں سے ہمارے چند سوال ہیں:
1تفویض طلاق والی عورت اگرخاوند کوطلاق دے دیتی ہے توکیا اس میں خاوندکی نیت کا اعتبار ہوگایانہیں؟
2اگرخاوند کہے کہ میری مراد اس تفویض طلاق سے ایک طلاق رجعی تھی ،توکیاخاوند کوعدت کے اندررجوع کرنے کاحق حاصل ہوگا؟
3اوراگر رجوع کاحق حاصل ہوگا توپھرتفویض طلاق کی شق ہی بے معنی ہوجاتی ہے کیونکہ جوعورت بھی اس حق کو استعمال کرتے ہوئے خاوند کوطلاق دے گی توخاوند رجوع کرلیاکرےگا۔(کم از کم دو مرتبہ تو رجوع کاحق اسے حاصل رہے گا)
4اگر تفویض طلاق میں طلاق بائنہ ہوگی توپھر یہ صورت ۔امرک بیدک .میں کس طرح آسکتی ہے جس کو اس کے جواز میں دلیل کے طور پرپیش کیاجارہاہے؟جبکہ امرک بیدک . کی صورت میں طلاق بائنہ نہیں ہوگی جیسا کہ آثار سے واضح ہے۔
توکیل (وکیل بنانے )کی اجازت
ایک تیسری اصطلاح توکیل ہے ،یعنی ایک جائز کام کوخود کرنے کے بجائے کسی دوسرے شخص سے کرایاجائے۔شریعت نے اس کو جائز رکھا ہے،اس کونیابت بھی کہاجاتاہے۔طلاق دینا بھی(ناگریزحالات میں)جائز ہے اور یہ صرف خاوند کاحق ہے،تاہم خاوند اپنا یہ حقِ طلاق وکیل کے ذریعے سے استعمال کرے تو دوسرے معاملات کی طرح یہ توکیل بھی جائز ہے۔قرآن کریم کی آیت :وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا۝۰ۚ (النساء:۳۵) میں جمہور علماء کے نزدیک حکمین کے توکیل بالفرقہ ہی کے اختیار کابیان ہے۔
اسی توکیل میں وہ خاص صورت بھی شامل ہے جوپنچایتی توکیل کی ضرورت پیداکردیتی ہے،مثلاً:ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤنہیں کرتا حتی کہ بیوی باربار اپنے میکے آجاتی ہے اورخاوند باربار حسن سلوک کاوعدہ کرکے لے جاتاہےلیکن وعدے کے مطابق حسن سلوک نہیں کرتا، بالآخر لڑکی کے والدین تنگ آکر اس سے وعدہ لیں کہ اس دفعہ عہد کی پاسداری نہیں کی تو ہم آئندہ اس کوتمہارے پاس نہیں بھیجیں گے،خاوند سے پنچایت میں یہ اقرار لیاجائے ۔اس صورت میںیہ پنچایت توکیل بالفرقہ کاکردار اداکرکے دونوں کے درمیان جدائی کروادے۔
پنچایت یا عدالت کا یہ فیصلہ طلاق کے قائم مقام ہوجائے گا،جیسے خلع میں عدالت کافیصلہ فسخ نکاح سمجھاجاتاہے ۔مطلب یہ ہےکہ اس صورت میں بھی عدالت کے اقرباء خاوند سے تفویض طلاق کامطالبہ نہیں کرسکتے کہ تم بیوی کوحق طلاق تفویض کرو،یعنی معاہدۂ حسن سلوک کی پاسداری نہیں کی گئی توبیوی حق طلاق استعمال کرے گی بلکہ خلع کی طرح پنچایت یا عدالت ہی علیحدگی کافیصلہ کرے گی۔
خلع میں اور اس توکیل میں فرق یہ ہے کہ خلع میں حق مہر واپس لینے کاحق خاوند کوحاصل ہے جب کہ پنچایتی فیصلے میں خاوند کو یہ حق نہیں ہوگا کیونکہ یہ جدائی خاوند کے اقرار یاوعدے کی بنیاد پر ہوگی۔دوسرے توکیل کی وجہ سے یہ جدائی طلاق کے قائم مقام ہوگی۔
تفویض طلاق
چوتھی اصطلاح،تفویض طلاق ہے جس کی اجازت فقہائے احناف اور دیگر بعض فقہاء دیتے ہیںلیکن شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزری۔ کیونکہ بیوی کوحق طلاق تفویض کرنے میں ان تمام حکمتوں کی نفی ہے جو حق طلاق کو صرف مرد کے ساتھ خاص کرنے میں مضمر ہیں۔
اس اعتبار سے عورت کو کسی بھی مرحلے میں حق طلاق تفویض نہیں  کیا جاسکتا۔نہ ا بتداء میں عقدنکاح کے وقت اور نہ بعد میں عدم موافقت کی صورت میں۔ عدم موافقت کی صورت میں چارصورتیں جائز ہوں گی جن کی تفصیل گزری۔ہم خلاصے کے طور پر پھر اسے دوبارہ مختصرا عرض کرتے ہیں:
1نبیﷺ کی طرح خاوندکی طرف سے عورت کواختیاردیا جاسکتا ہے کہ وہ خاوند کے ساتھ رہنا پسند کرتی ہے یانہیں؟ اگر اس کاجواب نفی میں ہوتوخاوند اس کوطلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردے،جیسا کہ ’’اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۝۲۸ ‘‘(الاحزاب:۲۸) واضح ہے، یعنی طلاق دے کرعلیحدگی کاکام مرد ہی کی طرف سے ہوگا۔
2یاپھرحکمین(دوثالثوں) کے ذریعے سے توکیل کااہتمام کیا جائے گا۔ایک ثالث خاوند اور ایک بیوی کی طرف سے ہو گا۔ وہ دونوں میاں بیوی کی باتیں آمنے سامنے یاالگ الگ (جوبھی صورت مناسب اورمفیدہوگی)سنیں گے اور اس کے روشنی میں صلح ومفاہمت کی مخلصانہ کوشش کریں گےلیکن اگر یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی توپھر وہ، ان دونوں کے درمیان جدائی کافیصلہ کردیں گے۔یہ فیصلہ بھی طلاق کے قائم مقام ہوگا۔
3یاامرک بیدک ،کہہ کرخاوند عورت کو علیحدگی کاحق دے دے۔یہ بھی اختلاف ختم کرنے کی ایک صورت ہے۔جوآثار صحابہ سے ثابت ہے اوریہ طلاقِ کنائی کی ا یک شکل ہے۔
4یاخلع یاپنچایت کےذریعے سے علیحدگی عمل میں لائی جائے گی۔ خلع کی صورت میں عورت کوحق مہر وغیرہ واپس کرنا پڑے گا۔
ان چارطریقوں کے علاوہ کو ئی چوتھا طریقہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہوگا۔
اوریہ تفویض طلاق پانچواں طریقہ ہے،جوفقہاء کاایجادکردہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل ہے نہ صحابہ وتابعین کاکوئی اثر اس کی تائید میں ہے۔
ایک اورعجیب جسارت یاحیلہ
احناف شریعت کے دیے ہوئے اس حق خلع کونہیں مانتے جو عورت کو مرد کے حق طلاق کے مقابلے میں دیاگیا ہے،جبکہ عورت کو اس کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اس لئے احناف نے اس کامتبادل حل ایک توتفویض طلاق کی صورت میں ایجاد کیا جس کی تفصیل گزشتہ صفحات میں آپ نے ملاحظہ کی،اس کا ایک اورحل بھی بعض کتابوں میں لکھا ہےجوعجیب بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کے مقابلے میں شوخ چشمانہ جسارت بھی۔اور یہ مسئلہ احناف کے مشہور اور مسلمہ مسئلہ حرمتِ مصاہرت بالزنا پر متفرع ہے۔
اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کو اس کاخاوند نہ چھوڑتا ہو اور وہ اس کے ہاتھ سے تنگ ہوتووہ خاوند کے بیٹے سے زنا کروالے ،تاکہ وہ خاوند پر حرام ہوجائے کیونکہ فقہ حنفی میں حرام کاری سے بھی رشتۂ مصاہرت قائم ہوجاتا ہے۔(شرح بخاری، ازمولانا داود زار دہلوی۸؍۲۶۶ ،طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور)
اس حیلے کی بھی ضرورت اسی لئے پیش آئی کہ قرآن وحدیث میں بیان کردہ حق خلع علمائے احناف کو تسلیم نہیں ورنہ اس قسم کی صورتوں میں عورت عدالت سے خلع کے ذریعے سے ناپسندیدہ یاظالم شوہر سے نجات حاصل کرسکتی ہے۔ ھداھم اللہ تعالیٰ.
ہمارے نزدیک یہ حیلہ بھی بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔حرام کام کے کرنے سے کوئی حلال حرام نہیں ہوسکتا۔میاں بیوی کا تعلق حلال ہے، بیوی اگرخاوند کے بیٹے سے اپنامنہ کالاکروائیگی توزناکاری جیسے جرم کبیرہ کی مرتکب ہوگی لیکن اس سے وہ اپنے میاں کیلئے حرام نہیں ہوگی، حدیث رسول اللہﷺ ہے:’’لایحرم الحرام الحلال‘‘’’حرام کام حلال کو حرام نہیں کرے گا۔‘‘(سنن ابن ماجہ ،حدیث: ۲۰۱۵، مزید ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ،للالبانی ۶؍۲۸۷،نیز دیکھئے ،تفسیر احسن البیان، النساء:۲۳کا حاشیہ)
اس لئے اسلم واحوط راستہ عورت کیلئے حق خلع کو تسلیم کرنا ہے، اس حق شرعی کوماننے کے بعد نہ تفویض طلاق کے کھکھیڑ میں پڑنے کی  ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ اپنے سوتیلے بیٹے سے منہ کالاکرانے کی۔ اس کے بغیر ہی عورت خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے تو کرسکتی ہے شریعت نے جب کئی معقول طریقے تجویز کئے ہوئے ہیں تو ان کوچھوڑ کر اپنے خود ساختہ غیر معقول تجاویز پراصرار کرناکہاں کی دانش مندی ہے؟
ایک ضروری وضاحت
مولانا داؤد راز دہلوی کی شرح بخاری کے حوالے سے احناف کا جو مسئلہ نقل ہوا ہے، وہ حرمت مصاہرت کےنام سے مشہور ہے جو دراصل خلع نہ ماننے کے نتیجے میں اس کی متبادل صورت کے لیے ایک نہایت مکروہ فقہی حیلہ ہے۔
بعض لوگ شاید یہ اعتراض کریں کہ احناف کا یہ مسئلہ کسی حنفی فقہ کے حوالے سے بیان ہوناچاہئے تھا۔ بظاہر اس مسئلے یا حیلے کی نسبت احناف کی طرف صحیح معلوم نہیں ہوتی۔
اس سلسلے میںہم عرض کریں گے کہ فقہ حنفی کی کتابوں پر ہماری نظر زیادہ وسیع نہیں ہے۔تاہم اس کے متعدد شواہد موجودہ علمائے احناف کی کتابوں اور فتاووں میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں قدیم ترین کتاب ’’الامّ‘‘ (امام شافعی کی مشہور کتاب) اور فتح الباری سے بھی احناف کے اس مسئلے یا حیلے کی تائید ہوتی ہے ۔اس لیے شرح بخاری میں درج یہ حوالہ بےبنیاد نہیں ہوسکتا۔
(جاری ہے)

About حافظ صلاح الدین یوسف

Check Also

فتنۂ غامدیت قسط:25(آخری)

حافظ صلاح الدین یوسف قسط:25 (آخری) مشیر:وفاقی شرعی عدالت پاکستان فتنۂ غامدیت جوپیرہن اس کاہے وہ …

جواب دیجئے